مقدس اردبیلی اور کریم نامی شخص کا واقعہ

مقدس اردبیلی اور کریم نامی شخص کا واقعہ

تاریخ اردبیل میں ذکر ہے کہ مقدس اردبیلی نجف اشرف میں تھےکہ والدہ کی طرف سے خط ملا جس میں درج تھا کہ بیٹے تمہاری یاد بہت آتی ہے آ کر مجھ سے مل جاو ۔ ماں کی طرف سے پیغام ملتے ہی اردبیل کی طرف روانہ ہو گئے جب اس کے آبائی گاوں والوں نے سنا کہ مقدس اردبیلی نجف سے آ رہے ہیں تو ان کے استقبال کےلیے پورے کا پورا گاوں امڈ آیا ۔ سوائے ایک شخص کوئی بھی گاوں میں نہیں رہا ۔ جو نہیں آیا تھا اس کا نام کریم تھا ۔ فسق و فجور اور لہو و لعب کے حوالے سے پورے گاوں بلکہ شہر میں مشہور تھا ۔ اور اس کے نا آنے پر کسی کو تعجب بھی نہیں ہوا ۔ لیکن جب مقدس اردبیلی رات کو گھر میں سوئے تو خواب دیکھا کہ کریم فوت ہو چکا ہے اور اسے حکم ملتا ہے کہ جا کر اس کے کفن دفن کا انتظام کرے اور نماز جنازہ پڑھے ۔ جیسے اردبیلی کی آنکھ کھلی سوچا شاید بے تکا خواب ہے کیونکہ جانتے تھے کہ معاشرے میں اس کی شہرت اچھی نہیں ہے لیکن دوسری مرتبہ سوئے تو وہی خواب دیکھا ۔ پھر جاگ گئے ۔ لیکن تیسری مرتبہ جب وہی خواب دیکھا اورجاگے تو سحر ہو چکی تھی ۔ نماز صبح کے بعد لوگوں کا شوروغل اٹھا کہ کریم فوت ہو گیا ہے ۔

جیسے مقدس اردبیلی کو یہ خبر ملی تو خواب کے رحمانی ہونے پر یقین کر کے اس کے کفن دفن کا انتطام کیا اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ سب لوگ حیران تھے ۔ لیکن نماز جنازہ کے بعد مقدس اردبیلی ان کے گھر گئے اور اس کی بیوی سے کہا : رات کو کیا ہوا تھا ؟ تفصیل سے بتائے تو اس نے کہا :

رات کریم نے کہا : مجھے صحن میں بستر لگا دو ۔ میں نے دیکھا کہ اس کی حالت آج کچھ بدلی ہوئی ہے ۔ بستر پر سو کر آسمان اور ستاروں کو دیکھتا رہا اور روتا رہا اور کہا : خدایا تو جانتا ہے کہ مقدس اردبیلی نے گناہ نہیں کیا اگر اسے معاف کر دو تو یہ بڑی بات نہیں ہے بڑی بات تب ہے  کہ کریم مطلق ذات مجھ جیسے گناہ گار اور عاصی کریم نامی شخص کو معاف کر دے ۔

یہ سن کر مقدس اردبیلی نے کہا : اللہ تعالی کی رحمت اس کے شامل حال ہوئی ہے اور اس رحیم ذات نے اس کے گناہ معاف کر دئیے ہیں ۔

تاریخ اردبیل جلد۱ صفحہ۶۲؛ پیشکش و ترجمہ: مولانا تصورعباس خان سرگانی پرنسپل امام رضا کمپلیکس چوک اعظم