قسط۱۴:جذبات اور بصیرت — قوم صرف جوش سے نہیں بنتی

قسط۱۴:جذبات اور بصیرت — قوم صرف جوش سے نہیں بنتی

 ایک قوم کے پاس جذبہ بہت ہو، مگر سمت نہ ہو… تو وہ بہت تیزی سے چل سکتی ہے، مگر ضروری نہیں کہ صحیح سمت میں چل رہی ہو۔

 جذبہ قوموں کو جگاتا ہے۔

 غیرت انہیں حرکت دیتی ہے۔

 محبت انہیں جوڑتی ہے۔

 مگر ان سب کو راستہ کون دکھاتا ہے؟

 بصیرت۔

 قرآن کریم فرماتا ہے:

 وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ

 کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل نہ کرو؛ عدل کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ (المائدہ: 8)

 ذرا غور کیجیے!

 قرآن دشمنی کے وجود سے انکار نہیں کرتا؛

 البتہ وہ یہ چاہتا ہے کہ دشمنی بھی عدل کو شکست نہ دے۔

 یہی وہ مقام ہے جہاں ایک فرد کا اخلاق، قوم کے مزاج میں تبدیل ہوتا ہے

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جب ایک شخص نے نصیحت کی درخواست کی تو  فرمایا:

«لَا تَغْضَبْ»

 “غصہ نہ کرنا۔”

 اور امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے فرمایا:

وَكَمْ مِنْ عَقْلٍ أَسِيرٍ تَحْتَ هَوَى أَمِيرٍ

 کتنی ہی عقلیں ایسی ہیں جو خواہش کے حاکم بن جانے کے باعث قیدی بن جاتی ہیں!” (حکمت/211)

 یہ صرف ایک فرد کی نفسیات نہیں؛ قوم سازی کا مسئلہ بھی ہے۔

 کیونکہ جب انسان کا جذبہ اس کی عقل سے آگے نکل جائے تو وہ اپنی پسند کے لیے دلیل تلاش کرسکتا ہے۔

 اور جب یہی کیفیت اجتماعی سطح پر پھیل جائے تو لوگ حقیقت سے زیادہ اپنے اپنے جذبات کے مطابق واقعات کو دیکھنے لگتے ہیں۔

 شہید رہبر سید علی خامنہ ای(قَدَّسَ اللهُ نَفْسَهُ الزَّكِيَّةَ) نے بصیرت کے مفہوم کو امیرالمؤمنینؑ کی طرف نسبت کرتے ہوئے فرمایا:

“ امیرالمؤمنینؑ کی تعبیر میں بصیرت یہ ہے کہ حوادث کو درست اور دقیق طور پر دیکھا جائے، ان میں تفکر و تدبر کیا جائے اور مسائل و حوادث کو پرکھا جائے۔”

 یہی وجہ ہے کہ قوم کو صرف جوشیلے انسان نہیں چاہییں؛

 ایسے انسان بھی چاہییں جو جوش کے وقت حق کو دیکھ سکیں۔

 جو محبت کریں، مگر حق نہ چھوڑیں۔

 جو اختلاف کریں، مگر انصاف نہ چھوڑیں۔

 جو غصہ کریں، مگر ظلم نہ کریں۔

 جو خبر سنیں، مگر تحقیق کے بغیر اسے فیصلہ نہ بنائیں۔

 کسی نے آپ کی توہین کی—غصہ فطری ہے؛ ظلم اختیار ہے۔

 کسی خبر نے آپ کو دکھ پہنچایا—دکھ فطری ہے؛ تحقیق کے بغیر الزام اختیار ہے۔

 آپ کسی سے محبت کرتے ہیں—محبت فطری ہے؛ اس کی ہر غلطی کو درست قرار دینا اختیار ہے۔

 آپ کسی سے اختلاف کرتے ہیں—اختلاف فطری ہے؛ اس کی درست بات کو رد کرنا بصیرت نہیں۔

 بصیرت جذبات کو ختم نہیں کرتی؛ انہیں صحیح سمت دیتی ہے۔

 قومیں صرف اس وقت مضبوط نہیں ہوتیں جب ان کے لوگ بہت جذباتی ہوں۔

 قومیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب ان کے جذبات کے ساتھ عدل، عقل، تحقیق اور ذمہ داری بھی زندہ ہو۔

 آج اپنے آپ سے ایک سوال:

 کیا میرے جذبات مجھے حق کے قریب لے جا رہے ہیں، یا صرف میرے پسندیدہ نتیجے کے قریب؟

 قومیں جذبات سے زندہ رہتی ہیں، مگر بصیرت سے سمت پاتی ہیں۔

 اور جب جوش کے ساتھ شعور، محبت کے ساتھ عدل، اور جذبے کے ساتھ بصیرت جمع ہوجائے—

 تب انسان صرف ہجوم کا حصہ نہیں رہتا؛

 وہ قوم کی تعمیر کا حصہ بن جاتا ہے۔

🌿مولانا تصور عباس خان

پرنسپل امام رضا کمپلیکس ضلع لیہ

۱۹ ستمبر ۲۰۲۶