مہمان نوازی

مہمان نوازی
بسم اللہ الرحمن الرحیم

 اسلامی ثقافت  

پہلی قسط: مہمان نوازی

 اسلام سے پہلے مہمانوازی کی ثقافت

 روایات اہل بیت ع میں مہمان نوازی کی فضیلت

 بن بلائے مہمان بننا

 مہمان سے خداحافظی کا طریقہ

یہ سب مطالب آپ  اس قسط میں پڑھ سکتے ہیں

 تحریر: ڈاکٹر تصور عباس سرگانی

مہمان نوازی ایسی خوبصورت چیز ہے جس کو ہر معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ ہر مذہب اور ہر رنگ کے انسان مہمان نوازی کو اچھا سمجھتے ہیں ۔ ظہور اسلام سے پہلے دوران جاھلیت میں بھی مہمان نوازی کو لوگ اپنے لیے باعث فخر سمجھتے تھے  یہاں تک کہ رات کو صحرا میں آگ جلا کر بیٹھ جاتے تا  کہ اگر کوئی اجنبی شخص یہاں سے گزرے تو ہمارے پاس آ جائے اور ہم اس کی مہمان نوازی کر سکیں ۔ اس زمانے میں مہمان نوازی کی فضیلت کے بارے مختلف ضرب المثل مشہور و معروف تھیں مثلا کہتے کہ فلاں شخص کے گھر کی خاکستر زیادہ ہے ۔ یعنی اس کے گھر میں مہمان زیادہ آتے ہیں جن کی وجہ سے کھانا بھی زیادہ پکتا ہے نتیجتا خاکستر بھی زیادہ ہوتی ہے ۔ یا مثلا کہتے کہ فلاں آدمی کے صحن کا دروازہ نہیں ہے یعنی اس کے گھر اتنے زیادہ مہمان آتے ہیں کہ ان کے آنے جانے میں آسانی پیدا کرنے کےلیے گویا گھر کا دروازہ ہی نہیں رکھا ۔

مہمان نوازی انبیا کی سنت ہے خصوصا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ۔ روایت میں ہے جو مہمان نوازی کو اپنی صفت بنائے گا قیامت کے دن جنت میں حضرت ابراہیم  (ع)کے ساتھ ہوگا ۔ کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کوئی بھی کھانا بغیر مہمان کے نہیں کھاتے تھے ۔ یہاں تک کہ مشہور و معروف ہے کہ ایک دن حضرت ابراہیم ؑ کے ہاں مہمان نہیں تھا تو خود مہمان تلاش کرنے کےلیے نکل پڑے راستے میں پندرہ افراد ملے جو مزدور تھے حضرت ابراہیم ؑ نے ان کو کھانے کی دعوت دی اور ساتھ چلنے کا کہا ۔ انہوں نے انکار کر دیا کہ اگر ہم چلے گئے تو ہم تو کھانا کھا لیں گے لیکن اپنے بچوں کا پیٹ کیسے پالیں گے ؟ مزدوری پر نہیں جا سکیں گے ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے کہا کہ کھانا میرے پاس کھا لیں تمہیں اس کام کی اجرت بھی دوں گا ۔ اور ایسا ہی کیا ۔ ان لوگوں نے اس عمل سے متاثر ہوکر دین ابراہیمی کا کلمہ پڑھ لیا ۔

 دین اسلام نے بھی مہمان نوازی کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور اسلامی ثقافت میں اس کا بہت زیادہ مقام و مرتبہ ہے ۔ یہاں تک کہ فرمایا : جس گھر میں مہمان نا آتے ہوں وہاں رحمت کے فرشتے بھی داخل نہیں ہوتے ۔ (جامع الاخبار، ص 378 ، ح 1058

ساتھ معاشرے کی اس غلط رسم کو بھی رد کیا ہے کہ آجکل لوگ امیروں اور سیاستدانوں کو تو دعوت کرتے ہیں لیکن غریب لوگوں کو دھتکار دیتے ہیں

 رسول اکرم ص نے تو ایسے کھانے کو بدترین کھانا کہا ہے جسے امیروں کو بلا کر کھلایا جائے اور غریب لوگوں کو دھتکارا جائے ۔ فرمایا : بدترین غذا وہ غذا ہے جسے کھانے کےلیے پیٹ بھرے (یعنی امیر) لوگوں کو دعوت دی جائے اور بھوکے(غریب) لوگوں کو دھتکارا جائے ۔  (کنزالعمال، ح 25881

علی علیہ السلام کو خبر ملی کہ ان کی طرف سے مقرر کردہ بصرہ کے گورنر حضرت عثمان بن حنیف نے ایسی دعوت میں شرکت کی ہے جس میں صرف امیر لوگ مدعو تھے تو علی علیہ السلام نے فورا ایک خط تحریر فرمایا : اے فرزند حنیف مجھے خبر ملی ہے بصرہ کے ایک جوان نے تجھے دعوت دی ہے اور تو نے اس دعوت کو قبول کیا ہے اور انواع و اقسام کے کھانوں سے تیری خدمت کی گئی ہے مجھے توقع نہیں تھی کہ تو ایسی دعوت کو قبول کرے گا کہ جہاں محتاج لوگوں کو سفاکت کے ساتھ دھتکارا جاتا ہے اور امیر لوگوں کو مہمانی کےلیے بلایا جاتا ہے   ۔۔۔۔ پھر آگے فرمایا : جان لے تیرا امام وہ ہے جس کے پاس دو پرانے کپڑے ہیں اور اس نے دو روٹیوں پر قناعت کی ہے ۔ جان لو کہ تم اس قسم کی زندگی گزارنے پر قدرت نہیں رکھتے لیکن تقوی ؛ عبادت خدا میں کوشش ؛ پاکدامنی اور صداقت جیسی چیزوں کو اختیار کر کے میری مدد کر سکتے ہو ۔ (نہج البلاغہ مکتوب نمبر 45

اگر ہم ان روایات کا مطالعہ کریں  جس میں مہمان نوازی کی فضیلت اور اجر  و ثواب ذکر کیا گیا ہے تو انسان تعجب کیے بنا نہیں رہ سکتا ۔ ہم یہاں پر تبرکا کچھ روایات کا ذکر کرتے ہیں ۔

امیرالمومنین علی علیہ السلام نے فرمایا : مہمان جنت کی طرف لے جانے والا راہنما ہے جو مہمان کی قدر نہیں کرتا وہ میرا شیعہ اور پیروکار ہی نہیں ہے ۔ (لئالی‌الاخبار، ج ٣، ص ٦٦

رسول اکرم ص نے فرمایا :

 جو شخص مہمان نہیں بلاتا  اس کے وجود میں بھلائی کی کوئی امید نہیں ہے ۔المحجّة‌البَیضاء، ج ٣، ص ٣٢)

 جو مہمان کا احترام کرے گویا اس نے ستر انبیا کا احترام کیا ہے ۔ (لئالی‌الأخبار، ج ٣، ص ٦٦

 سخی افراد لوگوں کی غذا سے کھاتے ہیں (یعنی ان کی دعوت کو قبول کرتے ہیں )  تا کہ لوگ بھی اس کی دعوت کو قبول کریں ۔ (اور )کنجوس کسی کی دعوت کو قبول نہیں کرتے اس ڈر سے کہ کہیں انہیں کھانا کھلانا نا پڑے ۔(بحار جلد75صفحہ 446

علی علیہ السلام نے فرمایا:

 مہمان کی عزت کرو چاہے تیری نگاہ میں وہ چھوٹا اور حقیر ہو (اسی طرح ) اپنے والد اور استاد کے احترام میں کھڑے ہو جاو چاہے تم حاکم اور فرمانروا ہی کیوں نا ہو (فهرست غرر، ص ٢١١

رسول اکرم (ص) نے فرمایا:

 مہمان اپنے رزق کے ساتھ آتا ہے اور میزبان کے گناہوں (کی بخشش )کے ساتھ جاتا ہے یعنی میزبان اور اس کے اہل خانہ کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں (۔مستدرک، ج ١٦، ص ٢٥٨

رسول اکرم ص نے فرمایا :

 اگر تیرا (دینی) بھائی بغیر دعوت کے آ جائے تو جو کچھ گھر میں ہے اس سے اس کی خدمت کرو لیکن اگر پہلے سے دعوت دی ہوئی ہے تو پھر تکلف سے کام لے یعنی باقاعدہ اچھے کھانے بنوائے (جواهر‌الکلام، ج ٣٦، ص ٤٧٥

 جب ایک مہمان ایک مومن کے گھر آتا ہے تو ہزار برکتیں اور ہزار رحمتیں ساتھ لاتا ہے اور خداوند متعال اس کے ہر لقمے کے بدلے ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب میزبان کے نامہ اعمال میں لکھتا ہے (لئالی‌الاخبار، ج ٣، ص ٦٦

امیر المومنین ع نے فرمایا :

 جو مہمان کی مہمان نوازی کرے گا تو وہ جنت میں میرے اور ابراھیم نبی کے ساتھ ہو گا (لئالی‌الأخبار، ج ٣، ص ٦٦

رسول اکرم ص نے فرمایا :

 جب مہمان تیرے گھر آئے تو جان لے کہ خداوندمتعال نے مہمان بھیج کر تجھ پر احسان اور رحمت کی ہے تا کہ اس طرح تیرے گناہ معاف فرمائے ۔(لئالی‌الاخبار، ج ٣، ص ٦٦

 جو بھی مہمان کے گھر میں داخل ہونے کا سنے اور خوش ہو جائے تو اس کے سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں چاہے زمین و آسمان کے برابر ہی کیوں نا ہوں (جامع‌السعادات، ج ٢، ص ١٥٠

اب اگر کوئی دعوت کرے تو ضروری ہے کہ انسان اس کی دعوت کو قبول کرے ۔

فرمایا : *مومن بھائی کا ایک حق تجھ پر یہ ہے کہ اگر تجھے دعوت دے تو اس کی دعوت کو قبول کر ۔

 اب اگر کوئی قبول نا کرے تو روایات میں ہے کہ گویا اس نے اللہ اور رسول کی نا فرمانی کی ہے ۔

ایک اور پہلو جس کی طرف روایات میں  اشارہ کیا گیا ہے وہ ہے بن بلائے کسی دعوت میں جانا ۔

اگر کسی نے چند دوستوں کو دعوت دے رکھی ہے تو انسان کے لیے ٹھیک نہیں کہ بن بلائے وہاں پہنچ جائے اور کھانا کھائے ۔روایات میں ایسے شخص کے لیے چور کا لفظ استعمال کیا گیا اور ساتھ کہا گیا ہے اگر اس نے اس دعوت میں کھایا تو گویا پیٹ میں آگ بھری ہے (جواهر‌الکلام، ج ٣٦، ص ٤٦٩

اسلامی ثقافت میں مہمان نوازی کی سنت یہ ہے کہ انسان مہمان کو جب رخصت کرے تو دروازے تک اس کے ساتھ چل کر آئے ۔

 رسول اکرم ص نے فرمایا : سنت میں سے یہ بھی ہے کہ مہمان کو گھر کے دروازے پر آ کر رخصت کریں ۔یعنی گھر کے گیٹ تک اس کے ساتھ چل کر آئے اور خداحافظی کرے