آج کی ڈائری – دس محرم کا روزہ

آج کی ڈائری – دس محرم کا روزہ

عاشوراء کا دن ہمارے لیے شکرانے کا دن نہیں، زخموں کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب رسول خداؐ کے نواسے، جگر گوشۂ بتولؑ، امام حسینؑ کو کربلا کی تپتی ریت پر پیاسا شہید کر دیا گیا۔ یہ وہ دن ہے جب علی اکبرؑ کا جوان جنازہ اٹھا، علی اصغرؑ کے ننھے گلے پر تیر چلا، اہلِ حرمؑ پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹے اور خاندانِ نبوتؑ کو اسیری کے سفر پر روانہ کیا گیا۔ کربلا کا المیہ اتنا عظیم ہے کہ اسے بیان کرنے کے لیے نہ افسانوں کی ضرورت ہے، نہ مبالغوں کی؛ حسینؑ کی اصل مظلومیت ہی انسان کے دل کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔

 اسی لیے جب عاشوراء کے دن کو برکت، فضیلت یا خوشی کے اظہار کے دن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا وہ دن جس پر فرزندِ رسولؐ کا خون بہایا گیا، جس دن اہل بیتؑ کے خیموں میں ماتم برپا تھا، اور جس دن زینبؑ و سکینہؑ مصیبتوں کے سمندر میں ڈوبی ہوئی تھیں، کیا وہ دن امت کے لیے جشن، برکت اور خوشی کا عنوان بن سکتا ہے؟

 اہل بیتؑ سے منقول روایات ہمیں بتاتی ہیں کہ عاشوراء کو ثوابِ مخصوص، برکت اور خوشی کے دن کے طور پر اختیار کرنا ان کی تعلیمات کا حصہ نہیں۔ ائمہؑ نے اس دن کو یادِ حسینؑ، یادِ مظلومیت اور یادِ حق کے طور پر زندہ رکھا۔ ان کے نزدیک عاشوراء محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ حق و باطل کے درمیان کھینچی گئی وہ لکیر ہے جو ہر دور کے انسان سے وفاداری، بصیرت اور موقف کا مطالبہ کرتی ہے۔

 ہم رسول اللہؐ کی سنت کے مخالف نہیں، بلکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ رسول اللہؐ کی سنت کے سب سے بڑے محافظ ان کے اہل بیتؑ ہیں۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ اگر عاشوراء کا روزہ اس دن کی مستقل فضیلت اور خوشی کا شعار ہوتا تو امام باقرؑ، امام صادقؑ اور دیگر ائمہؑ اس دن کو یومِ حزن کیوں قرار دیتے؟ وہ خود اس دن گریہ کیوں کرتے؟ اپنے شیعوں کو مصیبتِ حسینؑ یاد رکھنے کی تلقین کیوں فرماتے؟

 بعض روایات میں حضرت موسیٰؑ کی نجات کی مناسبت سے عاشوراء کے روزے کا ذکر ملتا ہے، لیکن کربلا کے بعد اصل سوال یہ ہے کہ اہل بیتؑ نے امت کو اس دن کا رخ کس طرف موڑا؟ کیا انہوں نے اسے عید اور شکرانے کا دن بنایا یا گریہ، عزاداری اور یادِ مظلومیت کا دن؟ ائمہؑ کا عملی طرزِ عمل اس سوال کا واضح جواب دیتا ہے۔

 تاریخ گواہ ہے کہ بنی امیہ نے عاشوراء کو برکت، خوشی اور جشن کے رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی تاکہ کربلا کی تپش آہستہ آہستہ دلوں سے نکل جائے اور فرزندِ رسولؐ کی مظلومیت پس منظر میں چلی جائے۔ لیکن اہل بیتؑ نے اس تحریف کا مقابلہ اشکوں سے کیا، عزاداری سے کیا اور یادِ حسینؑ کو زندہ رکھ کر کیا۔انہوں نے امت کو یہ سکھایا کہ ظلم کے مقابلے میں خاموشی نہیں، مظلوم کی یاد ضروری ہے؛ اور حسینؑ پر گریہ صرف آنسو بہانے کا نام نہیں بلکہ حق کے ساتھ وفاداری کا اعلان ہے ۔

 اسی لیے شیعہ فقہاء نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص غمِ حسینؑ میں صبح سے عصر تک کھانے پینے سے اجتناب کرے تو یہ سوگ اور ہمدردی کی ایک صورت ہو سکتی ہے، لیکن اسے ثوابِ مخصوص اور برکت والے شرعی روزے کا عنوان نہیں دیا جا سکتا۔ کیونکہ عاشوراء کا اصل عنوان مصیبتِ حسینؑ ہے، نہ کہ خوشی اور برکت کا اظہار۔

 آخر انسان اپنے ضمیر سے پوچھے: جس دن حسینؑ بے یار و مددگار خاکِ کربلا پر رہ گئے، جس دن علی اصغرؑ کی پیاس کا جواب تیر سے دیا گیا، جس دن زینبؑ کے خیموں کو آگ لگائی گئی، اور جس دن اہل بیتؑ کے سروں سے ردائے عزت چھین لی گئی، کیا وہ دن خوشی کا دن ہے یا غم کا؟ کیا وہ دن جشن کا دن ہے یا وفا کا؟ کیا وہ دن برکت تلاش کرنے کا دن ہے یا حسینؑ کی مظلومیت کو یاد رکھنے کا؟

 عاشوراء کا پیغام صرف ایک روزے کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک موقف کا نام ہے۔ یہ دن ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کے ساتھ کھڑا ہونا، ظلم کو پہچاننا، مظلوم کا ساتھ دینا اور حسینؑ کی قربانی کو فراموش نہ کرنا ہی حقیقی وفاداری ہے۔عاشوراء جشن کا نہیں، شعور کا دن ہے؛ مسرت کا نہیں، بصیرت کا دن ہے؛ اور برکت کی تلاش سے بڑھ کر حسینؑ کی مظلومیت کو زندہ رکھنے کا دن ہے۔ یہی اہل بیتؑ کا راستہ ہے اور یہی ان کے سچے چاہنے والوں کی پہچان۔

مولانا تصورعباس خان
پرنسپل امام رضا کمپلیکس چوک اعظم ضلع لیہ