اربعین کی فضیلت (راجہ مظفر عباس)

اربعین کی فضیلت آئمه معصومین(ع) کے کلام میں :::اربعین حسینی کی اہمیت اس لئے ہےکہ اربعین میں امام حسین (ع) کی شہادت کی یاد زندہ ہو گئی اور یہ بہت اہم بات ہے۔آپ غور کیجئےکہ اگر بنی امیہ، امام حسین (ع) اور انکے اصحاب با وفا کو صفحہ ہستی سے مٹانے میں کامیاب ہوجاتے اور ان کی یاد اس زمانے کے انسانوں اور آیندہ نسلوں کے ذہن سے مٹا دیتے، کیا ایسی صورت میں یہ شہادت عالم اسلام کےلئے مفید ہوتی؟

اگر اس زمانے کےلئے موثر بھی ہوتی تو کیا یہ واقعہ تاریخ میں آیندہ نسلوں کےلئے، مشکلات میں، تاریکیوں میں، ظلمتوں میں اور تاریخ میں ظاہر ہونے والے یزیدیوں کا گریبان چاک کرتا اور واضح طور پر اثر انداز ہوتا؟

اگر امام حسین (ع) شہید ہوجاتے، لیکن اس زمانے اور آیندہ نسلوں کو اس کا علم نہيں ہوتا کہ حسین شہید ہو گئے تو یہ واقعہ قوموں، معاشروں اور تاریخ کے ارتقاء، تعمیر اور ہدایت میں کتنا موثر ہوتا؟

ہاں امام حسین (ع) شہید ہوجاتے اور وہ خود خدا کی خوشنودی اور رضا کے بلند درجات پر فائز ہوجاتے، وہ شہید کہ جو پردیس میں اور تنہائی میں خاموشی سے شہید ہو گئے، آخرت میں انہیں ان کا اجر ملےگا، وہ کتنا نمونہ عمل قرار پائے، وہ شہید مشعل راہ بنتا ہےکہ جس کی شہادت اور مظلومیت کو اس کی ہم عصر نسلیں اور آیندہ نسلیں یاد رکھتی ہیں، وہ شہید نمونہ عمل بنتا ہےکہ جس کا خون اچھل کر تاریخ پر محیط ہوجاتا ہے، ایک قوم کی مظلومیت اس وقت ظلم و بربریت کے کوڑوں سے لہولہان قوموں کے جسموں پر مرحم رکھ سکتی ہےکہ یہ مظلومیت ندا بن جائے، یہ مظلومیت دوسرے انسانوں کے کانوں تک پہنچے.

اس وقت بھی استعماری طاقتیں آمادہ تھیں کہ جو کچھ ہے وہ لٹا دیں تاکہ امام حسین (ع) اور خون حسین کا نام و نشان اور عاشور اس زمانے اور آیندہ آنے والی قوموں کےلئے ایک سبق کی صورت میں باقی نہ رہ سکے اور اس کی شناخت مٹ جائے؛ تاہم آغاز میں لوگوں کو نہیں معلوم تھا کہ یہ واقعہ کتنا عظیم ہے، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا لوگ اس کی عظمت سے واقف ہوتے گئے۔

بنی عباس کی حکومت کے وسطی دور میں یہاں تک کہ امام حسین علیہ السلام کے روضہ مبارک کو تباہ کیا گیا، قبر مطہر پر پانی ڈالا گیا، وہ چاہتے تھےکہ قبر کا نام نشان مٹ جائے۔شہیدوں اور شہادت کی یاد کا کردار یہ ہے، شہادت بغیر تذکرہ، بغیر یاد کے، شہید کے خون میں جوش و خروش کے بغیر اپنا اثر نہیں دکھاتی ہے اور ” اربعین ” وہ دن ہےکہ جس دن واقعہ کربلا کے پیغام کا پرچم لہرانا شروع ہوا اور اس دن شہدا کی یاد جاوداں ہو گئی۔

پہلا چہلم وہ دن ہےکہ جب حسین ابن علی (ع) کے مشہور زائر پہلی بار کربلا آئے، پیغمبر اسلام (ص) اور امیرالمومنین (ع) کے صحابی جابر ابن عبداللہ انصاری اور عطیہ آئے، جابر جو نابینا تھے، عطیہ نے ان کا ہاتھ تھاما اور امام حسین (ع) کی قبر پر رکھ دیا؛ انہوں نے قبر کو مس کیا اور رونے لگے اور حسین بن علی علیھما السلام سے گفتگو کرنے لگے اور اپنی گفتگو سے حسین بن علی (ع) کی شہادت کی یاد کو زندہ کردیا اور شہدا کی قبروں کی زیارت کی سنت کی بنیاد رکھی؛ اس طرح کا اہم دن ” اربعین ” کا دن ہے۔

امام حسین (ع) کا قیام عدل و انصاف قائم کرنے کےلئے تھا:

وَ إِنَّما خَرَجْتُ لِطَلَبِ الاِصْلاحِ فى أُمَّةِ جَدّى، أُريدُ أَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهى عَنِ الْمُنْكَرِ…” زیارت اربعین میں کہ جو بہترین زیارتوں میں سے ایک ہے، ہم پڑھتے ہیں کہ  وَ مَنَحَ النُّصْحَ وَ بَذَلَ مُهْجَتَهُ فِيكَ لِيَسْتَنْقِذَ عِبَادَكَ مِنَ الْجَهَالَةِ وَ حَيْرَةِ الضَّلالَةِ …

اس عظیم ہستی کا کردار اور تمام اقوال اور معصومین (ع) سے روایت ہونے والے آنحضرت کے بارے میں اقوال اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ شہادت کا مقصد، عدل و انصاف کو قائم کرنا، دین خدا کی حفاظت، شریعت کا نفاذ اور ظلم و جور و سفاکیت کی بنیادوں کو اکھاڑ پھینکنا تھا۔

اربعین کا لفظ دینی نکتہ نظر سے اور احادیث میں بہت بڑی فضیلت کا حامل ہے۔  چالیس حدیثوں کو یاد کرنے کی تاثیر ، چالیس دن خلوص سے عمل کرنا، چالیس دن صبح کو دعائے عہد کی تلاوت کرنا، چالیس سال کی عمر میں عقل انسانی  کا  کامل ہونا، میت کیلئے چالیس مومنیں کی گواہی، امام زمانہ کی زیارت اور دیدار کیلئے چالیس بدھ کی راتوں میں توسل اور عبادت کو انجام دینا،اکثر انبیاء کا چالیس سال کی عمر میں مبعوث ہونا، یہ موارد اس علمی، اسلامی اور عرفانی اصطلاح کی منزلت کی عکاسی کرتے ہیں۔ اربعین ان رائج اصطلاحات میں سے ہے جو اسلامی عبارتوں میں بہت زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ اربعین یا چالیس ایک ایسا عدد ہے جو بڑ ی خصوصیتوں کاحامل ہے مثلازیادہ ترانبیاء چالیس سال کی عمر میں مبعوث بہ رسالت ہوئے ، موسیٰ اور خداکی خصوصی ملاقات چالیس شب قرار پائی نماز شب میں بھی سفارش کی گئی ہے کہ چالیس مومنین کے لئے دعا کی جائے ، ہمسایوں کے احکام میں چالیس گھر تک کو شام کیا گیا ہے ،روایتوں میں ہے کہ کوہ زمین جہاں کہ انبیاء یا ولی یا کسی بند ہ مومن نے عبادت کی ہے ، انکے مرنے کے بعد چالیس دن تک زمین ان پر روتی ہے ، یا لکھا گیا ہے کہ امام حسین کی شہادت کے بعد چالیس دن تک زمین وآسمان خون کے آنسوروتے رہے و… بہر حال ہمارا مقصد عدد چالیس کی فضیلت بیان کرنانہیں ہے بلکہ ہمارا مقصد ایک ایسی حیات بخش شی کی فضیلت بیان کرنا ہے جو اسی عدد کے ذریعہ جامعہ بشریت میں مشہور ہے اس مقالے  میں هم اربعین جیسے مقدس لفظ کے اسلامی  ثقافت  میں مختلف مقامات میں استعمال ہونے کو بیان کرنا چاہتے ہیں  جو کبھی اپنے ساتھ دستور الہی کو بیان کرتا ہے تو کبھی اخلاقی ذمه داری کو،هم مختصر انداز  میں ذیل میں کچھ ایسےموارد کی طرف اشاره کریں گے جو که اربعین کے ساتھ مختلف حوالوں سے مناسبت رکھتے هیں :

1۔ چالیس مومنین کی شہادت اور گواہی

امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: اذا مات المؤمن فحضر جنازته اربعون رجلا من المؤمنين وقالوا: اللهم انا لانعلم منه الا خيرا وانت اعلم به منا، قال الله تبارک وتعالي: قد اجزت شهاداتکم وغفرت له ما علمت مما لا تعلمون[1]؛

جب بھی کسی مومن کا انتقال ہوتا ہےاور اس کے جنازے میں چالیس مومنین حاضر ہوتے ہیں  اور گواہی دیتے ہیں : پروردگارا! ہم اس مومن کے بارے میں نیکی اور خیر کے علاوہ کچھ نہیں جانتے تو اس کے بارے میں ہم سے بہتر جانتا ہے۔ تو اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: میں تم لوگوں کی گواہی کو قبول کرتا ہوں اور جن گناہوں کے بارے میں تم نہیں جانتے اور میں جانتا ہوں  وہ سارے کے سارے معاف کرتا ہوں۔

اسی طرح امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا جو ہمیشہ عبادت اور اللہ تعالی کے ساتھ راز و نیاز میں مشغول رہتا تھا ۔ اللہ تعالی نے حضرت داوود پر وحی نازل فرمائی: یہ عابد ریاکار ہے اور کوئی خلوص نہیں رکھتا۔ حضرت داوود اس کی تشییع جنازہ کے لئے حاضر نہ ہوئے لیکن بنی اسرائیل کے چالیس مومنین وہاں حاضر ہوئے اوراللہ تعالی کی بارگاہ میں اس میت کیلئے نیکی اور خوبی کی گواہی دی اور اللہ تعالی سے اس میت کی مغفرت طلب کی۔ غسل میت کے دوران دوسرے چالیس مومنین نے بھی مغفرت طلب کی۔ اسی طرح دفن کے دوران بھی چالیس مومنین  نےاس میت کی نیکی اور خوبی کی گواہی دی اور اس کیلئے اللہ تعالی سے مغفرت طلب کی۔ اس وقت اللہ تعالی نے حضرت داوود پر الہام فرمایا: میں نے اتنی تعداد میں مومنین کی گواہی کی وجہ سے اس میت کے گناہوں اور ریاکاری سے درگذر فر مایا [2]۔

2۔ چالیس مومنین کیلئے دعا کرنا

چھٹے امام جعفر صادق علیہ السلام دعا کی قبولیت کے اہم ترین عوامل میں سے  ایک، اپنے لئے دعا سے پہلے دوسرے مومنین کے مقدم کرنے کو شمار کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: من قدم اربعين من المؤمنين ثم دعا استجيب له؛[3]

جو بھی اپنے لئے دعا کرنے سے پہلے چالیس مومنین کو مقدم کرے اور پھر اپنے لئے حاجت طلب کرے تو اس کی دعا قبول ہوگی۔

آپ تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : اگر اس طرح نماز شب یا اس کے بعد دعا مانگی جائے تو اس دعا کا اثر اور بڑھ جاتا ہے[4]۔

اسی طرح چالیس مومنین کیلئے تاریک راتوں کی نماز وتر کے قنوت میں دعا مانگنے سے دعا قبولیت سے زیادہ قریب ہوجاتی ہے[5]۔

3۔ چالیس لوگوں کا دعا کرنا

دعا کرنا ہمیشہ ایک اچھا کام ہے، دعا مومن کا ہتھیار ہے، دعا اللہ تعالی سے راز و نیاز کرنے کا ذریعہ ہے۔

جب انسان خود کو عاجز اور لاچار پاتا ہے تو  دل اور جان سے فریاد کرتا ہے:

پروردگارا! میرا سینہ درد سے چھلنی ہے میری مدد فرما۔ میرا دل تنہائی کی وجہ سے پریشان ہے میری پریشانی دور فرما۔

ان حساس لمحات میں دعا  امید کی ایک کرن بن کر اس انسان کے دل کو روشن کردیتی ہے۔ دعا کرنے والا اپنے اندر سکون محسوس کرنے کے علاوہ   اعتماد نفس، روحانی لذت، عشق اور معرفت کو بھی پا لیتا ہے۔

امام صادق علیہ السلام اپنے ایک حکیمانہ کلام میں ہمیں اجتماعی دعا کرنے کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:اگر چالیس مومنین مل کر اللہ تعالی سے دعا مانگیں یقین اور اطمنان ہے کہ وہ دعا ضرور قبول ہوگی۔ اور اگر چالیس لوگ نہ ہوں اور چار لوگ دس بار اللہ تعالی سے دعا مانگیں تو وہ دعا بھی اتنا ہی اثر رکھتی ہے۔ اور اگر ایک بندہ دس بار اللہ تعالی سے دعا مانگے تو خداوند عزیز اور جبار اس کی دعا کو قبول کرتا ہے[6]۔

4۔ چالیس گناہوں کی معافی

امام محمد باقر علیہ السلام مسلمانوں کے ایک دوسرے پر حقوق میں سے  ایک، ان کے جنازے میں شرکت کرنے کو شمار کرتے ہیں۔ مسلمان کے جنازہ میں شرکت کرنے کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کی معنوی تاثیر کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

من حمل جنازة من اربع جوانبها غفرالله له اربعين کبيرة[7]؛

جو بھی جنازہ کو چاروں طرف سے کاندھا دے گا اللہ تعالی اس کے چالیس گنا ہوں کو معاف فرمائے گا۔

5۔ چالیس سالوں میں عقل کا کامل ہونا

جن چیزوں کا انسانی زندگی اور اس کی شخصیت اور کمال میں بہت بڑا اثر ہے ان میں سے ایک انسان کا کامل اور پختہ ہونا ہے۔ اللہ تعالی اس سلسلے میں چالیس سالوں کو انسانی زندگی کی معراج مانتا ہے اور فرماتا ہے:

… حتى اذا بلغ اشده وبلغ اربعين سنة قال رب اوزعنى ان اشکر نعمتک التى انعمت على وعلى والدى وان اعمل صالحا ترضيه واصلح لى فى ذريتى انى تبت اليک وانى من المسلمين[8] ؛

6۔ چالیس دن کے خلوص کے اثرات

امام رضا علیہ السلام ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ارشاد فرمایا:

ما اخلص عبد لله عزوجل اربعين صباحا الا جرت ينابيع الحکمة من قلبه على لسانه[9]؛

جو بھی چالیس دنوں تک اللہ تعالی کیلئے خلوص سے عمل کرتا رہے گا اللہ تعالی اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت کے چشمے جارے فرمائے گا۔

7۔ امام زمانہ کے ساتھی

جب امام زمانہ ظہور فرمائیں گے تو ان کے ہر مددگار اور شیعہ ساتھی کی قوت اور طاقت،  جسمانی اور روحانی لحاظ سے مضبوط چالیس مردوں جتنی ہوگی۔

امام زین العابدین علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:

اذا قام قائمنا اذهب الله عزوجل عن شيعتنا العاهة وجعل قلوبهم کزبر الحديد وجعل قوة الرجل منهم قوة اربعين رجلا؛[10]

جب ہمارے قائم عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کا ظہور ہوگا تو اللہ تعالی ہمارے شیعوں سے آفت اور بلاءوں کو دور کرے گا اور ان میں سے ہر ایک کو چالیس مردوں کی طاقت عنایت فرمائے گا۔

8۔ چالیس دن مومن کیلئے عزاداری

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مومن کے مقام کے متعلق ابوذر کو سفارش کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

يا اباذر! ان الارض لتبکى على المؤمن اذا مات اربعين صباحا؛[11]

اے ابوذر! جب مومن اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو چالیس دنوں تک یہ زمین اس پر گریہ اور عزاداری کرتی ہے۔

ممکن ہےمومنین کے چہلم کی مجالس کی یہی دلیل ہو۔

9۔ چالیس سالہ زندگی

جب فرزدق نےظالم عباسی خلیفہ ہشام ابن عبد الملک کے سامنے  امام زین العابدین علیہ السلام کی مدح میں ایک بہترین قصیدہ خوبصورت انداز میں پڑھا جس کا مطلع یہ تھا: هذا الذى تعرف البطحاء وطاته

والبيت يعرفه والحل والحرم؛

اسے سرزمین بطحا اور اس کی گلیاں جانتی ہیں۔ اسے اللہ کا گھر بیت الحرام، حل اور حرم پہچانتے ہیں۔

تو خلیفہ، فرزدق پر بہت ناراض ہوا ۔ اور اس نے حکم دیا کہ فرزدق کا ماہانہ قطع کرتے ہوئے اس کو  اہلبیت کے حق سے دفاع  کرنے کے جرم میں قید کیا جائے۔ لیکن وہ امام زین العابدین علیہ السلام کی دعا سے چند دنوں میں ہی رہا ہو گیا۔ امام زین العابد علیہ السلام ین نے اس کی چالیس سالہ زندگی کے خرچ جتنا مال اس کیلئے تحفہ بھیجااور فرمایا:

 لو علمت انک تحتاج الى اکثر من ذلک لاعطيتک؛[12]

اے فرزدق! اگر مجھے تیری چالیس سال سے  زیادہ زندگی کا علم ہوتا تو میں اس سے زیادہ مال تمہیں بھیجتا۔

علی ابن یونس بیاضی لکھتے ہیں: اس تاریخ سے دقیقا چالیس سال بعد فرزدق نے اس فانی دنیا کو خدا حافظ کہا جس سے امام زین العابدین علیہ السلام کی صداقت اور کرامت سب پر روشن ہوگئی۔

10۔ چالیس سالوں کی عمر میں انبیا کی بعثت

ایک روایت میں آیا ہے کہ اکثر انبیا کی بعثت چالیس سالوں کی عمر میں ہوئی۔[13]

اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ و ٓلہ و سلم بھی چالیس سالوں کی عمر میں مبعوث ہوئے۔[14]

امام محمد باقر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: رسول اکرم ﷺ  63 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے اور آخری سال ہجرت کا دسواں سال تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جب اپنی پیدائش سے چالیس سال مکمل کئے تو  اللہ تعالی نے انہیں مبعوث فرمایا۔ اس کے بعد 13 سال رسول اکرم ﷺ نے مکہ میں گذارے اور ۵۳ سال کی عمر میں آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی اور دس سال بعد مدینہ میں ہی داعی اجل کو لبیک کہا۔[15]

11۔ چالیس حدیثوں کو یاد کرنا

رسول اکرم ﷺ، اسلامی معارف اور اسلامی ثقافت کی حفاظت کیلئے مقدمہ سازی کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:  من حفظ من امتى اربعين حديثا مما يحتاجون اليه من امر دينهم بعثه الله يوم القيامة فقيها عالما[16]

میری امت میں سے جو بھی ایسی چالیس حدیثیں یا د کرے جن کی معاشرہ کو عموما ضرورت پڑتی ہے تو اللہ تعالی اسے قیامت کے دن فقیہ اور دانشمند بنا کر محشور کرے گا۔

اس حدیث کی بنیاد پر بہت سارے شیعہ بزرگ علماء نے چالیس حدیثوں کے عنوان سے کتابیں تالیف کی ہیں اور اپنی یادگار چھوڑی ہیں اس امید پر کہ  اللہ تعالی انہیں بھی رسول اکرم کے اس نورانی فرمان کا مصداق بنائے جیسے اربعين شيخ بهائى، اربعين شهيد اول، اربعين مجلسى دوم، اربعين جامى و چهل حديث امام خمينى رحمه الله .

12۔ چالیس دنوں تک گناہ کا اثر

انسان جس گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اس گناہ کا اثر چالیس دنوں تک انسان کی روح اور نفس پر باقی رہتا ہے۔

امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: لا تقبل صلاة شارب الخمر اربعين يوما الا ان يتوب[17]

شراب پینے والےکی نماز چالیس دنوں تک قبول نہیں ہوتی یہاں تک وہ توبہ کرلے۔

13۔ چالیس سالوں تک اصلاح

بنیادی طور پر سعادتمند افراد وہ ہوتے ہیں جو خوشبختی اور کمال کو حاصل کرنے کی کوشش کریں اور چالیس سال کی عمر تک ان کے رفتار اور کردار میں اصلاح پیدا ہو جائے۔ اور اگر چالیس سال تک کسی کے کردار اور رفتار میں تبدیلی نہ آئے اور وہ اپنے آپ کو بری چیزوں سے روک نہ پائے تو اس کے بعد اس کی اصلاح مشکل ہے۔

رسول اکرم ﷺ تمام مسلمانوں کو اس معاملہ میں خبردار کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: اذا بلغ الرجل اربعين سنة ولم يغلب خيره شره قبل الشيطان بين عينيه وقال: هذا وجه لايفلح[18]

جب انسان چالیس سال کا ہو جائے  اور اس کے اچھے عملوں کی تعداد اس کے برے عملوں سے زیادہ نہ ہو تو شیطان اس کی پیشانی پر بوسا دیتا ہے  اور کہتا ہے اس چہرہ والا کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔

ایک اور حدیث میں،  جو افراد چالیس سال تک اپنی اصلاح کیلئے کوشش نہیں کرتے ان کو جہنمی شمارکرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: وہ چالیس سالہ انسان جس کو نیکی کی فکر نہیں وہ اپنے آپ کو جہنم کیلئے تیار کرے اور اس کی نجات مشکل ہے[19]

14۔ چالیس سالہ افراد کو ہوشیار کرنا

امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں:

اذا بلغ الرجل اربعين سنة نادى مناد من السماء دنا الرحيل فاعد زادا ولقد کان فيما مضى اذا اتت على الرجل اربعون سنة حاسب نفسه[20]

جب انسان چالیس سال کا ہوتا ہے تو آسمان سے ایک فرشتہ ندا کرتا ہے،  سفر کا وقت قریب ہے سفر کی تیاری کرلو ۔ گزشتہ زمانے میں انسان جب بھی چالیس سال کا ہوتا تھا اپنا حساب کتاب کرتا تھا۔

رسول اکرم ﷺ  سے منقول ہے کہ اللہ تعالی نے ایک فرشتہ کو مقرر فرمایا ہے جس کا کام ہر رات یہ فریاد کرنا ہے: يا ابناء الاربعين ماذا اعددتم للقاء ربکم[21]

اپنی زندگی کی چالیس بہاریں دیکھنے والے  لوگو! تم نے اپنے پروردگار سے ملاقات کیلئے کیا تیاری کی ہے؟ تمہارے پاس کیا جواب ہے؟

15۔ قرآن میں اربعین (چالیس)

قرآن مجید میں اربعین کے لفظ کی طرف متعدد بار اشارہ ہوا ہے۔ جیسے حضرت موسی علیہ السلام کے قصہ میں ارشاد ہوتا ہے: واذ واعدنا موسى اربعين ليلة[22]

اور ہم نے موسٰی علیہ السّلام سے چالیس راتوں کا وعدہ لیا.

اور پھر ارشاد رب العزت ہوتا ہے:

وواعدنا موسى ثلثين ليلة واتممناها بعشر فتم ميقات ربه اربعين ليلة[23]

اور ہم نے موسٰی علیہ السّلام سے تیس راتوں کا وعدہ لیا اور اسے دس مزید راتوں سے مکمل کردیا کہ اس طرح ان کے رب کا وعدہ چالیس راتوں کا وعدہ ہوگیا.

قرآن کریم نے بنی اسرائیل کی حضرت موسی سے نافرمانی  کو ذکر کیا ہے اور یہودیوں میں سے اس نا فرمان گروہ کی سزا اور عتاب چالیس سالوں تک سرگردان بھٹکنا بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:

 فانها محرمة عليهم اربعين سنة يتيهون فى الارض فلا تاس على القوم الفاسقين[24]

ارشاد ہوا کہ اب ان پر چالیس سال حرام کردئیے گئے کہ یہ زمین میں چکرّ لگاتے رہیں گے لہذا تم اس فاسق قوم پر افسوس نہ کرو.

16۔ زیارت اربعین،  ایمان اور تشیع کی علامت

امام حسن عسکری علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:

 علامات المؤمنين خمس: صلاة الاحدى والخمسين وزيارة الاربعين والتختم فى اليمين وتعفيرالجبين والجهر ببسم الله الرحمن الرحيم؛[25]

مومن (شیعہ)کی پانچ علامتیں ہیں: روزانہ اکاون رکعتیں نماز ادا کرنا (سترہ رکعتیں واجب،  چونتیس رکعتیں مستحب)، اربعین کو امام حسین کی زیارت کرنا،  دائیں ہاتھ میں انگشتر پہننا،سجدہ کی حالت میں پیشانی کو خاک پر رکھنا،  اور بسم اللہ الرحمن الرحیم کو نماز میں بلند آواز سے پڑہنا۔

17۔ امام حسین علیہ السلام پر چالیس روز گریہ

امام صادق علیہ السلام  ایک روایت میں تمام موجودات کے سالار شہداءپر گریہ کرنے کو بیان کرتے ہوئے زرارہ سے فرماتے ہیں:

 يا زرارة! ان السماء بکت على الحسين عليه السلام اربعين صباحا بالدم وان الارض بکت اربعين صباحا بالسواد و ان الشمس بکت اربعين صباحا بالکسوف والحمرة … وان الملائکة بکت اربعين صباحا على الحسين عليه السلام؛[26]

اے زرارہ! آسمان نے چالیس دنوں تک امام حسین علیہ السلام پر خون کے آنسوں سے گریہ کیا۔ اور زمین نے  امام حسین علیہ السلام پر سیاہی کے ذریعہ گریہ کیا۔ سورج نے بھی امام حسین علیہ السلام  پر  گرہن اور لالی کے ذریعہ گریہ کیا۔۔۔۔ اور ملائکہ نے بھی چالیس روز امام حسین علیہ السلام پر گریہ اور عزاداری کی۔

18۔ زیارت اربعین سے اقتباس

صفوان ابن مہران جمال کہتے ہیں: میرے مولا امام صادق علیہ السلام نے مجھے زیارت اربعین کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے روزمیرے دادا ، آقا،  مولا حسین علیہ السلام کی زیارت اس طرح کیا کرو:

 السلام على ولى الله وحبيبه …

 اے اللہ کے ولی اور حبیب تم پر  سلام ہو!۔۔۔۔۔

زیارت اربعین میں بہت بلند عرفانی اور معنوی مطالب پائے جاتے ہیں جیسے:

وبذل مهجته فيک ليستنقذ عبادک من الجهالة وحيرة الضلالة؛[27]

پروردگارا! میں گواہی دیتا ہوں کہ امام حسین علیہ السلام نے تیری بارگاہ میں اپنی جان کا نظرانہ پیش کیا تاکہ تیرے بندوں کو جہالت اور سرگردانی سے نجات بخشے!

نتیجه

اربعین جو که اربعین حسینی کےحوالے سے معروف و مشهور هے لیکن اس کے علاوه بھی  کلام آئمه معصومین میں اس لفظ اربعین کو مختلف مقامات پر استعمال کیا گیا هے که جس میں سےکچھ موارد کو هم نے اوپر کلام معصومین (ع) سےبیان کیا هے. ضرورت اس بات کی هے که هم معصومین کےکلام میں اربعین کےحوالے سے بیان کیے گئے موارد کو جامعه اسلامی میں رائج کریں اور ان میں سے سب سےاهم مورد اربعین حسینی هے کیونکه حسین (ع) کی قربانی هی تھی که جس کی وجه سے آج حلال محمدیﷺ کو حلال اور حرام محمدیﷺ کو حرام کها جاتا هے.اگر حسین کی یه قربانی تاریخ کے دامن میں نه هوتی تو آج اسلام کا وه چهره جو آج هے وه نه هوتا اور لوگ گمراهیوں کی دلدل میں دهنس چکے هوتے لیکن قربانی حسین ابن علی (ع) کی وجه سے آج دین اسلام دنیا میں لوگوں کو اپنی طرف بلا رها هےاور اربعین حسینی و چهلم امام حسین پر لوگ جوق در جوق هم زیارت امام حسین کے لیے آتے هیں اور اسی طرح غیر مسلم افراد بھی امام حسین (ع) کی قربانی اور اربعین حسینی کی روحانی کشش سےمتاثر هو کر حسین ابن علی کے نانا کے دین کی طرف راغب هو رهے هیں.اور آج کےمحقیقین یه کهنے پر مجبور هو رهے هیں که یورپ میں سب سےتیزی کےساتھ جوانوں میں پھیلانے والا مذهب ، مذهب اسلام ه

[1] من لايحضره الفقيه، ج 1، ص 166، ح 472؛ مستدرک سفينة البحار، ج 4، ص 64 .

[2] مستدرک الوسائل، ج 2، ص 471 .

[3] الکافى، ج 2، ص 509، ح 5 .

[4] بحارالانوار، ج 90، ص 389 .

[5] کشف الغطاء، ج 1، ص 246 .

[6] الکافى، ج 2، ص 487 .

[7] اوپر والی  کتاب، ج 3، ص 174، ح 1 .

[8] احقاف/15 .

[9] عيون اخبار الرضا عليه السلام، ج 1، ص 74، ح 321 .

[10] الخصال، ج 2، ص 541، ح 14 .

[11] ) مکارم الاخلاق، ص 465 .

[12] الصراط المستقيم، ج 2، ص 181 .

[13] بحارالانوار، ج 13، ص 50 .

[14] تاريخ يعقوبى، ج 2، ص 22 .

[15] کشف الغمه، ج 1، ص 14 .

[16] الخصال، ج 2، ص 541، ح 15 .

[17] مستدرک الوسائل، ج 17، ص 57 .

[18] مشکاة الانوار، ص 295 .

[19] اوپر والا حوالا .

[20] مستدرک الوسائل، ج 12، ص 156؛ مجموعه ورام، ج 1، ص 35 .

[21] مستدرک الوسائل، ج 12، ص 157 .

[22] بقره/51 .

[23] اعراف آیہ 142

[24] مصباح المتهجد، ص 787 .

[25] مستدرک الوسائل، ج 10، ص 314، تلخيص کے ساتھ .

[26] تهذيب الاحکام، ج 6، ص 113 .

[27] بحارالانوار، ج 90، ص 389 .