دنیا کی تاریخ میں حکومت کرنے کے بہت سے طریقے دیکھے گئے ہیں۔
کسی نے تلوار کے زور پر حکومت کی، کسی نے خوف کے ذریعے، کسی نے بھوک اور محتاجی کو اپنا ہتھیار بنایا، کسی نے لوگوں کو جہالت میں رکھا تاکہ وہ سوال نہ کریں، اور کسی نے اطلاعات اور پروپیگنڈے کے ذریعے ذہنوں کو قید کیا۔
ایسی حکومتیں بظاہر مضبوط دکھائی دیتی ہیں، لیکن حقیقت میں وہ اندر سے کمزور ہوتی ہیں؛ کیونکہ جس حکومت کو قائم رکھنے کے لیے مسلسل خوف پیدا کرنا پڑے، وہ عوام کے دلوں میں جگہ نہیں بنا سکی۔
طاقت سے لوگوں کو خاموش کرایا جا سکتا ہے، لیکن مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔
خوف سے اطاعت حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن وفاداری نہیں۔
بھوک سے انسان کو مجبور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے دل کو اپنا نہیں بنایا جا سکتا۔
اصل حکمرانی یہ ہے کہ انسان کو علم دیا جائے، شعور دیا جائے، اس کے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا کیا جائے، اسے اپنے حقوق اور فرائض کا شعور دیا جائے، اور اسے ایسا شہری بنایا جائے جو اپنے ملک کی ترقی کو اپنا ذاتی فرض سمجھے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اسلامی تصورِ حکومت دنیا کے عام اقتداری تصور سے بلند ہوجاتا ہے۔
اسلام انسان کو صرف حاکم کی رعایا نہیں بناتا؛
اسے اللہ کا ذمہ دار بندہ بناتا ہے۔
قرآن کا پہلا پیغام: انسان کو علم دو
قرآن مجید میں جب بعثتِ رسول اکرم ﷺ کا مقصد بیان ہوتا ہے تو علم و تعلیم بنیادی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں:
هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ
یعنی اللہ نے لوگوں میں ایک رسول بھیجا جو انہیں اللہ کی آیات سناتا ہے، ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔
غور کیجیے!
نبوت کا کام صرف لوگوں سے اطاعت کروانا نہیں۔
نبوت کا کام انسان بنانا ہے۔
قرآن نے رسول اللہ ﷺ کے مشن میں تعلیم، حکمت اور تزکیہ کو بنیادی حیثیت دی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ ایسا معاشرہ نہیں جس میں عوام کو صرف حکم دیا جائے اور وہ حکم مانتے رہیں۔
اسلام چاہتا ہے کہ عوام سمجھیں، جانیں، پہچانیں، سوچیں اور پھر حق کے ساتھ کھڑے ہوں۔
قرآن جہالت کو غلامی کی بنیاد سمجھتا ہے
قرآن بار بار انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے:
أَفَلَا تَعْقِلُونَ؟
کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟
أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ؟
کیا تم غور نہیں کرتے؟
قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
کہہ دیجیے: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں؟
یہ سوال صرف مدرسے کے طالب علم کے بارے میں نہیں ہے۔
یہ پورے معاشرے کا سوال ہے۔
جس قوم کو سوچنا نہیں سکھایا جاتا، اسے چلانا آسان ہوتا ہے؛
لیکن جس قوم کو سوچنا سکھا دیا جائے، اسے ترقی سے روکنا مشکل ہوجاتا ہے۔
اسی لیے قرآن کا انسان اندھی تقلید کرنے والا انسان نہیں۔
قرآن کہتا ہے:
فَبَشِّرْ عِبَادِ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ
میرے بندوں کو خوشخبری دے دیجیے؛ جو بات کو سنتے ہیں اور پھر اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔
یہ ایک باشعور انسان کی تربیت ہے۔
علم حکومت کے خلاف نہیں؛ مضبوط حکومت کی بنیاد ہے
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر عوام کو علم اور شعور دے دیا جائے تو کیا وہ حکومت کے خلاف نہیں کھڑے ہوجائیں گے؟
اسلامی جواب یہ ہے:
اگر حکومت عادل ہے تو باشعور عوام اس کی سب سے بڑی طاقت بنیں گے۔
کیونکہ باشعور انسان کو ہر وقت ڈنڈے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
وہ قانون اس لیے مانتا ہے کہ اسے قانون کی ضرورت سمجھ آتی ہے۔
وہ ٹیکس اس لیے دیتا ہے کہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ریاستی نظام کے لیے اجتماعی ذمہ داری ضروری ہے۔
وہ ملک کے لیے قربانی اس لیے دیتا ہے کہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ملک صرف حکمرانوں کا نہیں، اس کا بھی ہے۔
وہ دشمن کے پروپیگنڈے کا شکار نہیں ہوتا کیونکہ اس کے پاس شعور ہوتا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر:
وہ اچھے حکمران کا ساتھ اس لیے دیتا ہے کہ وہ اچھائی کو پہچانتا ہے۔
یہ حکومت کے لیے خطرہ نہیں؛ حکومت کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔
خوف زدہ رعایا اور باشعور قوم میں فرق
خوف زدہ رعایا کہتی ہے:
“حکم کیا ہے؟”
باشعور قوم پوچھتی ہے:
“ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیوں کرنا چاہیے؟”
خوف زدہ رعایا حکمران کے جانے کا انتظار کرتی ہے۔
باشعور قوم ریاست کے مستقبل کی فکر کرتی ہے۔
خوف زدہ انسان موقع ملتے ہی نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
باشعور انسان نظام کی اصلاح کرتا ہے۔
اس لیے حکمران کے لیے سب سے خطرناک عوام وہ نہیں جو سوال کرتے ہیں؛ سب سے خطرناک عوام وہ ہیں جو نہ سمجھتے ہیں، نہ سوچتے ہیں، نہ ذمہ داری محسوس کرتے ہیں۔
کیونکہ ایسی قوم کو آج ایک شخص استعمال کرے گا، کل دوسرا۔
بھوک بھی ایک سیاسی ہتھیار بن سکتی ہے
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بعض حکمرانوں نے عوام کی معاشی کمزوری کو اپنے اقتدار کے لیے استعمال کیا۔
محتاج انسان اکثر مجبور ہوتا ہے۔
لیکن اسلام کا معاشی تصور یہ نہیں کہ عوام کو محتاج رکھا جائے تاکہ وہ حکمران کے سامنے جھکے رہیں۔
قرآن کہتا ہے:
كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ
تاکہ مال صرف تمہارے مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔
یہ صرف اقتصادی اصول نہیں؛ یہ سیاسی حکمت بھی ہے۔
کیونکہ جس معاشرے میں چند ہاتھوں میں دولت جمع ہوجائے اور اکثریت بنیادی ضروریات کے لیے محتاج ہوجائے، وہاں انسان کی آزادی بھی کمزور ہوجاتی ہے۔
اسلام بھوکے انسان کو صرف روٹی نہیں دینا چاہتا؛
اسے عزت، اختیار، علم اور شخصیت بھی دینا چاہتا ہے۔
علم دینے والا حکمران اپنا اقتدار کم نہیں کرتا، مضبوط کرتا ہے
یہاں ایک نہایت اہم حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے:
حکمران کے لیے عوام کو علم دینا بظاہر اپنے اختیار کو تقسیم کرنا محسوس ہوسکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ اختیار کو مستحکم کرتا ہے۔
کیونکہ:
جاہل عوام کو پولیس چاہیے۔
باشعور عوام کو قانون کافی ہوتا ہے۔
خوف زدہ معاشرے کو نگرانی چاہیے۔
ذمہ دار معاشرے کو اعتماد کافی ہوتا ہے۔
محتاج عوام کو خیرات چاہیے۔
بااختیار عوام کو مواقع چاہیے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست ترقی کرتی ہے۔
علم یافتہ شہری بہتر ڈاکٹر بنتا ہے، بہتر استاد بنتا ہے، بہتر تاجر بنتا ہے، بہتر کسان بنتا ہے، بہتر فوجی بنتا ہے، بہتر صحافی بنتا ہے، بہتر جج بنتا ہے اور بہتر سیاست دان بھی۔
یعنی:
عوام کی علمی ترقی دراصل ریاست کی اجتماعی ذہانت میں اضافہ ہے۔
حکمران کا سب سے بڑا اثاثہ خزانہ نہیں، انسان ہے
ریاست کے پاس تیل ہوسکتا ہے، سونا ہوسکتا ہے، زمینیں ہوسکتی ہیں، بندرگاہیں ہوسکتی ہیں، معدنیات ہوسکتی ہیں۔
لیکن اگر انسان کمزور، غیر تعلیم یافتہ، غیر ذمہ دار اور بے شعور ہو تو یہ سب وسائل بھی قوم کو عظیم نہیں بنا سکتے۔
اور اگر انسان باعلم، باکردار، محنتی، ذمہ دار اور باشعور ہو تو محدود وسائل کے باوجود قوم ترقی کرسکتی ہے۔
اسی لیے حقیقی ریاست سازی دراصل انسان سازی ہے۔
اور انسان سازی کا آغاز علم سے ہوتا ہے۔
پھر امام علیؑ کی طرف آئیے
یہاں اسلامی تصورِ حکومت اپنی بلند ترین عملی مثال ہمیں امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ کی حکومت میں دکھاتا ہے۔
امام علیؑ کے نزدیک حکومت کوئی ذاتی ملکیت نہیں تھی۔
نہ اقتدار ان کے لیے ذاتی عزت کا ذریعہ تھا، نہ عوام ان کے غلام تھے۔
حکومت ایک امانت، ذمہ داری اور امتحان تھی۔
اسی لیے جب امام علیؑ مالک اشتر کو مصر کا گورنر بنا کر بھیجتے ہیں تو وہ حکومت کا ایسا منشور عطا کرتے ہیں جس میں رعایا کے ساتھ تعلق، عدل، معاش، علم، اخلاق، انتظام اور انسانی کرامت سب شامل ہیں۔
یہاں حکمران کو یہ نہیں کہا گیا کہ:
“لوگوں کو اپنے سے ڈراؤ۔”
بلکہ حکمران کو انسانوں کے ساتھ انسان کی حیثیت سے پیش آنے کی تعلیم دی گئی۔
امیرالمؤمنینؑ فرماتے ہیں:
وَأَشْعِرْ قَلْبَكَ الرَّحْمَةَ لِلرَّعِيَّةِ وَالْمَحَبَّةَ لَهُمْ وَاللُّطْفَ بِهِمْ
اپنے دل کو رعایا کے لیے رحمت، محبت اور لطف سے بھر دو۔
یہ جملہ صرف اخلاقی نصیحت نہیں۔
یہ حکومت کا فلسفہ ہے۔
کیونکہ جس حکمران کے دل میں عوام کے لیے محبت نہیں، وہ عوام کو وسائل، اعداد و شمار اور فائلوں کے طور پر دیکھتا ہے۔
لیکن علیؑ کا حکمران عوام کو انسان سمجھتا ہے۔
اور پھر امامؑ ایک تاریخی اصول بیان کرتے ہیں:
فَإِنَّهُمْ صِنْفَانِ: إِمَّا أَخٌ لَكَ فِي الدِّينِ، أَوْ نَظِيرٌ لَكَ فِي الْخَلْقِ
لوگ دو قسم کے ہیں: یا دین میں تمہارے بھائی ہیں، یا خلقت میں تمہارے جیسے ہیں۔
یہ ہے حکومتِ علوی!
یہاں عوام “قابلِ استعمال ہجوم” نہیں۔
یہاں رعایا انسان ہے۔
اور جس حکومت کے مرکز میں انسان ہو، وہاں علم، شعور، عزت اور عدل بنیادی ضرورت بن جاتے ہیں۔
نتیجہ
لہٰذا یہ فرضیہ محض سیاسی تصور نہیں بلکہ قرآن اور تعلیماتِ اہل بیتؑ سے نکلنے والا ایک گہرا اصول ہے:
طاقت حکومت کو قائم کرسکتی ہے،
لیکن علم حکومت کو معتبر بناتا ہے۔
خوف خاموشی پیدا کرسکتا ہے،
لیکن شعور وفاداری پیدا کرتا ہے۔
بھوک انسان کو مجبور کرسکتی ہے،
لیکن خوشحال اور باعزت انسان ریاست کو اپنا سمجھتا ہے۔
اور سب سے بڑی بات:
جس حکمران نے اپنی قوم کو علم دیا، اس نے اپنے اقتدار کے نیچے زمین نہیں کھودی؛ اس نے اپنے اقتدار کے نیچے بنیاد مضبوط کی۔
کیونکہ علم رکھنے والا شہری حکمران کا دشمن نہیں ہوتا۔
وہ حکمران کا شریکِ تعمیر ہوتا ہے۔
اور یہی حکومتِ علوی کا اگلا باب ہمیں سمجھاتا ہے:
علیؑ نے حکومت کو لوگوں پر حکومت کرنے کا نام نہیں دیا؛
علیؑ نے حکومت کو لوگوں کے حقوق ادا کرنے کی ذمہ داری سمجھا۔
یہیں سے ہم دوسرے مرحلے میں داخل ہوتے ہیں:
امیرالمؤمنینؑ نے عملی حکومت میں علم، شعور، عدل، معاش، آزادیِ فکر، عوامی حقوق اور حکمران کی جواب دہی کو کس طرح جوڑا؟
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں نظریہ، منشورِ حکومتِ علوی بن جاتا ہے۔
حکومتِ علیؑ: رعایا کو باشعور بناؤ، ریاست کو مضبوط کرو
اگر پہلے مرحلے میں ہم نے یہ سمجھا کہ قرآن انسان کو علم، عقل، فکر اور شعور دینے کا مطالبہ کرتا ہے، تو اب سوال یہ ہے:
کیا یہ صرف ایک نظریہ ہے؟
کیا تاریخ میں ایسی حکومت گزری ہے جس نے طاقت کے بجائے عدل، خوف کے بجائے اعتماد، جہالت کے بجائے علم اور غلامی کے بجائے انسانی کرامت کو حکومت کی بنیاد بنایا؟
ہاں!
وہ حکومت علی ابن ابی طالبؑ کی حکومت ہے۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی علیؑ کی حکومت کا منشور آج کے حکمرانوں کے لیے زندہ سوال ہے۔
علیؑ کے نزدیک حکومت کیا تھی؟
امیرالمؤمنینؑ کے نزدیک حکومت کسی شخص کی ذاتی جاگیر نہیں تھی۔
اقتدار کوئی تاج نہیں تھا جسے سر پر رکھ کر انسان دوسروں سے بلند ہوجائے۔
اقتدار ایک امانت تھا۔
اسی لیے امام علیؑ نے مالک اشتر کو جب مصر کا حاکم بنا کر بھیجا تو انہیں یہ نہیں کہا کہ:
“اپنی طاقت منواؤ!”
بلکہ فرمایا:
وَأَشْعِرْ قَلْبَكَ الرَّحْمَةَ لِلرَّعِيَّةِ وَالْمَحَبَّةَ لَهُمْ وَاللُّطْفَ بِهِمْ
اپنے دل کو رعایا کے لیے رحمت، محبت اور لطف سے معمور کرو۔
یہاں ذرا رک کر سوچیے!
دنیا کے سیاسی نظاموں میں اکثر سوال یہ ہوتا ہے:
“عوام حکمران کے لیے کیا کریں؟“
علیؑ کے منشور میں سوال بدل جاتا ہے:
“حکمران عوام کے لیے کیا کرے؟“
یہی انقلابِ فکر ہے۔
عوام رعایا نہیں، انسان ہیں
امام علیؑ نے مالک اشتر کو حکومت کا سب سے بنیادی انسانی اصول بتایا:
فَإِنَّهُمْ صِنْفَانِ: إِمَّا أَخٌ لَكَ فِي الدِّينِ، أَوْ نَظِيرٌ لَكَ فِي الْخَلْقِ
“لوگ دو قسم کے ہیں: یا دین میں تمہارے بھائی ہیں یا خلقت میں تمہارے جیسے۔”
یہ ایک جملہ نہیں؛
یہ پوری انسانی سیاست کا منشور ہے۔
اس جملے میں علیؑ نے حکمران اور عوام کے درمیان موجود نفسیاتی فاصلے کو ختم کردیا۔
عوام کوئی “ہجوم” نہیں۔
کوئی “ووٹ بینک” نہیں۔
کوئی “ٹیکس دینے والی مشین” نہیں۔
کوئی “حکمران کی طاقت کا ذریعہ” نہیں۔
وہ انسان ہیں۔
اور انسان ہونے کی وجہ سے ان کی عزت ہے۔
علم سے ڈرنے والا حکمران علیؑ کا حکمران نہیں
یہاں ہمارے اصل موضوع کی طرف آئیے۔
اگر حکمران عوام کو علم دے گا تو وہ سوال کریں گے۔
اگر شعور دے گا تو وہ احتساب کریں گے۔
اگر تعلیم دے گا تو وہ اپنے حقوق جانیں گے۔
پھر کیا حکمران کا اقتدار کمزور نہیں ہوگا؟
علیؑ کا جواب ہے: نہیں!
کیونکہ علیؑ کا حکمران عوام کے سوال سے نہیں ڈرتا۔
وہ ظلم سے ڈرتا ہے۔
وہ حق سے ڈرتا ہے۔
وہ خدا کے سامنے جواب دہی سے ڈرتا ہے۔
اسی لیے امام علیؑ نے اپنے گورنروں کو ایسی رعایا نہیں چاہی جو صرف “جی حضور” کہے۔
بلکہ ایسا معاشرہ چاہا جس میں حق بات کہنے کی گنجائش ہو۔
“مجھ سے وہ بات نہ کہو جو جابروں سے کہی جاتی ہے”
امیرالمؤمنینؑ کا ایک نہایت عظیم ارشاد نہج البلاغہ میں ہے:
فَلَا تُكَلِّمُونِي بِمَا تُكَلَّمُ بِهِ الْجَبَابِرَةُ، وَلَا تَتَحَفَّظُوا مِنِّي بِمَا يُتَحَفَّظُ بِهِ عِنْدَ أَهْلِ الْبَادِرَةِ
“مجھ سے وہ باتیں نہ کرو جو جابروں سے کی جاتی ہیں، اور مجھ سے اس طرح نہ ڈرو جیسے تندخو لوگوں سے ڈرا جاتا ہے۔”
یہ علیؑ کی حکومت کا حیرت انگیز پہلو ہے۔
آج بھی بعض معاشروں میں حکمران کے سامنے لوگ بولنے سے پہلے سوچتے ہیں:
“کہیں ناراض نہ ہوجائے!”
علیؑ فرماتے ہیں:
مجھ سے مت ڈرو۔
کیوں؟
کیونکہ علیؑ کو اپنی طاقت پر اعتماد نہیں تھا؟
نہیں!
علیؑ کو عدل پر اعتماد تھا۔
حکمران کو تنقید سے فائدہ اٹھانا چاہیے
امام علیؑ اسی خطبے میں فرماتے ہیں:
فَلَا تَكُفُّوا عَنْ مَقَالَةٍ بِحَقٍّ أَوْ مَشُورَةٍ بِعَدْلٍ
“حق بات کہنے یا عدل پر مبنی مشورہ دینے سے باز نہ رہو۔”
یہ جملہ ہمارے موضوع کا دل ہے۔
غور کیجیے:
علیؑ عوام سے کیا مانگ رہے ہیں؟
خاموشی؟
نہیں۔
چاپلوسی؟
نہیں۔
اندھی اطاعت؟
نہیں۔
وہ کہتے ہیں:
حق بات کہو۔
عدل کا مشورہ دو۔
یہی باشعور معاشرہ ہے۔
کیوں؟
کیونکہ حکمران بھی انسان ہے۔
وہ ہر چیز نہیں دیکھ سکتا۔
وہ ہر جگہ نہیں پہنچ سکتا۔
اس کے اردگرد موجود لوگ اسے غلط معلومات دے سکتے ہیں۔
اس کے وزراء غلط فیصلے کرسکتے ہیں۔
اس کے افسران بدعنوان ہوسکتے ہیں۔
اس کے ماتحت عوام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اگر عوام خوف کے باعث خاموش ہوجائیں تو حکمران کو حقیقت معلوم ہی نہیں ہوگی۔
لہٰذا:
آزادانہ حق گوئی حکمران کے خلاف ہتھیار نہیں؛ حکمران کے لیے آنکھ ہے۔
اور:
باشعور عوام حکومت کے دشمن نہیں؛ حکومت کے آئینے ہیں۔
علیؑ نے ایسا معاشرہ کیوں چاہا؟
کیونکہ امام علیؑ جانتے تھے کہ حکمران اکیلا ریاست نہیں چلا سکتا۔
ایک ملک صرف ایوانِ حکومت سے نہیں چلتا۔
ریاست کروڑوں انسانوں کے مجموعی کردار سے بنتی ہے۔
اگر استاد ایماندار ہے تو ریاست مضبوط ہے۔
اگر تاجر دیانت دار ہے تو ریاست مضبوط ہے۔
اگر کسان محنت کرتا ہے تو ریاست مضبوط ہے۔
اگر مزدور اپنا کام ذمہ داری سے کرتا ہے تو ریاست مضبوط ہے۔
اگر افسر رشوت نہیں لیتا تو ریاست مضبوط ہے۔
اگر صحافی حقیقت بیان کرتا ہے تو ریاست مضبوط ہے۔
اگر نوجوان علم حاصل کرتا ہے تو ریاست مضبوط ہے۔
یعنی:
ریاست کی اصل طاقت سرحدوں پر کھڑی فوج سے پہلے انسان کے اندر کھڑی ہوئی ذمہ داری ہے۔
امام علیؑ کے نزدیک عوام کی معاشی حالت بھی حکومت کی ذمہ داری ہے
حکومت صرف امن قائم کرنے کا نام نہیں۔
حکومت صرف سڑک بنانے کا نام نہیں۔
حکومت کا بنیادی امتحان یہ ہے کہ اس کے زیرِ سایہ انسان عزت کے ساتھ زندہ رہتا ہے یا نہیں۔
امام علیؑ مالک اشتر کو فرماتے ہیں کہ عوام کے معاملات میں ان کی معاشی حالت، خراج اور تجارت کا خیال رکھو۔
اور پھر ایک نہایت اہم اصول بیان کرتے ہیں:
فَإِنَّمَا عِمَارَةُ الْأَرْضِ بِمَا يُصْلِحُهَا أَهْلُهَا
“زمین کی آبادی اسی چیز سے ہے جس سے اس کے باشندوں کی اصلاح ہو۔”
یہاں “عمارت” صرف عمارتیں بنانے کا نام نہیں۔
ریاست کی آبادکاری، معاشی ترقی اور خوشحالی انسانوں کی اصلاح اور ان کی صلاحیتوں کے استعمال سے وابستہ ہے۔
اس لیے ایسا حکمران جو عوام کو بھوکا رکھ کر حکومت بچانا چاہے، وہ بظاہر اقتدار بچا سکتا ہے، مگر ریاست نہیں بنا سکتا۔
بھوکا انسان ریاست کا سرمایہ نہیں بن سکتا
ایک بھوکا باپ اپنے بچوں کی تعلیم کے بارے میں کتنا سوچے گا؟
ایک ایسا نوجوان جسے روزگار نہ ملے، وہ اپنی صلاحیت کہاں استعمال کرے گا؟
ایک ایسا طالب علم جس کے پاس کتاب خریدنے کے پیسے نہ ہوں، اس کی ذہانت کیسے ملک کے کام آئے گی؟
ایک ایسا کسان جو مسلسل قرض میں ڈوبا ہوا ہو، وہ پیداوار کیسے بڑھائے گا؟
یہی وجہ ہے کہ علیؑ کی حکومت میں عدل اور معاشی ترقی الگ موضوعات نہیں تھے۔
کیونکہ:
انسان کی عزت بچاؤ گے تو اس کی صلاحیت سامنے آئے گی۔
اور جب صلاحیت سامنے آئے گی تو ملک ترقی کرے گا۔
ٹیکس لینے سے پہلے پیداوار بڑھاؤ
امام علیؑ مالک اشتر کو خراج کے بارے میں ایک غیر معمولی اصول دیتے ہیں:
وَلْيَكُنْ نَظَرُكَ فِي عِمَارَةِ الْأَرْضِ أَبْلَغَ مِنْ نَظَرِكَ فِي اسْتِجْلَابِ الْخَرَاجِ
“زمین کی آبادکاری پر تمہاری نظر خراج وصول کرنے سے زیادہ ہونی چاہیے۔”
یہ حکومت کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔
حکومت کا مقصد یہ نہیں کہ:
آج کتنا ٹیکس وصول ہوا؟
بلکہ سوال یہ ہے:
اگلے دس سال میں ملک کی پیداواری صلاحیت کتنی بڑھے گی؟
اگر کسان خوشحال ہوگا تو ٹیکس بھی بڑھے گا۔
اگر صنعت ترقی کرے گی تو روزگار بھی بڑھے گا۔
اگر تجارت بڑھے گی تو ریاست کی آمدنی بھی بڑھے گی۔
یعنی:
عوام کی خوشحالی اور حکومت کی مضبوطی ایک دوسرے کی دشمن نہیں؛ ایک دوسرے کی بنیاد ہیں۔
یہاں ایک بہت بڑا راز سمجھ میں آتا ہے
جس حکمران کو صرف آج کی آمدنی نظر آتی ہے، وہ رعایا کو نچوڑتا ہے۔
جس حکمران کو آنے والی نسلیں نظر آتی ہیں، وہ رعایا کو مضبوط کرتا ہے۔
پہلا حکمران خزانہ بھر سکتا ہے۔
دوسرا حکمران ملک بناتا ہے۔
علیؑ کا حکمران دوسرا ہے۔
علم، شعور اور معیشت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں
علم صرف کتاب پڑھنے کا نام نہیں۔
علم انسان کو یہ سمجھاتا ہے کہ:
میں کون ہوں؟
میرا حق کیا ہے؟
میرا فرض کیا ہے؟
ریاست کیا ہے؟
قانون کیوں ضروری ہے؟
معاشرے میں میرا کردار کیا ہے؟
میرے فیصلے کا دوسروں پر کیا اثر پڑتا ہے؟
یہ شعور پیدا ہوجائے تو انسان صرف “صارف” نہیں رہتا؛
وہ شہری بن جاتا ہے۔
اور شہری ریاست کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتا ہے۔
علیؑ کے نزدیک حکمران کو عوام سے وفاداری کیسے ملتی ہے؟
ڈنڈے سے؟
نہیں۔
خوف سے؟
نہیں۔
علیؑ نے مالک اشتر کو ایک حیرت انگیز اصول دیا:
وَلْيَكُنْ أَحَبَّ الْأُمُورِ إِلَيْكَ أَوْسَطُهَا فِي الْحَقِّ، وَأَعَمُّهَا فِي الْعَدْلِ، وَأَجْمَعُهَا لِرِضَى الرَّعِيَّةِ
حکومت کے معاملات میں تمہیں وہ طریقہ زیادہ پسند ہونا چاہیے جو حق میں درمیانہ، عدل میں عام اور رعایا کی رضا کو زیادہ جمع کرنے والا ہو۔
یہاں “رضایتِ رعایا” کو حکومت کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
کیوں؟
کیونکہ علیؑ جانتے تھے:
جس حکومت کو عوام دل سے قبول کرلیں، اسے ہر وقت طاقت کے استعمال کی ضرورت نہیں رہتی۔
خوف سے امن نہیں بنتا
آپ کسی شہر میں ہزار سپاہی کھڑے کرسکتے ہیں۔
ہر چوک پر پولیس لگا سکتے ہیں۔
ہر زبان کو خاموش کرسکتے ہیں۔
لیکن دلوں میں امن پیدا نہیں کرسکتے۔
امن اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان کو یقین ہو:
میرے ساتھ ظلم نہیں ہوگا۔
میری بات سنی جائے گی۔
میرے بچے کو تعلیم کا حق ہے۔
مجھے روزگار کا موقع مل سکتا ہے۔
قانون میرے اور طاقتور کے لیے ایک ہے۔
یہ احساس پیدا ہوجائے تو انسان ریاست کا محافظ بن جاتا ہے۔
علیؑ کا سب سے بڑا انتظامی سبق: اہل اور دیانت دار افراد
امام علیؑ نے حکومت میں افراد کے انتخاب کو بھی انتہائی اہم قرار دیا۔
مالک اشتر کو مختلف طبقات اور اہلکاروں کے بارے میں ہدایات دیتے ہوئے ان کی صلاحیت، تجربہ، دیانت اور سابقہ کردار کو اہمیت دی۔
یہ بھی علم و شعور ہی کا حصہ ہے۔
کیونکہ ریاست صرف پالیسیوں سے نہیں چلتی۔
ریاست صحیح انسانوں سے چلتی ہے۔
غلط آدمی کو اختیار دے دیں تو بہترین قانون بھی ناکام ہوسکتا ہے۔
لہٰذا:
علم یافتہ قوم + دیانت دار انتظامیہ = مضبوط ریاست
جبکہ:
جہالت + بدعنوانی + خوف = کمزور ریاست
اب اصل سوال کا فیصلہ کیجیے
کیا عوام کو علم دینا حکمران کے لیے نقصان دہ ہے؟
علیؑ کی حکومت کہتی ہے:
نہیں!
بلکہ:
علم یافتہ عوام حکمران کے فیصلوں کو سمجھ سکتے ہیں۔
باشعور عوام دشمن کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔
تعلیم یافتہ عوام معیشت میں حصہ لے سکتے ہیں۔
ذمہ دار عوام قانون کا احترام کرتے ہیں۔
حق شناس عوام ظلم کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔
اور وفادار عوام بحران کے وقت ریاست کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
پس:
علم عوام کو حکومت سے دور نہیں کرتا؛
علم عوام کو ریاست کے ساتھ شعوری طور پر جوڑتا ہے۔
مگر ایک شرط ہے
یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب حکمران بھی حق کو قبول کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔
اگر عوام کو علم دیا جائے مگر ان کی بات نہ سنی جائے تو علم اور حکومت کے درمیان تصادم پیدا ہوگا۔
اگر عوام کو شعور دیا جائے مگر عدل نہ ہو تو سوال بڑھیں گے۔
اگر تعلیم دی جائے مگر روزگار نہ ہو تو مایوسی پیدا ہوگی۔
اگر حقوق بتائے جائیں مگر حقوق دیے نہ جائیں تو اعتماد ختم ہوگا۔
لہٰذا علیؑ کا ماڈل صرف “تعلیم دو” نہیں۔
بلکہ:
تعلیم دو۔
شعور دو۔
عدل دو۔
روزگار دو۔
حقوق دو۔
اور پھر عوام کو شریکِ تعمیر بناؤ۔
یہی حکمران کے اپنے مفاد میں بھی ہے
یہ بات بہت اہم ہے۔
عوام کو علم دینا صرف عوام کا فائدہ نہیں۔
حکمران کا بھی فائدہ ہے۔
کیونکہ باشعور عوام:
- اچھے منصوبے کی حمایت کرتے ہیں۔
- غلطی کی بروقت نشاندہی کرتے ہیں۔
- دشمن کے جھوٹ کو پہچانتے ہیں۔
- ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
- معاشی سرگرمی بڑھاتے ہیں۔
- قانون کی پاسداری کرتے ہیں۔
- بحران میں قومی اتحاد پیدا کرتے ہیں۔
اس کے برعکس جاہل، محروم اور خوف زدہ معاشرہ:
- افواہوں کا شکار ہوتا ہے۔
- آسانی سے تقسیم ہوتا ہے۔
- دشمن کے پروپیگنڈے کا شکار ہوتا ہے۔
- ریاست سے بیگانہ ہوتا ہے۔
- بدعنوان عناصر کے ہاتھوں استعمال ہوتا ہے۔
لہٰذا:
حکمران اگر اپنے اقتدار کو محفوظ کرنا چاہتا ہے تو عوام کو کمزور نہیں، مضبوط کرے۔
علیؑ کا اقتدار کہاں تک قائم رہا؟
یہاں تاریخ کا ایک حیرت انگیز سبق ہے۔
علیؑ کی ظاہری حکومت ختم ہوگئی۔
لیکن علیؑ کا اقتدار ختم نہیں ہوا۔
کیوں؟
کیونکہ علیؑ نے لوگوں کے جسموں پر حکومت نہیں کی تھی۔
انہوں نے ضمیر پر حکومت کی۔
تلوار سے حکومت کرنے والے حکمران تاریخ کے صفحات میں دفن ہوگئے۔
لیکن علیؑ آج بھی زندہ ہیں۔
ان کا نام عدالت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
ان کا نام علم کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
ان کا نام شجاعت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
ان کا نام انسانیت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
ان کا نام حکومت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
یہ ہے دوامِ اقتدار۔
اصل حکمرانی کیا ہے؟
اب ہم اپنے ابتدائی جملے کی طرف واپس آتے ہیں:
طاقت کے بل بوتے پر ڈر اور خوف میں مبتلا کرکے لوگوں پر حکومت کی جاسکتی ہے۔
ہاں!
کچھ عرصے کے لیے۔
بھوک اور افلاس میں رکھ کر بھی حکمرانی کی جاسکتی ہے۔
ہاں!
کچھ عرصے کے لیے۔
جہالت میں رکھ کر بھی اطاعت حاصل کی جاسکتی ہے۔
ہاں!
لیکن:
دل نہیں جیتے جاسکتے۔
اور جس حکومت نے دل نہ جیتے ہوں، اس کی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔
علیؑ ہمیں دوسرا راستہ دکھاتے ہیں:
علم دو۔
شعور دو۔
عدل دو۔
عزت دو۔
روزگار دو۔
حق گوئی کی آزادی دو۔
اور عوام کو ریاست کا شریک بناؤ۔
پھر دیکھو!
جو عوام پہلے رعایا تھی، وہ قوم بن جائے گی۔
جو قوم پہلے حکومت سے خوفزدہ تھی، وہ حکومت کی محافظ بن جائے گی۔
جو نوجوان پہلے روزگار کے لیے بھٹکتا تھا، وہ ملک کی معیشت کا معمار بن جائے گا۔
جو طالب علم صرف کتاب پڑھ رہا تھا، وہ ریاست کا مستقبل بن جائے گا۔
اور جو حکمران پہلے اقتدار بچانے کے لیے طاقت استعمال کرتا تھا، اسے طاقت کے بجائے اعتماد مل جائے گا۔
آخری بات
دنیا کے حکمرانوں سے ایک سوال ہے:
آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ سے ڈریں یا آپ پر اعتماد کریں؟
اگر ڈر چاہتے ہیں تو تلوار کافی ہے۔
اگر خاموشی چاہتے ہیں تو خوف کافی ہے۔
اگر وقتی اطاعت چاہتے ہیں تو محتاجی کافی ہے۔
لیکن اگر قوم بنانی ہے، ملک بنانا ہے، تہذیب بنانی ہے اور اقتدار کو نسلوں تک مضبوط بنیاد دینی ہے تو پھر علیؑ کا راستہ اختیار کرنا ہوگا:
انسان کو علم دو۔
اسے سوچنے دو۔
اسے سوال کرنے دو۔
اسے حق بتاؤ۔
اسے انصاف دو۔
اسے روزگار دو۔
اس کی عزت کرو۔
اور اسے ملک کی تعمیر کا شریک بنا دو۔
کیونکہ:
جس حکمران نے عوام کے ہاتھ باندھے، اس نے اپنی حکومت کے پاؤں باندھے۔
جس حکمران نے عوام کی آنکھیں کھولیں، اس نے اپنے ملک کی آنکھیں کھول دیں۔
اور علیؑ کی حکومت ہمیں یہی سبق دیتی ہے:
حکومت کا دوام عوام کو کمزور کرنے میں نہیں، عوام کو مضبوط کرنے میں ہے۔
اقتدار کی حفاظت دیواروں سے نہیں ہوتی؛ دلوں سے ہوتی ہے۔
اور دلوں تک پہنچنے کا راستہ خوف سے نہیں، علم، عدل، عزت اور خدمت سے گزرتا ہے۔
یہی حکومتِ علیؑ کا راز ہے۔
اور شاید یہی آج کے حکمران کے لیے سب سے بڑا سبق بھی۔
تحریر: حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا تصورعباس خان ، پرنسپل امام رضا کمپلیکس چوک اعظم ضلع لیہ
11 august 2026