شیخ مرتضی انصاری اپنے زمانے کے نامور شیعہ فقیہہ اور مجتہد کہ جن کا تقوا اور زہد زبان زد عام تھا ۔ ایک دفعہ اپنے تحصیل علم کے دنوں میں تہران کے ایک مدرسے میں داخلہ لیا ۔
ایک دن صبح کو اپنے کمرے میں رہنےوالے ایک طالب علم سے روٹی خرید کر لانے کو کہا ۔
جب وہ طالب علم روٹی لے کر واپس آیا تو حلوا بھی ساتھ تھا ۔
شیخ مرتضی انصاری نے پوچھا : یہ حلوے کے پیسے کہاں سے لیے ؟ کہا : ادھار لیا ہے ۔
شیخ نے بغیر حلوے والی روٹی اٹھا لی اور کہا : حلوا کھا لوں گا لیکن نہیں معلوم زندگی اس کے پیسے واپس کرنے تک مہلت بھی دے گی یا نہیں ؟
وقت گزرتا گیا اور شیخ مرتضی انصاری اجتہاد کے مقام تک پہنچ گئے اور ایک دن نجف اشرف میں اسی طالب علم نے شیخ انصاری سے ملاقات کی اور کہا :کونسا ایسا کام کیا ہے کہ تمہیں یہ مقام و مرتبہ ملا ہے؟ شیخ نے جواب دیا :
کیونکہ میں جرات نہیں کر سکا کہ وہ حلوے والی روٹی کھا لوں اور تو نے بڑی جرات اور رغبت سے سب کچھ کھا لیا (حالانکہ ادھار تھا اور ذرہ برابر نہیں گھبرائے اور احتیاط نہیں کی کہ خدانخواستہ قرض ادا نا کر سکا یا فرصت نا مل سکی تو خدا کو کیا جواب دوں گا ؟) ۔
پند تاریخ 245/5