قسط۲۴:نوجوان کو مقصدِ زندگی کیسے دیا جائے؟

قسط۲۴:نوجوان کو مقصدِ زندگی کیسے دیا جائے؟

ایک نوجوان کے ہاتھ میں موبائل ہو، جیب میں پیسہ ہو، سامنے دنیا کے ہزار راستے ہوں—

مگر اگر اسے یہ معلوم نہ ہو کہ وہ جا کہاں رہا ہے؟

تو رفتار جتنی بھی تیز ہو، زندگی پھر بھی بے سمت ہے۔

ہم نوجوان سے کہتے ہیں:

محنت کرو، پڑھو، کامیاب ہو جاؤ۔

لیکن کبھی یہ نہیں پوچھتے:

کامیاب ہو کر کیا بنو گے؟ اور کس کے لیے بنو گے؟

قرآن کہتا ہے:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ

میں نے جن و انسان کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ (الذاریات: 56)

یعنی انسان کی زندگی بے مقصد نہیں۔

اور عبادت صرف چند اعمال کا نام نہیں؛

بلکہ پوری زندگی کو اللہ کی بندگی، ذمہ داری اور صحیح سمت میں لے جانے کا نام ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

«إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ»

اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔

تو سوال صرف یہ نہیں کہ میں کیا کر رہا ہوں؛

اصل سوال یہ ہے:

میں یہ سب کس مقصد کے لیے کر رہا ہوں؟

امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے فرمایا:

رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً أَعَدَّ لِنَفْسِهِ وَاسْتَعَدَّ لِرَمْسِهِ۔۔۔۔۔

اللہ اس شخص پر رحم کرے جو اپنے لیے تیاری کرے اور اپنی قبر کے لیے آمادہ ہو اور یہ جان لے کہ وہ کہاں سے آیا ہے، اس وقت کہاں ہے، اور اسے کہاں جانا ہے۔

نوجوان کو صرف یہ نہ کہیں:

یہ کرو، یہ نہ کرو۔

اسے یہ سمجھائیں:

تمہاری زندگی قیمتی ہے، اسے کسی بڑے مقصد کے لیے استعمال کرو۔

علم حاصل کرو—تاکہ جہالت کم ہو۔

ہنر سیکھو—تاکہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکو۔

عبادت کرو—تاکہ اپنے رب سے تعلق مضبوط ہو۔

اخلاق سنوارو—تاکہ تمہارے وجود سے دوسروں کو امن ملے۔

محنت کرو—تاکہ تم معاشرے پر بوجھ نہیں، سرمایہ بنو۔

اور خدمت کرو—تاکہ تمہاری کامیابی صرف تمہاری ذات تک محدود نہ رہے۔
شہید رہبر سید علی خامنہ ای (قَدَّسَ اللهُ نَفْسَهُ الزَّكِيَّةَ)نے فرمایا:

زندگی ایک طویل سفر ہے،مگر اس سفر کی ایک بلند منزل بھی ہونی چاہیے۔انسان کی زندگی کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کو اپنے روحانی و انسانی کمال کا ذریعہ بنائے۔

یہی فرق ہے صرف کامیاب ہونے اور بامقصد زندگی گزارنے میں۔

ذرا ایک نوجوان کا تصور کیجیے۔

صبح آنکھ کھلتے ہی موبائل۔

دن بھر دوسروں کی زندگی دیکھنا—کسی کی گاڑی، کسی کا لباس، کسی کی شہرت، کسی کی کامیابی۔

اور رات کو اپنے آپ سے کہنا:

میری زندگی میں کچھ ہو ہی نہیں رہا۔

شاید مسئلہ یہ نہیں کہ اس کی زندگی میں کچھ نہیں ہو رہا؛

مسئلہ یہ ہے کہ اس نے اپنی زندگی کا مقصد دوسروں کی زندگی دیکھنے میں لگا دیا ہے۔

بڑا گھر، بڑی گاڑی، اچھی ملازمت، شہرت اور دولت—

یہ زندگی کے وسائل ہو سکتے ہیں؛

مقصد نہیں۔

جس نوجوان کے پاس مقصد نہیں ہوتا،

بازار اس کے لیے مقصد بنا دیتا ہے۔

اشتہار اسے بتاتا ہے کہ اسے کیا چاہیے۔

سوشل میڈیا اسے بتاتا ہے کہ اسے کس جیسا بننا ہے۔

اور آہستہ آہستہ انسان اپنی زندگی خود جینا چھوڑ دیتا ہے۔

اس لیے آج خود سے ایک سوال کیجیے:

اگر میری ڈگری، ملازمت، کاروبار، موبائل، شہرت اور مال سب مجھ سے لے لیا جائے—

تو کیا میرے پاس اپنی زندگی گزارنے کی کوئی واضح وجہ باقی رہے گی؟

اگر ہاں—تو شاید آپ کے پاس مقصد ہے۔

اور اگر نہیں—تو شاید آپ کو کامیابی سے پہلے سمت تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

نوجوان کو صرف یہ نہ بتائیں کہ

مجھے کیا بننا ہے”

اسے یہ سوال بھی سکھائیں:

مجھے کس لیے بننا ہے؟

کیونکہ جس نوجوان کو معلوم ہو کہ مجھے کیا بننا ہے، وہ راستہ تلاش کر لیتا ہے؛

لیکن جس نوجوان کو معلوم ہو کہ مجھے کس لیے بننا ہے،

وہ اپنی پوری زندگی کو راستہ بنا لیتا ہے۔

🌿تصور عباس خان
🌿تحریک تعمیر انسان

۲۸ستمبر ۲۰۲۶