قیامت کے دن جب انسان کی زندگی کا ہر گھنٹہ

قیامت کے دن جب انسان کی زندگی کا ہر گھنٹہ

رسول اللّه صلي الله عليه و آله : يُفتَحُ لِلعَبدِ يَومَ القِيامَةِ عَلى كُلِّ يَومٍ من أيّامِ عُمُرِهِ أربَعٌ وعِشرونَ خِزانَةً عَدَدَ ساعاتِ اللَّيلِ والنَّهارِ فَخِزانَةٌ يَجِدُها مَملُوءَةً نوراً وسُرورا فَيَنالُهُ عِندَ مُشاهَدَتِها مِنَ الفَرَحِ وَالسُّرورِ ما لَو وُزِّعَ عَلى أهلِ النّارِ لأََدهَشَهُم عَنِ الإِحساسِ بِأَلَمِ النّارِ ، وهِيَ السّاعَةُ الَّتي أطاعَ فيها رَبَّهُ ، ثُمَّ يُفتَحُ لَهُ خِزانَةٌ اُخرى فَيَراها مُظلِمَةً مُنتِنَةً مُفزِعَةً فَيَنالُهُ مِنها عِندَ مُشاهَدَتِها مِنَ الفَزَعِ والجَزَعِ ما لَو قُسِمَ عَلى أهلِ الجَنَّةِ لَنُغِّصَ عَلَيهِم نَعيمُها ، وهِيَ السّاعَةُ الَّتي عَصى فيها رَبَّهُ ، ثُمَّ يُفتَحُ لَهُ خِزانَةٌ اُخرى فَيَراها خالِيَةً لَيسَ فيها ما يَسُرُّهُ ولا ما يَسوؤُهُ ، وهِيَ السّاعَةُ الَّتي نامَ فيها أوِ اشتَغَلَ فيها بِشَيءٍ مِن مُباحاتِ الدُّنيا ، فَيَنالُهُ مِنَ الغَبنِ وَالأَسَفِ عَلى فَواتِها حَيثُ كانَ مُتَمَكِّناً مِن أن يَملأََها حَسناتٍ ما لا يوصَفُ ، ومِن هذا قَولُهُ تَعالى : «ذَ لِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ» [ التغابن : 9 . ] . [ عدّة الداعي : ص 103 . ]

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآؒلہ وسلم نے فرمایا :قیامت کے دن انسان کے عمر کے برابر ہر دن ۲۴ پروانوں کی صورت میں اس کے سامنے لایا جائے گا دن اور رات کے ۲۴ گھنٹوں کے برابر (یعنی اس کی عمر کے ہر ہرگھنٹے کی ویڈیو اس کے سامنے چلائی جائے گی ) پس ایک دفعہ وہ خوشی اور مسرت سے پھولے نہیں سمائے گا اتنی خوشی کہ اگر اہل جہنم میں اس کی اس خوشی کو تقسیم کر دیا جائے تو عذاب کی تکلیف ان سے ختم ہو جائے اور یہ وہ گھنٹہ ہو گا کہ جو اس نے پروردگار کی اطاعت میں گزارا ہو گا ۔ پھر ایک پروانہ اس کے سامنے آئے گا جسے سیاہ ، بدبودار اور خوفناک دیکھے گا اور اس منظر سے اتنا وحشت زدہ ہو گا کہ اگر اس ڈر اور وحشت کو تمام جنتی لوگوں پر تقسیم کر دیا جائے تو ان کی خوشحالی اور مسرت ماند پڑ جائے ۔ یہ وہ دنیا کا ایک گھنٹہ ہو گا جس میں اس نے اللہ کی نافرمانی کی ہو گی پھر ایک اور پروانہ اس کے سامنے آئے گا جسے دیکھ کر نا اسے خوشی ہو گی اور نا ڈرانے والی کوئی چیز ہو گی ، یہ دنیا کا وہ لحظہ اور گھنٹہ ہو گا کہ جس میں سویا رہا یا مباح کاموں میں سرگرم رہا ۔ اس وقت حسرت کھائے گا کہ اس وقت سے نیکی کے کاموں کےلیے فائدہ اٹھا سکتا تھا لیکن نہیں اٹھا سکا ۔اور قرآن کی یہ آیت کہ وہ (قیامت کا) دن حسرت کا دن ہے ، اسی طرف اشارہ کر رہی ہے ۔

پیشکش اور ترجمہ: مولانا تصورعباس سرگانی پرنسپل امام رضا کمپلیکس اور چیئرمین البینات ریسرچ انسٹیٹیوٹ پاکستان