آج کی حدیث : دعا کی قبولیت

آج کی حدیث : دعا کی قبولیت

علی بن ابراہیم، عن ابیہ، عن عثمان بن عیسیٰ، عمن حدثہ، عن ابی عبد اللہؑ۔ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عِيسَى، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ:قُلْتُ: آيَتَانِ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَطْلُبُهُمَا فَلَا أَجِدُهُمَا.
قَالَ: وَمَا هُمَا؟
قُلْتُ: قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ:
﴿ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾
فَنَدْعُوهُ وَلَا نَرَى إِجَابَةً.
قَالَ: أَفَتَرَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَخْلَفَ وَعْدَهُ؟
قُلْتُ: لَا.
قَالَ: فَمِنْ أَيْنَ ذَلِكَ؟
قُلْتُ: لَا أَدْرِي.
قَالَ: لَكِنِّي أُخْبِرُكَ: مَنْ أَطَاعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَا أَمَرَهُ، ثُمَّ دَعَاهُ مِنْ جِهَةِ الدُّعَاءِ أَجَابَهُ.
قُلْتُ: وَمَا جِهَةُ الدُّعَاءِ؟
قَالَ:
تَبْدَأُ فَتَحْمَدُ اللَّهَ، وَتَذْكُرُ نِعَمَهُ عِنْدَكَ، ثُمَّ تَشْكُرُهُ، ثُمَّ تُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ، ثُمَّ تَذْكُرُ ذُنُوبَكَ فَتُقِرُّ بِهَا، ثُمَّ تَسْتَعِيذُ مِنْهَا، فَهَذِهِ جِهَةُ الدُّعَاءِ.
ثُمَّ قَالَ: وَمَا الْآيَةُ الْأُخْرَى؟
قُلْتُ: قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ:
﴿وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾
وَإِنِّي أُنْفِقُ وَلَا أَرَى خَلَفًا.
قَالَ: أَفَتَرَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَخْلَفَ وَعْدَهُ؟
قُلْتُ: لَا.
قَالَ: فَمِنْ أَيْنَ ذَلِكَ؟
قُلْتُ: لَا أَدْرِي.
قَالَ:
لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ اكْتَسَبَ الْمَالَ مِنْ حِلِّهِ، وَأَنْفَقَهُ فِي حِلِّهِ، لَمْ يُنْفِقْ دِرْهَمًا إِلَّا أَخْلَفَ عَلَيْهِ.

امام صادقؑ نے فرمایا:
میں نے عرض کیا: کتابِ خدا میں دو آیتیں ایسی ہیں جنہیں میں تلاش کرتا ہوں لیکن ان کا مطلب سمجھ نہیں پاتا۔
امامؑ نے فرمایا: وہ دونوں آیتیں کون سی ہیں؟
میں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾
’’مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔‘‘
ہم خدا سے دعا کرتے ہیں، لیکن ہمیں اس کی قبولیت دکھائی نہیں دیتی۔
امامؑ نے فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ عزوجل نے اپنے وعدے کے خلاف کیا ہے؟
میں نے عرض کیا: نہیں۔
فرمایا: پھر یہ صورت کیوں پیش آتی ہے؟
میں نے عرض کیا: مجھے معلوم نہیں۔
امام صادقؑ نے فرمایا:
’’لیکن میں تمہیں اس کا راز بتاتا ہوں: جو شخص اللہ عزوجل کی ان چیزوں میں اطاعت کرے جن کا اس نے حکم دیا ہے، پھر اللہ سے صحیح طریقۂ دعا کے مطابق دعا کرے تو اللہ اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔‘‘
میں نے عرض کیا: صحیح طریقۂ دعا کیا ہے؟
امامؑ نے فرمایا:
’’تم پہلے اللہ کی حمد کرو، پھر اس کی ان نعمتوں کو یاد کرو جو اس نے تمہیں عطا کی ہیں، پھر اس کا شکر ادا کرو۔ اس کے بعد نبی اکرمؐ پر درود بھیجو۔ پھر اپنے گناہوں کو یاد کرو اور ان کا اقرار کرو، پھر ان گناہوں سے اللہ کی پناہ مانگو۔ یہی دعا کا طریقہ ہے۔‘‘
پھر امامؑ نے فرمایا:
’’اور دوسری آیت کون سی ہے؟‘‘
میں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:
﴿وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾
’’اور تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے، وہ اس کا عوض عطا کرے گا، اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔‘‘
میں خرچ کرتا ہوں لیکن مجھے اس کا عوض نظر نہیں آتا۔
امامؑ نے فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ عزوجل نے اپنے وعدے کے خلاف کیا ہے؟
میں نے عرض کیا: نہیں۔
فرمایا: پھر یہ کیوں ہوتا ہے؟
میں نے عرض کیا: مجھے معلوم نہیں۔
امام صادقؑ نے فرمایا:
’’اگر تم میں سے کوئی شخص مال حلال طریقے سے کمائے اور اسے حلال طریقے میں خرچ کرے تو وہ ایک درہم بھی خرچ نہیں کرے گا مگر اللہ اس کا عوض اسے عطا فرمائے گا۔‘‘
اصول الکافی، ج 2، ص 486

 

پیشکش: مولانا تصورعباس خان سرگانی ، پرنسپل امام رضا کمپلیکس چوک اعظم