جواب ۔ سوال نمبر 1 کے جواب کی روشنی میں اس کا جواب بھی واضح ہے کہ ہمارے مکتب میں مجتھد اور فقیہ کو بعنوان وسیلہ اور طریق سمجھا جاتا ہے معارف اہل بیت علیہم السلام تک پہنچنے کے لیے، اصل منبع دین وہی قرآن و سنت ہی ہے۔ اگر ہم تقلید یا بالفاظ مناسب علماء کرام اور فقہاء عظام کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اسی منبع اصلی تک پہنچنے کے لیے۔ اور اپنی زندگی کو قرآن و سنت معصومین کے مطابق گزارنے کے لیے۔اور اسی رجوع کا حکم بھی خود قرآن و روایات میں موجود ہے۔ اور جس کی طرف رجوع کرنا ہے اس کی شرائط بھی روایات میں موجود ہیں۔ ہرکس و ناکس کی طرف رجوع یا تقلید نہیں کی جا سکتی۔ ہمارے ہاں وہ اجتھاد قابل قبول ہے کہ جس کا دارو مدار قرآن و سنت معصومین ہے ، جہاں پر بھی مجتھد کا ذاتی قول آ جائے وہیں پر اس کی حجیت ختم ہو جاتی ہے۔ قیاس و استحسان و اجتھاد بالرای کا ہمارے ہاں کوئی تصور نہیں ۔ اور جہاں تک فتاوی کے اختلاف کا مسئلہ ہے تو اس کا تعلق مجتھدین کے فہم و فراست اور روش استنباط ( مثلا روش حل تعارض روایات،فہم آیات و روایات ،راویان پر اعتماد و عدم اعتماد وغیرہ ) میں اختلاف کے ساتھ ہے لیکن ان سب کا ہدف اور مقصد یہی ہے کہ معارف قرآن و سنت سے مسایل شرعیہ کا حل نکالا جائے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ جیسے ایک ہی میڈیکل کالج میں پڑھے ہوئے ڈاکٹر کہ جن کے اساتید بھی ایک ہوتے ہیں،کورس بھی ایک ہے لیکن بیماری کی تشخیص اور اس کے لیے دوا کے نسخوں میں اختلاف موجود ہوتا ہے۔ لیکن ان سب کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ بیماری کا علاج کیا جائے۔ ایسے ہی باقی شعبوں میں بھی یہی صورتحال ہے۔