نمازِ عید غدیر کو باجماعت پڑھنے کا مسئلہ

نمازِ عید غدیر کو باجماعت پڑھنے کا مسئلہ

 گذشتہ دن ایک مقام پر نمازِ عید غدیر کو باجماعت ادا کرنے کی ویڈیو دیکھی جو کہ ان علاقوں میں پہلے سے معروف اور رائج نہیں ہے۔ البتہ اس موضوع پر گفتگو کرتے وقت ضروری ہے کہ جذبات، پسند و ناپسند، یا صرف عیدِ غدیر کی عظمت کو بنیاد بنانے کے بجائے اہل بیتؑ کی فقہی تعلیمات، معتبر حدیثی مصادر، فقہاء کے منہج، اور اجتماعی مصلحت — سب کو ساتھ رکھا جائے۔ کیونکہ عبادات میں اصل معیار ثبوتِ شرعی ہے، نہ کہ صرف مناسبت یا عقلی پسند۔

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عید غدیر کی عظمت اپنی جگہ مسلّم ہے۔شیعہ روایات میں اسے “أعظم الأعياد” اور “عيد الله الأكبر” کہا گیا ہے، اور اس دن کے روزہ، عبادت، اطعام، صلہ رحمی، مؤمنین کی خوشی، اور تجدیدِ ولایت کی بہت تاکید ملتی ہے۔

اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ عید غدیر شیعہ مکتب میں انتہائی عظیم دن ہے۔ لیکن فقہی سوال یہ ہے کہ: کیا اس دن کی مخصوص نماز کو باقاعدہ “باجماعت” ادا کرنا بھی شرعی طور پر ثابت ہے؟

یہاں ایک بنیادی فقہی اصول سامنے آتا ہے کہ عبادات توقیفی ہیں؛ یعنی نماز کی کیفیت، تعداد، وقت، جماعت یا فرادیٰ ہونا — یہ سب شارع مقدس (قرآن، سنتِ معصومینؑ) سے ثابت ہونا چاہیے۔ محض یہ کہنا کہ “چونکہ غدیر سب سے بڑی عید ہے، اس لیے اس کی نماز بھی جماعت سے ہونی چاہیے” فقہی استدلال کے لحاظ سے کافی نہیں سمجھا جاتا۔ کیونکہ فقہِ اہل بیتؑ میں عظمتِ دن خود بخود عبادت کی نئی کیفیت کو ثابت نہیں کرتی۔ مثال کے طور پر شبِ قدر عظیم ترین راتوں میں ہے، ماہِ رمضان عظیم ترین مہینہ ہے، لیکن اس بنیاد پر ہر مستحب نماز کی جماعت مشروع قرار نہیں دی جاتی۔

یہاں بعض افراد یہ اعتراض کرتے ہیں کہ: شیعہ میں چار عیدیں ہیں، اور عید فطر، عید قربان بلکہ نمازِ جمعہ بھی (واجبِ تعیینی نہ ہونے کے باوجود) جماعت سے پڑھی جاتی ہیں، تو پھر غدیر کی نماز پر اشکال کیوں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ عیدین اور جمعہ کی نمازوں میں جماعت “نص، سیرت اور فقہی استمرار” سے ثابت ہے۔ یعنی معصومینؑ کے زمانے سے نمازِ عید فطر و قربان باجماعت ثابت ہے، روایات موجود ہیں، فقہاء کا اجماع اور عملی تاریخ موجود ہے۔ اسی طرح نمازِ جمعہ قرآن، حدیث اور سیرت سے بطورِ جماعت مشروع ہے۔ لہٰذا ان نمازوں میں “جماعت” اصلِ تشریع کا حصہ ہے، جبکہ نمازِ عید غدیر کے بارے میں یہی سوال زیرِ بحث ہے کہ کیا اس کی جماعت بھی دلیلِ معتبر سے ثابت ہے یا نہیں؟

معتبر شیعہ کتب جیسے مصباح المتہجد اور اقبال الاعمال میں عید غدیر کی مخصوص دو رکعت نماز کا ذکر ضرور ملتا ہے، لیکن فقہاء کے نزدیک اصل بحث یہ ہے کہ کیا ان روایات یا تاریخی سیرت سے “جماعت” بھی ثابت ہوتی ہے؟ بہت سے فقہاء کا کہنا ہے کہ نمازِ غدیر بطور نمازِ مستحبہ وارد ہوئی ہے، اور فقہِ جعفری کا معروف اصول ہے:

الأصل في النوافل الفرادى

“مستحب نمازوں میں اصل فرادیٰ (اکیلے پڑھنا) ہے۔”

اسی لیے شیعہ فقہ میں عام طور پر نوافل اور مستحب نمازیں جماعت سے نہیں پڑھی جاتیں، سوائے ان موارد کے جہاں خاص دلیل ہو، جیسے نمازِ استسقاء، عیدین وغیرہ۔ لہٰذا بہت سے فقہاء کے نزدیک جب تک نمازِ عید غدیر کی جماعت پر واضح شرعی دلیل موجود نہ ہو، اسے بطورِ “سنتِ ثابتہ” رائج کرنا محلِ اشکال رہتا ہے۔

دوسری طرف بعض علماء یا حلقے نمازِ عید غدیر کی جماعت کے جواز یا کم از کم رجاء المطلوبیہ (یعنی امیدِ ثواب و مطلوبیت) کی گنجائش کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کا استدلال یہ ہوتا ہے کہ غدیر چونکہ ولایتِ امیرالمؤمنینؑ کے اعلان کا عظیم دن ہے، اس لیے اس کا اجتماعی اظہار اور شعائرِ غدیر کی تقویت مطلوب ہے۔ بعض معاصر علماء یا دفاتر سے جماعت کی اجازت یا نرم موقف بھی منقول ہے، لیکن یہاں بھی عموماً یہ فرق رکھا جاتا ہے کہ “سنتِ قطعیہ” کے دعویٰ اور “رجاءً” انجام دینے میں فرق ہے۔ یعنی اگر کوئی اسے قطعی مسنون جماعت قرار دے تو اس کے لیے قوی حدیثی و فقہی ثبوت درکار ہوں گے۔

لیکن مسئلہ صرف فقہی نہیں، اجتماعی اور اخلاقی بھی ہے۔ خاص طور پر اس معاشرے میں جہاں نمازِ عید غدیر باجماعت پڑھنے کی روایت پہلے سے موجود نہ ہو، اور اچانک ایک گروہ اسے مستقل شعار کے طور پر شروع کر دے، جبکہ اس سے شیعہ معاشرے میں اختلاف، طعن و تشنیع، بدعت کے فتوے، باہمی نفرت، یا عوامی انتشار پیدا ہو — تو یہاں سوال صرف “جائز یا ناجائز” کا نہیں رہتا، بلکہ مصلحتِ دینی، وحدتِ مؤمنین، اور وھنِ مذہب کا بھی بن جاتا ہے۔

اہل بیتؑ کی تعلیمات میں ایک طرف شعائرِ دین کی حفاظت کا حکم ہے، لیکن دوسری طرف بارہا تاکید بھی ملتی ہے:

كونوا لنا زيناً ولا تكونوا علينا شيناً

“ہمارے لیے زینت بنو، باعثِ عیب نہ بنو۔”

اسی بنیاد پر فقہاء نے یہ اصول بھی بیان کیا ہے کہ بعض مباح یا حتیٰ مستحب امور بھی اگر شدید اختلاف، فتنہ، فساد، یا مذہب کے وھن کا سبب بن جائیں تو ان کے انجام میں احتیاط، محدودیت یا ترک ترجیح پا سکتا ہے۔ خاص طور پر جب وہ عمل خود فقہی اختلاف کا موضوع ہو اور اس کی مشروعیت مسلّم نہ ہو۔

یہاں ایک اہم فرق کو سمجھنا ضروری ہے: اگر کوئی شخص انفرادی طور پر یا محدود نجی دائرے میں رجاءً نماز ادا کرے، تو اس کا حکم الگ ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر کوئی گروہ اٹھ کر کسی غیر معروف عمل کو نئے اجتماعی مذہبی شعار کے طور پر متعارف کرائے، اس کی تبلیغ کرے، مستقل جماعت قائم کرے، اور نتیجتاً شیعہ معاشرے میں نزاع پیدا ہو، تو اس کے آثار و نتائج بھی فقہی بحث کا حصہ بن جاتے ہیں۔ خصوصاً جب اس سے اصلِ غدیر — یعنی ولایت، اخوت، محبتِ اہل بیتؑ، اور وحدتِ مؤمنین — پس منظر میں چلے جائیں اور ساری توجہ ایک اختلافی مسئلے پر مرکوز ہو جائے۔

لہٰذا اس مسئلے میں متوازن علمی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ عید غدیر کی عظمت مسلّم ہے، اس دن کی نماز کا استحباب بھی روایات میں موجود ہے، لیکن اس نماز کی “باجماعت مشروعیت” محلِ بحث ہے اور فقہاء کے درمیان اس پر یکساں موقف نہیں۔ اس لیے صرف یہ دلیل کہ “غدیر سب سے بڑی عید ہے، لہٰذا اس کی نماز جماعت سے ہونی چاہیے” کافی نہیں سمجھی جاتی۔ اسی طرح اگر کسی معاشرے میں یہ رائج نہ ہو اور اس سے شدید اختلاف، بدعت کے الزامات، یا شیعہ معاشرے میں تقسیم پیدا ہونے کا اندیشہ ہو، تو حکمت، احتیاط، اور مرجعِ تقلید کی رہنمائی کو مقدم رکھنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے — تاکہ اصل مقصد یعنی ولایتِ اہل بیتؑ، محبت، اور اتحاد مجروح نہ ہو۔

تحریر: مولانا تصورعباس خان سرگانی ، پرنسپل امام رضا کمپلیکس چوک اعظم ضلع لیہ