دولت واپس آ سکتی ہے،
موقع دوبارہ مل سکتا ہے،
لیکن گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا۔
قرآن کریم نے وقت کی اہمیت کو اس قدر بنیادی حقیقت کے طور پر بیان کیا کہ پوری ایک سورت کا آغاز ہی زمانے کی قسم سے کیا:
﴿وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ﴾
زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے۔
(العصر: 1-2)
یہاں خسارہ صرف مال کا نہیں؛
انسان کے پاس موجود سب سے قیمتی سرمایہ—وقت—کے ضائع ہونے کا بھی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابوذرؓ کو فرمایا:
«يَا أَبَا ذَرٍّ، اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے ابوذر! پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو: جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، مالداری کو فقر سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے، اور زندگی کو موت سے پہلے۔”
(مکارم الأخلاق/298)
امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام دنیا اور عمر کے تیزی سے گزرنے کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
مَا أَسْرَعَ السَّاعَاتِ فِي الْيَوْمِ، وَأَسْرَعَ الْأَيَّامَ فِي الشَّهْرِ۔۔۔۔۔۔
دن کی گھڑیاں کتنی تیزی سے گزرتی ہیں، مہینے کے دن، سال کے مہینے اور عمر کے سال کس قدر تیزی سے گزر جاتے ہیں! (خطبہ/188)
لیکن یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ ایک فرد اپنا وقت کیسے گزارتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے:
ایک قوم اپنا وقت کیسے استعمال کرتی ہے؟
کیونکہ قوموں کی ترقی صرف وسائل سے نہیں ہوتی؛وہ اس بات سے بھی طے ہوتی ہے کہ ان کے انسان اپنی زندگی کے قیمتی اوقات کو علم، تربیت، تحقیق، پیداوار، خدمت، نظم اور تعمیر میں کتنا صرف کرتے ہیں۔
ایک قوم کے لاکھوں افراد اگر وقت کو علم میں بدلیں تو علم پیدا ہوتا ہے۔
اگر وقت کو تحقیق میں لگائیں تو نئی صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں۔
اگر وقت کو ہنر اور پیداوار میں لگائیں تو معیشت مضبوط ہوتی ہے۔
اگر وقت کو تعلیم و تربیت میں لگائیں تو اگلی نسل تیار ہوتی ہے۔
اور اگر اجتماعی وقت مسلسل غیر ضروری مشاغل، بے مقصد بحثوں، غفلت اور تاخیر میں گزرنے لگے تو نقصان صرف چند افراد کا نہیں ہوتا؛ قوم اپنی رفتار کھو دیتی ہے۔
شہید رہبر سید علی خامنہ ای(قَدَّسَ اللهُ نَفْسَهُ الزَّكِيَّةَ) نے بھی 25 اکتوبر 2023ء کو ملک کے نوجوان علمی ماہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایک قومی اصول کے طور پر فرمایا:
صلاحیت رکھنے والی قوم ترقی کر سکتی ہے، لیکن ایسا نہیں کہ اسے ہمیشہ ترقی کا موقع ملتا رہے۔
یہ جملہ وقت کی قدر کو فرد کے معمول سے اٹھا کر قومی سطح کی ذمہ داری بنا دیتا ہے۔
اگر وقت قوم کا سرمایہ ہے تو ہر صاحبِ صلاحیت انسان اس سرمائے کا ایک امین ہے۔
ایک عالم کا وقت صرف اس کا ذاتی وقت نہیں ہوتا۔
وہ اسے تحقیق، تصنیف اور نوجوانوں کی فکری تربیت میں لگائے تو ایک فرد نہیں، ایک نسل تیار ہوتی ہے۔
ایک استاد اپنے وقت کو صرف تدریس میں نہیں، اچھے انسان بنانے میں صرف کرے تو اس کا اثر اس کی پوری زندگی سے آگے جاتا ہے۔
ایک ڈاکٹر اپنے علم اور تجربے کا کچھ وقت نئی نسل کی تربیت، تحقیق یا خدمت کے لیے دے تو اس کا فائدہ صرف اس کے مریض تک محدود نہیں رہتا۔
ایک تاجر اپنے وقت کو دیانت دار تجارت، نئی مہارت اور بہتر پیداوار میں لگائے تو اس کی محنت صرف اس کی دکان نہیں، معاشرے کے معاشی ماحول کو بھی بہتر کرتی ہے۔
اور ایک نوجوان اگر اپنے روزانہ کے کچھ وقت کو علم، ہنر اور کردار سازی کے لیے محفوظ کر لے تو وہ صرف اپنا مستقبل نہیں بناتا؛ قوم کے انسانی سرمایہ میں اضافہ کرتا ہے۔
لیکن اگر اہلِ علم کا وقت غیر ضروری بحثوں، تکراری گفتگو اور بے نتیجہ مشاغل میں ضائع ہونے لگے تو نقصان صرف چند گھنٹوں کا نہیں ہوتا؛ معاشرہ اپنی علمی رفتار کھو دیتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں فرد کا وقت قومی سرمایہ بن جاتا ہے۔
ایک شخص کا ایک گھنٹہ شاید معمولی دکھائی دے، لیکن ہزاروں انسانوں کے روزانہ ایک ایک گھنٹے کا درست استعمال علم، تربیت، ہنر، پیداوار اور خدمت کی ایک بڑی قوت پیدا کر سکتا ہے۔
اس لیے وقت کی قدر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر لمحہ مصروف رہے؛
بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے وقت کو صحیح ترجیحات میں صرف کرے۔
کچھ وقت عبادت کے لیے،
کچھ علم کے لیے،
کچھ خاندان کے لیے،
کچھ خدمت کے لیے،
اور کچھ ایسے کام کے لیے جس کا فائدہ آنے والی نسلوں تک پہنچے۔
آج ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا:
میرے پاس کتنا وقت ہے؟
بلکہ یہ پوچھنا چاہیے:
میرے پاس جو وقت ہے، میں اسے کس چیز میں تبدیل کر رہا ہوں؟
ایک عالم اسے تحقیق اور انسان سازی میں،
ایک استاد ایک بہتر نسل میں،
ایک ڈاکٹر علم اور خدمت میں،
ایک تاجر حلال پیداوار اور روزگار میں،
اور ایک نوجوان علم، ہنر اور کردار میں تبدیل کر سکتا ہے۔
وقت گزر نہیں رہا؛ ہم اسے یا تو مستقبل بنا رہے ہیں، یا ضائع کر رہے ہیں۔
قوم کی تعمیر بھی یہی ہے کہ لاکھوں انسان اپنے اپنے حصے کے وقت کو ایسی چیزوں میں تبدیل کریں جن سے علم پیدا ہو، انسان تیار ہوں، روزگار بڑھے، خدمت عام ہو اور آنے والی نسل اپنے سے بہتر معاشرہ حاصل کرے۔
قومیں صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بنتیں؛
وہ لاکھوں انسانوں کے چھوٹے مگر مسلسل درست استعمال کیے گئے وقت سے بنتی ہیں۔
🌿تصور عباس خان
۲۴ستمبر ۲۰۲۶