ڈکیت یا محارب؟ قرآن کا فیصلہ کیا ہے؟

ڈکیت یا محارب؟ قرآن کا فیصلہ کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں امن وہ نعمت ہے جس کے بغیر باقی سب بے معنی ہو جاتی ہیں۔ جس معاشرے سے امن اٹھ جائے، وہاں نہ دولت سکون دیتی ہے، نہ گھر اطمینان، نہ راستے محفوظ رہتے ہیں۔ اسی لیے اسلام نے عبادت کے ساتھ ایسا معاشرہ قائم کرنے کی تعلیم دی جہاں ہر انسان کی جان، مال اور عزت محفوظ ہو۔

آج جب ہم اپنے پاکستان میں معاشرے پر نظر ڈالتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ روزانہ ایسی ویڈیوز سامنے آتی ہیں جن میں چند مسلح نوجوان پل بھر میں کسی باپ کی عمر بھر کی کمائی چھین لیتے ہیں، کسی ماں کی عزت و وقار کو پامال کر دیتے ہیں، کسی بچی کے ہاتھ سے موبائل ہی نہیں بلکہ احساسِ تحفظ بھی چھین لیتے ہیں۔ لوگ گھروں سے نکلتے ہیں، مگر واپسی تک ان کے اہلِ خانہ کی دعائیں ختم نہیں ہوتیں۔

یہ صرف ڈکیتی نہیں…

یہ پورے معاشرے کے دل میں خوف بسانے کا جرم ہے۔

اسی لیے قرآن کریم نے ایسے مجرم کو محض “چور” نہیں کہا، بلکہ فرمایا کہ جو لوگ اسلحہ کے زور پر زمین میں فساد پھیلاتے اور لوگوں کا امن چھین لیتے ہیں، وہ گویا اللہ اور اس کے رسولؐ کے قائم کردہ نظامِ امن کے خلاف جنگ کرتے ہیں۔

فقہِ اہلِ بیت علیہم السلام میں بھی جو شخص اسلحہ اٹھا کر لوگوں کو خوف زدہ کرے، ان کی جان، مال یا عزت کو خطرے میں ڈالے اور معاشرے کا امن سلب کرے، وہ محارب کے عنوان میں آ سکتا ہے۔

مکتبِ اہلِ بیتؑ کی روایات میں محاربہ ایک مستقل اور سنگین شرعی جرم ہے۔ امام صادقؑ نے اس کی مختلف صورتوں—قتل، مال لوٹنے یا محض خوف و ہراس پھیلانے—کے الگ احکام بیان فرمائے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ محاربہ محض چوری نہیں، بلکہ امنِ عامہ کو مسلح انداز میں نشانہ بنانے کا جرم ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس جرم کو معمولی جرم نہیں سمجھا، بلکہ اس کے لیے سخت ترین سزائیں مقرر کیں؛ انتقام کے لیے نہیں، بلکہ بے گناہ انسانوں کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کے لیے۔

اسلام مجرم پر سختی سے پہلے مظلوم پر رحم کرتا ہے۔

وہ اس ماں کے آنسو دیکھتا ہے جس کا بیٹا قتل ہوا۔

وہ اس مزدور کی سسکیاں سنتا ہے جس کی کئی مہینوں کی کمائی چند لمحوں میں چھین لی گئی۔

وہ اس بچی کا خوف محسوس کرتا ہے جو ایک ڈکیتی کے بعد برسوں سڑک پر اطمینان سے چل نہیں پاتی۔

اسلام جانتا ہے کہ جب مجرم کو سزا نہیں ملتی تو خوف صرف ایک گھر میں نہیں رہتا، پورے معاشرے میں پھیل جاتا ہے۔

امن صرف عدالتوں کا مسئلہ نہیں، قوم کی اخلاقی تربیت کا بھی مسئلہ ہے۔

اور امن صرف حکومت کی طاقت سے قائم نہیں ہوتا، بلکہ اللہ کے قانون کی عظمت، انصاف کے نفاذ اور جرم کے خلاف بے لاگ اقدام سے قائم ہوتا ہے۔

اس موقع پر حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ اور تمام متعلقہ ریاستی ذمہ داران سے یہی امید ہے کہ عوام کے جان، مال اور عزت کے تحفظ کو اولین ترجیحات میں شامل کیا جائے گا اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور مؤثر کارروائی کی جائے گی ۔ کیونکہ جب ریاست انصاف، تحفظ اور امن کی ضمانت دیتی ہے تو قوم کا اعتماد بھی مضبوط ہوتا ہے اور معاشرہ ترقی و استحکام کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔

مولانا تصور عباس خان ۔پرنسپل امام رضا کمپلیکس چوک اعظم