قوم کیسے بنتی ہے ؟قسط۹

قوم کیسے بنتی ہے ؟قسط۹

عدل — حکومت کا اصل امتحان

قومیں صرف اس وقت مضبوط نہیں ہوتیں جب ان کے پاس طاقت ہو؛ اصل طاقت تب ظاہر ہوتی ہے جب طاقت کے ساتھ انصاف بھی ہو۔

قرآن کریم کا حکم ہے:

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ

بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔
(النحل: 90)

یعنی عدل کوئی اضافی خوبی نہیں؛ یہ اللہ کا حکم ہے۔

اور امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے مالک اشتر کو حکومت کی ذمہ داری دیتے ہوئے فرمایا:

وَأَشْعِرْ قَلْبَكَ الرَّحْمَةَ لِلرَّعِيَّةِ، وَالْمَحَبَّةَ لَهُمْ، وَاللُّطْفَ بِهِمْ

اپنے دل کو رعایا کے لیے رحمت، ان کے لیے محبت اور ان کے ساتھ نرمی کا احساس عطا کرو۔

یہ صرف ایک حاکم کو نصیحت نہیں؛ یہ اسلامی حکومت کے مزاج کا تعارف ہے۔ نہج البلاغہ کے عہدنامۂ مالک اشتر میں امامؑ نے حکومت کو لوگوں پر برتری نہیں، بلکہ ان کے حقوق کی ذمہ داری قرار دیا ہے۔

عدل کا مطلب صرف یہ نہیں کہ عدالت میں فیصلہ صحیح ہو۔

عدل یہ بھی ہے کہ عہدہ ملنے کے بعد آدمی اپنے عزیز اور غیر متعلق شخص کو ایک ہی ترازو میں تولے؛

طاقتور اور کمزور کے لیے قانون کا معیار ایک ہو؛

غریب کی آواز بھی اتنی ہی اہم سمجھی جائے جتنی صاحبِ اقتدار کی۔

شہید رہبر سید علی خامنہ ای(قَدَّسَ اللهُ نَفْسَهُ الزَّكِيَّةَ) کی اجتماعی فکر میں بھی عدل، عوام کے حقوق، بدعنوانی سے مقابلہ اور حکمرانی کی ذمہ داری بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک معاشرے کی ترقی صرف دولت اور طاقت سے نہیں، بلکہ انصاف اور حقوق کی حفاظت سے معنی پاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حکومت کا اصل امتحان بڑے منصوبے نہیں؛ کمزور آدمی کے ساتھ اس کا برتاؤ ہے۔

اگر طاقتور کے لیے راستہ الگ اور کمزور کے لیے الگ ہو جائے، تو قانون باقی رہ سکتا ہے، عدل باقی نہیں رہتا۔

آج کی ڈائری

ہم اکثر پوچھتے ہیں:

“ملک کب بدلے گا؟”

شاید اس سوال سے پہلے ہمیں یہ پوچھنا چاہیے:

ہم اپنے اختیار میں کتنا عدل کرتے ہیں؟

گھر میں، ادارے میں، مدرسے میں، کاروبار میں، عہدے پر، فیصلے میں۔

کیونکہ عدل صرف حکمران کی ذمہ داری نہیں؛ ہر صاحبِ اختیار کی آزمائش ہے۔

جس کے ہاتھ میں جتنا اختیار ہے، اس کے لیے اتنا ہی بڑا امتحان ہے۔

اور شاید عدل کی سب سے خوبصورت علامت یہ ہے:

آپ کا کمزور ترین آدمی بھی آپ سے اپنے حق کے لیے بے خوف ہو کر بات کر سکے۔

قومیں طاقت سے حکومت تو کر سکتی ہیں؛

لیکن دلوں پر حکومت صرف عدل سے ہوتی ہے۔

مولانا تصور عباس خان
پرنسپل امام رضا کمپلیکس ضلع لیہ