قوم کیسے بنتی ہے ؟ قسط۵

قوم کیسے بنتی ہے ؟ قسط۵

 استاد صرف سبق نہیں پڑھاتا، انسان بناتا ہے؛ 

قومیں صرف عمارتوں، سڑکوں اور اداروں سے نہیں بنتیں؛

قومیں انسانوں سے بنتی ہیں۔

اور انسان بنانے والوں میں استاد کا مقام غیر معمولی ہے۔

قرآن رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت کے مقاصد بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:

﴿هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ﴾

“وہی ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا، جو انہیں اس کی آیات سناتا، ان کا تزکیہ کرتا اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے۔”(الجمعۃ: 2)

اسلامی تعلیم میں علم اور تربیت ایک دوسرے سے جدا نہیں۔

شہید رہبر معظم سید علی خامنہ ای  قدس اللہ نفسہ الزکیہ)نے 11 مئی 2022ء کو اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کو “ملک کے انمول موتی اور اساتذہ کے ہاتھوں میں بڑی امانتیں” قرار دیااور فرمایا: معلم کی تربیت کے نتیجے میں یہ امانتیں علمی، اخلاقی اور رفتاری اعتبار سے بلند تر انسان بننی چاہئیں۔

یہاں استاد کی تعریف صرف اس شخص کی نہیں جو نصاب مکمل کر دے۔

استاد وہ ہے جو ذہن کو علم، دل کو ایمان، کردار کو اخلاق اور زندگی کو مقصد دیتا ہے۔

2015ء میں اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے معلم کے مقصد کو یوں بیان کیا کہ استاد ایسی نسل کی تربیت کرے جو باایمان، دانا، روشن بین، بااعتماد، پُرامید، باارادہ اور جسم و روح کے اعتبار سے سالم ہو۔ انہوں نے معلم کے کام کو انبیاء کے کام یعنی تعلیم اور تزکیہ کے تسلسل میں قرار دیا۔

یعنی استاد کے سامنے صرف ایک طالب علم نہیں بیٹھا؛

اس کے سامنے مستقبل کا انسان بیٹھا ہے۔

اسی لیے اچھا استاد صرف نصاب مکمل نہیں کرتا۔

وہ ذہن کو علم، دل کو ایمان، کردار کو اخلاق اور زندگی کو مقصد دینے کی کوشش کرتا ہے۔

ایک بچہ استاد سے صرف وہ نہیں سیکھتا جو کتاب میں لکھا ہو۔

استاد کا لہجہ بھی سبق ہے،

اس کا انصاف بھی،

اس کی دیانت بھی،

اس کا صبر بھی،

اور اس کا طالب علم کی عزت کرنا بھی۔

یہی وجہ ہے کہ ایک اچھا استاد کبھی کبھی ایک پوری نسل پر اثر ڈال دیتا ہے۔

ہم اکثر پوچھتے ہیں:

“ہمارے بچے کیا پڑھ رہے ہیں؟”

شاید اس کے ساتھ یہ سوال بھی ہونا چاہیے:

“ہمارے بچے جنہیں دیکھ کر سیکھ رہے ہیں، وہ خود کیسے انسان ہیں؟”

آج کی ڈائری

ایک استاد صرف ایک کتاب ختم نہیں کرتا؛

وہ کبھی کبھی ایک انسان کی سمت متعین کرتا ہے۔

کلاس روم میں صرف بچے نہیں بیٹھے ہوتے؛

وہاں آنے والی قوم بیٹھی ہوتی ہے۔

اس لیے آج ہر استاد اپنے آپ سے پوچھے:

میں صرف علم بانٹ رہا ہوں، یا انسان بھی بنا رہا ہوں؟

اور اگر میں استاد نہیں ہوں تو بھی سوال میرے لیے ہے:

کیا میرے قول و عمل سے میرے بعد آنے والے لوگ بہتر انسان بن رہے ہیں؟

شاید قوم کی تعمیر کا ایک بڑا قدم کسی ایوان میں نہیں،

کسی استاد کے دل میں اٹھنے والے اس عہد سے شروع ہوتا ہے:

“میں صرف سبق نہیں پڑھاؤں گا؛

میں انسان بناؤں گا۔”

مرتب و پیشکش: مولانا ڈاکٹر تصورعباس خان ، پرنسپل امام رضا کمپلیکس ضلع لیہ  ۱۱ستمبر ۲۰۲۶