میڈیا
قرآن اور حدیث
فلسفہ اور کلام
تاریخ
سماجیات
سیاسیات
احکام
کتب
مجلات
آڈیواورویڈیو
تعارف
ممبرشپ
رابطہ
امام رضا کمپلیکس
تعارف
پرنسپل کا پیغام
حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا تصور عباس خان سرگانی
اساتذہ
سیاسیات
سیاسیات
اصل حکمرانی طاقت سے نہیں، شعور سے ہوتی ہے
11/08/2026
دنیا کی تاریخ میں حکومت کرنے کے بہت سے طریقے دیکھے گئے ہیں۔ کسی نے تلوار کے زور پر حکومت کی، کسی نے خوف کے ذریعے، کسی نے بھوک اور محتاجی کو اپنا ہتھیار بنایا، کسی نے لوگوں کو جہالت میں رکھا تاکہ وہ سوال نہ کریں، اور کسی نے اطلاعات اور پروپیگنڈے کے ذریعے ذہنوں کو قید کیا۔ ایسی حکومتیں بظاہر مضبوط دکھائی دیتی ہیں، لیکن حقیقت میں وہ اندر سے کمزور ہوتی ہیں؛ کیونکہ جس حکومت کو قائم رکھنے کے لیے مسلسل خوف پیدا کرنا پڑے، وہ عوام کے دلوں میں جگہ نہیں بنا سکی۔ طاقت سے لوگوں کو خاموش کرایا جا سکتا ہے، لیکن مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ خوف سے اطاعت حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن وفاداری نہیں۔ بھوک سے انسان کو مجبور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے دل کو اپنا نہیں بنایا جا سکتا۔ اصل حکمرانی یہ ہے کہ انسان کو علم دیا جائے، شعور دیا جائے، اس کے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا کیا جائے، اسے اپنے حقوق اور فرائض کا شعور دیا جائے، اور اسے ایسا شہری بنایا جائے جو اپنے ملک کی ترقی کو اپنا ذاتی فرض سمجھے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلامی تصورِ حکومت دنیا کے عام اقتداری تصور سے بلند ہوجاتا ہے۔ اسلام انسان کو صرف حاکم کی رعایا نہیں بناتا؛ اسے اللہ کا ذمہ دار بندہ بناتا ہے۔ قرآن کا پہلا پیغام: انسان کو علم دو قرآن مجید میں جب بعثتِ رسول اکرم ﷺ کا مقصد بیان ہوتا ہے تو علم و تعلیم بنیادی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں: هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ یعنی اللہ نے لوگوں میں ایک رسول بھیجا جو انہیں اللہ کی آیات سناتا ہے، ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ غور کیجیے! نبوت کا کام صرف لوگوں سے اطاعت کروانا نہیں۔ نبوت کا کام انسان بنانا ہے۔ قرآن نے رسول اللہ ﷺ کے مشن میں تعلیم، حکمت اور تزکیہ کو بنیادی حیثیت دی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ ایسا معاشرہ نہیں جس میں عوام کو صرف حکم دیا جائے اور وہ حکم مانتے رہیں۔ اسلام چاہتا ہے کہ عوام سمجھیں، جانیں، پہچانیں، سوچیں اور پھر حق کے ساتھ کھڑے ہوں۔ قرآن جہالت کو غلامی کی بنیاد سمجھتا ہے قرآن بار بار انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے: أَفَلَا تَعْقِلُونَ؟ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ؟ کیا تم غور نہیں کرتے؟ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ کہہ دیجیے: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں؟ یہ سوال صرف مدرسے کے طالب علم کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ پورے معاشرے کا سوال ہے۔ جس قوم کو سوچنا نہیں سکھایا جاتا، اسے چلانا آسان ہوتا ہے؛ لیکن جس قوم کو سوچنا سکھا دیا جائے، اسے ترقی سے روکنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اسی لیے قرآن کا انسان اندھی تقلید کرنے والا انسان نہیں۔ قرآن کہتا ہے: فَبَشِّرْ عِبَادِ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ میرے بندوں کو خوشخبری دے دیجیے؛ جو بات کو سنتے ہیں اور پھر اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ ایک باشعور انسان کی تربیت ہے۔ علم حکومت کے خلاف نہیں؛ مضبوط حکومت کی بنیاد ہے یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر عوام کو علم اور شعور دے دیا جائے تو کیا وہ حکومت کے خلاف نہیں کھڑے ہوجائیں گے؟ اسلامی جواب یہ ہے: اگر حکومت عادل ہے تو باشعور عوام اس کی سب سے بڑی طاقت بنیں گے۔ کیونکہ باشعور انسان کو ہر وقت ڈنڈے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ قانون اس لیے مانتا ہے کہ اسے قانون کی ضرورت سمجھ آتی ہے۔ وہ ٹیکس اس لیے دیتا ہے کہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ریاستی نظام کے لیے اجتماعی ذمہ داری ضروری ہے۔ وہ ملک کے لیے قربانی اس لیے دیتا ہے کہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ملک صرف حکمرانوں کا نہیں، اس کا بھی ہے۔ وہ دشمن کے پروپیگنڈے کا شکار نہیں ہوتا کیونکہ اس کے پاس شعور ہوتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر: وہ اچھے حکمران کا ساتھ اس لیے دیتا ہے کہ وہ اچھائی کو پہچانتا ہے۔ یہ حکومت کے لیے خطرہ نہیں؛ حکومت کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ خوف زدہ رعایا اور باشعور قوم میں فرق خوف زدہ رعایا کہتی ہے: “حکم کیا ہے؟” باشعور قوم پوچھتی ہے: “ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیوں کرنا چاہیے؟” خوف زدہ رعایا حکمران کے جانے کا انتظار کرتی ہے۔ باشعور قوم ریاست کے مستقبل کی فکر کرتی ہے۔ خوف زدہ انسان موقع ملتے ہی نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ باشعور انسان نظام کی اصلاح کرتا ہے۔ اس لیے حکمران کے لیے سب سے خطرناک عوام وہ نہیں جو سوال کرتے ہیں؛ سب سے خطرناک عوام وہ ہیں جو نہ سمجھتے ہیں، نہ سوچتے ہیں، نہ ذمہ داری محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ ایسی قوم کو آج ایک شخص استعمال کرے گا، کل دوسرا۔ بھوک بھی ایک سیاسی ہتھیار بن سکتی ہے تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بعض حکمرانوں نے عوام کی معاشی کمزوری کو اپنے اقتدار کے لیے استعمال کیا۔ محتاج انسان اکثر مجبور ہوتا ہے۔ لیکن اسلام کا معاشی تصور یہ نہیں کہ عوام کو محتاج رکھا جائے تاکہ وہ حکمران کے سامنے جھکے رہیں۔ قرآن کہتا ہے: كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ تاکہ مال صرف تمہارے مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔ یہ صرف اقتصادی اصول نہیں؛ یہ سیاسی حکمت بھی ہے۔ کیونکہ جس معاشرے میں چند ہاتھوں میں دولت جمع ہوجائے اور اکثریت بنیادی ضروریات کے لیے محتاج ہوجائے، وہاں انسان کی آزادی بھی کمزور ہوجاتی ہے۔ اسلام بھوکے انسان کو صرف روٹی نہیں دینا چاہتا؛ اسے عزت، اختیار، علم اور شخصیت بھی دینا چاہتا ہے۔ علم دینے والا حکمران اپنا اقتدار کم نہیں کرتا، مضبوط کرتا ہے یہاں ایک نہایت اہم حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے: حکمران کے لیے عوام کو علم دینا بظاہر اپنے اختیار کو تقسیم کرنا محسوس ہوسکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ اختیار کو مستحکم کرتا ہے۔ کیونکہ: جاہل عوام کو پولیس چاہیے۔ باشعور عوام کو قانون کافی ہوتا ہے۔ خوف زدہ معاشرے کو نگرانی چاہیے۔ ذمہ دار معاشرے کو اعتماد کافی ہوتا ہے۔ محتاج عوام کو خیرات چاہیے۔ بااختیار عوام کو مواقع چاہیے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست ترقی کرتی ہے۔ علم یافتہ شہری بہتر ڈاکٹر بنتا ہے، بہتر استاد بنتا ہے، بہتر تاجر بنتا ہے، بہتر کسان بنتا ہے، بہتر فوجی بنتا ہے، بہتر صحافی بنتا ہے، بہتر جج بنتا ہے اور بہتر سیاست دان بھی۔ یعنی: عوام کی علمی ترقی دراصل ریاست کی اجتماعی ذہانت میں اضافہ ہے۔ حکمران کا سب سے بڑا اثاثہ خزانہ نہیں، انسان ہے ریاست کے پاس تیل ہوسکتا ہے، سونا ہوسکتا ہے، زمینیں ہوسکتی ہیں، بندرگاہیں ہوسکتی ہیں، معدنیات ہوسکتی ہیں۔ لیکن اگر انسان کمزور، غیر تعلیم یافتہ، غیر ذمہ دار اور بے شعور ہو تو یہ سب وسائل بھی قوم کو عظیم نہیں بنا سکتے۔ اور اگر انسان باعلم، باکردار، محنتی، ذمہ دار اور باشعور ہو تو محدود وسائل کے باوجود قوم ترقی کرسکتی ہے۔ اسی لیے حقیقی ریاست سازی دراصل انسان سازی ہے۔ اور انسان سازی کا آغاز علم سے ہوتا ہے۔ پھر امام علیؑ کی طرف آئیے یہاں اسلامی تصورِ حکومت اپنی بلند ترین عملی مثال ہمیں امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ کی حکومت میں دکھاتا ہے۔ امام علیؑ کے نزدیک حکومت کوئی ذاتی ملکیت نہیں تھی۔ نہ اقتدار ان کے لیے ذاتی عزت کا ذریعہ تھا، نہ عوام ان کے غلام تھے۔ حکومت ایک امانت، ذمہ داری اور امتحان تھی۔ اسی لیے جب امام علیؑ مالک اشتر کو مصر کا گورنر بنا کر بھیجتے ہیں تو وہ حکومت کا ایسا منشور عطا کرتے ہیں جس میں رعایا کے ساتھ تعلق، عدل، معاش، علم، اخلاق، انتظام اور انسانی کرامت سب شامل ہیں۔ یہاں حکمران کو یہ نہیں کہا گیا کہ: “لوگوں کو اپنے سے ڈراؤ۔” بلکہ حکمران کو انسانوں کے ساتھ انسان کی حیثیت سے پیش آنے کی تعلیم دی گئی۔ امیرالمؤمنینؑ فرماتے ہیں: وَأَشْعِرْ قَلْبَكَ الرَّحْمَةَ لِلرَّعِيَّةِ وَالْمَحَبَّةَ لَهُمْ وَاللُّطْفَ بِهِمْ اپنے دل کو رعایا کے لیے رحمت، محبت اور لطف سے بھر دو۔ یہ جملہ صرف اخلاقی نصیحت نہیں۔ یہ حکومت کا فلسفہ ہے۔ کیونکہ جس حکمران کے دل میں عوام کے لیے محبت نہیں، وہ عوام کو وسائل، اعداد و شمار اور فائلوں کے طور پر دیکھتا ہے۔ لیکن علیؑ کا حکمران عوام کو انسان سمجھتا ہے۔ اور پھر امامؑ ایک تاریخی اصول بیان کرتے ہیں: فَإِنَّهُمْ صِنْفَانِ: إِمَّا أَخٌ لَكَ فِي الدِّينِ، أَوْ نَظِيرٌ لَكَ فِي الْخَلْقِ لوگ دو قسم کے ہیں: یا دین میں تمہارے بھائی ہیں، یا خلقت میں تمہارے جیسے ہیں۔ یہ ہے حکومتِ علوی! یہاں عوام “قابلِ استعمال ہجوم” نہیں۔ یہاں رعایا انسان ہے۔ اور جس حکومت کے مرکز میں انسان ہو، وہاں علم، شعور، عزت اور عدل بنیادی ضرورت بن جاتے ہیں۔ نتیجہ لہٰذا یہ فرضیہ محض سیاسی تصور نہیں بلکہ قرآن اور تعلیماتِ اہل بیتؑ سے نکلنے والا ایک گہرا اصول ہے: طاقت حکومت کو قائم کرسکتی ہے، لیکن علم حکومت کو معتبر بناتا ہے۔ خوف خاموشی پیدا کرسکتا ہے، لیکن شعور وفاداری پیدا کرتا ہے۔ بھوک انسان کو مجبور کرسکتی ہے، لیکن خوشحال اور باعزت انسان ریاست کو اپنا سمجھتا ہے۔ اور سب سے بڑی بات: جس حکمران نے اپنی قوم کو علم دیا، اس نے اپنے اقتدار کے نیچے زمین نہیں کھودی؛ اس نے اپنے اقتدار کے نیچے بنیاد مضبوط کی۔ کیونکہ علم رکھنے والا شہری حکمران کا دشمن نہیں ہوتا۔ وہ حکمران کا شریکِ تعمیر ہوتا ہے۔ اور یہی حکومتِ علوی کا اگلا باب ہمیں سمجھاتا ہے: علیؑ نے حکومت کو لوگوں پر حکومت کرنے کا نام نہیں دیا؛ علیؑ نے حکومت کو لوگوں کے حقوق ادا کرنے کی ذمہ داری سمجھا۔ یہیں سے ہم دوسرے مرحلے میں داخل ہوتے ہیں: امیرالمؤمنینؑ نے عملی حکومت میں علم، شعور، عدل، معاش، آزادیِ فکر، عوامی حقوق اور حکمران کی جواب دہی کو کس طرح جوڑا؟ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں نظریہ، منشورِ حکومتِ علوی بن جاتا ہے۔ حکومتِ علیؑ: رعایا کو باشعور بناؤ، ریاست کو مضبوط کرو اگر پہلے مرحلے میں ہم نے یہ سمجھا کہ قرآن انسان کو علم، عقل، فکر اور شعور دینے کا مطالبہ کرتا ہے، تو اب سوال یہ ہے: کیا یہ صرف ایک نظریہ ہے؟ کیا تاریخ میں ایسی حکومت گزری ہے جس نے طاقت کے بجائے عدل، خوف کے بجائے اعتماد، جہالت کے بجائے علم اور غلامی کے بجائے انسانی کرامت کو حکومت کی بنیاد بنایا؟ ہاں! وہ حکومت علی ابن ابی طالبؑ کی حکومت ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی علیؑ کی حکومت کا منشور آج کے حکمرانوں کے لیے زندہ سوال ہے۔ علیؑ کے نزدیک حکومت کیا تھی؟ امیرالمؤمنینؑ کے نزدیک حکومت کسی شخص کی ذاتی جاگیر نہیں تھی۔ اقتدار کوئی تاج نہیں تھا جسے سر پر رکھ کر انسان دوسروں سے بلند ہوجائے۔ اقتدار ایک امانت تھا۔ اسی لیے امام علیؑ نے مالک اشتر کو جب مصر کا حاکم بنا کر بھیجا تو انہیں یہ نہیں کہا کہ: “اپنی طاقت منواؤ!” بلکہ فرمایا: وَأَشْعِرْ قَلْبَكَ الرَّحْمَةَ لِلرَّعِيَّةِ وَالْمَحَبَّةَ لَهُمْ وَاللُّطْفَ بِهِمْ اپنے دل کو رعایا کے لیے رحمت، محبت اور لطف سے معمور کرو۔ یہاں ذرا رک کر سوچیے! دنیا کے سیاسی نظاموں میں اکثر سوال یہ ہوتا ہے: “عوام حکمران کے لیے کیا کریں؟“ علیؑ کے منشور میں سوال بدل جاتا ہے: “حکمران عوام کے لیے کیا کرے؟“ یہی انقلابِ فکر ہے۔ عوام رعایا نہیں، انسان ہیں امام علیؑ نے مالک اشتر کو حکومت کا سب سے بنیادی انسانی اصول بتایا: فَإِنَّهُمْ صِنْفَانِ: إِمَّا أَخٌ لَكَ فِي الدِّينِ، أَوْ نَظِيرٌ لَكَ فِي الْخَلْقِ “لوگ دو قسم کے ہیں: یا دین میں تمہارے بھائی ہیں یا خلقت میں تمہارے جیسے۔” یہ ایک جملہ نہیں؛ یہ پوری انسانی سیاست کا منشور ہے۔ اس جملے میں علیؑ نے حکمران اور عوام کے درمیان موجود نفسیاتی فاصلے کو ختم کردیا۔ عوام کوئی “ہجوم” نہیں۔ کوئی “ووٹ بینک” نہیں۔ کوئی “ٹیکس دینے والی مشین” نہیں۔ کوئی “حکمران کی طاقت کا ذریعہ” نہیں۔ وہ انسان ہیں۔ اور انسان ہونے کی وجہ سے ان کی عزت ہے۔ علم سے ڈرنے والا حکمران علیؑ کا حکمران نہیں یہاں ہمارے اصل موضوع کی طرف آئیے۔ اگر حکمران عوام کو علم دے گا تو وہ سوال کریں گے۔ اگر شعور دے گا تو وہ احتساب کریں گے۔ اگر تعلیم دے گا تو وہ اپنے حقوق جانیں گے۔ پھر کیا حکمران کا اقتدار کمزور نہیں ہوگا؟ علیؑ کا جواب ہے: نہیں! کیونکہ علیؑ کا حکمران عوام کے سوال سے نہیں ڈرتا۔ وہ ظلم سے ڈرتا ہے۔ وہ حق سے ڈرتا ہے۔ وہ خدا کے سامنے جواب دہی سے ڈرتا ہے۔ اسی لیے امام علیؑ نے اپنے گورنروں کو ایسی رعایا نہیں چاہی جو صرف “جی حضور” کہے۔ بلکہ ایسا معاشرہ چاہا جس میں حق بات کہنے کی گنجائش ہو۔ “مجھ سے وہ بات نہ کہو جو جابروں سے کہی جاتی ہے” امیرالمؤمنینؑ کا ایک نہایت عظیم ارشاد نہج البلاغہ میں ہے: فَلَا تُكَلِّمُونِي بِمَا تُكَلَّمُ بِهِ الْجَبَابِرَةُ، وَلَا تَتَحَفَّظُوا مِنِّي بِمَا يُتَحَفَّظُ بِهِ عِنْدَ أَهْلِ الْبَادِرَةِ “مجھ سے وہ باتیں نہ کرو جو جابروں سے کی جاتی ہیں، اور مجھ سے اس طرح نہ ڈرو جیسے تندخو لوگوں سے ڈرا جاتا ہے۔” یہ علیؑ کی حکومت کا حیرت انگیز پہلو ہے۔ آج بھی بعض معاشروں میں حکمران کے سامنے لوگ بولنے سے پہلے سوچتے ہیں: “کہیں ناراض نہ ہوجائے!” علیؑ فرماتے ہیں: مجھ سے مت ڈرو۔ کیوں؟ کیونکہ علیؑ کو اپنی طاقت پر اعتماد نہیں تھا؟ نہیں! علیؑ کو عدل پر اعتماد تھا۔ حکمران کو تنقید سے فائدہ اٹھانا چاہیے امام علیؑ اسی خطبے میں فرماتے ہیں: فَلَا تَكُفُّوا عَنْ مَقَالَةٍ بِحَقٍّ أَوْ مَشُورَةٍ بِعَدْلٍ “حق بات کہنے یا عدل پر مبنی مشورہ دینے سے باز نہ رہو۔” یہ جملہ ہمارے موضوع کا دل ہے۔ غور کیجیے: علیؑ عوام سے کیا مانگ رہے ہیں؟ خاموشی؟ نہیں۔ چاپلوسی؟ نہیں۔ اندھی اطاعت؟ نہیں۔ وہ کہتے ہیں: حق بات کہو۔ عدل کا مشورہ دو۔ یہی باشعور معاشرہ ہے۔ کیوں؟ کیونکہ حکمران بھی انسان ہے۔ وہ ہر چیز نہیں دیکھ سکتا۔ وہ ہر جگہ نہیں پہنچ سکتا۔ اس کے اردگرد موجود لوگ اسے غلط معلومات دے سکتے ہیں۔ اس کے وزراء غلط فیصلے کرسکتے ہیں۔ اس کے افسران بدعنوان ہوسکتے ہیں۔ اس کے ماتحت عوام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اگر عوام خوف کے باعث خاموش ہوجائیں تو حکمران کو حقیقت معلوم ہی نہیں ہوگی۔ لہٰذا: آزادانہ حق گوئی حکمران کے خلاف ہتھیار نہیں؛ حکمران کے لیے آنکھ ہے۔ اور: باشعور عوام حکومت کے دشمن نہیں؛ حکومت کے آئینے ہیں۔ علیؑ نے ایسا معاشرہ کیوں چاہا؟ کیونکہ امام علیؑ جانتے تھے کہ حکمران اکیلا ریاست نہیں چلا سکتا۔ ایک ملک صرف ایوانِ حکومت سے نہیں چلتا۔ ریاست کروڑوں انسانوں کے مجموعی کردار سے بنتی ہے۔ اگر استاد ایماندار ہے تو ریاست مضبوط ہے۔ اگر تاجر دیانت دار ہے تو ریاست مضبوط ہے۔ اگر کسان محنت کرتا ہے تو ریاست مضبوط ہے۔ اگر مزدور اپنا کام ذمہ داری سے کرتا ہے تو ریاست مضبوط ہے۔ اگر افسر رشوت نہیں لیتا تو ریاست مضبوط ہے۔ اگر صحافی حقیقت بیان کرتا ہے تو ریاست مضبوط ہے۔ اگر نوجوان علم حاصل کرتا ہے تو ریاست مضبوط ہے۔ یعنی: ریاست کی اصل طاقت سرحدوں پر کھڑی فوج سے پہلے انسان کے اندر کھڑی ہوئی ذمہ داری ہے۔ امام علیؑ کے نزدیک عوام کی معاشی حالت بھی حکومت کی ذمہ داری ہے حکومت صرف امن قائم کرنے کا نام نہیں۔ حکومت صرف سڑک بنانے کا نام نہیں۔ حکومت کا بنیادی امتحان یہ ہے کہ اس کے زیرِ سایہ انسان عزت کے ساتھ زندہ رہتا ہے یا نہیں۔ امام علیؑ مالک اشتر کو فرماتے ہیں کہ عوام کے معاملات میں ان کی معاشی حالت، خراج اور تجارت کا خیال رکھو۔ اور پھر ایک نہایت اہم اصول بیان کرتے ہیں: فَإِنَّمَا عِمَارَةُ الْأَرْضِ بِمَا يُصْلِحُهَا أَهْلُهَا “زمین کی آبادی اسی چیز سے ہے جس سے اس کے باشندوں کی اصلاح ہو۔” یہاں “عمارت” صرف عمارتیں بنانے کا نام نہیں۔ ریاست کی آبادکاری، معاشی ترقی اور خوشحالی انسانوں کی اصلاح اور ان کی صلاحیتوں کے استعمال سے وابستہ ہے۔ اس لیے ایسا حکمران جو عوام کو بھوکا رکھ کر حکومت بچانا چاہے، وہ بظاہر اقتدار بچا سکتا ہے، مگر ریاست نہیں بنا سکتا۔ بھوکا انسان ریاست کا سرمایہ نہیں بن سکتا ایک بھوکا باپ اپنے بچوں کی تعلیم کے بارے میں کتنا سوچے گا؟ ایک ایسا نوجوان جسے روزگار نہ ملے، وہ اپنی صلاحیت کہاں استعمال کرے گا؟ ایک ایسا طالب علم جس کے پاس کتاب خریدنے کے پیسے نہ ہوں، اس کی ذہانت کیسے ملک کے کام آئے گی؟ ایک ایسا کسان جو مسلسل قرض میں ڈوبا ہوا ہو، وہ پیداوار کیسے بڑھائے گا؟ یہی وجہ ہے کہ علیؑ کی حکومت میں عدل اور معاشی ترقی الگ موضوعات نہیں تھے۔ کیونکہ: انسان کی عزت بچاؤ گے تو اس کی صلاحیت سامنے آئے گی۔ اور جب صلاحیت سامنے آئے گی تو ملک ترقی کرے گا۔ ٹیکس لینے سے پہلے پیداوار بڑھاؤ امام علیؑ مالک اشتر کو خراج کے بارے میں ایک غیر معمولی اصول دیتے ہیں: وَلْيَكُنْ نَظَرُكَ فِي عِمَارَةِ الْأَرْضِ أَبْلَغَ مِنْ نَظَرِكَ فِي اسْتِجْلَابِ الْخَرَاجِ “زمین کی آبادکاری پر تمہاری نظر خراج وصول کرنے سے زیادہ ہونی چاہیے۔” یہ حکومت کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ حکومت کا مقصد یہ نہیں کہ: آج کتنا ٹیکس وصول ہوا؟ بلکہ سوال یہ ہے: اگلے دس سال میں ملک کی پیداواری صلاحیت کتنی بڑھے گی؟ اگر کسان خوشحال ہوگا تو ٹیکس بھی بڑھے گا۔ اگر صنعت ترقی کرے گی تو روزگار بھی بڑھے گا۔ اگر تجارت بڑھے گی تو ریاست کی آمدنی بھی بڑھے گی۔ یعنی: عوام کی خوشحالی اور حکومت کی مضبوطی ایک دوسرے کی دشمن نہیں؛ ایک دوسرے کی بنیاد ہیں۔ یہاں ایک بہت بڑا راز سمجھ میں آتا ہے جس حکمران کو صرف آج کی آمدنی نظر آتی ہے، وہ رعایا کو نچوڑتا ہے۔ جس حکمران کو آنے والی نسلیں نظر آتی ہیں، وہ رعایا کو مضبوط کرتا ہے۔ پہلا حکمران خزانہ بھر سکتا ہے۔ دوسرا حکمران ملک بناتا ہے۔ علیؑ کا حکمران دوسرا ہے۔ علم، شعور اور معیشت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں علم صرف کتاب پڑھنے کا نام نہیں۔ علم انسان کو یہ سمجھاتا ہے کہ: میں کون ہوں؟ میرا حق کیا ہے؟ میرا فرض کیا ہے؟ ریاست کیا ہے؟ قانون کیوں ضروری ہے؟ معاشرے میں میرا کردار کیا ہے؟ میرے فیصلے کا دوسروں پر کیا اثر پڑتا ہے؟ یہ شعور پیدا ہوجائے تو انسان صرف “صارف” نہیں رہتا؛ وہ شہری بن جاتا ہے۔ اور شہری ریاست کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتا ہے۔ علیؑ کے نزدیک حکمران کو عوام سے وفاداری کیسے ملتی ہے؟ ڈنڈے سے؟ نہیں۔ خوف سے؟ نہیں۔ علیؑ نے مالک اشتر کو ایک حیرت انگیز اصول دیا: وَلْيَكُنْ أَحَبَّ الْأُمُورِ إِلَيْكَ أَوْسَطُهَا فِي الْحَقِّ، وَأَعَمُّهَا فِي الْعَدْلِ، وَأَجْمَعُهَا لِرِضَى الرَّعِيَّةِ حکومت کے معاملات میں تمہیں وہ طریقہ زیادہ پسند ہونا چاہیے جو حق میں درمیانہ، عدل میں عام اور رعایا کی رضا کو زیادہ جمع کرنے والا ہو۔ یہاں “رضایتِ رعایا” کو حکومت کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ کیوں؟ کیونکہ علیؑ جانتے تھے: جس حکومت کو عوام دل سے قبول کرلیں، اسے ہر وقت طاقت کے استعمال کی ضرورت نہیں رہتی۔ خوف سے امن نہیں بنتا آپ کسی شہر میں ہزار سپاہی کھڑے کرسکتے ہیں۔ ہر چوک پر پولیس لگا سکتے ہیں۔ ہر زبان کو خاموش کرسکتے ہیں۔ لیکن دلوں میں امن پیدا نہیں کرسکتے۔ امن اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان کو یقین ہو: میرے ساتھ ظلم نہیں ہوگا۔ میری بات سنی جائے گی۔ میرے بچے کو تعلیم کا حق ہے۔ مجھے روزگار کا موقع مل سکتا ہے۔ قانون میرے اور طاقتور کے لیے ایک ہے۔ یہ احساس پیدا ہوجائے تو انسان ریاست کا محافظ بن جاتا ہے۔ علیؑ کا سب سے بڑا انتظامی سبق: اہل اور دیانت دار افراد امام علیؑ نے حکومت میں افراد کے انتخاب کو بھی انتہائی اہم قرار دیا۔ مالک اشتر کو مختلف طبقات اور اہلکاروں کے بارے میں ہدایات دیتے ہوئے ان کی صلاحیت، تجربہ، دیانت اور سابقہ کردار کو اہمیت دی۔ یہ بھی علم و شعور ہی کا حصہ ہے۔ کیونکہ ریاست صرف پالیسیوں سے نہیں چلتی۔ ریاست صحیح انسانوں سے چلتی ہے۔ غلط آدمی کو اختیار دے دیں تو بہترین قانون بھی ناکام ہوسکتا ہے۔ لہٰذا: علم یافتہ قوم + دیانت دار انتظامیہ = مضبوط ریاست جبکہ: جہالت + بدعنوانی + خوف = کمزور ریاست اب اصل سوال کا فیصلہ کیجیے کیا عوام کو علم دینا حکمران کے لیے نقصان دہ ہے؟ علیؑ کی حکومت کہتی ہے: نہیں! بلکہ: علم یافتہ عوام حکمران کے فیصلوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ باشعور عوام دشمن کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ تعلیم یافتہ عوام معیشت میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ذمہ دار عوام قانون کا احترام کرتے ہیں۔ حق شناس عوام ظلم کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔ اور وفادار عوام بحران کے وقت ریاست کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ پس: علم عوام کو حکومت سے دور نہیں کرتا؛ علم عوام کو ریاست کے ساتھ شعوری طور پر جوڑتا ہے۔ مگر ایک شرط ہے یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب حکمران بھی حق کو قبول کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ اگر عوام کو علم دیا جائے مگر ان کی بات نہ سنی جائے تو علم اور حکومت کے درمیان تصادم پیدا ہوگا۔ اگر عوام کو شعور دیا جائے مگر عدل نہ ہو تو سوال بڑھیں گے۔ اگر تعلیم دی جائے مگر روزگار نہ ہو تو مایوسی پیدا ہوگی۔ اگر حقوق بتائے جائیں مگر حقوق دیے نہ جائیں تو اعتماد ختم ہوگا۔ لہٰذا علیؑ کا ماڈل صرف “تعلیم دو” نہیں۔ بلکہ: تعلیم دو۔ شعور دو۔ عدل دو۔ روزگار دو۔ حقوق دو۔ اور پھر عوام کو شریکِ تعمیر بناؤ۔ یہی حکمران کے اپنے مفاد میں بھی ہے یہ بات بہت اہم ہے۔ عوام کو علم دینا صرف عوام کا فائدہ نہیں۔ حکمران کا بھی فائدہ ہے۔ کیونکہ باشعور عوام: اچھے منصوبے کی حمایت کرتے ہیں۔ غلطی کی بروقت نشاندہی کرتے ہیں۔ دشمن کے جھوٹ کو پہچانتے ہیں۔ ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ معاشی سرگرمی بڑھاتے ہیں۔ قانون کی پاسداری کرتے ہیں۔ بحران میں قومی اتحاد پیدا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جاہل، محروم اور خوف زدہ معاشرہ: افواہوں کا شکار ہوتا ہے۔ آسانی سے تقسیم ہوتا ہے۔ دشمن کے پروپیگنڈے کا شکار ہوتا ہے۔ ریاست سے بیگانہ ہوتا ہے۔ بدعنوان عناصر کے ہاتھوں استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا: حکمران اگر اپنے اقتدار کو محفوظ کرنا چاہتا ہے تو عوام کو کمزور نہیں، مضبوط کرے۔ علیؑ کا اقتدار کہاں تک قائم رہا؟ یہاں تاریخ کا ایک حیرت انگیز سبق ہے۔ علیؑ کی ظاہری حکومت ختم ہوگئی۔ لیکن علیؑ کا اقتدار ختم نہیں ہوا۔ کیوں؟ کیونکہ علیؑ نے لوگوں کے جسموں پر حکومت نہیں کی تھی۔ انہوں نے ضمیر پر حکومت کی۔ تلوار سے حکومت کرنے والے حکمران تاریخ کے صفحات میں دفن ہوگئے۔ لیکن علیؑ آج بھی زندہ ہیں۔ ان کا نام عدالت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ ان کا نام علم کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ ان کا نام شجاعت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ ان کا نام انسانیت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ ان کا نام حکومت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ یہ ہے دوامِ اقتدار۔ اصل حکمرانی کیا ہے؟ اب ہم اپنے ابتدائی جملے کی طرف واپس آتے ہیں: طاقت کے بل بوتے پر ڈر اور خوف میں مبتلا کرکے لوگوں پر حکومت کی جاسکتی ہے۔ ہاں! کچھ عرصے کے لیے۔ بھوک اور افلاس میں رکھ کر بھی حکمرانی کی جاسکتی ہے۔ ہاں! کچھ عرصے کے لیے۔ جہالت میں رکھ کر بھی اطاعت حاصل کی جاسکتی ہے۔ ہاں! لیکن: دل نہیں جیتے جاسکتے۔ اور جس حکومت نے دل نہ جیتے ہوں، اس کی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔ علیؑ ہمیں دوسرا راستہ دکھاتے ہیں: علم دو۔ شعور دو۔ عدل دو۔ عزت دو۔ روزگار دو۔ حق گوئی کی آزادی دو۔ اور عوام کو ریاست کا شریک بناؤ۔ پھر دیکھو! جو عوام پہلے رعایا تھی، وہ قوم بن جائے گی۔ جو قوم پہلے حکومت سے خوفزدہ تھی، وہ حکومت کی محافظ بن جائے گی۔ جو نوجوان پہلے روزگار کے لیے بھٹکتا تھا، وہ ملک کی معیشت کا معمار بن جائے گا۔ جو طالب علم صرف کتاب پڑھ رہا تھا، وہ ریاست کا مستقبل بن جائے گا۔ اور جو حکمران پہلے اقتدار بچانے کے لیے طاقت استعمال کرتا تھا، اسے طاقت کے بجائے اعتماد مل جائے گا۔ آخری بات دنیا کے حکمرانوں سے ایک سوال ہے: آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ سے ڈریں یا آپ پر اعتماد کریں؟ اگر ڈر چاہتے ہیں تو تلوار کافی ہے۔ اگر خاموشی چاہتے ہیں تو خوف کافی ہے۔ اگر وقتی اطاعت چاہتے ہیں تو محتاجی کافی ہے۔ لیکن اگر قوم بنانی ہے، ملک بنانا ہے، تہذیب بنانی ہے اور اقتدار کو نسلوں تک مضبوط بنیاد دینی ہے تو پھر علیؑ کا راستہ اختیار کرنا ہوگا: انسان کو علم دو۔ اسے سوچنے دو۔ اسے سوال کرنے دو۔ اسے حق بتاؤ۔ اسے انصاف دو۔ اسے روزگار دو۔ اس کی عزت کرو۔ اور اسے ملک کی تعمیر کا شریک بنا دو۔ کیونکہ: جس حکمران نے عوام کے ہاتھ باندھے، اس نے اپنی حکومت کے پاؤں باندھے۔ جس حکمران نے عوام کی آنکھیں کھولیں، اس نے اپنے ملک کی آنکھیں کھول دیں۔ اور علیؑ کی حکومت ہمیں یہی سبق دیتی ہے: حکومت کا دوام عوام کو کمزور کرنے میں نہیں، عوام کو مضبوط کرنے میں ہے۔ اقتدار کی حفاظت دیواروں سے نہیں ہوتی؛ دلوں سے ہوتی ہے۔ اور دلوں تک پہنچنے کا راستہ خوف سے نہیں، علم، عدل، عزت اور خدمت سے گزرتا ہے۔ یہی حکومتِ علیؑ کا راز ہے۔ اور شاید یہی آج کے حکمران کے لیے سب سے بڑا سبق بھی۔ تحریر: حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا تصورعباس خان ، پرنسپل امام رضا کمپلیکس چوک اعظم ضلع لیہ 11 august 2026...
Read more...
وحدت اسلامی کی اہمیت ( محمد عمار رضا)
10/01/2022
عنوان مقالہ :وحدت اسلامی کی اہمیت، سیرت امام صادق (ع)کی روشنی میں::::: موجودہ زمانے میں جہان اسلامی، عالمی سازشوں اور استعمار کے اوچھے ہتھکنڈوں کا شکار بن چکا ہے۔اور روز بروز اسلام دشمنی اور اسلام ہراسی کی کوششوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔اسلام دشمنی کے آزمودہ اور سب سے خطرناک ترین حربوں میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمانوں میں تفرقہ اور فرقہ واریت کو ہوا دی جائے۔اور مسلمانوں کے چند اختلافی مسائل کو آتشین اسلحہ کے طور پر استعمال کر کے اصل اسلام کو اس صفحہ ہستی سے مٹایا جا سکے۔آج اکثر مسلمان ممالک عموماً اور مملکت خداداد پاکستان خصوصاً فرقہ واریت اور عدم برداشت جیسی لعنت کا شکار ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ان سازشوں اور دشمن کے بچھائے جالوں سے نبٹنےکا ایک ہی حل ہے کہ اسلامی وحدت،رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دیا جائے۔ ماہ مبارک ربیع الاول بمناسبت میلاد مبارک حضرت رسول اکرم محمد مصطفی صلی الله علیه وآله وسلم اور رئیس مذهب جعفریه حضرت امام جعفر ابن محمد الصادق علیه السلام ،جہاں تمام مسلمانوں کے لیے عموماً اور شیعیان حیدر قرار علیہ السلام کے لیے خصوصاً ،خوشیوں اور مسرتوں کا پیام لے کر آتا ہے وہاں یہی ماہ ہمارے لیے اتحاد اور اسلامی رواداری کا بھترین نمونہ بھی بن سکتا ہے۔الحمدللہ انقلاب اسلامی ایران کی بےشمار فیوض و برکات میں سے ایک عظیم برکت یہی اتحاد بین المسلمین کی عملى کوشش ہے کہ جس کو منظم کرنے کے لیے ہر سال ١٢ربیع الاول سے لے کر ١٧ ربیع الاول تک ہفتہ وحدت اسلامی منایا جاتا ہے،اور پوری دنیا سے تمام اسلامی فرقوں کے نمایندگان اسی موضوع پر گفتگو کرتے ہیں۔لیکن اس عظیم مقصد اور ہدف کو حاصل کرنے کے لیے یہ کوششیں اس وقت تک ثمر آور نہیں ہوں گی جب تک ایک ایک مسلمان اپنے دل و جان سے اس نیک مقصد کے حصول کی کوشش نہ کرے۔وحدت اسلامی کے خواب کی تعبیر کے لیے سب سے بھترین حل یہ ہے کہ امت اسلامی کے مشترکات سے تمسک کیا جائے کہ جن میں سے سب سے عظیم القدر قرآن مجید ہے اور پھر سنت پیامبر اسلام اور سیرہ اہلبیت علیہم السلام۔انھی مشترکہ مقدسات میں سے ایک عظیم شخصیت حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ہے،کہ جو تمام اسلامی فرقوں میں انتہائی اہمیت اور شان و مرتبت کے حامل ہیں،کہ جو نا صرف مکتب تشیع کے موسس ہیں بلکہ ہمارے برادران اسلامی کے موسسین اور ائمہ کے استاد کا درجہ رکھتے ہیں ۔اس موضوع پر بحمد اللہ تمام اسلامی فرقوں کے علماء نے سیر حاصل ابحاث فرمائی ہیں۔اور مستقل کتابیں بھی تحریر کی ہیں ۔جیسے کتاب الامام الصادق و مذاہب اربعہ(جو اس موضوع پر واقعی بھترین کتاب ہے) تقبل اللہ سعیھم الجمیلہ۔یہ تحریر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے کہ جس میں پہلے تو وحدت اسلامی کی ضرورت اور اہمیت کو قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے اور پھر اس سلسلے میں حضرت امام جعفر صادق علیہ سلام کی کوششوں اور روشوں کی بحث کی گئی ہے۔و من اللہ التوفیق۔ وحدت کی اہمیت اور ضرورت اسلامی رواداری اور وحدت ،مسلمانوں کی تاریخی ،اجتماعی اور سیاسی ضروریات میں سے سب سے اہم ضرورت ہے۔مسلمانوں کی عزت اور کامیابی کا راز اسی میں پوشیدہ ہے۔اور اس کے مقابلے میں اختلاف اور تفرقہ کا نتیجہ سوائے ذلت و خواری اور جہالت کے کچھ نہیں۔اسلامی رواداری اور وحدت کی طرف دعوت اور تفرقہ سے پرہیز کا حکم قرآن اور محمد و آل محمد علیہم السلام کے مہم ترین احکامات میں سے ہے۔قرآن نے مسلمانوں کو امت واحدہ کے نام سے پکارا ہے۔ إِنَّ هذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً واحِدَةً وَ أَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ(انبیاء٩٢) یہ تمہاری امت یقینا امت واحدہ ہے اور میں تمہارا رب ہوں لہٰذا تم صرف میری عبادت کرو۔اسی طرح مومنین کو آپس میں ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا ہے اور آپس کے تعلقات کی اصلاح کا حکم دیا ہے۔ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَ اتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (حجرات ١٠) مومنین تو بس آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا تم لوگ اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔اور تمام مسلمانوں کو تفرقہ سے پرہیز اور خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کا امر دیا ہے۔ وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَميعاً وَ لا تَفَرَّقُوا وَ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْداءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْواناً وَ كُنْتُمْ عَلى شَفا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْها كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آياتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ۔(آل عمران ١٠٣) اور تم سب باهم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو اور تم اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت ڈالی اور اس کی نعمت سے تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ گئے تھے کہ اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا، اس طرح اللہ اپنی آیات کھول کر تمہارے لیے بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت حاصل کرو۔اور ساتھ ہی ساتھ تفرقہ کے ممکنہ خطرات اور نتائج سے بھی آگاہ کر دیا ہے۔ وَ لا تَنازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَ تَذْهَبَ ريحُكُمْ وَ اصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرينَ (انفال ٤٦) اور آپس میں نزاع نہ کرو ورنہ ناکام رہو گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر سے کام لو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ هے۔ اسی طرح اگر ہم سیرہ مطہرہ معصومین علیہم السلام کی طرف دقت کریں، تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک وحدت امت اسلامی سے بڑھ کر اور کوئی چیز محبوب اور تفرقہ سے بڑھ کر اور کوئی چیز مبغوض نہ تھی۔اور یہی وحدت اسلامی تھی کہ جس کی خاطر انہوں نے اپنے حقوق کو بھی پس پشت ڈال دیا اور اپنے مناصب چھن جانے پر بھی صبر کیا۔امام علی علیہ سلام کا 25 سالہ سکوت،صلح امام حسن علیه سلام،امام رضا علیہ السلام کی طرف سے ولایت عہدی کی قبولیت،ان کےعلاوہ سینکڑوں مثالیں اس بات کی گواہ ہیں کہ ان بزرگواران کے نزدیک وحدت امت اسلامی کا کیا مقام تھا۔ وحدت اسلامی کا مفہوم اور دائرہ کار بعض افراد سمجھتے ہیں کہ وحدت مسلمین اور تقریب مذاہب صرف خاص حالات یا خاص اماکن تک محدود ہیں اور وه بھی بہ امر مجبوری یا بصورت تقیہ ،وگرنہ مختلف فرقوں میں دوستانہ تعلقات اور اخلاص پر مبنی رواداری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،حالانکہ ہمیں یہ امر مدنظر رکھنا چاھیے کہ کچھ مسائل میں فرقوں کا اختلاف ،اخوت اسلامی اور باھمی رواداری میں مانع و مخل نہیں ہوتا ،جب دین مبین اسلام تمام مسلمانوں کو یہ امر دیتا ہے کہ باقی ادیان آسمانی (یہودیت، مسیحیت وغیرہ) کے ساتھ عادلانہ میل جول اور مسالمت آمیز تعلقات رکھیں اور ان کے ساتھ مشترکات کی بنیاد پر معاشرے میں زندگی گزاریں، تو برادران دینی کہ ساتھ تعلقات رکھنے میں قرآن کا موقف بدرجہ اولی واضح اور روشن ہے۔قرآن میں ارشاد ہے کہ قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ تَعالَوْا إِلى كَلِمَةٍ سَواءٍ بَيْنَنا وَ بَيْنَكُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللَّهَ وَ لا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئاً وَ لا يَتَّخِذَ بَعْضُنا بَعْضاً أَرْباباً مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (آل عمران ٦٤) کہدیجیے:اے اہل کتاب! اس کلمے کی طرف آ جاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے ، وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ بنائیں اور اللہ کے سوا آپس میں ایک دوسرے کو اپنا رب نہ بنائیں، پس اگر نہ مانیں تو ان سے کہدیجیے: گواہ رہو ہم تو مسلم ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی ہماری توجہ ہونی چاہئے کہ جب ہم وحدت اسلامی اور رواداری کی بات کرتے ہیں تو ہمیں وحدت امت اسلامی اور وحدت مذاھب کے درمیان خلط اور اشتباہ نہیں کرنا چاھیے۔کیونکہ بعض اوقات نظریہ وحدت کی ناقص یا غلط تعبیرات کی وجہ سے افراد میں مختلف شبھات اور غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔وحدت اسلامی کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمارے نزدیک جو قطعیات اور مسلمات مذہب ہیں، ان کو چھوڑ دیں یا ان سے دستبردار ہو جائیں،بلکہ اس کا معنا یہ ہے کہ اپنے اعتقادات اور مسلمہ نظریات پر قائم رہتے ہوے، مشترکات دینی کی بنیاد پر باہمی رواداری اور بھائی چارے کی فضا میں زندگی گزاری جائے اور ایسے اختلافی مسائل کہ جن کو زیربحث لانے سے سوائے فرقہ واریت اور نفرت کے اور کوئی نتیجہ برامد ہونے کا امکان نہ ہو ،کو زیر بحث لانے سے اجتناب کیا جائے۔البتہ جہاں علمی اور خالصتا تحقیقی فضا میسر آجائے تو دوستانہ ماحول میں بحث و تمحیص میں کوئی حرج نہیں بلکہ انہی علمی ابحاث سے استفادہ کرتے ہوئے مسائل تاریخی ،فقھی اور اعتقای کو جدال احسن کے زریعے سلجھایا جا سکے تو اس سے بڑھ کر وحدت اسلامی کی خدمت نہیں ہو سکتی،لیکن یہ مناظرانہ بلکہ جاہلانہ انداز ،گالم گلوچ،توہین ،نعرے بازی اور وال چاکنگ وغیرہ کے طریقوں سے آج تک نہ کوئی راہ راست پر آیا ہے(اور اگر آیا بھی ہے تو اس کا جو نقصان داخلی طور پر خود مذھب شیعہ کو اٹھانا پڑا ہے وہ اظہرمن الشمس ہے) اور نہ ہی یہ ہمارے مذہب کے اصولوں کے مطابق ہے۔جدال احسن اور ہمارے مروجہ مناظرے میں جو فرق ہے ارباب عقل و دانش اور اہل انصاف کے لیے واضح و روشن ہے۔ بنابر ایں وحدت اسلامی سے ہمارا مقصود یہ ہونا چاھیے کہ تمام مذاھب و مسالک اور مکاتب فکر اختلافی مسائل کو ایک طرف رکھتے ہوئے دینی مشترکات کو اخذ کریں اور باھمی رواداری سے زندگی گزاریں ،اس سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ تمام مسالک میں سے کسی ایک کو چن لیا جائے اور مخالفین پر زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کی جائے یا تمام مسالک کو جڑ سے ختم کر کے نئے اصول یا قوانین دینی وضع کیے جائیں کہ جو تمام مسالک اور مکاتب فکر کو قبول ہوں کیونکہ یہ امر نہ ہی ممکن ہے اور نہ ہی منطقی و عاقلانہ۔ انہی مشترکات بلکہ بین المذاھب مقدسات میں سے ایک بہت بڑا مصداق اہلبیت علیہم السلام کی شخصیات ہیں۔یہ وہ شخصیات ہیں کہ جو تمام مسالک اور مکاتب فکر کے نزدیک انتہائی قابل احترام اور مقدسات کا درجہ رکھتی ہیں۔(سوائے ناصبیوں اور تکفیریوں کے،کہ جن کو مسلمان کہنا ،لفظ اسلام کے لغوی اور اصطلاحی دونوں معانی کے مخالف ہے)۔ہمیں چاہیے کہ ان حضرات کی سیرت عالیہ اور فرامین مقدسہ کو موضوع بحث بنایا جائے ۔ان کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کا مطالعہ کر کے اپنی راہوں کو متعین کیا جائے۔جو صحیح احادیث کی صورت میں ہمارے پاس ائمہ اطھار کی علمی میراث موجود ہے اس کو تمام مسالک اور مکاتب فکر کے سامنے پیش کیا جائے۔کیونکہ ممکن نہیں کہ لوگ معارف حدیثی سے آشنا ہوں اور اہلبیت علیہم السلام کے عاشق نہ ہو جائیں۔روایت هے که سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ عَلِيَّ بْنَ مُوسَى الرِّضَا ع يَقُولُ رَحِمَ اللَّهُ عَبْداً أَحْيَا أَمْرَنَا فَقُلْتُ لَهُ وَ كَيْفَ يُحْيِي أَمْرَكُمْ قَالَ يَتَعَلَّمُ عُلُومَنَا وَ يُعَلِّمُهَا النَّاسَ فَإِنَّ النَّاسَ لَوْ عَلِمُوا مَحَاسِنَ كَلَامِنَا لَاتَّبَعُونَا (عيون أخبار الرضا،ج١،ص٣٠٨) راوی کہتا ہے کہ میں نے سنا کہ امام فرما رہے تھے کہ خدا رحمت کرے اس شخص پر کہ جو ہمارے امر کو زندہ کرے تو میں نے پوچھا کہ وہ کیسے آپ کے امر کو زندہ کر سکتا ہے تو امام نے فرمایا کہ ہمارے علوم اور معارف کو حاصل کرے اور لوگوں تک پہنچائے اگر لوگوں کو ہمارے کلام کی خوبصورتی اور محاسن کا علم ہو جائے تو وہ ہماری اتباع کریں۔مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ ہماری کوتاھی ہے کہ ہم اہلبیت علیہم السلام کی اس علمی میراث کی تبلیغ کا حق ادا کرنا تو دور کی بات ،خود بھی اس سے کما حقہ مطلع نہیں ہیں ۔خدا ہمیں معارف محمد و آل محمد علیہم السلام کے سمجھنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ شخصیات اہلبیت علیہم السلام میں سے جس شخصیت مقدسہ کو سب سے زیادہ اور مختلف مسالک و مکاتب سے ارتباط اور برخورد کا موقع ملا وہ امام جعفر صادق علیہ السلام ہیں کہ جن کی ولادت با سعادت کی عظیم مناسبت کے حوالے سے وحدت اسلامی اور باھمی رواداری میں ان کے عظیم کردار کے چند پہلو قارئین کی خدمت میں پیش کروں گا؛ امام صادق علیہ السلام کا عموم اہلسنت سے ارتباط : امام صادق علیہ سلام کا اہل سنت سے ارتباط اور تعلق باھمی رواداری اور خیرخواہانہ رویے پر مشتمل تھا۔آپ کے نزدیک تمام مسلمان، فرزندان اسلام اور آپس میں بھائی کا درجہ رکھتے تھے۔اگر آپ کی معاشرتی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ہمیشہ اپنے دروس اور فرامین میں ،اپنے آپ کو مرجع علمی اسلام کے طور پر متعارف کروایا ، نہ کہ ایک خاص مکتب کے رئیس و امام کے حوالے سے۔امام علیہ سلام کا مقام و منصب صرف رئیس مکتب تشیع و جعفری کا نہ تھا بلکہ آپ منبع ہدایت اور مرجع معارف اسلامی کے طور پر مانے جاتے تھے۔آپ کے مکتب کے چار ہزار شاگردان میں سے ایک بہت بڑی تعداد اہل سنت حتی ادیان دیگر کے ماننے والوں کی بھی تھی۔آپ علیہ سلام کا مدرسہ اور بیت مبارک ،تمام مسالک کے ماننے والوں کے لیے مرجع علمی اور بزرگان اہل سنت کے لیے حلال مشکلات کا مرتبہ رکھتا تھا۔ نہ صرف امام صادق علیہ السلام کا اہل سنت سے اپنا تعامل و تعلق نیک نیتی اور اسلامی رواداری پر مشتمل تھا بلکہ آپ علیہ سلام نے ہمیشہ اپنے ماننے والوں کو بھی یہی سفارش کی،چنانچہ جب آپ کے ایک صحابی نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ مولا آپ کے ماننے والوں کا اپنے غیر شیعہ رشتے داروں ،برادری والوں اور پڑوسیوں سے تعلق کیسا ہونا چاھیے تو امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ تم اپنے ائمہ اور رہبروں کی سیرت کو دیکھو کہ ان کی رفتار اور کردار کیسا تھا۔جیسے وہ رہتے ہیں ،ویسے ہی تم لوگ بھی رہو،اللہ کی قسم تمہارے ائمہ ان کے بیماروں کی عیادت کرتے ہیں ،ان کے جنازوں میں شریک ہوتے ہیں ،ان کے بارے گواہیاں دیتے ہیں،اور ان کی امانتوں کی حفاظت کرتے ہیں اور پھر فرماتے ہیں کہ تمہارا رویہ ان کے ساتھ ایسا ہونا چاھیے کہ جب وہ لوگ تمہاری نیک سیرت اور اچھے کردار اور تعلقات کو دیکھیں تو کہیں کہ ایسے ہوتے ہیں صادق کے شیعہ۔اچھے کام اور تعلقات تم انجام دو گے ،اور تعریف تمہارے رھبران کی ہو گی کہ خدا رحمت کرے جعفر ابن محمد علیہم السلام پر کہ کیسے نیک شیعہ کی تربیت کی ہے۔جیسا کہ فرمان امام صادق علیہ السلام ہے کہ يَا زَيْدُ خَالِقُوا النَّاسَ بِأَخْلَاقِهِمْ صَلُّوا فِي مَسَاجِدِهِمْ وَ عُودُوا مَرْضَاهُمْ وَ اشْهَدُوا جَنَائِزَهُمْ وَ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَكُونُوا الْأَئِمَّةَ وَ الْمُؤَذِّنِينَ فَافْعَلُوا فَإِنَّكُمْ إِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ قَالُوا هَؤُلَاءِ الْجَعْفَرِيَّةُ رَحِمَ اللَّهُ جَعْفَراً مَا كَانَ أَحْسَنَ مَا يُؤَدِّبُ أَصْحَابَهُ وَ إِذَا تَرَكْتُمْ ذَلِكَ قَالُوا هَؤُلَاءِ الْجَعْفَرِيَّةُ فَعَلَ اللَّهُ بِجَعْفَرٍ مَا كَانَ أَسْوَأَ مَا يُؤَدِّبُ أَصْحَابَهُ (من لا يحضره الفقيه،جلد ١،ص٣٨٣،حدیث١١٢٨) امام فرماتے ہیں کہ افراد اہل سنت کے ساتھ انہی کے مطابق پیش آو،ان کی مساجد میں نمازیں ادا کرو،ان کے مریضوں کی عیادت کرو،اگر ان میں سے کوئی فوت ہو جائے تو ان کے جنازوں اور مراسم میں شرکت کرو،اگر تمھارے لیے ممکن ہو تو ان کے پیشنمازی کرو اور ان کے موذن بنو ،ان کاموں کو انجام دو،کیونکہ اگر تم اس اخلاق سے پیش آو گے تو وہ کہیں گے کہ یہ ہوتے ہیں شیعہ اور جعفری،خدا رحمت کرے جعفر ابن محمد پر کہ کیسا عمدہ ادب سکھایا ہے اپنے شیعوں کو،اور اگر خدانخواستہ تم نے ان کاموں کو ترک کر دیا، تو لوگ کہیں گے کہ جعفر ابن محمد نے کیسی بری تربیت کی ہے اپنے ماننے والوں کی۔یعنی اگر ہمارا اخلاق اچھا ہو گا تو لوگ امام صادق علیہ السلام کی تعریف کریں گے اور اگر ہمارا اخلاق مناسب نہیں ہو گا تو ہماری وجہ سے امام صادق علیہ السلام کی توہین ہو گی۔ اسی طرح امام صادق علیہ السلام کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے ایک اور مہم نکتہ ملتا ہے کہ امام علیہ السلام نے ہمیشہ اس بات کی طرف توجہ رکھی ہے کہ مد مقابل کی علمی اور فکری حیثیت کیا ہے،اور ہمیشہ اس فکری حیثیت کے مطابق اس شخص سے برخورد کی ہے،ہم شیعیان اور محبان کو بھی امام صادق علیہ السلام کی اس روش کو ہمیشہ مدنظر رکھتے ہوئے دیگر مسالک کے ماننے والوں سے ارتباط رکھنا ہو گا۔ہمیں اس چیز کی طرف انتہائی توجہ دینی ہو گی کہ ہمارا مد مقابل کس فکر کا حامل ہے ؟آیا وہ جان بوجھ کر اور معاندانہ طور پر مخالف ہے یا کسی پروپیگنڈے کا شکار ہے؟آیا وہ تمام اعتقادی و تاریخی نکات اور اختلافی مسائل کا ادراک رکھتا بھی ہے یا نہیں؟آیا آج تک کسی نے اس کو امام صادق علیہ السلام کا کما حقہ تعارف کروایا بھی ہے یا نہیں؟آیا اس شخص کو تشخیص حق کا موقع ملا بھی ہے یا نھیں؟ یا نا آگاھانہ طور پر وہ مکتب اہل بیت علیہم السلام سے دور ہو چکا ہے،ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنا وظیفہ خصوصا تولا و تبرا کے حوالے سے مشخص کرنا چاھیے۔ امام صادق علیہ السلام کا اہل سنت کے علماءاور پیشواؤں کے ساتھ رویہ: امام صادق علیہ السلام کا علمائے اہل سنت کے ساتھ رابطہ اس نوعیت کا تھا کہ ان کو یہ محسوس نہ ہوتا تھا کہ ہم اپنے مخالف مذھب کےرئیس کے سامنے بیٹھے ہیں۔بہت سے علمائے اہلسنت امام صادق علیہ السلام کے رفقاء اور ہمنشینان میں شمار ہونے لگے۔علمائے اہل سنت کی عالی ترین شخصیات نے اپنے عموم و فنون کا ایک معتد بہ حصہ مکتب امام باقر و صادق علیہ السلام کے مکتب سے اخذ کیا۔اور اس بات پر انہوں نے باقاعدہ طور پر فخر و مباہات کیا۔ابو زہرہ عالم مکتب اھل سنت لکھتے ہیں کہ علمائے اسلام میں سے کسی نے بھی ،کسی امر پر اس طرح اجماع نہیں کیا جس طرح امام صادق علیہ السلام کے علم و فضل پر اجماع کیا (جعفریان،حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ،ص٣٩٩)۔ ابو حنیفہ امام اہل سنت کا مشہور قول ہے کہ لولا سنتان لھلک النعمان ؛ اگر میرے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں گزارے ہوئے دو سال نہ ہوتے تو میں ھلاک ہو جاتا۔ (الجندى،الامام جعفرالصادق،ص٢٥٢) مالک ابن انس کہ جنہوں نے نیز امام صادق علیہ السلام کے محضر مبارک سے استفادہ کیا،کہتے ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ ہی کسی کان نے سنا اور نہ کسی شخص کے وہم و گمان میں آیا وہ شخص کہ جو علم و فضل و عبادت و زہد میں امام صادق علیہ السلام سے بڑھ کر ہو۔ (ابن حجر عسقلانی،تھذیب التہذیب،ج٢،ص١٠٤)اسی طرح امام مالک ابن انس کہتے ہیں کہ بھت عرصے میں امام صادق علیہ السلام کے پاس جاتا رہا،آپ کی شخصیت خوش مزاج تھی ،ہمیشہ آپ کے لبوں پر ایک ملایم سا تبسم موجود رہتا تھا۔میں جتنے عرصے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں ان کے گھر پے حاضر ہوتا رہا ،میں نے آپ کو صرف ان تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت میں دیکھا ،یا آپ نماز کی حالت میں ہوتے،یا روزہ کی حالت میں ،یا تلاوت قرآن کی حالت میں۔میں نے نہیں دیکھا کہ امام صادق علیہ السلام نے بغیر وضو اور طہارت کے اپنے جد امجد حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی ہو۔میں نے نہیں دیکھا کہ کبھی آپ کی زبان اقدس سے کوئی فضول یا بے محل بات نکلی ہو،آپ علماء اور زہاد میں سے تھے کہ جن کے اندر خوف خدا رچا ہوا ہوتا تھا،ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور آپ علیہ السلام نے اپنے نیچے بچھے ہوئے بچھونے کو نکال کر میرے نیچے نہ بچھا دیا ہو۔ (یحصبی،ترتيب المدارك و تقريبالمسالك،ج١،ص٥٥) امام صادق علیہ السلام کا مقدسات اہل سنت کے بارے رویہ: امام صادق علیہ السلام کی اپنے فکری مخالفین سے برخورد کی روش ہمیشہ منطقی ،علمی اور استدلالی رہی اور آپ کی کسی گفتگو اور جدل میں توہین مخالف کا شائبہ تک نہ ہوتا تھا،آپ علیہ السلام کی گفتار اور کردار اس بات کا شاہد ہے کہ آپ مقدسات اہل سنت کے بارے نہایت حساس اور محتاط تھے اور اپنے ماننے والوں کو بھی اسی بات کی ترغیب دیتے تھے۔روایات میں بارھا تذکرہ ہوا ہے کہ ایاکم و الخصومة فى الدین (وسائل الشیعہ،ج١٦،ص١٩٨) کہ دین کے معاملات میں دشمنی اور خصومت سے پرہیز کرو۔مشہور واقعہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام کو کسی نے بتایا کہ فلاں شخص مسجد میں آپ کے مخالفین کو برملا برا بھلا کہتا ہے تو امام نے فرمایا کہ مالہ؟ لعنہ اللہ ،یعرض بنا(اعتقادات الامامیہ،ص١٠٧)، اس کو کیا ہوا ہے ،خدا اس پر لعنت کرے ،وہ اپنے اس کام سے ہمیں متعرض ہو رہا ہے۔وہ اپنے اس کام سے باعث بن رہا ہے کہ لوگ امام اور مکتب اہل بیت کے بارے منفی نظریات رکھیں۔علماء اور ائمہ اہل سنت کا امام صادق علیہ السلام سے ارتباط اور آنا جانا تاریخی مسلمات میں سے ہے،اگر امام صادق علیہ السلام بھی بعض عوام کی طرح صرف توہین مقدسات اور لعن طعن کرنے میں مشغول رہتے تو کیسے ممکن تھا کہ اہلسنت کے علماء بلکہ ان کی فقہ کے ائمہ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں بارہا شرفیاب ہوتے یا امام صادق علیہ السلام کی تعریفوں میں رطب اللسان رھتے۔عمرو ابن عبید، واصل ابن عطا، حفص ابن سالم،مالک ابن انس ابو حنیفہ،یحیی ابن سعید انصاری، ابن جریح، محمد ابن اسحاق، شعبہ ابن حجاج، ایوب سجستانی و غیرہم کے امام صادق علیہ السلام کے بارے خیالات و اظہارات تاریخ کا حصہ ہیں (حسينى،سيد على،مداراى بين مذاهب،ص٥٠٦)۔ علامہ اسد حیدر صاحب کتاب الامام الصادق و مذاہب اربعہ لکھتے ہیں کہ امام صادق علیہ سلام کی اسی رواداری اور اخلاق عالیہ کا اثر تھا کہ جب بنو عباس کے خلاف شیعوں نے بعض علاقوں میں قیام کیا جیسے قیام محمد بن عبدللہ بن حسن اور ابراہیم کا قیام تو ابو حنیفہ امام اہل سنت نے کھل کر ان کی حمایت کی (الامام الصادق والمذاهب الاربعه،ترجمہ فارسی،محمد حسین سرانجام،ج١،ص٤٦٦)۔ امام صادق علیہ السلام اور روش احتجاج و جدال احسن: کسی بھی مکتب فکر کے علماءو رہبران کا اہم ترین فریضہ یہ ہوتا ہے کہ اپنے مبانی اور نظریات پر دلیل اور براہین کا اقامہ کریں۔اگرچہ امام صادق علیہ السلام کی حیات طیبہ کا ا کثر حصہ محاصرہ بنی عباس میں گزرا ،لیکن اس کے باوجود گمراہان اور حقیقت طلبان کی ہدایت و رہنمائی اور معاندین مکتب توحید و اہلبیت علیہم السلام کے شبھات کا جواب دینے کے لیے امام علیہ السلام نے جدال احسن اور احتجاج مستدل کی روش کو کبھی بھی پس پشت نہیں ڈالا۔امام صادق علیہ السلام نے اپنے علمی نظریات کو یوں بیان کیا کہ نظریاتی اور فکری مخالفین کو بھی یارائے انکار نہ ہوا۔امام علیہ سلام کی روش اور طریقہ کار یہ تھا کہ مخالفین کے اعتراضات و شبھات کے جواب خود انہیں کی معتبر ادلہ سے دیتے تھے ۔جیسے کہ محمد بن عبدالرحمن ابن ابی لیلی کہ جو معروف فقیہ،محدث ،مفتی اور قاضی کوفہ تھے،جب انھوں نےامام صادق علیہ السلام کے سامنے اپنے سوالات و شبھات پیش کیے اور ان کے کافی و شافی جوابات حاصل کیے تو کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کی طرف سے اس کے بندوں پر حجت ہیں۔ (من لا یحضرہ الفقیہ، ج١، ص١٨٨، حديث٥٦٩) امام صادق علیہ سلام کے مناظرات بھی چند خاص اصول و قواعد پر مشتمل ہوتے تھے ،ان میں سے ایک ضابطہ یہ تھا کہ امام صادق علیہ السلام مناظرے سے پہلے موضوع کو روشن کرنے کے لیے اور مدمخالف کی علمی حیثیت کو جانچنے کے لیے مختلف طرح کے سوالات اور مثالوں سے اپنی بات کا آغاز کرتے تھے۔ان مناظروں اور علمی ابحاث کی تفصیل احتجاج طبرسی،بحارالانوار،الاختصاص وغیرہ کتابوں میں مزکورہے۔نمونہ کہ طور پر امام صادق علیہ السلام اور ابوحنیفہ امام اہلسنت کا قیاس کہ موضوع پر ایک مناظرہ پیش خدمت ہے مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ: دَخَلَ أَبُو حَنِيفَةَ عَلَى أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ اِبْنَكَ مُوسَى يُصَلِّي وَ اَلنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلاَ يَنْهَاهُمْ وَ فِيهِ مَا فِيهِ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ اُدْعُ فَلَمَّا جَاءَهُ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنَّ أَبَا حَنِيفَةَ يَذْكُرُ أَنَّكَ تُصَلِّي وَ اَلنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْكَ فَلاَ تَنْهَاهُمْ قَالَ نَعَمْ يَا أَبَتِ إِنَّ اَلَّذِي كُنْتُ أُصَلِّي لَهُ كَانَ أَقْرَبَ إِلَيَّ مِنْهُمْ يَقُولُ اَللَّهُ تَعَالَى: وَ نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ اَلْوَرِيدِ قَالَ فَضَمَّهُ أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ إِلَى نَفْسِهِ وَ قَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي يَا مُودَعَ اَلْأَسْرَارِ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ يَا أَبَا حَنِيفَةَ اَلْقَتْلُ عِنْدَكُمْ أَشَدُّ أَمِ اَلزِّنَا فَقَالَ بَلِ اَلْقَتْلُ قَالَ فَكَيْفَ أَمَرَ اَللَّهُ تَعَالَى فِي اَلْقَتْلِ بِالشَّاهِدَيْنِ وَ فِي اَلزِّنَا بِأَرْبَعَةٍ كَيْفَ يُدْرَكُ هَذَا بِالْقِيَاسِ يَا أَبَا حَنِيفَةَ تَرْكُ اَلصَّلاَةِ أَشَدُّ أَمْ تَرْكُ اَلصِّيَامِ فَقَالَ بَلْ تَرْكُ اَلصَّلاَةِ قَالَ فَكَيْفَ تَقْضِي اَلْمَرْأَةُ صِيَامَهَا وَ لاَ تَقْضِي صَلاَتَهَا كَيْفَ يُدْرَكُ هَذَا بِالْقِيَاسِ وَيْحَكَ يَا أَبَا حَنِيفَةَ اَلنِّسَاءُ أَضْعَفُ عَنِ اَلْمَكَاسِبِ أَمِ اَلرِّجَالُ فَقَالَ بَلِ اَلنِّسَاءُ قَالَ فَكَيْفَ جَعَلَ اَللَّهُ تَعَالَى لِلْمَرْأَةِ سَهْماً وَ لِلرَّجُلِ سَهْمَيْنِ كَيْفَ يُدْرَكُ هَذَا بِالْقِيَاسِ يَا أَبَا حَنِيفَةَ اَلْغَائِطُ أَقْذَرُ أَمِ اَلْمَنِيُّ قَالَ بَلِ اَلْغَائِطُ قَالَ فَكَيْفَ يُسْتَنْجَى مِنَ اَلْغَائِطِ وَ يُغْتَسَلُ مِنَ اَلْمَنِيِّ كَيْفَ يُدْرَكُ هَذَا بِالْقِيَاسِ تَقُولُ سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَا أَنْزَلَ اَللَّهُ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَقُولَهُ قَالَ بَلَى تَقُولُهُ أَنْتَ وَ أَصْحَابُكَ مِنْ حَيْثُ لاَ تَعْلَمُونَ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ جُعِلْتُ فِدَاكَ حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ أَرْوِيهِ عَنْكَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ اَلْحُسَيْنِ عَنْ جَدِّهِ اَلْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ صَلَوَاتُ اَللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ إِنَّ اَللَّهَ أَخَذَ مِيثَاقَ أَهْلِ اَلْبَيْتِ مِنْ أَعْلَى عِلِّيِّينَ وَ أَخَذَ طِينَةَ شِيعَتِنَا مِنْهُ وَ لَوْ جَهَدَ أَهْلُ اَلسَّمَاءِ وَ أَهْلُ اَلْأَرْضِ أَنْ يُغَيِّرُوا مِنْ ذَلِكَ شَيْئاً مَا اِسْتَطَاعُوهُ قَالَ فَبَكَى أَبُو حَنِيفَةَ بُكَاءً شَدِيداً وَ بَكَى أَصْحَابُهُ ثُمَّ خَرَجَ وَخَرَجُوا (شيخ، مفيد، الاختصاص، ص١٨٩؛ مجلسى، محمدباقر، بحارالانوار، ج١٠، ص٢٠٤) ترجمہ:ایک دن ابو حنیفہ اپنے چند رفقاء کے ساتھ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ یا ابن رسول اللہ،میں نے ابھی آپ کے بیٹے موسی کاظم کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ ان کے آگے سے گزر رہے تھے،اور انہوں نے ان کو منع بھی نہ کیا،حالانکہ اس آمد و رفت سے معنویت اور حضور قلب میں خلل واقع ہوتا ہے،امام علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو بلایا اور فرمایا کہ ابوحنیفہ نے آپ کے بارے یہ کہا ہے،امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا کہ جی ایسا ہی ہوا ہے،چونکہ میں جس ذات کے مقابل کھڑا تھا ،وہ تمام لوگوں کی نسبت میرے زیادہ قریب تھی،اس لیے لوگوں کی آمد و رفت کو میں نے اپنے لیے خلل نہیں سمجھا کیونکہ خود خدا نے قرآن میں کہا ہے کہ میں تمھاری شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں۔پھر امام صادق علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو اپنی آغوش میں لے لیا اور فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر قربان ہو جائیں کہ تم واقعی اسرار و علوم الہی اور امامت کے محافظ ہو۔پھر امام صادق علیہ السلام ابو حنیفہ کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے سوالات کا آغاز کیا اور پوچھا کہ حکم قتل شدید تر ہے یا حکم زنا؟ابو حنیفہ نے کہا کہ قتل،تو امام ع نے فرمایا کہ اگر ایسا ہے تو خدا نے کیوں قتل کے ثبوت کے لیے دو گواہ اور زنا کے ثبوت کے لیے چار گواہ مقرر کیے،پھر امام ع نے فرمایا کہ اے ابو حنیفہ احکام دین خدا کا استنباط قیاس سے نہیں ہو سکتا،پھر امام صادق علیہ السلام نے پوچھا کہ ترک نماز زیادہ مہم امر ہے یا ترک روزہ؟ابو حنیفہ نے کہا کہ ترک نماز،امام نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ترک روزہ۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ عورتوں کے ایام مخصوصہ میں قضا شدہ نمازوں کی معافی ہے لیکن روزوں کی نہیں۔پھر امام صادق علیہ السلام نے پوچھا کہ حقوق اور معاملات کے حوالے سے عورت ضعیف ہے یا مرد،ابو حنیفہ نے کہا کہ عورت،تو امام علیہ السلام نے کہا کہ اگر ایسا ہی ہے تو مرد کا حصہ عورت کے دوبرابر کیوں ہے حالانکہ قیاس کے مطابق ضعیف کا حصہ زیادہ ہونا چاھیے۔پھر امام صادق علیہ السلام نے پوچھا کہ پاخانہ زیادہ پلید ہے یا منی ؟ابو حنیفہ نے کہا کہ پاخانہ پلید تر ہے،امام ع نے فرمایا کہ اگر ایسا ہے تو کیوں پاخانہ فقط استنجاء سے صاف ہو جاتا ہے جبکہ خروج منی کی صورت میں غسل واجب ہو جاتا ہے؟ تو پس کیسے دین خدا کا استنباط قیاس سے ہوگا؟ابو حنیفہ نے کہا کہ میں آپ پر قربان ہو جاوں ،مجھے کوئی ایسی بات بتائیں کہ میں جس سے فائدہ حاصل کروں اور آپ کی طرف سے لوگوں تک پہنچاوں،امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ رسول اللہ فرماتے ہیں کہ خداوند متعال نے ہم اہل بیت کا میثاق اور ہماری طینت کو اعلی علیین سے لیا ہے اور ہمارے شیعوں کی طینت ہم اہلبیت میں سے ہے،اور اگر تمام خلائق جمع ہو کر بھی اس میں کوئی تبدیلی لانا چاھیں تو نہیں لا سکیں گے۔راوی کہتا ہے کہ ابوحنیفہ اور ان کے رفقاء نے یہ سن کر شدید گریہ کیا اور امام سے اجازت چاہی۔ یہ گفتگو اور اس جیسے کئی دیگر مناظرے امام صادق علیہ السلام کی علمی قابلیت ،روش گفتگو،مد مقابل کے ساتھ رویہ اور خود ابو حنیفہ کی طرف سے امام صادق علیہ السلام کا احترام اور دیگر اخلاقیات کا بھترین ثبوت ہیں۔(حیدر،اسد،الامام الصادق و المذاہب الاربعہ،ترجمہ فارسی،ج١،ص٤٦٤) نتیجہ ان تمام نکات اور امام صادق علیہ السلام کی سیرت عالیہ کا مطالعہ کرنے سے بلاخوف تردید یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام صادق علیہ السلام اسلامی رواداری اور وحدت امت کا مصداق اتم تھے۔مجموعی طور پر آپ کا مختلف مکاتب فکر کے ساتھ رویہ احترام،نصیحت،خیرخواہی اور جدال احسن پر مشتمل ہوتا تھا۔آپ علیہ سلام کے اسی خلق عظیم اور رواداری کا نتیجہ تھا کہ بزرگان اور ائمہ اہلسنت آپ علیہ سلام کی شاگردی پر فخر و مباھات کرتے تھے۔ آج امام صادق علیہ السلام کے ماننے والوں کو بالعموم اور مبلغین مذھب حقہ کو بالخصوص وحدت امت کے حوالے سے امام علیہ السلام کی سیرت کا بغور مطالعہ کرنے کی اور عملی طور پر امام علیہ سلام کے متعین کردہ راستوں پر چلنے کی ضرورت ہے تاکہ موجودہ زمانے میں تفرقہ اور مذھبی عدم برداشت جیسے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔اور تمام اسلامی ممالک میں عموما اور وطن عزیز ،مملکت خداداد پاکستان میں باھمی رواداری ،اخوت اور بھائی چارے کی فضا قائم کی جا سکے۔ الہی آمین۔ حوالہ جات: القرآن الکریم الکلینی۔محمد بن یعقوب۔الکافی،۱۳۸۰،تهران،اسوه ابن ابي الحديد،١٩٦٧ م،شرح نهج البلاغه،بيروت،دار الاحياء التراث العربي ابن بابويه۔محمد بن علی (شیخ صدوق)۔من لا یحضرہ الفقیہ،١٤١٣ ق،تحقيق على اكبر غفاری،قم، جامعہ مدرسین ابن بابویہ۔محمد بن علی(شیخ صدوق)۔الاعتقادات فی دین الامامیہ،١٩٩٣ م ،تحقیق اعصام عبد السید،بیروت،دارالمفید ابن بابویہ۔محمد بن علی(شیخ صدوق)۔عیون اخبار الرضا عليه السلام،١٣٧٨،تحقيق لاجوردى،تهران،نشر جهان ابن حجر عسقلانى،احمد بن على،١٩٦٨،تهذيب التهذيب،بيروت،دار صادر ابن نعمان،محمد بن محمد،شیخ مفید،١٤١٣ ق،الاختصاص،قم،موسسه النشر الاسلامى النجفی،محمد حسین،فیضان الرحمان فی تفسیر القرآن،٢٠١٥ م، لاهور، مصباح القرآن ٹرسٹ النجفی۔ محمد حسین ۔احسن الفوائد فی شرح العقائد، ۱۹۷۱ م،سرگودها (پاکستان) مکتبه السبطین جعفريان،رسول،١٣٩١،حيات فكرى.سياسى امامان شيعه،تهران،علم الجندى،عبد الحليم،١٩٧٧،الامام جعفر الصادق،قاهره. حر عاملی،محمد بن حسن۔وسائل الشیعہ، ١٤١٤ق،قم،آل البیت لاحیاء التراث حسینی،سید علی،مدارای بین مذاہب،١٣٨٣ ش،قم،بوستان کتاب حیدر۔اسد۔الامام الصادق و المذاہب الاربعہ،ترجمہ فارسی محمد حسین سرانجام،١٣٩٢،قم،دانشگاہ ادیان و مذاہب ذھبی،محمد بن احمد،سیر اعلام نبلاء،١٩٩٨،بیروت،موسسہ الرسالہ طبرسی،ابو منصور احمد بن علی،احتجاج علی اھل اللجاج،١٤٠٣ ق،مشهد،نشر مرتضى مجلسى،محمد باقر،١٤٠٣،بحار الانوار،بيروت،موسسه الوفاء. ہوشنگی،حسین و یاسین شکرانی،اصول و روش ھای حاکم بر مناظرات امام صادق،١٣٩١،تهران،دانشگاہ امام صادق ع یحصبی،قاضی ابو الفضل عیاض، ترتیب المدارک و تقریب المسالک،تصحیح احمد بکیر محمود، بیروت، منشورات دار المکتبہ الحیات...
Read more...
صدر اسلام میں معاشرے کی فلاح و بہبود کے لئے رسول اللہ ﷺ کے سیاسی اقدامات (ممتاز عاطف)
04/01/2022
پیغمبر اسلام ﷺ کو ایک ایسے معاشرے کی ہدایت کے لئے مبعوث کیا گیا تھا کہ جو جنگ و جدال قتل و کشتار اور مختلف قسم کے خرافات اور معاشرتی اور اخلاقی پستیوں میں گھرا ہوا تھا۔ معاشرے میں معاشی وسائل کا فقدان تھا، مناسب رہائش میسر نہ تھی اور ہجرت و سفر کے لئے وسائل مہیا نہ تھے۔ یہ تمام امور معاشرے کی ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ تھے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے ان تمام مسائل کے حل کے لیے اسلامی حکومت کی بنیاد رکھ کر اسلامی تہذیب و تمدن کو رواج دیا اور اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ آپ ﷺ نے اپنی رسالت کے 23 سالوں میں اللہ تعالی کے نجات بخش احکام کی تبلیغ کی۔ ہر وہ چیز جو انسان کی خوش بختی اور اسے کمال تک پہنچانے کے لئے مؤثر اور لازم تھی اس کو بیان کیا اور جو چیزیں انسان کی سعادت مندی میں رکاوٹ تھیں خواہ مادی حوالے سے ہوں یا معنوی لحاظ سے ہوں ان کو بھی واضح طور پر بیان کیا۔ انسان کو کمال تک پہنچانے کے لیے نجات کا راستہ دکھایا اور تباہی سے بچنے کے لیے راہ حل تعلیم فرمایا۔ آپ ﷺنے اسلام کے نام سے موسوم ایک ایسا نظام متعارف کروایا جو عدل و انصاف، آزادی و خود مختاری، پاکیزگی اور طہارت، خوبصورتی و کمال، محبت اور دوستی، رأفت و رحمت، صداقت و امانت، استقلال و استقامت، شہامت و قدرت، اور ایثار، عشق اور شہادت جیسے فصائل کا سر چشمہ ہے۔ اور شرک، ہوس پرستی، استعمار، سرمایہ کاری، ذخیرہ اندوزی، ظلم، جہل اور تمام برائیوں کے خلاف قیام کی ابتدا بھی دین اسلام نے ہی کی ہے۔ معاشرے کی ترقی میں انسانی کردار کو اجاگر کرنا نبی کریم ﷺ نے سب سے پہلے قرآنی تعلیمات کے ذریعے لوگوں پر معاشرے کی ترقی میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔ اور ان کو اس بات کا یقین دلایا ہے کہ معاشرے کی ترقی اور تنزلی کا اصلی عامل انسان ہے۔ انسان کا مقصد اور ارادہ ہی ہے کہ جو فردی یا اجتماعی تغییر و تبدل کا باعث بنتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق انسان کے اوپر ہے اللّٰہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کی طرف سے کچھ ذمہ داریاں ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے: كُلُّ نَفسِ بِمَا كَسَبَت رَهِینَةٌ؛ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے (سورہ مدثر، آیت38) تمدن سازی کے لیے معاشرے کو ذمہ دار اور وظیفہ شناس افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو مصمم ارادے اور عمدہ فکر کے ساتھ معاشرے کی ترقی کے لیے سرگرم عمل رہیں اور اپنے عقائد اور تفکر کو معاشرتی حقائق کے ساتھ ہم آہنگ کریں اور معاشرے میں تبدیلی اور ثقافت کو وسعت دینے کے درپے ہوں۔ دور جاہلیت میں ایک فرد کا عمل پورے قبیلے کا عمل تصور کیا جاتا تھا مثلا اگر کسی آدمی نے کوئی قتل یا کوئی جنایت کی ہے تو بجائے اس کے کہ فقط اس مجرم شخص کو سزا دی جاتی، پورے قبیلے کو اس کا تاوان ادا کرنا پڑتا تھا اور قبائلی تعصب کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی۔ یہی جاہلانہ حمیت لوگوں کی فکری ترقی اور انسانی افکار کی ایجاد میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ (عبداللہ علایلی، بر ترین ہدف در برتن نہاد، ص65) لیکن پیغمبر اسلام ﷺنے أَلَّا تَزِرُ وَازِرَة وِزرَ أُخرَىٰ؛ کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا (سوره نجم، آیت38) کی بنیاد پر اس تفکر کو ختم کیا، کیونکہ عرب قبیلوں کے نا معقول اور نامناسب کردار کا باعث یہی منفی تفکر تھا۔ اسی قانون کی بنیاد پر ہی آپ نے لوگوں کے ارادوں کو تبدیل کیا ان کو اپنے اصلی اور اعلی مقصد یعنی اللہ تعالی کی شناخت کرائی ۔ جس کے ذریعے عرب کے اس جاہل معاشرے میں انقلاب برپا کیا اور ان جنگجو اور وحشی صفت لوگوں میں سے ایسے باایمان، باوقار اور قدرتمند لوگ پیدا کیے کہ وہ جس میدان میں بھی جاتے کامیابی ان کا مقدر بن جاتی تھی۔ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے معاشرتی علوم کے ماہر » گی راچر« نے اپنی کتاب میں لکھا ہے: سوشیالوجی کی نگاہ میں وہ تبدیلی کہ جو کسی چیز کی ساخت اوربنیاد میں واقع ہوئی ہو انقلاب کے مترادف ہے۔ (گی راچر، تغییرات اجتماعی، ص20) اسپولر برٹلڈ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے: پیغمبر اسلام ﷺنے ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی کہ جس میں میں قبیلے، عشیرہ، طائفہ اور سلطنت کی جگہ فرد، خاندان اور امت نے لے لی اور قبائلی نظام اگرچہ کلی طور پر ختم نہیں ہوا لیکن امت کے نام سے ایک بڑی اکائی میں مدغم ہو گیا کہ جو اسلام کے ماننے والوں اور اس کے پیروکاروں پر مشتمل تھی اور دینی تمایل کی وجہ سے ایک نئی پہچان دریافت کی۔ (اسپولر برٹلڈ، نظام اسلام، ص98) فلیپ خلیل حتی نے نئے وجود میں آنے اسلامی معاشرے کی یوں تعریف کی ہے: ایسا سیاسی و سماجی نظام وجود میں آیا کہ جس کے روابط کا معیار، نسلی و خونی نسبت کی بجائے رابطہ دینی و ایمانی تھا۔ (فلیپ خلیل حتی، تاریخ عرب، ص153) مسجد کی تأسیس رسول خدا ﷺ کا مدینہ میں ہجرت کے بعد معاشرے کی تعمیر و ترقی کے لئے سب سے پہلا اقدام مسجد کی تعمیر اور اسے اسلامی ثقافتی مرکز قرار دینا ہے۔ چونکہ آپ ﷺحکومت اسلامی کی تشکیل دینا چاہتے تھے اسی لئے مدینہ میں آمد کے پہلے دن ہی مسلمانوں سے مسجد کی تعمیر کے بارے میں اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ (سیرت ابن ہشام، ج2، ص138) مذہبی، اعتقادی اور معاشرتی طرز عمل کو بطور نمونہ پیش کرنے اور اس کے اثبات کے لئے سب سے اہم اور مؤثر اجتماعی عنصر، مساجد ہیں۔ یہ عظیم مرکز روز تاسیس سے ہی اپنے تغییر ساز اور محقق کردار کے باعث معاشرتی ترقی، شرک کے قلع قمع اور اتحاد امت کے لئے موثر ثابت ہوا اور تعلیم و تربیت کے مواقع کی فراہمی میں اور معاشرتی مسائل پر بحث کرنے کے لئے اہم مقام قرار پایا۔ (عبد السلام، اذہاب الحزن و شفاء الصدر السقیم، ص45) در حقیقت پیغمبر اسلام ﷺایک ایسا مرکز قائم کرنا چاہتے تھے کہ جس میں حزب اسلامی کے تمام اراکین ہفتے میں ایک بار جمع ہوں اور اسلام و مسلمین کے مفادات کے لیے مشاورت کریں۔ مسجد تمام تر سیاسی، سماجی اور فوجی سرگرمیوں کا مرکز تھی۔ اگر پیامبر ﷺکوئی عہد و پیمان باندھتے، اسلامی معاشرے کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی بھی فیصلہ کرتے یا بعض امور کے بارے میں کوئی حکم صادر فرماتے تو اس کا اعلان مسجد میں ہوتا تھا۔ در اصل مسجد کو مسلمانوں کے لئے اطلاع رسانی کا ایک بہترین مرکز شمار کیا جاتا تھا۔ اگر کسی شخص نے پیامبر اسلام ﷺسے کوئی سوال پوچھنا ہوتا یا اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتا ، تومسجد میں آ جاتا تھا۔ (تاریخ طبری، ج2، ص270) مسجد کی تعمیر سے مسلمانوں کے لئے ایک دوسرے سے مرتبط رہنے میں آسانی ہو ئی اور مشرکین کے سامنے اپنی طاقت کے اظہار میں بھی مدد ملی۔ اسلامی حکومت کا قیام پیغمبر اکرم ﷺنے اسلامی تہذیب و تمدن کو رائج کرنے، دین اسلام کو عالم پر غالب کرنے، معاشرے میں عدالت کے قیام اور مسلمانوں کے حقوق اور ان کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مدینہ میں اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی۔ ایک ایسی حکومت کہ جس کے تمام قوانین و ضوابط، اصول و فروع اور معاشرتی، اقتصادی، نظامی، سیاسی اور مذہبی اصولوں کی بنیاد دین اسلام پر تھی، رسول اللہ ﷺکی حکومت میں دین اسلام عملی صورت میں نظر آتا تھا۔ درحقیقت ان کی حکومت کا دوسرا نام دین، اور دین کا دوسرا نام ان کی حکومت تھی۔(صحیح بخاری، ج1، باب حب الرسول) جو لوگ دین کو سیاست سے جدا سمجھتے ہیں ان کے برخلاف؛ دین فقط نصیحتوں اور فردی مسائل کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ دین ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور عالمی اصولوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے کہ جو انسان کی تمام زندگی اور بالخصوص معاشرتی اور سیاسی مسائل پر مشتمل ہے۔ دین کا کام مستضعفین اور ستم زدہ لوگوں کو ظالموں کے چنگل سے نجات دلانا اور ستمگاروں کی حکومت کا خاتمہ ہے۔ پس واضح ہے کہ ان عظیم اہداف کا حصول اسلامی حکومت کے قیام کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ کون ہے جو اس عظیم اور مقدس ہدف کا تعاقب کرے، کون ہے جو اپنی نصیحتوں کے ذریعے عدل کا نظام کا قائم کرے، کون ہے جو قید اور غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے قیدیوں کے ہاتھ اور پاؤں کو آزاد کرے اور ان زنجیروں کو توڑ ے، جس جہان میں تہذیب و تمدن کی ترویج کے تمام وسائل اور ذرائع ابلاغ بد تہذیب، مفسد اور تباہ کار لوگوں کے ہاتھ میں ہوں، کون ہے جو اس صورتحال میں عدالت اور آزادی کے صحیح اصول اور تعلیم و تربیت کی درست روش کو رائج کرے اور کمالات اخلاقی کو لوگوں کے دلوں میں پروان چڑھائے۔ تو معلوم ہوا کہ ان تمام امور کو فقط وہی شخص انجام دے سکتا ہے جس کا انحصار تنظیم اور اقتدار پر ہو۔ اگر رسول خدا ﷺدین کو تیزی کے ساتھ عالم میں پھیلانے میں کامیاب ہوئے ہیں تو اس کی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے حکومت کا ابتدائی ڈھانچہ بنانے اور اس کے حصول کے بعد پہلی فرصت میں حکومت کی بنیاد رکھی اور حکومت اسلام کے اتحاد اور قدرت کے وسیلہ سے ان اہداف کا تعاقب کیا۔ سپاہ اسلام کا قیام کسی بھی ملک کے سیاسی استقلال کے لیے، اس کے حاکم کی کامیابی کا اصلی عامل ایک طاقتور فوج کا قیام ہے تاکہ دشمن کے مقابلے میں اپنے ملک کی کی حدود کی حفاظت کر سکے اور اپنے ملک کے باشندوں کے لیے ایک پر اطمینان زندگی گزارنے کا ماحول پیدا کر سکے۔ پیغمبر اسلام ﷺنے اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلامی حکومت کی تشکیل کے بعد سپاہ اسلام قائم کی تاکہ ظالموں اور ستم گروں کے خلاف جہاد کر سکیں اور مستضعفین کو تحفظ فراہم کر سکیں۔ نبی اکرم ﷺکے لیے ان اہداف کا حصول فقط ایک منظم، مسلح اور قوی فوج کے وجود سے ہی ممکن تھا۔ (امامی، درس ہائی از نظام دفاعی اسلام، ص34) اگرچہ اس زمانے میں پیغمبر ﷺکے پاس ایک ہم آہنگ اور جنگی فوج موجود نہ تھی، جو لوگ بھی جنگی مہارت رکھتے تھے جنگ میں شریک ہوتے تھے۔ (حسن ابراہیم، تاریخ سیاسی در اسلام،ج1، ص460) اس کے باوجود پیغمبر ﷺ ہمیشہ اپنی فوج کو مسلح کرنے اور اسے جنگ کے لئے آمادہ کرنے کے درپے رہتے تھے اور جہاں بھی نئے اسلحے کی خبر ملتی تو اسے خریدنے کی کوشش کرتے، حتی کہ اپنی فوج کی ضروریات پورا کرنے کے لیے حکومتی اموال میں سے بھی خرچ کرتے تھے۔ تاریخ یعقوبی اور سیرت ابن ہشام میں آیا ہے کہ بیت المال کی آمدنی کا کافی حصہ جنگی امور پر صرف ہوتا تھا جیسے فوج کے لیے اسلحے کی فراہمی اور ان کی خورد و نوش کے اخراجات وغیرہ۔ (تاریخ یعقوبی، ج2، ص62؛ سیرت ابن ہشام، ج4، ص891) حقوق کا تعین پیغمبر اسلام ﷺ کا ایک اور اقدام کہ معاشرے پر جس کے حیرت انگیز اثرات مرتب ہوئے وہ معاشرتی قوانین کو وضع کرنا یا ان کی اصلاح کرنا ہے۔ اس دور میں خواتین معاشرے کا کمزور ترین طبقہ شمار ہوتی تھیں اور ان کے حقوق کا لحاظ نہیں کیا جاتا تھا۔ آپ ﷺنے قرآن کی تعلیمات کی بنیاد پر پر جاہلانہ رسومات کے خلاف قیام کیا اور خواتین کے حقوق متعین فرمائے۔ سب سے اہم مسئلہ وارثت کا تھا۔ عرب اپنی غلط اور غیر منصفانہ رسومات کی وجہ سے خواتین اور بچوں کو وراثت سے محروم رکھتے تھے۔ قرآن مجید نے اس ناجائز قانون کو باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا: لوگوں کو چاہیے کہ ان کے ماں، باپ یا قریبی رشتہ دار جو مال چھوڑ کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں ان میں سے کچھ حصہ خواتین کو بھی دیں خواہ کم ہو یا زیادہ۔ اور اس بات کی تاکید کی کہ کسی کو دوسرے کا حصہ غصب کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ (ناصر مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج3، ص274) اللہ تعالی نے بیٹوں اور بیٹیوں کی وراثت کے حکم کو بیان کرتے ہوئے سورہ نساء میں فرمایا ہے: لِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ ٱلأُنثَیَینِ؛ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔ اس آیت کا اشارہ فقط اس بات کی طرف نہیں ہے کہ خواتین کا وراثت حاصل کرنا مسلم حکم الہی ہے۔ بلکہ اس آیت میں خواتین کی وراثت کو اس قانون شرعی کی بنیاد قرار دیا گیا ہے اور مرد کی وراثت کو عورت کی وراثت کے ضمن میں بیان کیا گیا ہے تاکہ مرد اپنی وراثت کی مقدار معلوم کرنے کے لیے پہلے عورت کی وراثت معلوم کرنے کے محتاج ہوں۔ (علامہ طباطبائی، تفسیر المیزان، ج4، ص207) اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری آیات میں خواتین کے حقوق بیان ہوئے ہیں، پیامبرﷺ نے ان احکامات کو معاشرے میں جاری کیا اور جاہلانہ رسومات کا خاتمہ کیا۔ تعلیم و تربیت پیغمبر اسلام ﷺ نے لوگوں کی تعلیم و تربیت پر بہت زیادہ توجہ دی۔ آپ ﷺ کی نگاہ میں تعلیم کی جو اہمیت تھی اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپ ص نے جنگ بدر کے بعد جنگی قیدیوں سے فرمایا: اگر تم سے ایک شخص، دس آدمیوں کو پڑھنا لکھنا سکھائے تو اسے آزاد کر دیا جائے گا۔ (محمد بن سعد، طبقات الکبری، ج2، ص16) تعلیم و تربیت سے انسان میں شعور پیدا ہوتا ہے اور وہ کمال کی راہ پر گامزن ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم پر زور دیا۔ رسول خدا ﷺ لوگوں کی تربیت کے لیے الہی فکر کے حامل، وظیفہ شناس، قدرتمند، تاثیرگذار اور تخلیقی ذہن رکھنے والے افراد کے انتخاب کا حکم فرماتے تھے تاکہ معاشرتی اور مادی عوامل پر قابو پا کر الہی تہذیب کو رائج کیا جا سکے۔ (ابن اثیر شیبانی، اسد الغابہ، ج2، ص96) مفادات عامہ کے لئے خدمات پیغمبر خدا ﷺ نے جس طرح اقتصاد کو بہتر کرنے اور امن و امان کے قیام کے لئے اقدامات کئے اسی طرح مفادات عامہ کے لیے بھی خدمات انجام دیں۔ آپ ﷺ نے مفاد عامہ کے کام انجام دے کر لوگوں کے درمیان محبت ایجاد کی۔ آپ ﷺ لوگوں کو عمومی کاموں کی ترغیب دے کر لوگوں کے دلوں سے مال و دنیا کی محبت کو ختم کر دیتے تھے اور اسی طرح نیک اعمال کا ثواب بیان فرما کر اسلامی اقدار کو لوگوں کو لوگوں کے ذہن میں بٹھا دیتے تھے۔ مدینہ میں ”چاہ رومہ” کے علاوہ اور کوئی کنواں نہیں تھا یہ کنواں بنی مزینہ کے ایک شخص کی ملکیت تھا۔ لوگوں کے استعمال کے لیے تازہ پانی دستیاب نہیں تھا ۔لوگوں کے لیے اس کنویں سے پانی خریدنا ضروری تھا۔ حضورﷺ نے فرمایا: کون ہے جو ”چاہ رومہ” کو خریدے تاکہ وہ خود اور دوسرے مسلمان اس سے استفادہ کر سکیں اور خدا وند جنت میں اس سے بہتر اسے عطا فرمائے گا۔ تو ایک مسلمان نے وہ کنواں خریدا اور تمام مسلمانوں امیر و غریب کے لیے وقف کر دیا۔ (ابنِ عساکر، تاریخ مدینہ، ج2، ص104) مختلف قسم کے ذیلی اور بنیادی امور، جیسے مکان بنانے کے لئے لیے زمین کی تقسیم، بازار کے لیے ایک جگہ کا مختص کرنا اور عمومی حمام کی تعمیر کرانا بھی سرکاری اخراجات میں شامل تھا۔ (حسین ابراہیمی، پژوہش و تحقیق نو در سیرہ نبی اعظم ص، ص676) محبت اور دوستی کی فضا قائم کرنا معاشرے کی خوشحالی، امن و امان کے قیام اور ترقی کے لیے محبت کا عنصر بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ دلوں میں الفت ڈالنا اور روحوں کو آپس میں جوڑنا ایک مشکل کام ہے۔ بالخصوص ان افراد کے درمیان دوستی کو قائم کرنا کہ جو طویل مدت تک ایک دوسرے کے ساتھ جنگ اور قتل و کشتار میں مشغول رہے ہوں۔ لیکن پیغمبراسالم ﷺ نے نرمی اور شائستگی سے دلوں کو متحول کیا اور حق کی طرف مائل کیا۔ پیغمبرﷺ کو ایسی قوم کی ہدایت کے لئے مبعوث کیا گیا تھا کہ اگر ان میں سے کسی آدمی کو کوئی ایک تھپڑ مارتا تو اس کی وجہ سے جنگ و خونریزی کا بازار گرم ہو جاتا تھا۔ لیکن ان کا یہ عظیم معجزہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالی پر ایمان کے باعث ان دشمنیوں کو ختم کیا اور باہمی محبت اور دوستی کو رائج کیا کیا۔ (طبرسی، مجمع البیان، ج4، ص854) اگر پیغمبر ﷺ مکہ اور مدینہ کے مسلمانوں کے درمیان محبت اور دوستی کی فضا قائم نہ کرتے تو معاشرے میں اس طرح تبدیلی واقع نہ ہوتی جس طرح آپ چاہتے تھے ۔ یہ رسول خدا ﷺ کی تبلیغ کا ہی نتیجہ تھا کہ اوس و خزرج کے دو قبیلے دیرینہ دشمنی، طویل اور خونی جنگوں کو بھول کر اسلامی تعلیمات اور رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں ایک دوسرے کے دوست بن گئے۔ بعض تاریخی منابع کے مطابق دونوں قبیلے بعد میں مسلمان ہوگئے اور اسلام کی خدمت میں میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لئے ہمیشہ آمادہ رہتے تھے۔ اگر اوس قبیلہ والے دین کے لئے کوئی کام کرتے تھے تو قبیلہ خزرج کے لوگ اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھتے تھے جب تک اس سے بڑھ کر کوئی خدمت انجام نہ دیں۔ (ابن جریر طبری، تاریخ امم و ملوک، ج2، ص495) قرآن مجید میں ایک مقام پر ان دو قبیلوں کی دوستی کو یوں بیان کیا گیا ہے:وَأَلَّفَ بَینَ قُلُوبِهِم لَو أَنفَقتَ مَا فِی ٱلأَرضِ جَمِیعا مَآ أَلَّفتَ بَینَ قُلُوبِهِم وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ أَلَّفَ بَینَهُم إِنَّهُۥ عَزِیزٌ حَكِیم؛ اور ان کے دل ایک دُوسرے کے ساتھ جوڑ دئیے تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو اِن لوگوں کے دل نہ جوڑ سکتے تھے مگر وہ اللہ ہے جس نے ان لوگوں کے دل جوڑے، یقیناً وہ بڑا زبردست اور دانا ہے (سورہ انفال، آیت63) صلح کی ترغیب پیغمبراسلام ﷺ ہمیشہ لوگوں کو باہمی اختلاف ختم کرنے اور صلح کرنے اور راہ اعتدال اختیار کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو صلح کا عنصر آپ ص کی سیرت میں نمایاں نظر آتا ہے۔ رسول خدا ﷺ کا ہدف کلمہ توحید کو جہان کے کونے کونے میں پہنچانا اور لوگوں کو طاغوت کے چنگل اور جہالت سے نکال کر ابدی سعادت اور کمال انسانی تک لے جانا تھااسی وجہ سے آپ ﷺجنگ شروع ہونے سے پہلے دشمن کو اسلام کی طرف دعوت دیتے تھے اور کبھی بھی یہ نہیں چاہتے تھے کہ جنگ کا آغاز مسلمانوں کی طرف سے ہو۔ جنگ سے پہلے اسلام کی دعوت دینا فقط ایک نظر یہ نہیں ہے بلکہ اگر تاریخ اسلام کی تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ ایک حقیقت ہے اور پیغمبر اسلام ﷺتمام جنگوں میں اس امر کو ملحوظ خاطر رکھتے تھے۔ (محمد صالح الظالمی، فقہ سیاسی در اسلام، ص53) اگر جنگ کے درمیان دشمن کی طرف سے صلح اور جنگ بندی کی پیشکش ہوتی تو آپ ﷺ اللہ تعالی کے اس واضح قانون؛ وَإِن جَنَحُوا۟ لِلسَّلمِ فَٱجنَح لَهَا وَتَوَكَّل عَلَى ٱللَّهِ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِیعُ ٱلعَلِیم؛ (اور اے نبیؐ) اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو، یقیناً وہی سننے اور جاننے والا ہے (سورہ انفال، آیت61) کی بنا پر ان کی پیشکش کو قبول کرلیتے تھے۔ تاریخ اسلام میں رسول خدا ﷺ کی اس سیرت حسنہ کے بے شمار نمونے موجود ہیں جیسے صلح حدیبیہ اور نجران کے نصرانیوں کے ساتھ باندھا گیا پیمان نامہ وغیرہ۔ امن و امان کا قیام امن و امان کا قیام کسی بھی معاشرے کی ایک اہم ضرورت ہے اس کے حصول کے لیے انسان کا مسلسل جدوجہد کرنا اس کی اہمیت کی دلیل ہے۔ امن و امان کا قیام ہر حکومت کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ امنیت کی مختلف جہات ہیں جیسے امنیت سیاسی، امنیت اقتصادی و مالی وغیرہ۔ مدینہ میں وارد ہونے کے بعد پیغمبرخدا ﷺ کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ان میں سے اہم مسئلہ مدینہ میں امن کا نہ ہونا ہے لہذا پآپ ﷺکے لئے ضروری تھا کہ امن و امان کے قیام کے لیے اقدامات کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے قرآن کی تعلیمات کے زیر سایہ قانون گذاری کی، اسلامی معاشرے میں امن کے قیام کے لیے مسلمانوں کو ان احکامات کی پاپندی کرنے کا حکم دیا اور مختلف قبیلوں کے ساتھ صلح کے معاہدے کیے اور عدالت کے قیام کے ساتھ معاشرے میں افراد کی جان و مال کو تحفظ فراہم کیا اور مسلمانوں اور اسلامی حکومت کی حفاظت کے لئے سپاہ اسلامی تیار کی تاکہ مسلمان، دشمنوں کے حملے سے محفوظ رہیں اور اطمینان سے زندگی گزار سکیں۔ پیمان اخوت رسول خدا ﷺ کا ایک معجزہ آسا کارنامہ اخوت و برادری قائم کرنا ہے۔ پیغمبرﷺنے مہاجرین کی مالی حالت کے مدنظر انصار اور مہاجرین کے درمیان اخوت کو قائم کیا اور ایک مہاجر کو ایک انصاری کا بھائی بنا دیا۔ اس پیمان میں انصار سے عہد لیا گیا تھا کہ وہ اپنے مہاجر بھائی کی ہر حوالے سے مدد کرے گا۔ (سید کاظم صدر، اقتصاد صدر اسلام، ص65-66) اخوت کے عہد کے ساتھ ، مذہبی حدود نے قبائلی اور خاندانی حدود کی جگہ لے لی۔ (نورالدین حلبی، سیرت حلبیہ، ج2، ص92) پیغمبر اکرم ﷺ کے اس مدبرانہ اور حکمت آمیز اقدام کے ذریعے سے ایک تو مہاجرین مکہ کی مشکلات کافی حد تک حل ہو گئیں اور ان کی غریت کا خاتمہ ہوا۔ مسلمانوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف بے سروسامانی کی حالت میں ہجرت کی تھی لہذا ان کے پاس مال و اسباب کچھ بھی نہیں تھا تو اس حالت میں آپ ﷺ کے اس اقدام کے ذریعے ان کو معاشی طور پر بھی مدد ملی اور کچھ عرصے کے بعد وہ اپنے لیے رہائش کی جگہ بنانے میں بھی کامیاب ہوئے۔ اور دوسرا یہ کہ اس عہد کے باعث مدینہ میں امن و امان اور محبت و دوستی کا ماحول وجود میں آیا جس کے نتیجے میں اسلامی تہذیب کی ترویج میں مدد ملی۔ پیغمبر خدا ﷺ ایسے لوگوں کے درمیان اور ایسے معاشرے میں رہتے تھے کہ جہاں تمام گروہ، قبیلے اور قومیں ایک دوسرے کے مخالف تھیں اور قتل و غارت، جنگ و جدال اس معاشرے کا حصہ تھا اور وہ معاشرہ بہت سی اخلاقی پستیوں میں گھرا ہوا تھا یہاں تک کہ وہ اپنی ان جنایات پر فخر و مباہات کرتے تھے لیکن رسول اکرم ﷺ نے خدا پر ایمان اور اس کی اطاعت کی بنیاد پر ایسی وحدت ایجاد کی کہ تاریخ بشریت میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ تمام عالم کے دانشور حضور ﷺ کے اس اقدام کو تعجب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس کو ایک معجزہ شمار کرتے ہیں۔ مسلمانوں نے برادری ، وحدت اور پختہ ایمان و عقیدہ کے باعث ایسی قدرت حاصل کی کہ تمام عالم کی طاقتور حکومتیں ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئیں۔ (ہادی دوست محمدی، سیرہ سیاسی پیامبر اعظم، مجلہ مکتب اسلام، ص60) قانون سازی کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی، معاشرتی برائیوں پر قابو رکھنے، اس میں رہنے والے افراد کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ایک مناسب قانون کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاکہ معاشرے کے افراد اس پر عمل کرتے ہوئے ایک پرسکون زندگی گزار سکیں۔ رسول خدا ﷺ کا وظیفہ انسانوں کو کمال کی آخری حد اور سعادت تک پہنچانا تھا جیسا کہ ان کے بعثت کے مقصد سے واضح ہے لہذا وہ اپنے ساتھ ایسا قانون لائے تھے کہ انسان کو کمال تک پہنچانے کے لئے جس کی اشد ضرورت تھی۔ قوانین کی جو کتاب آپ ﷺ ساتھ لائے تھے اس میں انسان کے کمال اور سعادت مندی تک رسائی، اور جہالت، شرک، نفاق بے عدالتی، تفرقہ اور اس قسم کی دوسری اخلاقی پستیوں سے نجات کا مکمل راہ حل موجود تھا۔ اس کتاب کی قانون سازی کرنے والی خود اللہ تعالیٰ کی علیم حکیم اور قادر ذات تھی اور اس قانون کو لوگوں تک پہنچانے اور معاشرے میں اس کا اجراء کرنے والے رسول اعظم ﷺ تھے لہٰذا اس پر عمل کرنا سعادت انسانی کی ضمانت تھا۔ اس قانون میں انسان کی زندگی کے تمام شعبہ جات، خواہ فردی ہوں یا اجتماعی، سب کو مدنظر رکھا گیا تھا۔ جو چیزیں انسان کی خوشبختی اور سعادت کا باعث بنتی ہیں یا انسان کی شقاوت اور بدبختی کے عوامل میں سے ہیں، سب کچھ اس کتاب میں بیان کیا گیا تھا۔ (ہادی دوست محمدی، مجلہ مکتب اسلام، ص59) صدر اسلام میں معاشرے کی ترقی و خوشحالی کے لئے حضور اکرم ﷺ کی خدمات کا اندازہ ان کی لوگوں کے باہمی روابط اور معاملات میں آسانی کے لئے وسیع قانون گذاری کرنے سے لگایا جا سکتا ہے۔ آپﷺنے انصاف کی فراہمی، وکالت وضمانت، مساقات و مزارعہ، مضاربہ اور اجارہ وغیرہ اور اسی طرح مالی احکام جیسے خمس، زکات، خراج اور جزیہ وغیرہ کو اسلامی معاشرے میں رائج کیا۔ (عسکر حقوقی، تاریخ اندیشہ ہای در اسلام و ایران، ص78) قدرت و توانائی کا حصول زندگی کے مختلف شعبوں میں قدرت اور توانائی حاصل کرنا تمدن اسلامی کے نقطہ نگاہ سے مورد تاکید ہے۔ دین اسلام نے جس قدر اپنے پیروکاروں کو زندگی کے مختلف شعبوں میں قدرت و توانائی حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے اتنی کسی اور دین نے نہیں دی۔ اور دین اسلام کی طرح اس مسئلے میں کسی اور دین کو اتنی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ (محمود رامیار، تاریخ قرآن، ص335) صدر اسلام میں مسلمانوں نے اہل روم اور یونان سے بڑی تیزی کے ساتھ فوجی اور جنگی مہارت سے سیکھیں اور ان کے صف میں کھڑے ہو گئے اور ہر شعبے میں کامیابی حاصل کی۔ (عبدالعلی قوام، سیاست ہای مقایسہ ای، ص791) حفظانِ صحت کے لئے اقدامات علاج و معالجہ ایک معاشرتی و انسانی ضرورت اور دینی و عقلی وظیفہ ہے۔ اسلام کی تاریخ میں وہ پہلا مقام کہ جس کو ہسپتال یا مریضوں کی دیکھ بھال اور زخمیوں کی مرہم پٹی کے لئے مخصوص کیا گیا تھا، وہ مسجد نبوی ہے۔ (تقی الدین مقریزی، الخطط و الاثار، ج2، ص405) پیغمبر اسلام ﷺکا ایک اہم وظیفہ لوگوں کی سلامتی اور تحفظ کے لیے اقدامات کرنا ہے جسے آج کے دور میں انشورنس کہا جاتا ہے۔ آپ ﷺنے غریب اور نادار لوگوں کی فلاح کے لئے بیت المال کی درآمد کا کچھ حصہ مختص کیا تھا تاکہ غریب لوگ آسانی سے زندگی گزار سکیں۔ (برنامہ ریزی اقتصادی پیامبر ص، ویکی فقہ( زراعت کو فروغ دینا زراعت کا پیشہ ملکی اقتصاد کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ملک کو معاشی اور اقتصادی طور پر قوی کرنے میں زراعت کا اہم کردار ہے۔ رسولاکرم ﷺکے سیاسی اقدامات میں سے انسانی تمدن سازی کے لئے ایک اصلی عامل زراعت پر توجہ دینا بھی تھا۔ (شیخ حر عامل، وسائل الشیعہ، 4، ص140) خطہ عرب کی بنجر اور سخت زمین زراعت کے لیے اتنی ساز گار نہیں تھی فقط کچھ علاقوں میں زراعت ممکن تھی لیکن اس کے باوجود بھی پیغمبر اسلام ﷺاپنی حکمت عملی کے ذریعے چوپان اور خانہ بدوش لوگوں کو زراعت کی طرف لانے میں کامیاب ہوئے۔ جب پیغمبر اسلام ﷺنے مہاجرین اور انصار کے درمیان اخوت کو قائم کیا اس وقت انصار نے اپنی جائیداد کا نصف حصہ اپنے مہاجر بھائی کو دینے کا اعلان کیا لیکن پیغمبر اسلام ﷺ نے انہیں روک دیا اور انصار اور مہاجرین کے درمیان مزارعہ اور مساقات کا معاہدہ قائم کیا۔ حضور ﷺ اس حکمت آمیز اقدام سے ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ انصار کی زمین انہی کے پاس رہی اور اس کے ساتھ ساتھ مہاجرین کو بھی روزگار مل گیا۔ بجائے اس کے وہ انصار پر بوجھ بنتے، انہوں نے انہیں زمینوں میں مزارعہ کے طور پر کام کیا جس سے تمام مسلمانوں کو فائدہ ہوا اور مسلمانوں کی اقتصادی حالت بہتر ہوئی۔ اقتصاد کو بہتر بنانے کے لئے اقدام مکہ میں اقتصادی پابندیوں اور مشرکان کی بد رفتاری اور دیگر مختلف عوامل کی بنا پر مسلمان مالی لحاظ سے ضعیف تھے۔ اور پھر ہجرت کے مخفی ہونے کی وجہ سے جو کچھ مال اسباب ان کے پاس تھا وہ بھی وہیں چھوڑکے چلے آئے۔ پیغمبر اسلام ﷺنے مدینہ میں نئے اسلامی معاشرے کی ضروریات کے پیش نظر، اپنی سیاسی حکمت عملی کے ذریعے اقتصادی مسائل کو حل کیا۔ ایک طرف سے آپ ﷺ آمدن کے نئے منابع دریافت کرنے کے درپے تھے تو دوسری طرف مسلمانوں کے فقر کو ختم کرنے، ان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے اور ان کی اقتصادی مشکلات کو حل کرنے کے لیے کوشاں تھے۔حضور ﷺ کا مناسب حکمت عملی اور مؤثر طرز عمل کے ذریعے معاشرے سے طبقاتی فاصلوں کو ختم کرنے اور عدالت اور امنیت کے قیام جیسے بہترین اقدامات معاشرے کی تعمیر و ترقی، اقتصادی، معاشرتی اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے کارآمد ثابت ہوئے۔ پیغمبر اکرمﷺنے مسلمانوں کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کے لیے ایسے اقدامات کئے کہ تمام مسلمان ایک مناسب آمدنی کے حامل بنے اور بعد میں اپنے ذاتی گھر اور کاروبار کے مالک بن گئے۔ (سید کاظم صدر، اقتصاد صدر اسلام، ص33-34) یہاں تک کہ سال نہم ہجری میں مسلمانوں پر خمس و زکات ادا کرنے کو لازمی قرار دیا گیا۔ (ابن جریر طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج2، ص129) پیغمبرﷺکا مواخات قائم کرنا، تجارت کو فروغ دینا اور زراعت کا پیشہ اختیار کرنے کی تلقین کرنا بھی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر ثابت ہوا۔ بازار کا قیام پیغمبراسلام ﷺنے لوگوں کے لئے ایک عمومی بازار بھی قائم کیا ایک دن ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ میری نظر میں بازار کے لئے ایک مناسب جگہ ہے کیا آپ اس کا مشاہدہ نہیں کریں گے آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور اس کے ساتھ چل دیئے یہاں تک کہ اس مقام تک پہنچ گئے ۔ آپ ﷺ نے اس جگہ کو پسند کیا اور فرمایا : بازار کے لیے یہ جگہ بہتر ہے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اور آپ پر کوئی ٹیکس بھی لاگو نہیں کیا جائے گا۔ (طبرانی، معجم الکبیر، ج19، ص264) آپ ﷺنے اجناس کی قیمتوں کو حد اعتدال پر رکھنے کے لئے خرید و فروش کے معاملے میں بعض چیزوں کی ترغیب دی جیسے بازار میں چیزیں سستی بیچنا، بغیر واسطے کے خود جا کر چیزیں خریدنا اور اجناس کو بازار میں وارد ہو جانے کے بعد خریدنا وغیرہ۔ (زکریا انصاری، فتح الوہاب، ج1ص285/ محمد بن احمد شریینی، مغنی المحتاج، ج2، ص285/ مقریزی، امتاع الاسماع، ج14، ص388) آپ ﷺخرید و فروش کے معاملات میں شائستہ امور انجام دینے والے اشخاص کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ ایک شخص جو بازار میں جنس کو رائج قیمت سے کم پر فروخت کر رہا تھا توآپ ﷺنے اسے فرمایا: تم مسلمانوں کے بازار میں چیزیں سستی فروخت کر رہے ہو، آیا یہ کام تم ثواب کی نیت سے اانجام دے رہے ہو؟ اس نے جواباً کہا: جی ہاں، تو پیغمبر اسلام ﷺنے اسے خوشخبری دی کہ جو بھی کوشش کرتا ہے اور بازار کو رواج دیتا ہے، وہ اس شخص کی مانند ہےجس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہو۔ (جلال الدین سیوطی، الجامع الصغیر، ج1، ص6390) اور اسی طرح آپ ﷺنے خرید و فروش کے معاملے میں بعض چیزوں سے منع فرمایا ، اور ناجائز منافع کےحصول، حرام خوری اور اجناس میں ملاوٹ وغیرہ کی مذمت کی۔ آپ ﷺنے فرمایا : جو مسلمانوں کے ساتھ معاملہ کرتے وقت ملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے رزق سےبرکت اٹھا لیتا ہے اور اس کے معاش کی راہ کو بند کر دیتا ہے اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ (شیخ صدوق، ثواب الاعمال، ص286/ حسن دیلمی، اعلام الدین، ص417) نتیجہ اسلامی تہذیب ایک روحانی نقطہ نظر اور معرفت کے ساتھ ایک ایسی تبدیلی اور ترقی ہے جو انسانوں کی اندرونی اور نفسیاتی تبدیلی اور پھر سیاسی ، معاشرتی ، ثقافتی اور معاشی تبدیلیوں پر مبنی ہے۔ قرآن مجید اور سیرت نبوی ﷺ کی رو سے معاشرے میں تبدیلی اور اس کی ترقی کے لئے انسان کا اپنے ہدف کی معرفت حاصل کرنا اور اس تک پہنچنے کے لئے اپنا لائحہ عمل تیار کرنا ضروری ہے۔ رسول اکرم ﷺ اپنی حکمت عملی اور اسلامی تہذیب و تمدن کے ذریعے سے تھوڑے ہی عرصے میں عرب معاشرے کی حالت تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ایک جاہل معاشرے کو ایک مہذب معاشرے میں تبدیل کیا، ایسا معاشرہ تشکیل دیا کہ جو مرکزی حکومت، سیاسی، قانونی اور عدالتی تنظیموں ، اداروں اور فیصلہ کن قوانین کا حامل ہے۔ خدا وند عالم ہم سب کو پیغمبر گرامی اسلام ﷺ کی سیرت طیبہ کے سنہرے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر اپنی دنیوی اور اخروی زندگی کو سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے؛ آمین ثم آمین یا رب العالمین...
Read more...
قیادت ورہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں
25/01/2020
تحریر: تصورعباس روایات میں حضرت علی علیہ السلام کو جنت میں جانے والوں کا قائد بیان کیا گیا ہے جیسے پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم) کا ارشاد گرامی ہے قائد الامۃ الی الجنۃ ، یا دوسری تعبیر ہے کہ معراج کے موقع پر پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله وسلم) کو ایک قصر دکھایا گیا اوروحی کی گئی کہ یہ قصر حضرت علی علیہ السلام کاہے کیونکہ ان میں یہ تین صفات پائی جاتی ہیں (انہ سید للمسلمین وامام المتقین و قائد الغرالمحجلین) اور اس مختصر تحریر میں مراد قیادت کا عمومی معنی حکمرانی اوررہبری ہے اورحکمران بھی، یقینایہ حکمران اوررہبر ایک قسم کا قائد ہے جو پوری قوم کی کشتی کو سعادت اورخوشبختی کے ساحل پر بھی لاسکتا ہے اور قوم کی بدبختی کا سبب بھی بن سکتا ہے اس لیے ہم زیادہ تر رہبر اورحاکم جیسے الفاظ سے استفادہ کریں گے ۔یعنی ایک کلی معنی کرتے ہوئے رہبر اورقائد وہی حاکم اورپیشوا ہیں اوریہ مترادف الفاظ ہیں . اظہاریہ : قرآن کے بعد اسلامی کتب میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل کتاب نہج البلاغہ ہے کہ جس کے مطالب زمانے میں رونما ہونے والے حالات کے ساتھ باہمی سازگاری کی وجہ سے آج بھی اتنی تروتازگی اورجذابیت کے حامل ہیں کہ جوتقریبا چودہ سو سال پہلے تھے ۔ ان مطالب کی جاودانی اور جذابیت پرنہ ہی تاریخ میں رونما ہونے والے حالات کے مدوجذر اپنا اثرچھوڑسکے اورنہ ہی دشمنی اورعداوت کے شعلوں کی تمازت نے اثر ڈالا ۔بلکہ اس کے برعکس ان مطالب میں حقانیت پر مبنی اورموجود اخلاقی ،انسانی اورالہی اصولوں کی مہکتی خوشبو نے نہ تنھا اپنے گلستان میں بسنے والوں کو معطر کیا بلکہ کوسوں دوربسنے والوں نے بھی بنی آدم کے لیے بنائے جانے والے قانون کی بنیاد اوراساس اسی کتاب کےایک خط کو قراردیا،کہ جو اس کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ مختلف موضوعا ت پر موجود مطالب کے بحرعمیق میں ایک موضوع جس پر مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام نے مختلف زاویوں سے اس کے خدوخال کو واضح کرکے، انسان کو مطالب کے عظیم سمندر کے سامنے لاکھڑا کیا ہے ، وہ ہے معاشرے کی قیادت اوررہبری۔ امام علی علیہ السلام نے اس موضوع سے متعلق مختلف تعبیروں جیسے امامت ،امارت ،حکومت ،ولایت ،قیادت ،خلافت اوران جیسے دوسرے مشتقات کے ذریعے وسیع پیمانے پر بحث کی ہے اوراس موضوع کی اہمیت کو بیان کیا ہے اورایسے سنہری اصول بیان کیے ہیں کہ اگر کوئی معاشرہ ان پر عمل پیراہوجائے تویقینا وہ معاشرہ کسی جنت سے کم نہیں ہوگا ۔ اس مختصر تحریر میں اسی موضوع پر حضرت علی علیہ السلام کے کلام کی روشنی میں مختلف زاویوں سے بحث کی گئی ہے اور حضرت علی علیہ السلام کے کلام پر مشتمل جامع اورکامل کتاب یعنی نہج البلاغہ کو تحقیق کا مرکز دیتے ہوئے اوراس سے استفادہ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے ۔ باب اول (۱):قیادت ورہبری کا معنی قیادت عربی زبان کا لفظ ہے جو قود سے لیا گیا ہے یعنی کسی کے آگے چلنا ،رہبری اور راہنمائی کرنا وغیرہ، جیسے کہا جاتاہے، قیادۃ الجیش یعنی لشکر کی کمانڈاوررہبری کرنا یا قائد الجیش یعنی آرمی کمانڈروغیرہ جو ایک آرمی کا کمانڈر،راہنما اوررہبرہوتا ہے ۔ روایات میں حضرت علی علیہ السلام کو جنت میں جانے والوں کا قائد بیان کیا گیا ہے جیسے پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم) کا ارشاد گرامی ہے قائد الامۃ الی الجنۃ ، یا دوسری تعبیر ہے کہ معراج کے موقع پر پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله وسلم) کو ایک قصر دکھایا گیا اوروحی کی گئی کہ یہ قصر حضرت علی علیہ السلام کاہے کیونکہ ان میں یہ تین صفات پائی جاتی ہیں (انہ سید للمسلمین وامام المتقین و قائد الغرالمحجلین ) اوراس مختصر تحریر میں مراد قیادت کا عمومی معنی حکمرانی اوررہبری ہے اورحکمران بھی، یقینایہ حکمران اوررہبر ایک قسم کا قائد ہے جو پوری قوم کی کشتی کو سعادت اورخوشبختی کے ساحل پر بھی لاسکتا ہے اور قوم کی بدبختی کا سبب بھی بن سکتا ہے اس لیے ہم زیادہ تر رہبر اورحاکم جیسے الفاظ سے استفادہ کریں گے ۔یعنی ایک کلی معنی کرتے ہوئے رہبر اورقائد وہی حاکم اورپیشوا ہیں اوریہ مترادف الفاظ ہیں ۔ (۲):قیادت ورہبری کی اہمیت امام علی علیہ السلام کی نگاہ میں قیادت ورہبری کی ضرورت اتنی واضح اورآشکارہے کہ جس کا کوئی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ انما انت منذر ولکلّ قوم ھاد۔تم صرف ڈرانے والاہو اورہرقوم کے لیے ایک ہادی اوررہبرہے . اسی طرح قرآن ناطق نے بھی نہج البلاغہ میں اس کی ضرورت اوراہمیت کو تقریبا ۶۹مقامات پر واشگاف الفاظ میں بیان کیا ہے ،حضرت علی علیہ السلام انسانی معاشرے میں صالح رہبر ی اورقیادت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتےہیں: انہ لابدللناس من امیر بر او فاجر یعمل فی امرتہ المومن ویستمتع فیھا الکافر ویبلغ اللہ فیھا الاجل ویجمع بہ الفی ء ویقاتل بہ العدو وتامن بہ السبل ویؤخذبہ للضعیف من القوی حتی یستریح بر ویستراح من فاجر ۔ حالانکہ کھلی ہوئی بات ہے کہ نظام انسانیت کے لیے ایک حاکم کا ہونا بہرحال ضروری ہے چاہے نیک کردارہویا فاسق کہ حکومت کے زیرسایہ ہی مومن کو کام کرنے کا موقع مل سکتا ہے اورکافر بھی مزے اڑا سکتا ہے اور اللہ ہر چیز کو اس کی آخری حد تک پہنچا دیتا ہے اورمال غنیمت وخراج وغیرہ جمع کیا جاتا ہے اوردشمنوں سے جنگ کی جاتی ہے اورراستوں کومحفوظ کیا جاتاہے ،طاقتور سے کمزور کا حق لیاجاتاہے تاکہ نیک کردار انسان کو راحت ملے اوربدکردار انسان سے آسایش میں ہوں ۔ اگرچہ امیرالمومنین کا یہ بیان ظاہرا خوارج کے اس پوچ عقیدہ کی نفی کے لیے بیان کیا گیا جو ان کے ذہن میں تھا کہ لاحکم الا للہ ۔لیکن حقیت یہ ہے کہ علی علیہ السلام نے اس مختصر عبارت میں رہبری اورقیادت کی اہمیت کوواضح کرنے کے لیے ایک سنہری اصول دیا ہے کہ انسان ایک معاشرتی اوراجتماعی موجود ہے جورہبری اورقیادت کے بغیر نہیں جی سکتا ہاں حکمرانوں اوررہبروں میں فرق ہے کبھی رہبر اورحاکم صالح افراد ہوتے ہیں اورکبھی فاسق اورفاجر ۔حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں : اماالامرۃ البرۃ فیعمل فیھا التقی واماالامرۃ الفاجرۃ فیتمتع فیھا الشقی صالح اورنیک قیادت کے سائے میں نیک لوگ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے پوری کرتے ہیں اورفاجر اورفاسق قیادت میں شقی اوربدبخت لوگ استفادہ کرتےہیں ۔ مذکورہ بالامطالب کا مطلب یہ ہے کہ انسانی معاشرہ میں رہبری اورقیادت ایک ضروری امر ہے اگر ایک صالح اورظلم وستم سے پاکیزہ قیادت میسر نہ ہوتو یقینا ایک فاسد حکومت قائم ہوجائے گی جس طرح کہ خود خوارج نے امام علی علیہ السلام کی قیادت اوررہبری کو ٹھکرایا اورذوالثدیہ کی حکمرانی کے چنگل میں پھنس کر برحق امام کے خلاف شورش کردی اوربعد میں بھی کسی رہبر اورحکمران کے بغیر نہ رہ سکے جو قیادت اوررہبری کی اہمیت کی روشن مثال ہے ۔ قیادت ورہبری کی اہمیت واضح کرنے کے لیے مولائے متقیان کے یہ بیانات کافی ہیں البتہ اس نکتہ کی طرف توجہ کرنا بھی فایدہ سے خالی نہیں ہے کہ عصرحاضر میں بعض مغربی مفکرین جیسے مارکس وبر،نے حکومت اورسیاسی نظام کے ایک پہلو کی طرف توجہ کرنے کی وجہ سے واضح غلطی کا شکارہواہےاور حکومت اورسیاسی نظام کو سرمایہ داروں کا آلہ اورطبقاتی کشمکش کا سبب جانا ہے درحالانکہ خود یہی لوگ صاحب قدرت اورحکومت رہے ہیں ۔اور دوسری بات یہ کہ اگر مارکس کی بات عمومی ہے تو ان کی حکومتیں بھی اس میں شامل ہیں اورتیسری بات یہ کہ خداپرست اورالہی لوگ جیسے حضرت علی علیہ السلام جنہوں نےواشگاف الفاظ میں تمام مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے ،جہاں حکومت کی ضرورت اوراہمیت کو بیان کیا ہے وہاں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ حکومت اورحکمرانی صالح اورظلم وستم سے پاک بھی ہوسکتی ہے اورفاسد بھی ،ایک صالح حکمران اوررہبر کی صفات کیاہے اوراس کے برعکس ایک فاسد اورفاجر حکمران کی خصوصیات کیا ہیں درحالانکہ دوسروں کی باتیں ان مطالب سے عار ی ہیں ۔ (۳):قیادت اوررہبری کا فلسفہ اگر انسان خطبہ شقشقیہ کو غور سے پڑھے تو معلوم ہوتا ہے کہ قیادت اوررہبری کا فلسفہ کیا ہے ۔ کیوں ایک معاشرہ بغیر رہبر کے نہیں رہ سکتا اگرچہ چند ایک حکمرانوں کے علاوہ باقی تمام نے اس فلسفہ کو بھلا کر اس کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ قیادت ورہبری کا فلسفہ وہی ہے جو امام علی علیہ السلام نے مدینہ کے لوگوں کے ہجوم کے بعد فرمایا کہ جو تیسرے خلیفہ کے قتل کے بعد جمع ہوا تھا :أماوالّذی فلق الحبۃ ،وبرا النسمۃ ،لولاحضورالحاضر،وقیام الحجۃ بوجود الناصر،ومااخذ اللہ علی العلماء الایقاروا علی کظۃ ظالم ،لاسغب مظلوم ،لالقیت حبلھا علی غاربھا؛آگاہ ہوجاو وہ خدا گواہ ہے جس نے دانہ کو شگافتہ کیاہے اورذی روح کو پیدا کیا ہے کہ اگر حاضرین کی موجودگی اورانصارکے وجود سے حجت تمام نہ ہوگئی ہوتی اوراللہ کا اہل علم سے یہ عہدنہ ہوتا کہ خبردار ظالم کی شکم پری اورمظلوم کی بھوک پر چین سے نہ بیٹھنا تو میں آج بھی اس خلافت کی رسی کو اسی کی گردن پر ڈال کر ہنکادیتا۔ جی ہاں اگر مارکس جیسے لوگ اس قیادت اوررہبری کے فلسفہ کو جان لیں تو کبھی بھی اس کو سرمایاداروں کا آلہ کار نہ کہتے ،کیونکہ امام علی علیہ السلام کی نگاہ میں حکومت کو قبول کرنا یعنی ایک سنگین ذمہ داری کو اپنے عہدہ لینا ہے اگروہ ذمہ داری انسان قبول نہ کرے یا نہ کرسکتا ہوتو خود حکومت کی وقعت امام کی نظر میں امام کا اسی خطبے کا اگلاجملہ ہے کہ فرمایا:ولالفیتم دنیاکم ھذہ ازھدعندی من عفطۃ عنز!؛اورتم دیکھ لیتے کہ تمھاری دنیا میری نظر میں بکری کی چھینک سے بھی زیادہ بے قیمت ہے ۔ (۴):حکمرانوں کی اقسام جیسا کہ اوپر اشارہ کیاجاچکا ہے کہ انسان ایک معاشرتی موجود ہے کہ جو کسی حکومت اوررہبری کے بغیر نہیں رہ سکتا اوراسی پیاس کو بجھانے کی خاطر کبھی اسے اچھے اورنیک رہبر نصیب ہوتے ہیں کہ جو انسانوں کو اخلاقی کمالات کے ساتھ ساتھ دنیوی عروج بھی نصیب کرتے ہیں اوربعض ایسے بھی ہوسکتے ہیں کہ جو انسان کی زندگی میں تاریکیوں کے اضافہ کے سوا کچھ نہیں کرپاتے ۔اوریہ دونوں برابرنہیں ہیں ،خود امام علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں : فانه لا سواء امام الهدی و امام الردی کہ ہدایت اورسیدھا راستہ دکھانے والارہبر اورامام ،اورگمراہ کرنے والا امام ہرگزبرابر نہیں ہوسکتے ۔بعض رہبر اورقائد سخت مشکلات کو بھی برداشت کرکے لوگوں کی دنیا اورآخر ت سنوارتے ہیں ۔حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم) کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ولیھم وال فاقام واستقام حتی ضرب الدین بجرانہ لوگوں کے امور کاذمہ دار ایساحاکم بنا جو خود بھی سیدھے راستہ پر چلا اورلوگوں کو بھی اسی راستہ پر چلایا یہانتکہ دین محکم اورپایدارہوگیا۔ ایک اورخطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں :امام من اتقی وبصیرۃ من اھتدی (پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم )متقین کے امام اورطلبگاران ہدایت کے لیے آنکھوں کی بصارت تھے ۔ خود امیرالمومنین علیہ السلام کہ جس نے عدل وانصاف کی جنگ لڑی اورپورے دردمندانہ طریقے سے حکومت کی باگ ڈور صرف اس لیے سنبھالی تاکہ مظلوم کو اس کا حق واپس دلایا جاسکے ، ایسے رہبر کی مظلومیت کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ جو معاشرے میں حق وانصاف کی بنیادوں کو مستحکم کرنے اور مظلوموں کی مدد کرنے میں اپنا سب کچھ قربان کردے ۔جس کی سیرت اس کے قول کی بڑھ کر تصدیق کرے لیکن لوگ اس کے وجود کی نعمت سے غفلت کریں یقینا بدبختی ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اس عظیم نعمت کا کفران کیا اوربالآخر حجاج بن یوسف ثقفی جیسے ظالم حکمران کا دوردیکھا ۔حضرت علی علیہ السلام اپنے حکومتی ہدف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : اللهم اِنّك تعلم اَنّه لم یكن الذى كان مِنّا منافسةً فی سلطان و لَاالتِماس شى ءٍ من فضول الحُطام و لكن لنَرُدَّ المَعالم مِن دینك و نُظهِر الاِصلاح فی بلادك، فیأمن المظلومون مِنْ عبادك و تقامُ المعطَّلةُ مِن حدودك۔. خدایا!توجانتا ہے کہ قیام اورحکومت سے ہمارامقصد ، قدرت کا عشق اورمال ودولت کا حصول نہیں ہے بلکہ ہدف صرف یہ ہے کہ تمہارے دین کو اس جگہ پر کہ جہاں تھا لوٹاسکیں اورتیرے شہروں میں اصلاح کرسکیں تاکہ تیرے مظلوم بندے امان میں رہیں اورتیری جن حدود کر ترک کردیا گیا ہے ان کو قائم کرسکیں ۔ اوردوسری طرف فاسد حکمران بھی ہیں جو صرف دنیا پرستی کے اسیر ہیں جنہوں نے حکمرانی کو ہدف قراردیتے ہوئے اس تک پہنچنے میں سب جائز وناجائز کو انجام دیا ۔وہ تمام کام جن کی دین اسلام کے ساتھ ساتھ انسانی اقدار بھی اجازت نہیں دیتیں ان کوبھی کرگزرنے میں ذرا برابرہچکاہٹ محسوس نہ کی اورزندگی کے چارروز اسی غفلت میں گزاردیئے ۔جنہوں نے نہ صرف لوگوں پر ظلم کیا بلکہ اپنے اوپر بھی ظلم وستم کیا امیرالمومنین ایسے ظالم اورجابر حاکم کے بارے میں رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہوئے ، ارشاد فرماتے ہیں :یؤتی یوم القیامۃ بالامام الجائر ولیس معہ نصیر ولاعاذرفیلقی فی نار جھنم فیدورفیھا کما تدورالرحی ثم یرتبط فی قعرھا ۔ قیامت کے دن ظالم رہبر کا پیش کیا جائے گا جس کا اس دن کوئی مددگارنہیں ہوگا اورنہ ہی عذرخواہی قبول کرنے والا، اس کو جھنم کے شعلوں میں جھونک دیا جائے گا اوروہاں چکی کی طرح چکر کھائے گا اوراس کے بعد اس کو قعرجھنم میں جکڑدیا جائے گا ۔ حضرت علی علیہ السلام کا اصلی درد اورغم یہ تھا کہ افسوس ہے کہ لوگ نیک اورصالح رہبری اورقیادت کو نہ صرف قبول نہ کریں بلکہ اس کو کمزوربنانے کے لیے کمرباندھ لیں جس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ فاسق اورفاجر حکمران مسلط ہوجائیں گے ۔امام علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں ۔ولکننی آسی ان یلی امرھذہ الامۃ سفھاؤھاوفجارھا فیتخذوا مال اللہ دولاوعبادہ خولا و الصالحین حربا والفاسقین حزبا مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ امت کی زمام احمقوں اورفاسقوں کے ہاتھ چلی جائے وہ مال خدا کو اپنی املاک اوربندگان خدا کو اپنے غلام بنا لیں ،نیک لوگوں سے جنگ کریں اورفاسق لوگوں کو اپنی جماعت میں شامل کرلیں ۔ شاید یہاں پر یہ سوال پیدا ہو کہ حقیقتا صالح اورنیک رہبری تو امام معصوم انجام دے سکتا ہے کہ جس کی حکمرانی اوررہبری میں عدل وانصاف قائم ہوسکتا ہے ایک عام انسان کیسے ایسی حکومت قائم کرسکتا ہے ؟جواب بہت سادہ ہے ہر حکمران جو عدل وانصاف کو قائم کرنے کے لیے اپنی قدرت کو وسیلہ بنائے وہ ایساکرسکتاہے جس کے دل میں لوگوں کی خدمت کرنے کا جذبہ ہو۔ یقینا شریر اورمفسد لوگ اس کی حکومت میں ختم نہیں ہوسکتے لیکن ان کے خاتمے کے لیے اورعدل وانصاف کو قائم کرنے کے لیے کوشش توکرسکتاہے اوروہ صفات جو ایک رہبر میں ہونی چاہییں اگران کو اپنا لے تو اس کی شہرت بھی ایک عادل بادشاہ کے طورپر ہوسکتی ہے مسلمان تو دور کی بات آغاز اسلام میں نجاشی بادشاہ کے لیے پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم)کی زبانی یہ الفاظ کہ تم(مسلمانوا) حبشہ چلے جاو وہاں کا حاکم عادل اورمہربان ہے نجاشی مسلمان نہیں تھا لیکن انسانی اصولوں کا پابند تھا ۔. باب دوم : ایک رہبر اورحکمران کی صفات یقینا ایک رہبر اورحکمران جو لوگوں کو دنیا اورآخرت کی سعادت دینا چاہتا ہے ان کی مشکلات کو دورکرنا چاہتاہے اس میں چند ایک ایسی صفات ہونی چاہییں جو اس کے عمل کی تصدیق کریں اورلوگوں کااعتماد اس پرباقی رہے ہم یہاں امیرالمومنین علیہ السلام کے کلام کی روشنی میں ان صفات کو دوحصوں میں تقسیم کرتے ہیں ایک وہ جو خود حاکم کی شخصی صفات ہیں اوردوسری وہ جو اس کے اوراسکی رعیت کے باہمی ارتباط کو بیان کرتی ہیں ۔ الف:ذاتی صفات : (۱):تذکیہ نفس تذکیہ نفس کی افادیت کاکوئی منکر نہیں ہے کیونکہ جس موضوع کو خداوندنے گیارہ قسمیں کھانے کے بعد ذکر کیا ہو قدافلح من زکّٰھا وقدخاب من دسّٰھا؛کہ سعادت اورکامیابی صرف اس کا مقدر بنے گی جو تذکیہ نفس کے زیور سے آراستہ ہوگا اس کی اہمیت میں ذرہ برابرشک کی گنجائش نہیں رہتی۔تذکیہ نفس ہر انسان کے لیے ضروری ہے لیکن ایک رہبر اورراہنما کے لیے اس کی ضرورت اوراہمیت دوسروں کی نسبت بڑھ جاتی ہے کیونکہ انسان کی زندگی نشیب وفرازکا نام ہے اورتذکیہ نفس انسان کو اس سعادت اورشقاوت کے نشیب وفراز سے ڈھکی وادی سے نکال کر سعادت کے ساحل پر لاکھڑا کرتا ہے کیونکہ انسان کا نفس ایک سرکش گھوڑے کی مانند ہے اگر تذکیہ نفس کے تازیانوں سے رام نہ کیا جائے تو انسان کے دامن میں بدبختی اورتباہی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا خصوصا ایک رہبر اورراہنما کے لیے کہ جس کے کاندھے پر اپنے بوجھ کے ساتھ عوامی قافلے کی مہار بھی موجود ہے اسی لیے مولائے کائنات امیرالمومنین علیہ السلام مالک اشتر کو لکھے گئے خط میں ارشاد فرماتےہیں کہ :فلیکن احب الذخائر الیک ذخیرۃ العمل الصالح ،فاملک ھواک ،وشح ّ بنفسک عما لایحل لک ؛ تمھارا محبوب ترین ذخیرہ عمل صالح کو ہانا چاہیے ،خواہشات کوروک کررکھو اورچیز حلال نہ ہو اس کے لیے نفس کو صرف کرنے سے بخل کرو ۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس بیان میں تذکیہ نفس پر بہت زور دیا ہے اوراس پر اصرارفرمایا ہے کیونکہ معاشرتی زندگی کی سعادت میں قانون نافذ کرنے والوں کی لیاقت اوراہلیت خود قانون کی نسبت زیادہ موثر اوراثرانداز ہوتی ہے ۔ امام علی علیہ السلام محمد بن ابی بکر کو مخاطب کرتے ہوئے ان لوگوں کے امتیازات کی طرف اشارہ فرماتےہیں جنہوں نے اپنے روحوں کو تذکیہ نفس اورتقوی کے زیورسے آراستہ کیا ۔امام فرماتے ہیں :واعلموا عباداللہ ان المتقین ذھبوا بعاجل الدنیا وآجل الآخرۃ فشارکوا اھل الدنیا فی دنیاھم ،ولم یشارکوا اھل الدنیا فی آخرتھم ؛سکنوا الدنیا بافضل ماسکنت ۔۔۔بندگان خدا !یارکھو کہ پرہیزگار لوگ دنیا اورآخرت کے فوائد لے کر آگے بڑھ گئے وہ اہل دنیا کے ساتھ ان کی دنیا میں شریک رہے لیکن اہل دنیا ان کی آخرت میں شریک نہ ہوسکے ؛وہ دنیا میں بھی بہترین زندگی گزارتےرہے ۔۔۔۔ حضرت علی علیہ السلام مالک کو واجبات کی ادائیگی اور ان پرتوجہ کرنے کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :امرہ بتقوی اللہ ،وایثارطاعتہ ،واتباع ما امر۔۔۔۔۔۔لایسعد احدالاباتباعھا ولایشقی الامع جحودھا واضاعتھا ؛سب سے پہلا امر یہ ہے کہ اللہ سے ڈرو، اس کی اطاعت کرو اورجن فرائض وسنن کا اپنی کتاب میں حکم دیا ہے ان کا اتباع کرو کہ کوئی شخص ان کی اتباع کے بغیر نیک بخت نہیں ہوسکتا اورکوئی ان کے انکار اورضائع کرنے کے بغیر شقی اوربدبخت نہیں ہوسکتا۔ حضرت علی علیہ السلام واجبات کی ادائیگی کو خاص اہمیت دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ : ولیکن فی خاصۃ ما تخلص بہ للہ دینک اقامۃ فرائضہ التی ھی لہ خاصۃ ؛اورتمھارے وہ اعمال جنھیں صرف اللہ کے لیے انجام دیتے ہوان میں سے سب سے اہم کام فرائض کی انجام دہی ہے خالصا خدا کےلیے ۔ اسی طرح حضرت علی علیہ السلام اپنی فوج کے کمانڈر شریع بن ھانی کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :اتق اللہ فی کل صباح ومساء ۔۔۔۔۔۔سمت بک الاھواء الی کثیر من الضرر فکن لنفسک مائعا رادعا ؛صبح وشام اللہ سے ڈرتے رہو اور اپنے نفس کو اس دھوکہ باز دنیا سے بچائے رہو اوراس پر کسی حال میں اعتبار نہ کرنا اوریہ یاد رکھنا کہ اگر تم نے کسی ناگواری کے خوف سے اپنے نفس کو بہت سی پسندیدہ چیزوں سے نہ روکا،تو خواہشات تم کو بہت سے نقصان دہ امور تک پہنچا دیں گی لہذا ہمیشہ اپنے نفس کو روکتے ٹوکتے رہو ۔ ۲:علم وبصیرت ایک رہبر اورراہنما کے لیے علم وبصیرت شرط ہے اوراسلامی تعلیمات میں اس کو ایک اصل کے طورپرقبول کیاگیا ہے اورمختلف مقامات پر اس بات کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے کہ حکومتی امور ان اشخاص کے ذمہ لگائے جائیں جو ان کی اہلیت اورقابلیت رکھتے ہوں،اصول کافی میں مرحوم کلینی ،شیخ صدوق اورشیخ طوسی نے عمربن حنظلہ کے ذریعے امام صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے کہ جس میں امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: مَنْ کانَ مِنکُمْ مِمَّنْ قَدْ رَوَی حَدیثَنا ونَظَرَ فی حَلالِنا وَحَرامِنا وعَرَفَ اَحْکامَنا فَلْیَرْضَوا بِهِ حَکَماً فَاِنّی قد جَعَلتُهُ عَلَیْکُم حاکماً۔۔ امام فرماتے ہیں کہ جو شخص تم میں سے ہماری حدیث کو بیان کرتا ہو اورہمارے حلال وحرام میں صاحب نظر اورتوجہ کرتا ہو اورہمارے احکام کو جانتا ہوتو اس کو اپنا حاکم قراردینا کہ تحقیق میں نے اسے تم پرحاکم قراردیا ہے ۔ حضرت علی علیہ السلام ایک رہبر کےلیے علم اورآگاہی کے سلسلے میں ارشاد فرماتے ہیں :ثم انظر فی امورعمالک فاستعملھم اختبارا ولاتولھم محاباۃ واثرۃ فانھما جماع من شعب الجور والخیانۃ وتوخ منھم اھل التجربۃ والحیاء ؛اس کے بعد اپنے عاملوں کے معاملات پر بھی نگاہ رکھنا اورانہیں امتحان کے بعد کام سپرد کرنا اورخبردار تعلقات یا جانبداری کی بنا پر عہدہ نہ دے دینا کہ یہ باتیں ظلم اورخیانت کے اثرات میں شامل ہیں اوردیکھو کہ جو تجربہ کار اورحیاء والے ہوں ان کو اختیار کرنا ۔۔ کیونکہ ملکی سرمایہ کو اصراف سے بچانے کا ایک راستہ یہی ہے کہ حکومتی عہدے انہیں کے سپردکیے جائیں جو اس کا عالم اورماہر ہو ورنہ انجان وزیر حد سے زیادہ امکانات کو استعمال کرے گا اوراس کا نتیجہ بھی کیفیت اورکمیت کے لحاظ سے بہت ضعیف ہوگا ایک وزیر صنعت وتجارت اوردوسرے شعبوں میں اپنے قیمتی تجربات کے ذریعے بہت سی ملکی مشکلات کو حل کرسکتا ہے اورضروری ہے کہ کسی کو ایک عہدے کےلیے منتخب کرنے سے پہلے اس کے سابقہ کار کو مدنظررکھتے ہوئے اس کا امتحان کیاجائے کہ وہ کتنا تجربہ رکھتا ہے حضرت علی علیہ السلام بھی اسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ :والقدم فی الاسلام المتقدمۃ ،فنھم اکرم اخلاقا واصح اعراضا ؛ (اے مال عہدہ ان کو دینا )جن کہ پہلے اسلام کےمورد میں خدمات ہوں کہ ایسے لوگ خوش اخلاق اوربے داغ عزت والے ہوتے ہیں ۔ان کے اندر فضول خرچی کی لالچ کم ہوتی ہے ۔ (۳):سادگی کے ساتھ زندگی بسر کرنا رہبری اورحکمرانی کے عہدے کو قبول کرنے سے ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے جوانسان کو ابھارتی ہیں کہ نچلے طبقہ کی طرح زندگی گزارے تاکہ ان کے درد کو سمجھ سکے اورپھران کی مشکلات کو دورکرنے کی کوشش کرسکے ۔ حضرت علی علیہ السلام اس مقام پر اپنے عمل کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں :وان امامکم قد اکتفی من دنیاہ بطمریہ ،ومن طعمہ بقرصیہ ۔الاوانکم لاتقدرون علی ذلک ،ولکن اعینونی بورع واجتہاد؛یاد رکھ کہ تیرے امام نے اس دنیا سے دو پرانے کپڑے اوردوروٹیوں پر راضی رہا ہے خدا کی قسم تم اس پر قدرت نہیں رکھتے لیکن پرہیز گاری اورکوشش کے ذریعے میری مددکرو۔ نھج البلاغہ کے خطبہ نمبر ۲۰۹میں امام علی علیہ السلام عاصم بن زیاد جو رہبانیت اختیار کرچکا تھا امام علیہ السلام نے اس کو نصیحت کی تو وہ حیران ہوگیا کہ امام علی علیہ السلام جیسا زاھد مجھے رہبانیت سے روک رہا ہے تو امام علی علیہ السلام نے ایک تاریخی جملہ کہا کہ جس سے قیادت اورحکمرانی کا فلسفہ روز روش کی طرف آشکار ہے امام نے فرمایا:ان اللہ تعالی فرض علی آئمۃ العدل ان یقدروا انفسھم بضعۃ الناس کیلایتبیع بالفقیر فقرہ !پروردگار نے آئمہ حق پر فرض کردیا ہے کہ اپنی زندگی کا پیمانہ کمزورترین انسانوں کو قراردیں تاکہ فقیر اپنے فقرکی بنا پر کسی پیچ وتاب کا شکار نہ ہو۔ (۴):ذہانت اورسیاسی بصیرت رہبرکی صفات میں سے ایک جو اپنی جگہ پر حائزاہمیت ہے رہبر کی ذہانت اورسیاسی بصیرت ہے جس کی وجہ سے رہبر حسن تدبیر کے بغیر کاموں کو انجام نہیں دیے گا اوراہداف تک پہنچنے کےلیے چارہ جوئی کرےگا اورکاموں کو درست سمت میں چلائے گا حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی حسن تدبیر سے مصرکے حاکم سے کہا کہ جو سات سال خوشحالی کے ہیں ان میں کھانے کی اشیاء کو بچایا جائے ان سات سالوں کے لیے جو آئندہ آئیں گے اورحضرت علی علیہ السلام کے کلام میں بھی ایسی چیز ملتی ہے کہ ایک حاکم ان صفات سے آراستہ ہونا چاہیے غررالحکم میں حسن تدبیر کو حکمرانی کے قوام سے تعبیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : من حسنت سیاسته دامت ریاسته ۔اسی طرح اگر حسن تدبیر نہ ہوتو اس کا لازمہ حکومت اورحکمرانی کا نابود ہونا ہے : سوء التدبیر سبب التدمیراسی طرح جب مصر کی حکومت کے لیے مالک اشتر کا انتخاب کیا تومختلف وزراء کو انتخاب کرنے کے بارے میں فرمایا: و اجعل لراس کل امر من امورک راسا منهم لا یقهره کبیرها و لا یتشتت علیه کثیرها ؛اپنے ہرحکومتی کاموں کے لیے وزراء کو انتخا ب کرنا کہ جن میں دو خصوصیات پائی جاتی ہوں ایک یہ کہ کام کا زیادہ ہونا اسے مغلوب اور ناتوان نہ کردے اوردوسرایہ کہ کام کا زیادہ ہونا اس کو غمگین نہ کردے ۔ یقینا حسن تدبیر رکھنے والاحکمران کبھی پریشان نہیں ہوگا اورہر کام کو احسن طریقے سے انجام دے گا ۔ اس شرط کی اہمیت عصرحاضر میں زیادہ روشن ہوجاتی ہے جہاں داخلی اورخارجی دشمنوں اوریجنسیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اورحسن تدبیر سے آراستہ حاکم کبھی مغلوب نہیں ہوگا اور بہت سی مشکلات کا مقابلے کے وقت اپنے حواس اورنفس پر مسلط رہے گا ۔ (۵):شجاعت اورپایداری رہبر کی صفات میں سے جس کی اپنی جگہ پر بہت اہمیت ہے شجاعت اورمستحکم ارادہ ہے ۔حضرت علی علیہ السلام مالک اشتر کو نصیحت فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ اپنے حکومتی ڈھانچے میں ان لوگوں کو شامل کریں جو شجاع ہوں اوردشمن کا شجاعت اوربہادری کے ساتھ مقابلہ کریں نہ یہ کہ خود ہی بھاگ جائیں یا قدرتمندلوگوں کے ڈر کی وجہ سے ان کے تابع ہوجائیں جو حکومت اورعوام کےنقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔۔۔ثم اھل النجدۃ والشجاعۃ پھر وہ جو رحم دل اورقدرتمند ودولتمند لوگوں کے ساتھ ،سختی اوربہادری سے پیش آئیں ۔ اسی طرح اگر حکمران اوررہبر مستحکم ارادہ کا مالک ہوگا تواپنی حکمرانی اورحکومت کے تمام ایام اورخصوصا مشکل دنوں میں اپنی پالیسیوں کو واضح اوربلاروک ٹوک جاری کرسکتا ہے جس کااچھا اثر نہ صرف عوام پر پڑے گا بلکہ اس کے حکومتی ڈھانچہ میں بھی کوئی تزلزل پیدا نہیں ہوگا علی علیہ السلام ارشادفرماتے ہیں :لاتجعلوا علمکم جھلا،ویقینکم شکا؛اذاعلمتم فاعملوا،واذا تیقنتم فاقدموا۔ خبرداراپنے علم کو جہل نہ بناواوراپنے یقین کو شک قرارنہ دو ،جب جان لو تو عمل کرو اورجب یقین ہوجائے تو قدم آگے بڑھاو۔ (۶):امانتداری بلاشبہ امانت ایسی صفت ہے کہ جس کی اسلامی تعلیمات میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اورجب اسی صفت کا ذکر رہبری اورقیادت اورنہج البلاغہ میں حکمرانو ں کے بارے میں کیا جاتا ہے تو مراد یہ ہے کہ یہ قیادت اوررہبری ایک قسم کی الہی امانت ہے صحیح طریقے سے رہبری کرنا اوراسلامی قوانین کا جاری کرنا ہی امانت داری ہے ،امام علی علیہ السلام اشعث بن قیس کو مخاطب کرتے ہوئے اسی بات کی طرف اشارہ کرتےہیں کہ :یادرکھ وزارت کا عہدہ تیرے کھانے اورپینے کا وسیلہ نہیں ہے بلکہ ایک امانت ہے جو تیری گردن پر ہے ۔ امانتداری کا دوسرا رخ بیت المال کے حوالے سے ہے کہ حاکم اس میں خیانت نہ کرے اوراس کو صحیح طریقے سے خرچ کرے اس حوالے سے حضرت علی علیہ السلام نے بہت سخت اورمحکم رویہ اپنایا حتی کہ بعض لوگ مخالف بھی ہوگئے ۔حضرت علی علیہ السلام نے ہر اس شخص کو حکومتی ڈھانچے میں شامل کرنے سے انکار کردیا کہ جس کی شہرت خیانت کے حوالے سے رہی ہو اگر کوئی پہلے حاکم تھا اورخائن تھا تو سب سے پہلا کام اس کو عزل کرناتھا جس کی وجہ سے بہت سی مشکلات پیدا ہوگئیں لیکن بیت المال کا تعلق عوام سےہے جس کو قطعا برداشت نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مولائے کائنات کی نگاہ میں بدترین خیانت وہ ہے جو لوگوں کے ساتھ ہو ۔امیرالمومنین (علیه السلام)مکتوب نمبر ۲۶میں اپنے بعض وزراء کو خط لکھتے ہوئے یہی چیزبیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ :ومن استھان بالامانۃ ورتع فی الخیانۃ ۔جس شخص نے بھی امانت کو معمولی تصور کیا اورخیانت کی چراگاہ میں داخل ہوگیا اوراپنے نفس اوردین کو خیانت کاری سے نہیں بچایااس نے دنیا میں بھی اپنے کو ذلت اوررسوائی کی منزل میں اتاردیا اورآخرت میں تو ذلت ورسوائی اس سے بھی زیادہ ہے اوریادرکھو کہ بدترین خیانت امت کے ساتھ خیانت ہے ۔۔ یہانتکہ امام علی علیہ السلام مالک اشتر کو واضح الفاظ میں فرماتےہیں کہ اگر کوئی امانت میں خیانت کرے اوراس کی خیانت ثابت ہوجائے تو اس سے مال واپس چھیننے کے ساتھ ساتھ جسمانی طورپر بھی سزا دینا اوراس کو معاشرے میں بھی ذلیل وخوار کرنا تاکہ دوسروں کے لیے عبرت کا باعث بنے ۔ فبسطت علیہ العقوبۃ فی بدنہ ،اخذتہ بما اصاب من عملہ ،ثم نصبتہ بمقام المذلۃ ،ووسمتہ بالخیانۃ ،وقلدتہ عارالتھمۃ ۔اوراست جسمانی اعتبار سے بھی سزادینا اورجو مال حاصل کیاہے اسے چھین بھی لینا اورمعاشرے میں ذلت کے مقام پر رکھ کر خیانت کاری کے مجرم کی حیثیت سے پہچنوانااورننگ ورسوائی کا طوق اس کے گلے میں ڈال دینا۔اسی طرح اسی خطبہ میں ایک اورجگہ ارشاد فرماتے ہیں کہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی عہدے کی کرسی حاصل کرنے کےلیے اپنے آپ کو امین اورنیک ظاہر کرتے ہیں خبردار ان کا ظاہری پن تجھے دھوکہ نے بلکہ پہلے ان کا امتحان لینا کہ واقعی وہ امانتدار ہیں ان کا آپ سے پہلے حکمرانوں کے ساتھ سلوک کیسا تھا ۔۔ (۷):صداقت صداقت کی صفت کی اہمیت رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث سے لگائی جاسکتی ہے کہ آپ (صلی الله علیه و آله وسلم)نے فرمایا:لاتنظروا الی کثرۃ صلاتھم وصومھم وکثرۃ الحج والمعروف،وطنطنھم باللیل ،ولکن انظروا الی صدق الحدیث واداء الامانۃ ۔کہ لوگوں کی زیادہ نمازیں ،ان کے روزے ،ان کے حج اورنیکیاں اوررات کو انکی مناجات کو نہ دیکھو بلکہ ان کی صداقت اورامانت کی طرف نگاہ کرو ۔ امام علی علیہ السلام نے بھی نہ صرف صداقت سے حکومت کرنے کی سفارش کی بلکہ خود صداقت پر مبنی ایک ایسی الھی حکومت قائم کی جس کی مثال نہیں ملتی ۔اور اسی وجہ سے علی علیہ السلام کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا استاد شہید مطہری لکھتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کی خلافت میں تیسری مشکل امام کی سیاست میں صداقت اورصراحت کا ہونا تھا کہ حتی بعض اپنے لوگ بھی اس کوپسند نہیں کرتے تھے اورکہتے تھے کہ سیاست میں اتنی صداقت نہیں ہوناچاہیے بلکہ سیاست کی چاشنی تو جھوٹ اوردھوکہ ہے ۔اسی وجہ سے علی علیہ السلام کو اچھاسیاستدان نہیں سمجھتے تھے اسی وجہ سے امیرکائنات (علیه السلام) نے بھی واضح الفاظ میں فرمایا:واللہ مامعاویہ بادھی منی ولکنہ یغدرویفجرولو لا کراھیۃ الغدرلکنت من ادھی الناس ولکن کل غدرۃ فجرۃ وکل فجرۃ کفرۃ ۔۔۔۔۔ معاویہ مجھ سے زیادہ سیاستدان اورذہین نہیں ہے لیکن وہ دھوکااورفریب دیتا ہے اورگناہ کرتا ہے اگر دھوکا اورفریب گناہ نہ ہوتا تو میں زیادہ ذہین اورسیاستمدار ہوتا لیکن ہرمکروفریب گناہ ہے اورہرگناہ کفر ہے ۔ مذکورہ بالامطلب سے واضح ہوگیا کہ حضرت علی علیہ السلام کی حکومت صداقت کے عنصرپر قائم تھی اورصداقت کی اہمیت کے پیش نظر مالک اشتر کو بھی ارشاد فرماتےہیں کہ :وایاک والمن علی رعینک باحسانک او التزید فیما کان فعلک اوان تعدھم فتع موعدک بخلفک ان المن یبطل الاحسان والتزید یذھب بنورالحق ،والخلف یوجب المقت عنداللہ ۔ اس مطلب سے واضح ہوتا ہے کہ حاکم صرف حکومت کی سیٹ تک پہنچنے کے لیے جھوٹے وعدے اورلوگوں کو فریب نہ دے لیکن آج کی سیاست میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ اپنے مذموم اہداف تک پہنچنے کےلیے جھوٹے وعدے،فریب اوردھوکے کا سہارا لیتے ہیں اورسیاست کو اسی چیز کا نام دیتے ہیں ۔ (۸):حسن سابقہ امام علی علیہ السلام کی نگاہ میں ایک وزیر کا حسن سابقہ رکھنا بہت اہم ہے اگر اس کا ماضی اس کے برے اعمال ،ظلم وستم ،خیانت اورفریب کو آشکارکرنے والا ہے تو وہ رہبری اورقیادت کے لائق نہیں ہے اوراس سلسلے میں علی علیہ السلام کا موقف سخت تھا اوربہت سی مشکلات اسی وجہ سے پیدا ہوئی امام کی نگاہ میں بہت سے فرمانراو ایسے تھے جو فرمانروائی کے قابل نہیں تھےعلی علیہ السلام نے ایک لحظہ بھی انہیں ان کے مقام پر برداشت کرنا گوارا نہ سمجھا اوردوسرا اپنے وفادارساتھیوں کو بھی اسی چیز کی تاکید فرماتے ۔مالک اشتر کو فرماتے ہیں :ان شرّوزرائک من کان لاشرار قبلک وزیرا ،ومن شرکھم فی الاثام فلایکونن لک بطانۃ ۔۔۔بدترین وزراء وہ لوگ ہیں کہ جو پہلے برے لوگوں کے وزیرتھے اوران کے گناہوں میں شریک تھے پس ایسا نہ ہو کہ ایسے افراد تمہارے ہم راز بن جائیں کیونکہ گناہگاروں کے یاورتھے اورظالم لوگوں کی مدد کرنے والے تھے پس تم ایسے افراد تلاش کرو جو فکری حوالے سے قوی اورمعاشرے میں جانی پہچانی شخصیات ہوں جنہوں نے کسی ظالم کی مددنہیں کی ایسے لوگ تیری نسبت مھربان تر ہوں گے ۔۔ان کو اپنی نجی اورسرکاری محفلوں میں دعوت کرو ۔ (۹):ریاست طلبی سے پرہیز ریاست طلبی ایک ھوای نفسانی ہے اس لیے امام علی نے مالک کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :ولاتقولن :انی مومر آمرفاطاع فان ذلک ادغال فی القلب ومنھکۃ للدین ۔ اورنہ کہنا :میں حاکم ہوں اورحکم دیتا ہوں اورحتما حکم جاری ہو ؛کیونکہ ایسی صفات دل کے فاسد اوردین اورحکومت کی نابودی کا سبب بنتا ہے ۔امام علی مالک کو فرماتے ہیں کہ خدا کی قدرت اورعظمت کو ذہن میں رکھ اورجب حاکم ہونا تجھے مغرور بنانے لگے تو خدا کی قدرت اورعظمت کی طرف نگاہ کرنا ۔اسی طرح امام مالک کو ارشاد فرماتے ہیں کہ اس حکومت کو ایک اورنگاہ سے دیکھ اوروہ یہ ہے کہ یہ حکومت ایک امتحان ہے کہ خدا نے اس کے ذریعے لوگوں پر اس کو حاکم بنا کر اس کا امتحان لیتا ہے ۔ ب:اجتماعی صفات ۱:خوش خلقی : خوش خلقی کی اہمیت کے لیے قرآن مجید کی یہ آیت کافی ہے کہ فرمایا:لوکنت فظاغلیظ القلب لانفضوا من حولک اور خود امام علی علیہ السلام کا یہ فرمان بھی اس کی اہمیت کو دوچندان کردیتا ہے کہ فرمایا:لاقرین کحسن الخلق ،خوش خلقی جیساکوئی ساتھی نہیں ۔ نہج البلاغہ میں اس صفت کو ایک انسان کا امتیاز خاص بیان کیا گیا ہے امام علی علیہ السلام محمد بن ابوبکر اورمالک اشتر کو فرماتے ہیں کہ محبت ،مہربانی اورشاداب چہرے کے ساتھ لوگوں سے ملیں اوران کے مسائل سے آگاہی پیدا کریں امام علیہ السلام مالک اشتر کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :وأشعرقلبک الرحمۃ للرعیۃ ،والمحبۃ لھم ،واللطف بہم ،ولاتکونن علیہم سبعاضاریاتغتنم اکلھم،(نامہ ۵۳،ص۴۰۳،۴۰۴ترجمہ دشتی ) ۲:تواضع وفروتنی تواضع اورفروتنی ایسی صفات ہیں کہ جو ہرشخص کے لیے پسندیدہ ہیں حضرت علی علیہ السلام خطبہ نمبر ۱۹۲میں تواضع اورفروتنی کو انسان کی دنیوی اوراخروی کامیابی کا راز بتاتےہوئے لوگوں کو متوجہ کرتےہیں کہ اگر غرور اورتکبر کوئی اچھی چیز ہوتی تو خدا اپنے پیغمبروں کے لیے اسے انتخاب کرتا در حالانکہ خدا نے پیغمبروں کو تکبر اورغرور سے منع فرمایا ہے اورپیغمبران خود مومنین کے آگے تواضع اورفروتنی کرتے امام فرماتےہیں :ورضی لھم التواضع ،خداوندمتعال نے انبیاء کے لیے تواضع کو انتخاب کیا ہے اسی طرح حکمت ۱۱۳میں امام تواضع کو انسان کی شخصیت کے عنوان سے یاد کرتے ہیں کہ تکبر اورغرور سے انسان کی شخصیت ظاہر نہیں ہوتی بلکہ تواضع سے ہوتی ہے فرماتے ہیں کہ لاحسب الاالتواضع ممکن ہے بعض لوگ جیسے رہبر اورحاکم ہیں کہ کسی عہدے پر پہنچ کر تکبر جیسی بیماری میں مبتلاء ہوجائیں جو ان کی بربادی اورنابودی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے اسی لیے امام علی علیہ السلام مالک اشتر کو ارشاد فرماتے ہیں :اپنی رعیت کے سامنے تواضع اورانکساری سے پیش آنا۔اور اسی طرح اگر کوئی سخت بات کہہ دے تو اس کو برداشت کرنے کی طاقت ایک حاکم میں ہونی چاہیے امام فرماتے ہیں :ثم احتمل الخرق منھم والعی ،ونح عنھم الضیق والانف یبسط اللہ علیک بذلک اکناف رحمتہ ؛ان میں سے اگر کوئی بدکلامی کا مظاہرہ کرے تو اسے برداشت کرو اوردل تنگی اورغرور کو دوررکھو تاکہ خدا تمھارے لیے رحمت کے دروازے کھول دے ۳:لوگوں کے عیبوں پر پردہ ڈالنے والا حضرت امیر کے نورانی کلام سے ایک اورصفت جو ایک رہبر اورحاکم کے لیے ضروری ہے اورجس کی بہت زیادہ اہمیت بیان کی گئی ہے وہ ہے لوگوں کے عیبوں پر پردہ ڈالنا ۔کیونکہ انسان خطا کا پتلا ہے جس سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں جن میں عیب بھی ہوسکتے ہیں ،کیونکہ صرف معصوم ہستیاں ہی ایسی ہے اس دنیا پر جن میں کوئی عیب نہیں ورنہ دوسرے لوگ عیبوں سے بالکل پاک نہیں ہیں اسی لیے حاکم خدا کی اس(ستارالعیوب )صفت کا مظہر ہونا چاہیے جس طرح وہ خود امید رکھتا ہے کہ خدا اس کے عیبوں کو چھپائے رکھے تو وہ خدا کی مخلوق کے عیبوں پر پردہ ڈالے ،صرف یہ نہیں بلکہ مولائے کائنات کی نگاہ میں ایک حاکم ایسا ہونا چاہیے جو نہ خود عیب لوگوں کے بیان کرے اورنہ ایسے لوگوں کو اپنے پاس بیٹھنے دے جو دوسروں کے عیبوں کو تلاش کرکے انہیں رسوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ حضرت علی علیہ السلام مالک اشتر کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ : فان فی الناس عیوبا،الوالی احق من سترھا ،فلاتکشفن عماغاب عنک منھا ،فانما علیک تطھیرما ظھرلک ۔۔۔۔۔فان الساعی غاش،وان تشبہ بالناصحین بہرحال لوگوں میں کمزوریاں پائی جاتی ہیں اوران کی پردہ پوشی کی سب سے بڑی ذمہ داری خود والی پر ہے لہذاخبر دار جو تمہارے سامنے نہیں ہے اس کا انکشاف نہ کرنا ۔۔جہاں تک ممکن ہو لوگوں کے ان تمام عیوب کی پردہ پوشی کرتے رہو جن اپنے عیوب کی پردہ پوشی کی پروردگارسے تمنا رکھتے ہو ہرچغل خور کی تصدیق میں عجلت سے کام نہ لینا کہ چغل خور ہمیشہ خیانت کارہوتا ہے چاہے وہ مخلصین ہی کے بھیس میں کیوں نہ ہو باب سوم : رہبر اورحاکم کی ذمہ داریاں ۱:عدل وانصاف کا قیام عدالت ایک ایسا مقولہ ہے جو اس دور میں زیادہ تر حضرت علی علیہ السلام کی سیرت اورخلافت سے مربوط سمجھا جاتا ہے اس کی وجہ بھی واضح ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے عدالت کے قیام کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیا اوراس راستے میں اتنی مشکلات اٹھائیں کہ جو عام انسان کے بس کی بات نہیں ہے ۔ عدالت ایک چیز ہے کہ جو خدا کو پسند ہے اورخدا نے حکمرانوں پر یہ بات بھی فرض کی ہے کہ وہ عدالت کے قیام میں کوشش کریں حضرت علی علیہ السلام عدل کے قیام کو رہبروں کی آنکھوں کی ٹھنڈک سے تعبیر کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ :وان افضل قرۃ عین الولاۃ استقامۃ العدل فی البلاد۔کہ تحقیق والیوں کے حق میں بہترین آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان یہ ہے کہ ملک بھر میں عدل وانصاف کا قیام ہے ۔البتہ رہبروں اورحکمرانوں کا اولین فریضہ بھی ہے تاکہ ظلم وستم سے نجات پاتے ہوئے عوام اورلوگوں تک ان کے حقوق پہنچتےرہیں ۔چاہے اس سے بعض خواص کا طبقہ ناپسندیدگی کا اظہار ہی کیوں نہ کرے اگر انصاف کا دامن پکڑا ہوا ہے تو اس کو انجام دو ۔امام علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ولیکن احب الامور الیک اوسطھا فی الحق واعمھا فی العدل اجمعھالرضی الرعیتہ۔ تمہارے لیے پسندیدہ کام وہ ہونا چاہیے جو حق کے اعتبار سے بہترین ،انصاف کے لحاظ سے سب کو شامل اوررعایاکی مرضی سے اکثریت کے لیے پسندیدہ ہو کہ عام افراد کی ناراضگی خواص کی رضامندی کو بھی بے اثر بنا دیتی ہے اسی طرح فرماتےہیں کہ انصف اللہ ،وانصف الناس من نفسک ومن خاصۃ اھلک ،ومن لک فیہ ھوی من رعیتک فانک لاتفعل تظلم ۔اپنی ذات اپنے اہل وعیال اوررعایا میں جن سے تمھیں تعلق خاطر ہے سب کے سلسلہ میں اپنے نفس اوراپنے پروردگار سے انصاف کرنا کہ ایسا نہ کروگے تو ظالم ہوجاوگے حضرت علی علیہ السلام مالک اشترکو خطاب کرتےہوئے رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی ارشادفرماتےہیں کہ :لن تقدس امۃ لایوخذ للضعیف فیھا حقہ من القوی غیرمتتعتع ۔وہ امت پاکیزہ کردارنہیں ہوسکتی جس میں کمزور کو آزادی کے ساتھ طاقتور سے اپنا حق لینے کا موقع نہ دیا جائے ۔ ۲:اقرباء پروری سے پرہیز ایک حاکم کے لیے بہت ہی خطرناک چیز یہی ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں اورقریبی ساتھیوں کو اہمیت دے اوران میں ہی عہدے تقسیم کرے چاہے ان میں لیاقت ہویا نہ ؟ اگروہ اس لائق ہیں تو اس سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے لیکن نالائق لوگوں کو عہدے دینا اس بنا پر کہ وہ حاکم کے رشتہ داراوراس کے قریبی ہیں اورانہیں میں بیت المال تقسیم کرکے دوسرے لوگوں میں فرق کرنا یہ درست نہیں ہے اورتاریخ گواہ ہے کہ جس نے بھی ایسا کیا چاہے وہ خلیفہ ہی کیوں نہ تھا لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتے دکھائی دیا اس لیے امام ایک رہبر کی ذمہ داریوں میں سے شمار کرتے ہیں کہ وہ اقرباپروری سے پرہیز کرے ۔ حضرت علی علیہ السلام کو مصقلہ بن ہبیرہ الشیبانی کی شکایت ملی کہ وہ بیت المال کو اپنے رشتہ داروں اورقریبی آدمیوں میں تقسیم کرتا ہے حضرت علی علیہ السلام نے جب یہ سنا تو بہت سخت الفاظ میں ایک خط لکھا جس میں فرماتے ہیں :انک تقسم فی ء المسلمین الذی حازتہ رماحھم وخیولھم ۔۔۔۔۔۔ولتخفن عندی میزانا۔ (مجھے خبر ملی ہے کہ )تم مسلمانوں کے مال غنیمت کو جسے ان کے نیزوں اورگھوڑوں نے جمع کیاہے اورجس کی راہ میں ان کا خون بہایا گیا ہے اپنی قوم کے ان بدوں میں تقسیم کررہے ہو جو تمھارے خیرخواہ ہیں ،قسم اس ذات کی جس نے دانہ شگافتہ کیا ہے اورجانداروں کو پیدا کیا ہے اگر یہ بات صحیح ہے تو تم میری نظروں میں انتہائی ذلیل ہوگئے اورتمہارے اعمال کا پلہ ہلکاہوجائے گا ۔ ۳:مشورت انسانی معاشروںمیں مشورت اوردوسروں کے تجربات اورافکار سے استفادہ کرنا ایک بنیادی حیثیت کی حامل چیز ہے اسی وجہ سے آج دنیا میں ہرحکمران کے ہرشعبے میں کوئی نہ کوئی مشیر ہوتا ہے اسلامی تعلیمات میں بھی مشورت کو بہت اہمیت حاصل ہے خود خاتم المرسلین کی زندگی بھی اس پر گواہ ہے مختلف جنگوں میں اصحاب سے مشورہ لینا پیغمبر اپنے لیے ضروری سمجھتے تھے اورعلی علیہ السلام مشورت کو ایک اہم پناہگاہ سمجھتے ہوئے فرماتےہیں کہ :ولامظاھرۃ اوثق من المشاورۃ مشورت سے زیادہ مضبوط کوئی پناھگاہ اورپشت پناہ نہیں ہے حضرت امام علی علیہ السلام مالک اشتر کے وظائف میں سے ایک مشورت کو شمارکرتے ہیں کہ علماء اورحکماء کے ساتھ بیٹھ کر ان سے مشورہ لے تا کہ جو چیز ملک کی مصلحت اورفائدےمیں ہے اس کو انجام دے اورحقیقت بھی یہی ہے کہ جوحکمران اپنے آپ کو مشورت سے بے نیاز سمجھتے ہیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے اورلغزشوں سے محفوظ نہیں رہ سکتے ۔امام علی علیہ االسلام عھدنامہ مالک میں بعض لوگوں کی صفات بیان کرکے مالک کو منع فرمارہے ہیں کہ ان لوگوں کے ساتھ مشورہ مت کرنا فرمایا:ولاتدخلن فی مشورتک بخیلا یعدل بک عن الفضل ویعدک الفقر،ولاجبانایضعفک عن الامور ولاحریصایزین لک الشرۃ بالجوردیکھو اپنے مشورہ میں کسی بخیل کو شامل نہ کرنا کہ وہ تم کو فضل وکرم کے راستہ سے ہٹادے گا اورفقروفاقہ کا خوف دلاتارہے گا اوراسی طرح بزدل سے مشورہ نہ کرنا کہ وہ ہرمعاملہ میں کمزور بنادے گا اورحریص سے بھی مشورہ نہ کرنا کہ وہ ظالمانہ طریقہ سے مال جمع کرنے کو بھی تمہاری نگاہوں میں آراستہ کردے گا ۔ ۴:عوام کی طرف توجہ کرنا اوران سے اچھاسلوک ایک اہم وظیفہ اورذمہ داری جو حاکم اوررہبر پر آتی ہے اورایسا موضوع ہے کہ جس پر مستقل طورپر بحث کی جاسکتی ہے اورحضرت علی علیہ السلام نے مختلف زاویوں سے اس پر بحث کی ہے مثلا ان پر ظلم نہ ہونے دینا ،ان سے رابطہ رکھنا اورنگہبانو ں کے ذریعے رکاوٹیں کھڑی نہ کرنا ،عوام سے زیادہ دنوں تک پوشیدہ نہ رہنا ،ان سے ٹیکس لیتے وقت ان کے حالات کو دیکھنا ،ان کی مشکلات کو حل کرنے کے بارے میں سوچنا ،اگر غلطی ہوجائے تو عوام سے معافی وغیرہ مانگنا وغیرہ یہ وہ اشارے ہیں کہ جن پر حضرت علی علیہ السلام نے اپنے کلام میں نہ صرف ان کے مثبت اثرات کو بیان کیا ہے وہاں ان کی طرف توجہ نہ کرنے سے جو ایک رہبر کےلیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں ان کوبھی بیان کیاہے ہم یہاں صرف اشارہ کے طورپر ذکر کرتے ہیں ۔ حضرت علی علیہ السلام برخلاف دنیوی سیاستدانوں کے جو چند اثرورسوخ والے لوگوں کو اہمیت دیتے ہیں اوراپنی ناقص عقل کے مطابق سوچتے ہیں کہ یہ حکمرانی کی کرسی ان کی وجہ سے ہے اورجب تک یہ راضی ہیں اس کی اس کرسی کو کوئی نہیں چھین سکتا امام اس غلط فہمی کو دورکرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ خاص اثرورسوخ والے لوگ سب سے زیادہ تیری حکومت کو نقصان پہنچائیں گے یہ وہ لوگ ہیں جو عدالت برقرارکرنے کے مخالف ہیں ،جتنا بھی دو اتنا ان کے لیے کم ہے ،مشکلات کے وقت سب سے پہلے متزلزل نظرآتے ہیں یہاں تک کہ عوام کی خصوصیات تک پہنچتے ہیں اورفرماتے ہیں : وانما عمادالدین ،واجماع المسلمین ،والعدۃ للاعداء،العامۃ من الامۃ ،فلیکن صغوک لھم ،ومیلک معھم دین کا ستون ،مسلمانوں کی اجتماعی طاقت ،دشمنوں کے مقابلہ میں سامان دفاع عوام الناس ہی ہوتےہیں لہذا تمھارا جھکاو انہیں کی طرف ہونا چاہیے اورتمھارا رجحان انہیں کی طرف ضروری ہے ۔ جی ہاں عوام ہی رہبر کی اصل طاقت ہے عوام کو مطمئن رکھنا ان کی ضروریات کو پوری کرنا ،ان کے مسائل کو سننا رہبر کی ترجیحات میں شامل ہونی چاہییں تاکہ ضرورت مند اورمظلوم کھلم کھلا اوربغیر ہچکچاہٹ کے اپنا مدعی بیان کرسکے ۔امام علی علیہ السلام فرماتےہیں :وتجلس لھم مجلسا عاما۔۔۔۔حتی یکلمک متکلمھم ۔(فریادیوں کی فریاداورعوام کے مسائل سننے کے لیے )ایک عمومی مجلس کا انعقاد کرو اوراس خدا کے سامنے متواضع رہو کہ جس نے تجھے پیدا کیاہے اپنے تمام نگہبان ،پولیس ،فوج ،اعوان وانصار سب کو دوربٹھا دو تاکہ بولنے والاآزادی سے بول سکے اورکسی طرح کی لکنت کا شکار نہ ہو ۔ رعایا سے محبت اورنرمی سے پیش آنا ایک رہبر کا اولین فریضہ ہونا چاہیے مولائے کائنات اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتےہیں :واشعر قلبک الرحمۃ للرعیۃ ،والمحبۃ لھم واللطف بھم ولاتکونن علیھم سبعاضاریا۔رعایا کے ساتھ مہربانی اورمحبت ورحمت کو اپنے دل کا شعار بنالواورخبر دار ان کے حق میں پھاڑکھانے والے درندے کی مثل نہ ہوجاناکہ انہیں کھا جانے ہی کو غنیمت سجھے ۔ عوام میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ جن کی بہت سی کمزوریاں بھی ہوتی ہیں یہ رہبر اورحاکم کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی کمزوریوں اوران کے عیبوں پر پردہ ڈالے امام علی علیہ السلام مالک کو مخاطب کرتےہوئے مکتوب ۵۳میں ارشاد فرماتےہیں کہ :لوگوں کے ان تمام عیبوں کی پردہ پوشی کرتے رہے کہ جن عیبوں کی پردہ پوشی کا اپنے لیے خدا سے تمنا رکھتےہو ۔ اسی طرح ایک اوراہم مورد جس کا تعلق براہ راست عوام سے ہے وہ ہے ٹیکس لینا ،اما م علی علیہ السلام اسی مورد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتےہیں کہ دیکھو ٹیکس کا تعلق زمینوں کی آباد کاری سے ہے ایک حاکم ٹیکس کا حقدار اس وقت ہوسکتا ہے جب اس نے زمینوں کی آبادکاری میں مدد کی ہو ان کی مشکلات کو دورکیا ہو جس نے زمینوں کو آباد کیے بغیر ٹیکس لینے پر اصرار کیا اس نے شہروں کو برباد کیا ۔ ۵:دنیاکو ذخیرہ نہ کرنا آج کے حکمرانوں کاطرزعمل یہ ہے کہ وہ حکمرانی یا کسی عہدے کو غنیمت شمارکرتے ہیں اوریہی سوچتے ہیں کہ انہی دنوں میں کئی سالوں کے لیے دولت جمع کرلیں لیکن حضرت علی علیہ السلام معاشرے میں فقراورغربت کے سبب کو یہی طرزعمل بتاتے ہوئے ارشادفرماتےہیں کہ :جہاں بھی غربت اورفقرآجائے نابودی بھی حتمی ہے اورغربت معاشرے میں اس وقت آتی ہے جب حکمران دولت جمع کرنے میں لگ جائیں اوراپنی کرسی کے جانے کا خوف پیدا ہوجائے ۔حضرت علی علیہ السلام مالک اشتر کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ :وانما یوتی خراب الارض من اعواز اھلھا وانما یعوز اھلھا لاشراف انفس الولاۃ علی الجمع ۔۔۔زمینوں کی بربادی اہل زمین کی تنگدستی سے پیدا ہوتی ہے اورتنگدستی کا سبب حکام کے نفس کا جمع آوری کی طرف رجحان ہوتا ہے اوران کی یہ بدظنی ہوتی ہے کہ حکومت باقی رہنے والی نہیں ہے اوروہ دوسرے لوگوں کے حالات سے عبرت حاصل نہیں کرتے ۔ ۶:وزراء کی تشویق حکومت ایک ماشین کی مانند ہے کہ جس کا ہر وزیر حکومت کی اس مشینری کو چلانے میں حصہ دار ہے اما م علی علیہ السلام کی نظر میں ایک حاکم کے لیے جو حکومت کی باگ ڈورسنبھالے ہوئے ہے ، ایک وظیفہ یہ بھی ہے کہ وزراء کی تشویق کرے جس کے دو اہم فائدے یہ ہیں ایک یہ جن وزراء کی تشویق ہوئی ہے ان کو حوصلہ ملے گا کہ ان کی محنت رایگان نہیں گئی اوردوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ دوسرے وزراء اورحکومتی اہل کار بھی دیکھیں گے تو رشک کریں گے کہ ہمیں بھی ایسا کرنا چاہیے ۔ امام علی علیہ السلام مالک اشتر کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ :وواصل فی حسن الثناء علیھم ،وتعدیدما ابلیٰ ذوو البلاء منھم ،فانّ کثرۃ الذکر لحسن افعالھم تھزالشجاع ،وتحرص الناکل ،انشاء اللہ تعالی ۔اوربرابر(جوانوں اوروزراء کے ) کارناموں کی تعریف کرتے رہنا بلکہ ان کےعظیم کارناموں کا شمار کرتے رہنا کہ ایسے کارناموں کےتذکرے بہادروں کو جوش دلاتے ہیں اورپیچھے رہ جانے والوں کو ابھارتےہیں ۔ ۷:مصاحبت کے لیے اچھے لوگوں کا انتخاب کرنا ایک اوراہم وظیفہ جو ایک رہبر اورحاکم کا بنتا ہے وہ اپنے آس پاس بیٹھے لوگوں پر توجہ ہے کیونکہ بسااوقات ایک رہبر کی شکست اوراسکی حکومت کاتختہ الٹنے کا سبب یہی لوگ بنتے ہیں لوگوں میں رہبرکی بدنامی کاسبب بھی یہی لوگ ہوتے ہیں اسی لیے رہبرکے لیے ضروری ہے کہ اس کے اردگرد کے لوگ متقی اورپرہیزگارہونے چاہییں ۔امام علی علیہ السلام مالک کو خبردارکرتے ہوئے ارشادفرمایا:والصق باھل الورع والصدق،ثم رضھم علی الایطروک ولایبححوک بباطل لم تفعلہ اپنا قریبی رابطہ اہل تقوی اوراہل صداقت رکھنا اورانہیں بھی اس امر کی تربیت دینا کہ بلاسبب تمہاری تعریف نہ کریں اورکسی ایسے بے بنیاد عمل کا غرورنہ پیدا کرائیں جو تم نے انجام نہ دیا ہو کہ زیادہ تعریف سے غرورپیدا ہوتا ہے ۔ رہبر کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اردگرد رہنے والے لوگ سب برابر نہیں ہونے چاہییں بلکہ نیک اوربد میں فرق ہونا چاہیے اس کی رفتار ،اس کے کردار وغیرہ میں یہ چیز ظاہر ہونی چاہیے امام فرماتے ہیں :ولایکونن المحسن والمسی ء عندک بمنزلۃ سواء ،فان فی ذلک تزھیدا لاھل الاحسان فی الاحسان ،وتدریبا لاھل الاساء ۃ علی الاساء ۃ !دیکھو خبردار نیک اوربدکردار تمہارے نزدیک یکساں نہیں نہ ہونےپائیں کہ اس طرح نیک کرداروں میں نیکی سے بددلی پیدا ہوگی اوربدکرداروں میں بدکرداری کا حوصلہ پیدا ہوگا ۔ باب چھارم :صالح رہبری اورقیادت کے آثاروبرکات اگرچہ اس موضوع پر سیرحاصل بحث نہیں جاسکتی البتہ صرف اس لیے کہ یہ عنوان بھی تشنہ کام نہ رہے صرف اشارہ کرتے ہیں ۔خطبہ نمبر ۴۰میں امام علی علیہ السلام خوارج کے اعتراض کے جواب میں فرماتےہیں کہ آو میں بتاوں کہ حکومت اسلامی کے آثاروبرکات کیا ہیں فرمایا: ۱:مومنین کے لیے امنیت اورآزادی کاحاصل ہونا تاکہ اپنے واجبات کو اچھے طریقے سے انجام دے سکے (یعمل فی امرتہ المومن) ۲:کافر اورمشرک لوگ بھی اپنے فائدے اٹھا سکیں گے اوران پر کوئی جبرنہیں ہوگا۔(ویستمتع فیھا الکافر) ۳:بیت المال کو ایمان داری سے جمع کیا جائے جو لوگوں کی خوشحالی اوران کی مشکلات کے کم ہونے کا سبب بنے گا (یجمع بہ الفیء ) ۴:نیک رہبر کی بدولت معاشرتی امنیت حاصل ہوگی (تامن بہ السبل ) ۵:مظلوم کا حق ایک ظالم سے فورا لے لیاجائے اورمظلوم کی فریاد کو سنا جائے گا چاہے ظالم کتنا ہی طاقتورکیوں نہ ہو (یوخذبہ للضعیف من القوی) حالانکہ دنیوی اورغیر الہی حکومتوں میں ایسا ممکن نہیں ہے ایسا تب ہوگا جب رہبر اورقائد صالح ہوگا اسی طرح عھدنامہ مالک اشتر میں اگر غورکریں تو امام نے خط کے شروع میں الہی اوراسلامی حکومت کہ جس کا رہبر صالح اورنیک ہو اس کی برکات کی طرف اشارہ کیا ہے مثلا ۱:شہروں کی آبادکاری صرف صالح اورنیک رہبری کا شاخسانہ ہے (جبایۃ خراجھا) ۲:خداکے دشمنوں سے جنگ کرنا نہ کہ ان کے آگے سر جھکانا (جھاد عدوھا ) ۳:لوگوں کی اصلاح ،اچھی تربیت اوران کے رشد کی طرف توجہ کرنا (واستصلاح اھلھا ) یہ مختصر سی تحریریقینا اس موضوع کا حق ادانہیں کرسکتی کیونکہ مطالب کے بحرعمیق نھج البلاغہ سے صرف چند سطور کا انتخاب کیاگیا ہے اگرچہ اس موضوع پرسیر حاصل بحث کرنے کےلیے ایک مستقل کتاب کی ضرورت ہے لیکن صرف اس موضوع کا تعارف کرانے کے لیے یہ مختصر تحریر لکھی گئی ہے ۔ یہ مضمون اسلامک تھاٹ کے مقالہ نوسی مقابلہ کےلیے لکھا گیا تھا نام کے ساتھ حوالہ دینا یا ویب سائٹ پر مطالعہ کےلیے رکھنا بلا مانع ہے حواله جات :۱ شیخ طوسی ،الامالی ،ج۱،ص۲۱۵،ح۳۲۸ :۲ سورہ رعد،آیت ۷ :۳ نھج البلاغہ ،خطبہ ۴۰ ۴ ترجمہ ،سید ذیشان حیدرجوادی ،ص ۹۳ ۵ نھج البلاغہ ،خطبہ ۴۰ ۶ ارسنجانی ،حسن۔حاکمیت دولتھا، ص۶۳ ۷ نھج البلاغہ ،ترجمہ ذیشان جوادی ،خطبہ ،۳،ص۴۳ ۸ ایضا ۹ نھج البلاغہ ،نامہ ۲۷ ۱۰ نھج البلاغہ ،کلمات قصار۴۶۷ ۱۱ ایضا،خطبہ ،۱۱۶ ۱۲ نهج البلاغه، ترجمہ فیض الاسلام، خ۱۳۱، ص۴۰۶ ـ ۴۰۷ ۱۳ نھج البلاغہ ،خطبہ ۱۶۴ ۱۴ ایضا، نامہ ۶۲ ۱۵ سورہ شمس ،آیت ۹اور۱۰ ۱۶ نھج البلاغہ ،نامہ ۵۳ ۱۷ نھج البلاغہ ،ترجمہ ذیشان حیدر جوادی ،نامہ ۲۷ص۵۱۳ ۱۸ ایضا ،نامہ ۵۳،ص۵۷۳ ۱۹ ایضا ،ص ۵۹۱ ۲۰ ایضا ،مکتوب ۵۶،ص ۶۰۰۔۶۰۱ ۲۱ اصول کافی ،کلینی ،ج۳،ص۱۵۳ ۲۲ ایضا ،مکتوب ۵۳،ص ۵۸۳ ۲۳ ایضا ۲۴ نھج البلاغہ ،ترجمہ دشتی ،مکتوب ۴۵،ص۳۹۳۔۳۹۴ ۲۵ نھج البلاغہ ،ترجمہ ذیشان حیدر جوادی ،خطبہ ،۲۰۹،ص۴۲۹ ۲۶ غررالحکم ،حدیث نمبر ۸۴۳۸ ۲۷ ایضا،حدیث نمبر ۵۵۷۱ ۲۸ نھج البلاغہ ،مکتوب ۵۳ ۲۹ ایضا،ترجمہ دشتی ،مکتوب ۵۳،ص۴۰۹ ۳۰ ایضا،ترجمہ ذیشان حیدرجوادی ،کلمات قصار۲۷۴ ۳۱ نھج البلاغہ ترجمہ ذیشان حیدرجوادی مکتوب ۲۶ص۵۱۱ ۳۲ نھج البلاغہ ،ترجمہ ذیشان حیدر جوادی ،مکتوب ،۵۳،ص۵۸۵ ۳۳ ایضا،ص۵۸۷ ۳۴ مجلسی ،بحارالانوار،ج۷۰،ص۹ ۳۵ نھج البلاغہ ،ترجمہ ذیشان حیدرجوادی،خطبہ ۲۰۰،ص۴۲۱ ۳۶ نھج البلاغہ ،مکتوب ۵۳ ۳۷ ایضا،ص۵۷۷ ۳۸ ایضا ،مکتوب ۵۳،ص۵۷۴ ۳۹ ایضا، ۴۰ سورہ آل عمران آیت ۱۵۹ ۴۱ نھج البلاغہ ،ترجمہ ذیشان حیدر جوادی ،کلمات قصار ۱۱۳،ص۶۷۰ ۴۲ ایضا،خطبہ ۱۹۲ ۴۳ ایضا ،کلمات قصار۱۱۳ ۴۴ ایضا ،مکتوب ۵۳ ۴۵ نھج البلاغہ ،ترجمہ ذیشان حیدر جوادی ،مکتوب ۵۳،ص۵۸۹ ۴۶ ایضا،ص۵۷۷ ۴۷ ایضا،ص۵۸۱ ۴۸ ایضا،ص۵۷۵ ۴۹ ایضا ۵۰ ایضا۔ ۵۱ نھج البلاغہ، ترجمہ ذیشان حیدر جوادی ، مکتوب ۴۳،ص۵۵۵ ۵۲ ایضا،کلمات قصار۱۱۳ ۵۳ ایضا،مکتوب ۵۳،ص۵۷۷ ۵۴ ایضا ۵۵ ایضا ،ص ۵۸۹ ۵۶ ایضا،ص۵۷۳ ۵۷ ایضا،ص۵۸۵ ۵۸ ایضا ،ص۵۸۵ ۵۹ نھج البلاغہ ،ترجمہ ذیشان حیدر جوادی ،مکتوب ۵۳ ۶۰ نھج البلاغہ ،ترجمہ ذیشان حیدرجوادی ،مکتوب نمبر۵۳،ص۵۷۷ ۶۱ ایضا ۶۲ خطبہ ۴۰،ترجمہ ذیشان حیدر جوادی ،ص۹۲ ۶۳ ایضا ۶۴ ایضا ۶۵ ایضا ۶۶ ایضا ۶۷ مکتوب ۱۵۳،ترجمہ ذیشان حیدر جوادی ،ص۵۷۲ ۶۸ ایضا ۶۹ ایضا...
Read more...