ہم عام طور پر کہتے ہیں:
“فلاں آدمی بہت غیرت مند ہے۔”
لیکن کبھی ہم نے خود سے پوچھا ہے کہ غیرت آخر ہے کیا؟
کیا غیرت یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی، بیٹی یا بہن کے ہر قدم پر شک کرے؟
ہر فون کال کا حساب مانگے؟
ہر مرد سے گفتگو کو خطرہ سمجھے؟
ہر اختلاف کو “میری غیرت” کا نام دے؟
یا غیرت کچھ اور ہے؟
اہل بیتؑ کی تعلیمات کو سامنے رکھیں تو ایک بہت خوبصورت اور متوازن تصور سامنے آتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ اور اہل بیتؑ کی تعلیمات میں غیرت ایمان اور عفت کی حفاظت سے جڑی ہوئی ہے، مگر بدگمانی، ظلم اور بے جا پابندی سے نہیں۔
امام محمد باقرؑ سے منقول ہے کہ ایک شخص میں پانچ ایسی صفات تھیں جنہیں اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں:
الْغَيْرَةَ الشَّدِيدَةَ عَلَى حَرَمِكَ، وَالسَّخَاءَ، وَحُسْنَ الْخُلُقِ، وَصِدْقَ اللِّسَانِ، وَالشَّجَاعَةَ۔
“اپنے حرم کے بارے میں شدید غیرت، سخاوت، حسنِ اخلاق، زبان کی سچائی اور شجاعت۔”
یہاں ایک لفظ بہت گہرا ہے:
الْغَيْرَةَ الشَّدِيدَةَ عَلَى حَرَمِكَ
یعنی اپنے حرم کے بارے میں شدید غیرت۔
یہاں حرم سے مراد انسان کے اہل و عیال اور وہ لوگ ہیں جن کی عزت و حرمت اس کی ذمہ داری میں ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اس غیرت کی حدود کیا ہیں؟
یہاں دوسری روایات ہماری رہنمائی کرتی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے:
مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ، وَمِنْهَا مَا يَكْرَهُ اللَّهُ۔
“غیرت کی ایک قسم وہ ہے جسے اللہ پسند کرتا ہے، اور ایک قسم وہ ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے۔”
یعنی ہر وہ رویہ جسے ہم اپنی زبان میں “غیرت” کہتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ اسلامی غیرت بھی ہو۔
امیرالمؤمنین علیؑ نے امام حسنؑ کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا:
إِيَّاكَ وَالتَّغَايُرَ فِي غَيْرِ مَوْضِعِ الْغَيْرَةِ، فَإِنَّ ذَلِكَ يَدْعُو الصَّحِيحَةَ مِنْهُنَّ إِلَى السَّقَمِ، وَالْبَرِيئَةَ إِلَى الرَّيْبِ۔
“غیرت کی جگہ کے علاوہ غیرت کرنے سے بچو؛ کیونکہ ایسی غیرت صحت مند عورت کو بھی غلطی کی طرف لے جاسکتی ہے اور بے گناہ کو بھی شک میں مبتلا کرسکتی ہے۔”
یہاں ایک بہت بڑا سبق ہے:
ہر شک، غیرت نہیں ہوتا۔
کبھی آدمی اپنے خوف کو غیرت کا نام دے دیتا ہے۔
کبھی اپنی ملکیت کے احساس کو غیرت سمجھ لیتا ہے۔
کبھی اپنی بے اعتمادی کو غیرت بنا لیتا ہے۔
اور کبھی اپنے غصے کو بھی غیرت کہہ دیتا ہے۔
حالانکہ غیرت اور غصہ ایک چیز نہیں۔
اسلامی غیرت کا مقصد حرمت کی حفاظت ہے، غصہ نکالنا نہیں۔
اسی لیے ایک اور روایت میں امیرالمؤمنینؑ سے منقول ہے:
دَلِيلُ غَيْرَةِ الرَّجُلِ عِفَّتُهُ۔
“مرد کی غیرت کی دلیل اس کی اپنی عفت ہے۔”
ذرا رک کر اس جملے کو اپنے اندر اتاریں۔
اگر ایک مرد اپنی بیوی سے حیا چاہتا ہے لیکن خود نامحرموں کو گھورتا ہے، فحش چیزیں دیکھتا ہے، ناجائز تعلقات رکھتا ہے اور پھر گھر میں غیرت کے نام پر پابندیاں لگاتا ہے تو سوال یہ ہے:
کیا یہ غیرت ہے یا اختیار کا مطالبہ؟
اہل بیتؑ ہمیں اس کا معیار دے رہے ہیں:
مرد کی غیرت کی پہلی دلیل اس کی اپنی عفت ہے۔
جس پاکیزگی کو وہ اپنے گھر میں دیکھنا چاہتا ہے، پہلے اسے اپنے اندر پیدا کرے۔
🌿 غیرت اور بدگمانی
قرآن کہتا ہے:
اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ
“بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہیں۔”
اس لیے اگر کوئی عورت ضرورت کے تحت کسی مرد سے بات کرتی ہے تو صرف اس بات سے یہ نتیجہ نکال لینا کہ “ضرور کوئی غلط تعلق ہے” اسلامی غیرت نہیں۔
اسی طرح اگر کوئی شوہر کسی عورت سے ضرورت کی گفتگو کرے تو محض گفتگو کی بنیاد پر بدکاری کا الزام لگانا بھی درست نہیں۔
غیرت حقیقت کے سامنے بیدار ہوتی ہے؛ بدگمانی اکثر خیال سے فیصلہ کر دیتی ہے۔
یہ دونوں ایک چیز نہیں۔
🌿 لیکن دوسری انتہا بھی خطرناک ہے
اگر گھر میں فحاشی داخل ہو رہی ہو، حرام تعلقات قائم ہو رہے ہوں، عفت پامال ہو رہی ہو اور انسان یہ کہہ کر خاموش ہوجائے:
“مجھے کیا؟ ہر شخص آزاد ہے۔”
تو یہ بھی اسلامی مزاج نہیں۔
اہل بیتؑ کی روایات میں ایسی بے حسی کی سخت مذمت آئی ہے۔
یعنی مسئلہ یہ نہیں کہ غیرت ہو یا نہ ہو۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ:
غیرت کس چیز پر ہو؟
کیوں ہو؟
کس حد تک ہو؟
اور اس کے بعد انسان کیا کرے؟
🌿 آج کے موبائل اور سوشل میڈیا کے زمانے میں
آج غیرت کا ایک نیا امتحان ہمارے گھروں میں داخل ہوچکا ہے۔
موبائل ہاتھ میں ہے۔
سوشل میڈیا کھلا ہے۔
نامحرم سے گفتگو ایک کلک کی دوری پر ہے۔
فحش مواد تک رسائی آسان ہے۔
ایسے میں اسلامی غیرت کا مطلب یہ نہیں کہ شوہر ہر وقت بیوی کا موبائل تلاشتا رہے، یا بیوی ہر وقت شوہر کی نگرانی کرتی رہے۔
بلکہ گھر میں ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں:
حیا قابلِ قدر ہو۔
نامحرم تعلقات کو معمول نہ سمجھا جائے۔
فحش مواد کو تفریح نہ بنایا جائے۔
مرد اپنی نگاہ کی حفاظت کرے۔
عورت اپنی عفت کی حفاظت کرے۔
دونوں ایک دوسرے کے اعتماد کا احترام کریں۔
اور اگر واقعی کوئی خطرہ سامنے آئے تو خاموش تماشائی بھی نہ بنیں۔
🌿 بچوں کی تربیت میں ہماری ایک بڑی غلطی
ہم بیٹی سے کہتے ہیں:
“پردہ کرو، لوگ دیکھ رہے ہیں۔”
لیکن بیٹے سے کبھی نہیں کہتے:
“نگاہ نیچی کرو، تم بھی کسی کی بیٹی کو دیکھ رہے ہو۔”
ہم بیٹی کو حیا سکھاتے ہیں، مگر بیٹے کو نگاہ کی حیا نہیں سکھاتے۔
یہ اسلامی غیرت نہیں۔
اسلامی غیرت کا اخلاقی معیار دونوں کے لیے ہے۔
اگر میں اپنی بیوی سے وفاداری چاہتا ہوں تو مجھے بھی وفادار ہونا ہوگا۔
اگر میں اپنی بیٹی سے حیا چاہتا ہوں تو مجھے اپنے نگاہ و کردار میں حیا پیدا کرنی ہوگی۔
اگر میں گھر میں پاکیزگی چاہتا ہوں تو مجھے خود بھی پاکیزہ ماحول کا حصہ بننا ہوگا۔
🌿 اصل آئینہ
شاید آج ہمیں یہ سوال دوسروں سے نہیں، اپنے آپ سے پوچھنے کی ضرورت ہے:
میں غیرت مند ہوں یا صرف حساس؟
میں حفاظت کرتا ہوں یا شک؟
میں اصلاح کرتا ہوں یا کنٹرول؟
میں حیا چاہتا ہوں یا صرف اپنی ملکیت محفوظ رکھنا چاہتا ہوں؟
اور سب سے بڑھ کر: جس عفت کا مطالبہ میں اپنے گھر والوں سے کرتا ہوں، کیا وہ عفت میرے اپنے کردار میں بھی موجود ہے؟
کیونکہ اہل بیتؑ نے معیار بہت صاف بتا دیا:
دَلِيلُ غَيْرَةِ الرَّجُلِ عِفَّتُهُ۔
“مرد کی غیرت کی دلیل اس کی اپنی عفت ہے۔”
🌿 آخری بات
اسلامی غیرت یہ نہیں کہ انسان اپنے گھر والوں کو اپنا “ملک” سمجھنے لگے۔
اسلامی غیرت یہ ہے کہ وہ اپنے گھر کی حرمت کو اللہ کی امانت سمجھے۔
غیرت یہ نہیں کہ:
“میں تم پر شک کرتا ہوں۔”
بلکہ:
“میں اللہ کی مقرر کردہ حرمت کو پامال ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا۔”
اور ساتھ ہی اہل بیتؑ ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ:
غیرت ہو، مگر بدگمانی نہ ہو۔
حفاظت ہو، مگر ظلم نہ ہو۔
حیا ہو، مگر تحقیر نہ ہو۔
اصلاح ہو، مگر غصے کے ساتھ نہیں۔
اعتماد ہو، مگر بے حسی کے ساتھ نہیں۔
شاید یہی وہ توازن ہے جہاں غیرت، اخلاق بن جاتی ہے؛ اور جہاں اخلاق، گھر کو محفوظ بناتا ہے۔