قومیں صرف ان لوگوں سے نہیں بنتیں
جو اپنے لیے جیتے ہیں؛
قومیں ان لوگوں سے بھی بنتی ہیں جو کسی بڑے مقصد کے لیے اپنا آرام، اپنا وقت اور کبھی اپنی جان تک قربان کر دیتے ہیں۔
قرآن کریم میں ارشاد رب العزت ہے:
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُون ; (آل عمران: 169)
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے، انہیں مردہ نہ سمجھو؛ بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔
شہید کا مقام صرف اس لیے بلند نہیں کہ اس نے موت کا سامنا کیا؛
اصل عظمت یہ ہے کہ اس نے حق، ایمان اور مقصد کو اپنی ذات پر ترجیح دی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
فَوْقَ كُلِّ ذِي بِرٍّ بِرٌّ، حَتَّى يُقْتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِذَا قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَيْسَ فَوْقَهُ بِرٌّ
ہر نیکی سے بڑھ کر ایک اور نیکی ہے، یہاں تک کہ انسان اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے؛ پھر اللہ کی راہ میں قتل ہونے سے بڑھ کر کوئی نیکی نہیں۔
(اصول کافی348/2)
امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی سیرت میں بھی یہی روح نمایاں ہے۔ آپؑ نے اپنی پوری زندگی حق اور عدل کے قیام کے لیے وقف کی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا:
وَاللَّهِ لَابْنُ أَبِي طَالِبٍ آنَسُ بِالْمَوْتِ مِنَ الطِّفْلِ بِثَدْيِ أُمِّهِ
خدا کی قسم! ابو طالب کے بیٹے کو موت سے ایسی انسیت ہے جیسے بچے کو اپنی ماں کے سینے سے
(نہج البلاغہ/، خطبہ 5)
یہ موت پسندی نہیں؛
یہ حق کے راستے میں خوف پر مقصد کی فتح ہے۔
شہید رہبر سید علی خامنہ ای (قَدَّسَ اللهُ نَفْسَهُ الزَّكِيَّةَ) کی زندگی بھی اسی معیارِ قربانی کی ایک مثال بن کر ہمارے سامنے ہے۔انہوں نے اپنی زندگی کو اسلام، انسانیت اور اپنے بیان کردہ دینی و اجتماعی مقاصد کی خدمت کے لیے وقف کیا
اور بالآخر اسی راہ میں شہادت پائی۔ ان کے کلمات میں اللہ پر ایمان، آخرت کا یقین اور ذمہ داری کا احساس محض دعویٰ نہیں تھا؛ ان کی طویل عملی زندگی اور آخری مرحلے تک ثابت قدمی نے ان دعووں کو ایک عملی گواہی بھی دی۔
یعنی انسان اپنی ذات کو کسی بڑے دینی اور اجتماعی مقصد کے لیے وقف کر دے۔
لیکن شہداء کو یاد کرنے کا مقصد صرف ماضی پر فخر کرنا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ ان کی قربانی ہماری زندگی میں کیا پیدا کرتی ہے؟
قربانی صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتی۔
وقت کی قربانی بھی قربانی ہے،
مال کی قربانی بھی
آرام کی قربانی بھی
اور اپنی خواہش کو کسی بڑے حق اور مقصد کے لیے پیچھے رکھ دینا بھی قربانی ہے۔
اسی لیے ایک عالم کا علم، ایک استاد کی تربیت، ایک ڈاکٹر کی خدمت، ایک تاجر کی دیانت، ایک نوجوان کی صلاحیت اور ایک عام انسان کا کردار—اگر کسی بڑے خیر کے لیے وقف ہو—تو یہ سب روحِ قربانی کے مختلف مظاہر ہیں۔
شہداء ہمیں صرف یہ نہیں سکھاتے کہ جان کیسے دی جاتی ہے؛
وہ یہ بھی سکھاتے ہیں کہ زندگی کس مقصد کے لیے دی جاتی ہے۔
اپنے مقصد کے لیے سنجیدگی سے جینا،
اپنی ذمہ داری سے فرار نہ ہونا،
دوسروں کے لیے مفید بننا
اور حق کے وقت اپنے مفاد سے اوپر اٹھ جانا—
یہ بھی روحِ قربانی کا حصہ ہے۔
قوموں کی تعمیر میں قربانی اس لیے ضروری ہے کہ کوئی بڑا مقصد صرف خواہش سے حاصل نہیں ہوتا۔
علم چاہیے تو وقت دینا ہوگا
اصلاح چاہیے تو اپنی سہولت سے آگے بڑھنا ہوگا۔
عدل چاہیے تو ذاتی مفاد سے اوپر اٹھنا ہوگا۔
اور بہتر معاشرہ چاہیے تو ہر شخص کو اپنے حصے کی کوئی نہ کوئی قربانی دینی ہوگی۔
شہداء کا پیغام صرف یہ نہیں کہ انہوں نے کیا دیا؛
بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے حصے میں کیا دے رہے ہیں؟
قربانی کا مطلب ہمیشہ جان دینا نہیں؛
کبھی قربانی کا مطلب اپنی زندگی کو دوسروں کے لیے مفید بنا دینا ہوتا ہے۔
اور شاید قوم کی تعمیر کا ایک اہم راز یہی ہے:
جب انسان “مجھے کیا ملے گا؟” سے آگے بڑھ کر یہ سوچنے لگے کہ “میں کیا دے سکتا ہوں؟” تو قومیں بننا شروع ہو جاتی ہیں۔
🌿تصور عباس خان
۲۵ ستمبر ۲۰۲۶