قسط۳: علم، قوم کی طاقت
قومیں صرف خواہش سے ترقی نہیں کرتیں۔
ترقی کے لیے ایمان کے ساتھ علم، ارادے کے ساتھ مہارت، اور خواب کے ساتھ تحقیق چاہیے۔
جس قوم کے پاس علم ہے، وہ اپنے فیصلے خود کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہے؛ جو علم میں دوسروں کی محتاج ہو جائے، وہ رفتہ رفتہ اپنی بہت سی ضرورتوں میں بھی محتاج ہو جاتی ہے۔
لیکن اسلام میں علم کا مقصد صرف طاقت حاصل کرنا نہیں۔
قرآن کہتا ہے:
هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
“کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں؟”
یہاں علم کو انسان کی قدر و منزلت سے جوڑا گیا ہے۔
شہید رہبر سید علی خامنہ ای نے بھی بارہا علم کو قوم کی حقیقی طاقت قرار دیا ہے۔ ایک خطاب میں انہوں نے نہایت واضح الفاظ میں کہا:“علم طاقت پیدا کرتا ہے۔“
یہ صرف ایک تعلیمی جملہ نہیں؛ یہ قوموں کے عروج و زوال کا ایک اصول ہے۔
مگر ایک اور سوال بھی ہے:
کیا ہر معلومات رکھنے والا عالم ہے؟
نہیں۔
معلومات انسان کو ذہین بنا سکتی ہیں،
مگر ضروری نہیں کہ اسے بصیرت مند بھی بنائیں۔
علم اگر اخلاق سے جدا ہوجائے تو انسان طاقتور تو ہوسکتا ہے، صالح نہیں۔
اسی لیے ہماری دینی روایت میں علم کے ساتھ عمل اور تقویٰ کی ضرورت بھی بیان ہوئی ہے۔ امیرالمؤمنینؑ کے کلمات میں علم اور عمل کا یہ رشتہ بار بار سامنے آتا ہے۔
آج ہمارے پاس معلومات پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔
ایک موبائل میں ہزاروں کتابیں ہیں۔
ایک لمحے میں دنیا کی خبریں سامنے آجاتی ہیں۔
ہر شخص بول سکتا ہے، لکھ سکتا ہے، تبصرہ کرسکتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے:
کیا معلومات بڑھنے کے ساتھ ہماری بصیرت بھی بڑھی ہے؟
قوم کو صرف پڑھے لکھے افراد نہیں چاہییں؛
قوم کو ایسے اہلِ علم چاہییں جو علم کو انسان اور معاشرے کی خدمت میں استعمال کریں۔
ایسا علم جو سوال پیدا کرے۔
ایسا علم جو تحقیق سکھائے۔
ایسا علم جو اندھی تقلید سے بچائے۔
ایسا علم جو انسان کو اپنی کمزوری کا بھی احساس دلائے۔
کیونکہ حقیقی عالم وہ نہیں جو ہر سوال کا جواب دینے کا دعویٰ کرے؛
بلکہ وہ بھی عالم ہے جو یہ جانتا ہو کہ کہاں “مجھے معلوم نہیں” کہنا چاہیے۔
قومیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب ان کے اسکول علم پیدا کریں،
ان کی جامعات تحقیق کریں،
ان کے علماء بصیرت دیں،
ان کے نوجوان سوال کریں،
اور ان کے اہلِ علم اپنے علم کو امانت سمجھیں۔
علم صرف روزگار کا ذریعہ نہیں؛ قوم کی خودمختاری، انسان کی بصیرت اور معاشرے کی تعمیر کا ستون ہے۔
آج اپنے آپ سے ایک سوال کریں:
میں معلومات جمع کر رہا ہوں، یا واقعی علم حاصل کر رہا ہوں؟
اور اگر علم حاصل کر رہا ہوں تو—
کیا یہ علم مجھے صرف دوسروں سے زیادہ جاننے والا بنا رہا ہے، یا دوسروں کے لیے زیادہ مفید انسان بھی؟
مرتب و پیشکش: مولانا ڈاکٹر تصورعباس خان سرگانی ، پرنسپل امام رضا کمپلیکس چوک اعظم ضلع لیہ ۹ستمبر ۲۰۲۶