قوم کیسے بنتی ہے ؟کرپشن صرف رشوت کا نام نہیں

قوم کیسے بنتی ہے ؟کرپشن صرف رشوت کا نام نہیں

قسط ۱۱:   اگر عہدہ امانت ہے، تو خیانت صرف پیسے لینے کا نام نہیں۔

 ہم عموماً کرپشن کا لفظ سنتے ہی رشوت، مالی بدعنوانی یا کسی بڑے مالی اسکینڈل کا تصور کرتے ہیں، لیکن اگر ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو بدعنوانی کی جڑ صرف پیسے کے غلط لین دین میں نہیں؛ حق، امانت اور اختیار کے غلط استعمال میں بھی ہے۔

 کسی کا حق جانتے بوجھتے روک دینا بھی اسی دائرے میں آتا ہے۔

 کسی نااہل شخص کو محض تعلق یا سفارش کی بنیاد پر اس شخص پر ترجیح دینا جو اس حق کا زیادہ مستحق ہے، بھی امانت کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

 ادارے یا عوام کے وسائل کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنا بھی اسی مسئلے کی ایک صورت ہے ۔

 اور اختیار کو انصاف کے بجائے ذاتی تعلقات اور مفادات کے لیے استعمال کرنا بھی اس بیماری کا حصہ بن سکتا ہے۔

 قرآن کریم ہمیں ایک بنیادی اصول دیتا ہے:

﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾

 اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ۔ (البقرۃ: 188)

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی منصب اور ذمہ داری کے ساتھ حاصل ہونے والے مال کے بارے میں واضح تنبیہ فرمائی:

مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَرَزَقْنَاهُ رِزْقًا، فَمَا أَخَذَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ غُلُولٌ

 جسے ہم نے کسی کام پر مقرر کیا اور اس کے لیے ایک مقررہ رزق دیا، پھر وہ اس کے بعد جو کچھ لے، وہ خیانت ہے۔

 یہ صرف چوری یا رشوت کی ممانعت نہیں؛ یہ ہر اس طریقے سے بچنے کا حکم ہے جس میں کسی کا حق ناحق طریقے سے اپنے مفاد میں منتقل ہو جائے۔

 امیرالمؤمنین امام علیؑ نے مالک اشتر کو خبردار فرمایا:

ثُمَّ إِنَّ لِلْوَالِي خَاصَّةً وَبِطَانَةً، فِيهِمُ اسْتِئْثَارٌ وَتَطَاوُلٌ وَقِلَّةُ إِنْصَافٍ فِي مُعَامَلَةٍ

 اور فرمایا کہ ایسے لوگوں کی جڑ کاٹنی چاہیے جو اپنے لیے خاص رعایت، دوسروں پر زیادتی اور معاملات میں انصاف کی کمی چاہتے ہیں۔

 یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کوئی رشوت لے رہا ہے؛ مسئلہ یہ بھی ہے کہ اختیار کسی خاص طبقے کی جاگیر بن جائے۔

 یہاں شہید رہبر معظم  سید علی خامنہ ای(قَدَّسَ اللهُ نَفْسَهُ الزَّكِيَّةَ)کی فکر کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ انہوں نے بدعنوانی کے خلاف صرف نعرے یا مجرم پکڑنے  کی بات نہیں کی بلکہ فساد کے راستے بند کرنے، شفافیت، نگرانی اور عادلانہ نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ 2003ء میں انہوں نے صراحت کے ساتھ فرمایا تھا کہ مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کو فساد اور رشوت کے خلاف ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

 کیونکہ اگر نظام ایسا ہو کہ بدعنوانی کا موقع ہی بار بار پیدا ہوتا رہے تو صرف چند افراد کو سزا دینا کافی نہیں۔

 ذرا اپنی روزمرہ زندگی میں دیکھیے:

 کسی سفارش کے ذریعے کسی کا حق مار دینا۔۔۔

 اپنے آدمی کو میرٹ کے بغیر آگے لے آنا۔۔۔

 ادارے کے وقت کو ذاتی کاموں میں صرف کرنا۔۔۔

 غلط کام دیکھ کر صرف اس لیے خاموش رہنا کہ فائدہ ہمیں بھی مل رہا ہے۔۔۔

 یہ سب سوالات صرف حکومت سے نہیں، ہم سے بھی ہیں۔

 کیونکہ کرپشن صرف بڑے دفاتر میں نہیں پیدا ہوتی؛

 اس کی ایک چھوٹی شکل ہمارے اپنے رویوں میں بھی جنم لے سکتی ہے۔

 اور سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہے جب انسان غلط کو غلط سمجھنا چھوڑ دے۔

 رشوت کو “چائے پانی” کہا جانے لگے، سفارش کو “اپنا آدمی” کہا جائے، نااہلی کو “تعلق” کا نام دے دیا جائے، اور حق تلفی کو “چلتا ہے” کہہ کر گزر جائیں۔

 وہاں صرف قانون کمزور نہیں ہوتا؛

 معاشرے کا اخلاقی احساس کمزور ہونے لگتا ہے۔

 ہم کہتے ہیں:

 “ملک سے کرپشن ختم ہونی چاہیے۔”

 لیکن شاید اس کے ساتھ ایک سوال اور بھی ضروری ہے:

 کیا میں اپنی زندگی میں کسی چھوٹی کرپشن کو معمول سمجھ کر قبول تو نہیں کر رہا؟

 کرپشن صرف وہ نہیں جو کروڑوں کھا جائے؛

 کسی کا حق کھانا بھی کرپشن ہے۔

 کرپشن صرف رشوت لینے والا ہاتھ نہیں؛

 وہ ذہن بھی ہے جو حق سے زیادہ تعلق کو اہم سمجھنے لگے۔

 اور اصلاح وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں انسان یہ فیصلہ کرے:

 میرے فائدے کے لیے کسی دوسرے کا حق نہیں مارا جائے گا۔

 کیونکہ صاف معاشرہ صرف قانون سے نہیں بنتا؛

 صاف کردار، صاف نیت اور امانت دار رویوں سے بنتا ہے۔

تصورعباس خان
پرنسپل امام رضا کمپلیکس ضلع لیہ
۱۷ ستمبر ۲۰۲۶