آج کی ڈائری – امام حسین علیہ السلام کی شہادت پر گریہ کا فلسفہ

آج کی ڈائری – امام حسین علیہ السلام کی شہادت پر گریہ کا فلسفہ

بعض لوگ کہتے ہیں کہ امام حسینؑ شہید ہوئے، شہادت جیسی عظیم سعادت پائی، جنت میں گئے، پھر ان پر رونا کیوں؟یہ اعتراض سننے میں جتنا سادہ لگتا ہے، حقیقت میں اتنا ہی گہرا مغالطہ اپنے اندر رکھتا ہے۔کیونکہ شیعہ امام حسینؑ کے جنت میں جانے پر نہیں روتا، بلکہ اس پر روتا ہے کہ امت نے جنتی انسان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔

شہادت یقیناً عظیم ترین سعادت ہے۔ قرآن بھی شہداء کو مردہ نہیں کہتا بلکہ زندہ قرار دیتا ہے۔ لیکن کیا شہادت کی عظمت اس ظلم کو بھی عظمت بنا دیتی ہے جو شہید پر ڈھایا گیا ہو؟ کیا جنت میں چلے جانا قاتل کے جرم کو چھوٹا کر دیتا ہے؟ کیا مظلوم کا بلند مقام ظالم کی سنگینی کو ختم کر دیتا ہے؟

اگر ایسا ہے تو پھر دنیا میں کسی مظلوم پر آنسو بہانے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔

قرآن مجید خود ہمیں اس سوچ کی تردید سکھاتا ہے۔

حضرت یعقوبؑ جانتے تھے کہ حضرت یوسفؑ اللہ کے نبی ہیں، اللہ کے محبوب ہیں، ان کا انجام خیر ہی خیر ہے۔ پھر بھی قرآن کہتا ہے:

«وَابْیَضَّتْ عَیْنَاہُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ»

غم کی شدت سے ان کی آنکھیں سفید ہو گئیں۔

یہ گریہ اس لیے نہیں تھا کہ یوسفؑ کا انجام برا ہو گیا تھا، بلکہ اس لیے تھا کہ ایک باپ اپنے بیٹے کی جدائی اور اس پر ہونے والے ظلم کے درد سے گزر رہا تھا۔

اگر ایک نبی کا گریہ آخرت کے انجام پر اعتراض نہیں، تو پھر حسینؑ پر گریہ اعتراض کیسے بن گیا؟

حقیقت یہ ہے کہ کربلا کے بارے میں شیعہ کا اصل سوال یہ ہے کہ

نواسۂ رسولؐ کو پیاسا کیوں شہید کیا گیا؟

رسولؐ کی بیٹی کے بچوں کو قیدی کیوں بنایا گیا؟

اہل بیتؑ کے خیمے کیوں جلائے گئے؟

لاشوں کو تین دن تک دفن ہونے سے کیوں روکا گیا؟

جس خاندان کی محبت کو قرآن نے اجرِ رسالت قرار دیا، اسی خاندان کی حرمت کیوں پامال کی گئی؟

ذرا ایک لمحے کے لیے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے۔

اگر کسی شخص کے والد کو بے گناہ قتل کر دیا جائے، اس کی لاش کی بے حرمتی کی جائے، اس کے خاندان کو رلایا جائے، اس کے بچوں کو یتیم کر دیا جائے، اور پھر کوئی آ کر کہے:

“کیوں روتے ہو؟ وہ تو جنت میں چلے گئے ہیں!”

کیا یہ جملہ اس کے زخم بھر دے گا؟

کیا جنتی ہونا قاتل کے جرم کو معاف کر دیتا ہے؟

کیا شہادت مظلومیت کو ختم کر دیتی ہے؟

ہرگز نہیں۔

وہ یہی کہے گا:

“مجھے ان کے جنتی ہونے پر اعتراض نہیں، مجھے قاتل کے ظلم پر دکھ ہے۔”

یہی کربلا کا فلسفہ ہے۔

اسی لیے شیعہ امام حسینؑ کی شہادت پر فخر کرتا ہے، لیکن یزیدی ظلم پر روتا ہے۔

اسی لیے ایک طرف وہ کہتا ہے:

الحمد للّٰہ علیٰ کرامۃ الحسین بالشہادۃ

اور دوسری طرف عرض کرتا ہے:

اعظم اللّٰہ اجورنا بمصابنا بالحسین

شہادت پر شکر، مصیبت پر گریہ۔

یہ تضاد نہیں، یہی محبت کا تقاضا ہے۔

اگر شہید کے جنتی ہونے کی وجہ سے اس پر غم کرنا غلط ہوتا، تو پھر رسول اللہ ﷺ کا اپنے چچا حضرت حمزہؑ پر گریہ کیوں تھا؟ حضرت جعفرؑ کی شہادت پر آنسو کیوں تھے؟ اپنے فرزند ابراہیمؑ کی وفات پر آنکھیں کیوں نم ہوئیں؟

کیا رسول اللہ ﷺ کو معلوم نہ تھا کہ یہ اللہ کے مقرب بندے ہیں؟

یقیناً معلوم تھا۔

مگر آنسو آخرت کے انجام پر اعتراض نہیں ہوتے؛ آنسو محبت، وفاداری اور مظلومیت کی گواہی ہوتے ہیں۔

اسی لیے مکتبِ اہل بیتؑ میں گریہ صرف ایک جذباتی عمل نہیں، بلکہ ایک شعوری موقف ہے۔

یہ آنسو اعلان کرتے ہیں کہ:

ہم ظلم کے ساتھ نہیں ہیں۔

ہم قاتل کے ساتھ نہیں ہیں۔

ہم فرزندِ رسولؐ کے ساتھ ہونے والی بے حرمتی کو ایک معمولی تاریخی واقعہ نہیں سمجھتے۔

یہی وجہ ہے کہ خود اہل بیتؑ نے کربلا کو فراموش نہیں کیا۔

تاریخ گواہ ہے کہ امام زین العابدینؑ نے کربلا کو یاد رکھا، امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ نے ذکرِ حسینؑ کو زندہ رکھا، اور ائمہؑ نے اپنے ماننے والوں کو مصائبِ حسینؑ سنانے اور سننے کی ترغیب دی۔

کیوں؟

کیونکہ کربلا صرف ایک شہادت نہیں تھی۔

کربلا حق اور باطل کا معرکہ تھی۔

کربلا وفا اور خیانت کی سرحد تھی۔

کربلا وہ زخم تھی جو رسول اللہؐ کے قلبِ مبارک پر لگایا گیا۔

کربلا وہ دن تھا جب امت نے اپنے ہی نبیؐ کے گھرانے کو تنہا چھوڑ دیا۔

اسی لیے شیعہ جب امام حسینؑ پر روتا ہے تو درحقیقت یہ کہہ رہا ہوتا ہے:

“اے حسینؑ! ہمیں غم اس بات کا ہے کہ امت نے آپ کو پہچانا نہیں۔

ہمیں غم اس بات کا ہے کہ جسے رسولؐ اپنے کندھوں پر اٹھاتے تھے، اسے امت نے تلواروں کے نرغے میں لے لیا۔

ہمیں غم اس بات کا ہے کہ جس گھر پر جبرائیل اترتے تھے، اس گھر کی بیٹیوں کو اسیر بنایا گیا۔

ہمیں غم اس بات کا ہے کہ قرآن پڑھنے والی امت نے قرآن کے سب سے سچے ترجمان کے خون سے زمین رنگ دی۔”

لہٰذا شیعہ کا گریہ موت پر نہیں، مظلومیت پر ہے۔

یہ آنسو شہادت کے خلاف احتجاج نہیں، ظلم کے خلاف احتجاج ہیں۔

یہ جنت کے خلاف نہیں، یزیدیت کے خلاف ہیں۔

اور جب تک دنیا میں ظلم کے خلاف نفرت اور مظلوم کے ساتھ محبت زندہ ہے، تب تک کربلا کے آنسو بھی زندہ رہیں گے۔

کیونکہ مکتبِ اہل بیتؑ کا پیغام یہی ہے:

حسینؑ کی شہادت سعادت ہے، اس پر شکر ادا کیا جاتا ہے؛ لیکن حسینؑ کی مظلومیت مصیبت ہے، اور اس پر آنسو بہائے جاتے ہیں۔

تحریر: مولانا تصورعباس خان ،
پرنسپل امام رضا کمپلیکس چوک اعظم ضلع لیہ