نوافل

  /  Tags:

س . کیا نافلہ نمازوں کوبلند آواز سے پڑھا جائے یا آہستہ آواز سے ؟

ج مستحب ہے کہ دن کی نافلہ نمازوں کو آہستہ اور شب کی نافلہ نمازوں کو بلند آواز سے پڑھا جائے۔

س  نماز شب جو دو دو رکعت کر کے پڑھی جاتی ہے کیا اسے دو مرتبہ چار  چار رکعت کر کے، ایک مرتبہ دو رکعت اور ایک مرتبہ ایک رکعت (وتر) پڑھ سکتے ہیں؟

ج نمازشب کو چار چار رکعت کرکے پڑھنا صحیح نہیں ہے۔

س  جب ہم نماز شب پڑھتے ہیں تو کیا واجب ہے کہ کسی کو اسکی خبر نہ ہو اور واجب ہے کہ ہم تاریکی میں نماز شب پڑھیں؟

ج تاریکی میں نماز شب پڑھنا اور اسے دوسروں سے چھپا نا شرط نہیں ہے ہاں اس میں ریا جائز نہیں ہے ۔

س  نماز ظہر و عصر کی ادائیگی کے بعد اورخود نافلہ کے وقت میں، کیا نافلہ ظہر و عصر قضا کی نیت سے پڑھے جائیں یا کسی اور نیت سے؟

ج احتیاط یہ ہے کہ اس وقت قربةً الی اللہ کی نیت سے پڑھے جائیں، ادا اور قضا کی نیت نہ کی جائے۔

س  براہ مہربانی ہمیں نماز شب کے طریقہ سے تفصیل کے ساتھ مطلع فرمائیں؟

ج. نماز شب مجموعی طور پر گیا رہ رکعات ہیں، ان میں سے آٹھ رکعتوں کو، جو دو دو رکعت کر کے پڑھی جاتی  ہیں ، نماز شب کہتے ہیں اور ان کے بعد دو رکعت کو شفع کہتے ہیں اور یہ نماز صبح کی طرح پڑھی جاتی ہیں  اس نماز کی آخری ایک رکعت کو وتر کہتے ہیں اس کے قنوت میں مومنین کےلئے استغفار اور دعا کرنا اور خدائے منان سے ھاجات طلب کرنا مستحب ہے ، اس کی ترتیب دعاؤں کی کتابوں میں مذکور ہے ۔

س  نماز شب کا کیا طریقہ ہے؟ یعنی اس میں کونسا سورہ، استغفار اور دعا پڑھی جائے؟

ج نماز شب میں کوئی سورہ، استغفار اور دعا اسکے جز کے عنوان سے شرط نہیں ہے، بلکہ نیت اور تکبیرۃ الاحرام کے بعد ہر رکعت میں سورہ حمد پڑھے اور اگر چاہے تو اسکے بعد دوسرا سورہ پڑھےپھر رکوع و سجود اور تشھد و سلام بجا لائے ۔

(منبع سایٹ  آقای رہبر)