ایک دوسرے کو سلام کرنا
سلام کرنے کا فلسفہ کیا ہے ؟
سلام کرنے کے کیا فائدے ہیں ؟
کن لوگوں کو سلام کرنا مکروہ یا حرام ہے ؟
تحریر : تصورعباس خان
آج کے دور میں کہ جہاں ہر انسان پریشان ہے ، اعتماد کہیں کھو گیا ہے ، جس سے ملے اس سے دھوکہ یا فریب کھانے کا ڈر سا لگا رہتا ہے ۔ اس دوران سلام ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو ان تمام خطرات سے حفاظت کا پیغام دیتی ہے ۔ ایک ایسی نعمت ہے جو دوسرے انسانوں کے پریشان حال چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دیتی ہے اور انسان کو جب کوئی سلام کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ میری طرف سے تمہیں کوئی خطرہ نہیں ، تم پر سلامتی ہو ، تم شاد و آباد رہو ۔
سلام کرنے کے بہت سے نفسیاتی اثرات ہیں جو سامنے والے انسان کو پر سکون بنا دیتے ہیں ۔
علی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق ہر داخل ہونے والے انسان کی دہشت ہوتی ہے سلام کرنے سے یہ دہشت ختم ہو جاتی ہے اور لوگ پرسکون ہو جاتے ہیں ۔
اگر انسان چاہتا ہے کہ اس کی عمر طولانی ہو ، گھر میں خیر و برکت ہو تو اسے چاہیے کہ دوسرے لوگوں کو اور جب گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کرے
۔ سلام کرنے سے محبت اور دوستی بڑھتی ہے ۔ اسلامی معارف ہماری زندگی کو جنت بنا سکتے ہیں لیکن ضرورت ہے تو صرف ان پر عمل کرنے کی
قارئین کے مطالعہ کےلیے ہم کچھ آیات اور روایات کا ترجمہ پیش کرتے ہیں جن میں سلام کرنے کا فلسفہ اور فائدہ بیان کیا گیا ہے
پھر جب گھروں میں داخل ہونا چاہو تو اپنے لوگوں سے سلام کیا کرو جو اللہ کی طرف سے مبارک اور عمدہ دعا ہے سورہ نور آیت نمبر 61
اور جب تمہیں کوئی دعا(سلام کرے) دے تو تم اس سے بہتر دعا دو یا اس جیسی ہی کہو ۔۔ سورہ نسا آیت نمبر 86
رسول اکرم ص نے فرمایا
سلام خداوندمتعال کے ناموں میں سے ایک نام ہے پس اسے اپنے درمیان پھیلا دو ۔ بحار الانوار ج. ۷۶ ص. ۱۰
جب کوئی تمہارے پاس سے گزرے اور تم کھانا کھا رہے ہو اور وہ تم پر سلام کرے تو اسے کھانے کی دعوت دو اگر وہ سلام نا کرے تو تم بھی کھانے کی دعوت مت دو
بحار الانوار جلد 76 صفحہ 108
اگر کوئی انسان چاہتا ہے کہ غربت اس کے گھر میں داخل نا ہو تو گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرے چاہے کوئی گھر میں ہو یا نا ہو ۔
امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا
مغفرت کے اسباب میں سے ایک یہ ہے کہ ایک دوسرے کو سلام کیا کرو ۔غررالحکم ۱۹۷
اسی طرح فرمایا : لوگوں میں سے بخیل ترین وہ شخص ہے جو سلام نہیں کرتا
اب ہو سکتا ہے کہ ہر شخص کو سلام کرنے کا ہمارا انداز بھی مختلف ہو ، لیکن اگر یہ انداز دوسرے کی امیری یا غریبی کی وجہ سے ہو تو خداوندمتعال کے غضب کا سبب بنتا ہے ۔
امیرالمومنین علی علیہ السلام نے فرمایا
جو کوئی غریب انسان سے ملے اور اسے اس طرح سلام نا کرے جس طرح امیر کو کرتا ہے تو قیامت کے دن وہ خدا سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ خداوندمتعال کا اس پر غضب جاری ہو گا ۔(روضة الواعظین ج. ۲ ص. ۴۵۴
حضرت لقمان حکیم نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا
بیٹا جس سے بھی ملنا پہلے سلام اور مصافحہ کرنا پھر بات کرنا (الاختصاص، ص. ۳۳۳
رسول اکرم ص نے ارشاد فرمایا
ایک دوسرے کو سلام کرنے سے محبت بڑھتی ہے نهج الفصاحه ص. ۷۳
رسول اکرم ص نے انس سے فرمایا
جب بھی میرے کسی امتی سے ملو تو سلام کرو تا کہ تیری عمر طولانی ہو اور جب گھر میں جاو تو گھر والوں پر سلام کرو تا کہ تیرے گھر میں خیر وبرکت ہو ۔بحار الانوار ج 76 ص 3
امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے
کہ جس نے کہا السلام علیکم ، تو اس کےلیے دس نیکیاں ہیں جو (اس طرح سلام کرے ) السلام علیکم ورحمۃ اللہ تو اس کےلیے بیس نیکیاں ہیں اور جو اس طرح سلام کرے ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ تو اس کےلیے تیس نیکیاں ہیں ۔ وسایل الشیعه ج. ۸ ص. ۴۴۴
نھج الفصاحہ میں رسول اکرم ص سے حدیث ہے کہ فرمایا
سلام کرنا بھی صدقہ ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ بلاتفریق سب کو سلام کرنا چاہیے ؟ ۔ جہاں تک روایات کا تعلق ہے تو بعض روایات میں کچھ لوگوں کو سلام کرنے سے منع کیا گیا ہے جس سے بعض مجتھدین نے مکروہ مراد لیا ہے یعنی انہیں سلام کرنا مکروہ ہے جیسے اگر کوئی نماز پڑھ رہا ہے تو جان بوجھ کر اسے سلام کرنا مکروہ ہے ۔اسی طرح جوان لڑکی کو سلام کرنا مکروہ ہے یا تشییع جنازہ کے دوران بھی کہا گیا ہے کہ مکروہ ہے سلام کرنا ۔
بعض کو سلام کرنا شدید کراہت رکھتا ہے یہاں تک کہ بعض نے حرام قرار دیا ہے مثلا قمارباز کو سلام کرنا یا شراب خوار کو سلام کرنا اسی طرح ایسے شخص کو سلام کرنا جو دوسروں کو ماں اور بہن کی گالیاں دیتا ہے وغیرہ ۔
خداوندمتعال ہمیں اسلامی اور الہی معارف کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین