قوم کیسے بنتی ہے؟ قسط۱

قوم کیسے بنتی ہے؟ قسط۱

 ہم اکثر سوچتے ہیں کہ معاشرہ کیسے بدلے گا؟

 نظام کیسے درست ہوگا؟

 نوجوان کیسے سنوریں گے؟

 قوم کیسے ترقی کرے گی؟

 لیکن شاید اصل سوال اس سے پہلے کا ہے:

 ان سب کو بدلنے والا انسان خود کیسا ہے؟

 سید علی خامنہ ای (قدس سرہ) ایک مقام پر فرماتے ہیں:

 «در اسلام همه چیز مقدّمه‌ی خودسازی انسان است.»

 “اسلام میں ہر چیز انسان کی خودسازی کا مقدمہ ہے۔”

 یہ جملہ ہمیں دین کو دیکھنے کا ایک گہرا زاویہ دیتا ہے۔ نماز مجھے صرف نماز پڑھنے والا نہ بنائے بلکہ بہتر انسان بنائے؛ علم مجھے صرف معلومات کا مالک نہ بنائے بلکہ بصیرت دے؛ عبادت میرے اندر تقویٰ پیدا کرے؛ اور اخلاق میرے رویے میں ظاہر ہو۔

 قرآن کامیابی کا معیار بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:

 قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا

 “یقیناً کامیاب ہوگیا وہ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا۔”

 دنیا کو بدلنے کی خواہش اچھی ہے، لیکن اپنے آپ کو بدلے بغیر دنیا بدلنے کی کوشش کبھی کبھی صرف شور بن جاتی ہے۔

 قومیں صرف نعروں سے نہیں بنتیں؛

 قومیں ایسے انسانوں سے بنتی ہیں جو اپنے نفس پر قابو رکھنا، علم حاصل کرنا، محنت کرنا، سچ بولنا، ذمہ داری اٹھانا اور حق کے لیے ثابت قدم رہنا سیکھتے ہیں۔

 اس لیے آج کسی دوسرے کی اصلاح سے پہلے ایک لمحے کے لیے اپنے آپ سے پوچھیں:

 میں جس معاشرے کا خواب دیکھتا ہوں، کیا میں خود اس معاشرے کے لیے ایک اچھا نمونہ ہوں؟

 شاید قوم کی تعمیر کا پہلا دن

 آج ہی ہے—اور اس کا پہلا انسان میں خود ہوں۔

 ماخذ : سید علی خامنہ ای، مختلف طبقات سے خطاب، 28 دی 1377؛ نیز 15 اکتوبر 2012 اور 18 فروری 2019 کے خطابات۔

 قرآن : سورۃ الشمس، 9۔

 مرکزی قرآنی تصور : تزکیۂ نفس اور حیاتِ طیبہ۔

 مولانا تصور عباس خان پرنسپل امام رضا کمپلیکس ضلع لیہ