گداگری اور احسان: اہل بیتؑ ہمیں کیا سکھاتے ہیں؟

گداگری اور احسان: اہل بیتؑ ہمیں کیا سکھاتے ہیں؟

گداگری ہمارے معاشرے کا ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں بظاہر دو دینی تعلیمات ایک دوسرے کے مقابل دکھائی دیتی ہیں۔ ایک طرف اہل بیتؑ کی روایات ہمیں سائل کو حقیر نہ سمجھنے، اسے خالی ہاتھ نہ لوٹانے اور حتیٰ کہ اس احتمال سے بھی ڈرنے کی تعلیم دیتی ہیں کہ کہیں وہ واقعی ضرورت مند ہو اور ہم نے اسے رد کر دیا ہو۔ امام سجادؑ کی تعلیم کا خلاصہ یہی ہے کہ انسان سائل کی حقیقت کو ہمیشہ نہیں جانتا، اس لیے کسی حقیقی محتاج کو اپنی لاعلمی کی وجہ سے محروم کر دینا خطرناک ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں بھی منقول ہے کہ آپؐ سائل کو کبھی تحقیر کے ساتھ واپس نہیں کرتے تھے؛ اگر کچھ ہوتا تو عطا فرماتے، ورنہ اچھے کلمات کہتے تھے۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مانگنے والے کو نقد رقم دینا واجب ہے یا گداگری کو معاشرتی پیشہ بنا دینا اہل بیتؑ کی تعلیم ہے۔ خود اہل بیتؑ نے بلا ضرورت سوال کرنے، اپنی ضرورت کا جھوٹا اظہار کرنے اور دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی مذمت کی ہے۔ موجودہ فقہی فتاویٰ بھی اسی توازن کو برقرار رکھتے ہیں: مثلاً آیت اللہ سیستانی کے مطابق سائل کو رد کرنا مکروہ ہے، اگرچہ اس کے غنی ہونے کا گمان ہو، اور معمولی چیز بھی دی جا سکتی ہے؛ جبکہ بلا ضرورت حاجت ظاہر کرنا حرام قرار دیا گیا ہے۔

لہٰذا اہل بیتؑ کی تعلیم کا خلاصہ نہ “ہر بھکاری کو پیسے دو” ہے اور نہ “ہر بھکاری جھوٹا ہے، اسے کچھ نہ دو”۔

اصل راستہ یہ ہے:

سائل کی عزت بچاؤ، حقیقی ضرورت پوری کرو، مگر گداگری کے پیشے کو تقویت نہ دو۔

اگر ہمیں معلوم نہیں کہ سامنے والا واقعی محتاج ہے یا پیشہ ور بھکاری، تو اسے ذلیل کرنے یا جھوٹا قرار دینے کی ضرورت نہیں۔ لیکن نقد رقم دینا بھی ضروری نہیں۔ بھوکا ہے تو کھانا دیا جا سکتا ہے، بیمار ہے تو دوا یا علاج کی طرف متوجہ کیا جا سکتا ہے، سفر میں ہے تو سفر کی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے، بچے کے لیے دودھ یا خوراک دی جا سکتی ہے۔ یوں اگر وہ حقیقی محتاج ہے تو اس کی ضرورت پوری ہو گئی، اور اگر وہ پیشہ ور گداگر ہے تو کم از کم ہماری رقم اس کے گداگری کے کاروبار کو تقویت نہیں دے گی۔

اس سے ایک اور بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے: اہل بیتؑ کا مطلوب صرف یہ نہیں کہ ہم محتاج کو آج پانچ سو روپے دے دیں؛ مطلوب یہ ہے کہ انسان کی عزتِ نفس بحال ہو اور اسے مسلسل مانگنے سے نجات ملے۔ اسی لیے احسان کا اعلیٰ درجہ “مواسات” ہے؛ یعنی انسان کے دکھ اور ضرورت میں اس کے ساتھ کھڑا ہونا۔  یہی مضمون امام علیؑ سے بھی منقول ہے کہ بہترین احسان، بھائیوں کے ساتھ مواسات ہے۔

چنانچہ حقیقی مستحق کے لیے راشن، علاج، تعلیم، کرایہ، روزگار، چھوٹا کاروبار یا مستقل کفالت نقد صدقے سے کہیں زیادہ مؤثر ہو سکتے ہیں۔ مدد کا آخری مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ شخص ہمیشہ ہمارا محتاج رہے؛ بلکہ مقصد یہ ہو کہ وہ ایک دن کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے آزاد ہو جائے۔

پاکستان جیسے معاشرے میں اس مسئلے کا حل صرف فرد کے فیصلے سے نہیں نکل سکتا۔ ہمیں “نظامِ احسان و کفالت” بنانا ہوگا: مساجد، امام بارگاہیں، مدارس، فلاحی ادارے اور اہل خیر مل کر مستحق خاندانوں کی شناخت کریں، ان کی حقیقی ضرورت معلوم کریں، ہنگامی امداد دیں، مستقل کفالت کریں اور جہاں ممکن ہو روزگار فراہم کریں۔ اس طرح سڑک پر موجود ہر سائل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا بوجھ عام آدمی پر نہیں رہے گا۔

اس نظام میں ایک نہایت خوبصورت اصول ہو سکتا ہے:

سڑک پر سائل کو ذلیل نہ کرو؛ لیکن اپنی خیرات کو ایسے نظام سے جوڑو جو انسان کو سڑک سے اٹھا کر عزت اور خودکفالت تک پہنچائے۔

اور اگر کسی شخص کے بارے میں واضح ہو جائے کہ وہ جھوٹ، فریب، بچوں کے استحصال یا منظم پیشہ ورانہ گداگری کے ذریعے لوگوں سے پیسے حاصل کر رہا ہے تو اسے نقد رقم دینا احسان نہیں بلکہ ممکن ہے کہ اس غلط نظام کو زندہ رکھنے میں مدد بن جائے۔ ایسے شخص کو معتبر فلاحی نظام کی طرف متوجہ کرنا زیادہ حکیمانہ ہے۔

یوں اہل بیتؑ کی تعلیمات ہمیں رحم بھی سکھاتی ہیں اور حکمت بھی؛ سخاوت بھی سکھاتی ہیں اور عزتِ نفس بھی؛ فرد کی مدد بھی سکھاتی ہیں اور معاشرے کی اصلاح بھی۔

مسئلہ بھکاری کو ختم کرنا نہیں؛ مسئلہ بھیک کی ضرورت کو ختم کرنا ہے۔
اور شاید پورے مسئلے کا خلاصہ یہی ایک جملہ ہے:

سائل کو خالی ہاتھ نہ لوٹاؤ، لیکن اسے ہمیشہ سائل رہنے پر بھی مجبور نہ رہنے دو ۔

حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا تصور عباس خان سرگانی
پرنسپل امام رضا کمپلیکس ضلع لیہ