وَ حَضَرَتِ امْرَأَهٌ عِنْدَ الصِّدِّیقَهِ فَاطِمَهَ الزَّهْرَاءِ (عَلَیْهِا اَلسَّلاَمُ) فَقَالَتْ: إِنَّ لِی وَالِدَهً ضَعِیفَهً- وَ قَدْ لُبِسَ عَلَیهَا فِی أَمْرِ صَلَاتِهَا شَیءٌ، وَ قَدْ بَعَثَتْنِی إِلَیکِ أَسْأَلُکِ. فَأَجَابَتْهَا فَاطِمَهُ (عَلَیْهِا اَلسَّلاَمُ) عَنْ ذَلِکَ، ثُمَّ ثَنَّتْ،[۱] فَأَجَابَتْ، ثُمَّ ثَلَّثَتْ [فَأَجَابَتْ] إِلَى أَنْ عَشَّرَتْ فَأَجَابَتْ، ثُمَّ خَجِلَتْ مِنَ الْکَثْرَهِ، فَقَالَتْ: لَا أَشُقُّ عَلَیکِ یا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ.قَالَتْ فَاطِمَهُ (عَلَیْهِا اَلسَّلاَمُ): هَاتِی وَ سَلِی عَمَّا بَدَا لَکِ، أَ رَأَیتِ مَنِ اکْتُرِىَ یوْماً یصْعَدُ إِلَى سَطْحٍ بَحَمْلٍ ثَقِیلٍ، وَ کِرَاؤُهُ مِائَهُ أَلْفِ دِینَارٍ، أَ یثْقُلُ عَلَیهِ فَقَالَتْ: لَا.فَقَالَتْ: اکْتُرِیتُ أَنَا لِکُلِّ مَسْأَلَهٍ- بِأَکْثَرَ مِنْ مِلْءِ مَا بَینَ الثَّرَى إِلَى الْعَرْشِ لُؤْلُؤاً فَأَحْرَى أَنْ لَا یثْقُلَ عَلَی، سَمِعْتُ أَبِی [رَسُولَ اللَّهِ] (صَلَّی اللّهُ عَلَیهِ وَ آلِهِ وَ سَلَّمَ) یقُولُ: إِنَّ عُلَمَاءَ شِیعَتِنَا یحْشَرُونَ، فَیخْلَعُ عَلَیهِمْ مِنْ خِلَعِ الْکَرَامَاتِ- عَلَى قَدْرِ کَثْرَهِ عُلُومِهِمْ، وَ جِدِّهِمْ فِی إِرْشَادِ عِبَادِ اللَّهِ، حَتَّى یخْلَعَ عَلَى الْوَاحِدِ مِنْهُمْ- أَلْفُ أَلْفِ خِلْعَهٍ مِنْ نُورٍ.ثُمَّ ینَادِی مُنَادِی رَبِّنَا عَزَّ وَ جَلَّ: أَیهَا الْکَافِلُونَ لِأَیتَامِ آلِ مُحَمَّدٍ، النَّاعِشُونَ لَهُمْ عِنْدَ انْقِطَاعِهِمْ عَنْ آبَائِهِمُ- الَّذِینَ هُمْ أَئِمَّتُهُمْ، هَؤُلَاءِ تَلَامِذَتُکُمْ- وَ الْأَیتَامُ الَّذِینَ کَفَلْتُمُوهُمْ وَ نَعَشْتُمُوهُمْ- فَاخْلَعُوا عَلَیهِمْ [کَمَا خَلَعْتُمُوهُمْ] خِلَعَ الْعُلُومِ فِی الدُّنْیا.فَیخْلَعُونَ عَلَى کُلِّ وَاحِدٍ مِنْ أُولَئِکَ الْأَیتَامِ- عَلَى قَدْرِ مَا أَخَذُوا عَنْهُمْ مِنَ الْعُلُومِ حَتَّى إِنَّ فِیهِمْ- یعْنِی فِی الْأَیتَامِ- لَمَنْ یخْلَعُ عَلَیهِ مِائَهُ أَلْفِ خِلْعَهٍ وَ کَذَلِکَ یخْلَعُ هَؤُلَاءِ الْأَیتَامِ عَلَى مَنْ تَعَلَّمَ مِنْهُمْ.ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى یقُولُ: أَعِیدُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْعُلَمَاءِ- الْکَافِلِینَ لِلْأَیتَامِ حَتَّى تُتِمُّوا لَهُمْ خِلَعَهُمْ، وَ تُضَعِّفُوهَا. فَیتِمُّ لَهُمْ مَا کَانَ لَهُمْ قَبْلَ أَنْ یخْلَعُوا عَلَیهِمْ، وَ یضَاعَفُ لَهُمْ، وَ کَذَلِکَ مَنْ بِمَرْتَبَتِهِمْ مِمَّنْ یخْلَعُ عَلَیهِ عَلَى مَرْتَبَتِهِمْ.وَ قَالَتْ فَاطِمَهُ (عَلَیْهِا اَلسَّلاَمُ): یا أَمَهَ اللَّهِ- إِنَّ سِلْکاً مِنْ تِلْکِ الْخِلَعِ- لَأَفْضَلُ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَیهِ الشَّمْسُ أَلْفَ أَلْفِ مَرَّهٍ، وَ مَا فَضَلَ فَإِنَّهُ مَشُوبٌ بِالتَّنْغِیصِ وَ الْکَدَرِ
*امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا :*
*ایک دن مدینے کی ایک عورت حضرت صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے پاس آئی اور عرض کیا : میری ماں ضعیف اور ناتواں ہے نماز کے بارے میں مسئلہ پیش آیا ہے اور مسئلہ پوچھنے کے لیے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے ۔*
*جناب سیدہ نے جواب دیا ۔اس نے پھر ایک اور سوال کیا ۔اس کے بعد ایک اور سوال کیا اور جناب سیدہ نے بڑی شفقت اور مہربانی سے تمام سوالوں کے جواب دئیے ۔*
*اس عورت نے شرمندہ ہو کر کہا : زیادہ سوالات کر کے آپ کو بہت زحمت دی ۔*
*فرمایا : نہیں ایسی کوئی بات نہیں اور نا ہی زحمت والی کوئی بات ہے ۔اور بھی سوالات ہوں تو پوچھ سکتی ہو ۔*
*پھر فرمایا : اگر کسی کو اجیر کیا جائے کہ اس سامان کو فلاں جگہ پہنچاؤ تو تجھے ایک لاکھ دینار ملے گا تو وہ ناراض ہو گا ؟*
*کہا : نہیں*
*فرمایا : میں جتنے سوالات کا جواب دوں گی اللہ عزوجل کے نزدیک میرا اجر و ثواب اس سے کہیں زیادہ ہے جو دنیا میں دیا جاتا ہے ۔*
*پھر فرمایا :پس جو سوالات ہیں پوچھو کہ میں نے اپنے والد گرامی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا کہ فرمایا: ہمارے شیعوں اور پیروکاروں کے علماء اس حال میں محشور ہوں گے کہ ان کے سروں پر کرامت کا تاج سجا ہو گا ۔*
*کیونکہ انہوں نے دنیا میں اللہ کے بندوں کی ہدایت کے لیے کوشش کی ہو گی اس لیے رحمت اور لطف خدا ان کے شامل حال ہو گا اور نور سے بنی بیش قیمت خلعت انہیں عطا ہو گی۔*
*منادی ندا دے گا اے آل محمد کے یتیموں کے سرپرست جن کی یتیمی اور اپنے امام سے دوری کے زمانے میں ان کی ہدایت کی یہ وہ شاگرد اور یتیم ہیں جن کی تم نے سرپرستی اور ہدایت کی ۔پس جو خلعت تمہیں ملی ہے انہیں بھی عطا کرو*
*پس جتنا علم انہوں نے علماء سے سیکھا ہو گا اس کے برابر علماء انہیں خلعت عطا کریں گے یہاں تک بعض لوگ ایک لاکھ خلعت تک اپنا حصہ پائیں گے اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے طفیل علماء کو مزید خلعت سے نوازے گا ۔*
*پھر حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے فرمایا :*
*اے کنیز خدا ! ان خلعتوں میں سے ایک خلعت کی قیمت دنیا کی ہر اس چیز سے ہزار گنا زیادہ ہے جو اس دنیا میں ہے یا جس پر سورج کی روشنی پڑتی ہے ۔*
تفسیر امام حسن عسکری( ع)/340:ترجمہ مولانا تصورعباس خان سرگانی ، پرنسپل امام رضا کمپلیکس چوک اعظم ؛ چیئرمین البینات ریسرچ انسٹیٹیوٹ پاکستان