قوم کیسے بنتی ہے ؟ قسط۸

قوم کیسے بنتی ہے ؟ قسط۸

قومی خود اعتمادی

قرآن انسان کو کمزوری اور ذلت کی ذہنیت سے نکال کر عزت اور اعتماد کی طرف بلاتا ہے:

وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِين

کمزور نہ پڑو، غم نہ کرو؛ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو تم ہی سربلند رہو گے۔ (آل عمران: 139)

امیرالمؤمنین علیؑ نے بھی انسان کو دوسروں کے سامنے اپنی عزت گنوانے سے روکا اور فرمایا:

وَلَا تَكُنْ عَبْدَ غَيْرِكَ وَقَدْ جَعَلَكَ اللَّهُ حُرًّا

کسی دوسرے کے غلام نہ بنو، جبکہ اللہ نے تمہیں آزاد پیدا کیا ہے۔ (نہج البلاغہ، مکتوب 31)

یہی اصول جب ایک فرد سے بڑھ کر پوری قوم کی سطح پر آتا ہے تو اسے قومی خود اعتمادی کہا جا سکتا ہے۔

شہید رہبر معظم سید علی خامنہ ای(قَدَّسَ اللهُ نَفْسَهُ الزَّكِيَّةَ) نے بھی اپنی متعدد گفتگوؤں میں اسی احساس کو اعتماد بالنفس، خودباوری اور قومی اعتماد کے عنوان سے بیان کیا ہے۔ ان کے نزدیک قوم کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں، اپنی محنت اور اپنے انسانی سرمائے پر اعتماد کرے، نہ کہ ہر مسئلے کے حل کے لیے دوسروں کی طرف دیکھے۔

یہ خود اعتمادی غرور نہیں۔

غرور کہتا ہے: ہمیں کسی سے کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں۔

خود اعتمادی کہتی ہے: ہم سیکھ سکتے ہیں، محنت کر سکتے ہیں اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔

ایک قوم جب خود کو کمتر سمجھنے لگتی ہے تو اس کی صلاحیتیں بھی کمزور پڑ جاتی ہیں۔

وہ قوم اپنی زبان سے شرمندہ ہوتی ہے،

اپنی صلاحیتوں پر شک کرتی ہے،

اپنے نوجوان کو کم سمجھتی ہے،

اور ہر کامیابی کا راز باہر تلاش کرتی ہے۔

لیکن جس قوم کو اپنی قابلیت پر یقین ہو، وہ دوسروں سے سیکھتی بھی ہے اور اپنے فیصلے بھی خود کرتی ہے۔

شہید رہبر کی فکر میں یہ خودباوری صرف سیاسی نعرہ نہیں؛ علم، صنعت، معیشت، سائنس، تعلیم اور اجتماعی زندگی میں اپنی صلاحیت پیدا کرنے کا عملی اصول ہے۔

آج کی ڈائری

کبھی قومیں وسائل کی کمی سے نہیں ہارتیں؛

وہ اپنے آپ پر اعتماد کھو دینے سے ہار جاتی ہیں۔

ہمیں دوسروں سے سیکھنا چاہیے،

مگر دوسروں کے سہارے جینا نہیں۔

ہمیں دنیا سے رابطہ رکھنا چاہیے،

مگر اپنی صلاحیتوں کو بھولنا نہیں۔

آج ہم اپنے آپ سے پوچھیں:

کیا میں اپنی قوم کے نوجوان کو یہ یقین دے رہا ہوں کہ “ہم بھی کر سکتے ہیں”؟

کیونکہ تبدیلی شاید اسی دن شروع ہوتی ہے جب ایک فرد، ایک ادارہ اور پھر ایک پوری قوم یہ کہنا سیکھ لے:
“ہم کمزور نہیں؛ ہمیں محنت، علم، نظم اور اعتماد کے ساتھ اپنی صلاحیت کو حقیقت میں بدلنا ہے۔”

قوم کی خود اعتمادی صرف ایک جذبہ نہیں؛

یہ ترقی کی پہلی شرط ہے۔

مولانا تصور عباس خان
پرنسپل امام رضا کمپلیکس ضلع لیہ