مولانا تصورعباس خان ،
پی ایچ ڈی اسکالر
يصف أمير المؤمنين عليّ عليه السلام شيعته (حقاً) بخطبة له شهيرة بعدما قيل له جاءك بعض شيعتك فقال انما شيعتي هم:
امیرالمومنین علیہ السلام اپنے مشہور خطبہ میں اپنے حقیقی شیعہ کی صفات بیان کرتے ہیں ۔ نوف بکالی سے نقل ہے میں اپنے کام کےلیے امیرالمومنین علیہ السلام کی خدمت میں جانے لگا تو جندب بن زھیر اور ربیع بن خیثم اور اس کا بھانجا ھمام بن عبادہ (جو اپنے زمانے کا مشہور و معروف زاہد اور عبادت گزار تھا )کے ساتھ ہو لیا ۔ ہم پہنچے تو امیرالمومنین علیہ السلام مسجد جانے کےلیے گھر سے نکل رہے تھے راستے میں ایک گروہ سے ملاقات ہوئی جو آپس میں خوش گپیوں میں مصروف تھے جب امیرالمومنین علیہ السلام کو دیکھا تو کھڑے ہو گئے اور امام کے پاس آ کر سلام کیا ۔ امام علیہ السلام نے پوچھا : یہ لوگ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا : اے امیرالمومنین علیہ السلام آپ کے شیعہ ہیں ۔ تو امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا : لیکن میرے شیعوں کی نشانیوں میں سے ایک بھی نشانی تم میں نظر نہیں آ رہی ۔ جندب اور ربیع آگے بڑھے اور عرض کی : مولا آپ کے شیعوں کی نشانیاں کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تم دونوں خدا سے ڈرو اور نیک کام انجام دو کیونکہ خدا ان کے ساتھ ہے جو نیک کام انجام دیتے ہیں ۔ ھمام بن عباد آگے بڑھا اور امیرالمومنین علیہ السلام سے انوکھے انداز میں التجا کی جو امام علیہ السلام ٹال نا سکے اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد یہ خطبہ ارشاد فرمایا ۔ یہ مختلف کتابوں میں کمیت کے اعتبار سے مختلف ہے نہج البلاغہ میں مختصر ہے اور مفتی جعفر حسین کے ترجمہ میں 191 نمبر خطبہ ہے جس میں متقین کا لفظ استعمال ہوا ہے لیکن حقیقت میں یہ حقیقی شیعوں کی صفات ہیں جو امام علیہ السلام نے بیان فرمائیں ۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنے حقیقی شیعوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا :
- الْعَارِفُونَ بِاللَّهِ
(میرے حقیقی شیعہ )خداوندمتعال کی معرفت رکھنے والے
- الْعَامِلُونَ بِأَمْرِ اللَّهِ
اس کی بندگی اور اطاعت کرنے والے
- أَهْلُ الْفَضَائِلِ وَالْفَوَاضِلِ
اھل فضل و کمالات
- مَنْطِقُهُمُ الصَّوَابُ
ان کی گفتگو درست اور نپی تلی ہوئی
5- وَمَلْبَسُهُمُ الاقْتِصَادُ ان کا پہناوا میانہ روی
6- وَمَشْيُهُمُ التَّوَاضُعُ چال ڈھال عجز و فروتنی
7- وَبَخَعُوا لِلَّهِ بِطَاعَتِهِ (أي: أقرّوا وأذعنوا بطاعته) خداوندمتعال کی اطاعت کو دل و جان سے قبول کرنے والے
8- وَخَضَعُوا لَهُ بِعِبَادَتِهِ اور اس کی عبادت کے ذریعے خشوع و خضوع بجا لانے والے
9- فَمَضَوْا غَاضِّينَ أَبْصَارَهُمْ عَمَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ انہوں نے اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے آنکھیں بند کر لی ہیں
10- وَاقِفِينَ أَسْمَاعَهُمْ عَلَى الْعِلْمِ بِدِينِهِمْ دینی علم سے ان کے کان مانوس ہیں
11- نَزَلَتْ أَنْفُسُهُمْ مِنْهُمْ فِي الْبَلاءِ، كَالَّذِينَ نَزَلَتْ مِنْهُمْ فِي الرَّخَاءِ رِضًى عَنِ اللَّهِ بِالْقَضَاءِ ان کے نفس تکلیف میں بھی ویسے ہی رہتے ہیں جیسے آرام و آسایش میں وہ خداوندمتعال کی قضا و قدر پر راضی ہیں
12 فَلَوْلا الآجَالُ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ لَهُمْ لَمْ تَسْتَقِرَّ أَرْوَاحُهُمْ فِي أَجْسَادِهِمْ طَرْفَةَ عَيْنٍ شَوْقاً إِلَى لِقَاءِ اللَّهِ وَالثَّوَابِ وخَوْفاً مِنَ أليم الْعِقَابِ اگر (زندگی مقررہ) مدت نہ ہوتی جو اللہ نے ان کےلیے لکھ دی ہے تو ثواب کے شوق اور عتاب کے خوف سے ان کی روحیں ان کے جسموں میں چشم زدن کےلیے بھی نہ ٹھہرتیں
13- عَظُمَ الْخَالِقُ فِي أَنْفُسِهِمْ وَصَغُرَ مَا دُونَهُ فِي أَعْيُنِهِمْ خالق کی عظمت ان کے دلوں میں بیٹھی ہوئی ہے اس لیے کہ اس کے سوا ہر چیز ان کی نظروں میں ذلیل و خوار ہے
14- فَهُمْ وَالْجَنَّةُ كَمَنْ رَآهَا فَهُمْ عَلَى أَرَائِكِهَا مُتَّكِئُونَ، ان کو جنت کا ایسا ہی یقین ہے جیسے آنکھوں دیکھی چیز کا ہوتا ہے تو گویا وہ اسی وقت جنت کی نعمتوں سے سرفراز ہیں
15- وَهُمْ وَالنَّارُ كَمَنْ دَخَلَهَا فَهُمْ فِيهَا يُعَذَّبُونَ اور دوزخ کا بھی ایسا ہی یقین ہے جیسے اسے دیکھ رہے ہوں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عذاب ان کے گردو پیش موجود ہے
16- قُلُوبُهُمْ مَحْزُونَةٌ ان کے دل محزون و غمزدہ
17- وَشُرُورُهُمْ مَأْمُونَةٌ اور لوگ ان کے شر سے محفوظ و مامون
18- وَأَجْسَادُهُمْ نَحِيفَةٌ ان کے جسم کمزور و لاغر
19- وَحَوَائِجُهُمْ خَفِيفَةٌ ضروریات کم
20- وَأَنْفُسُهُمْ عَفِيفَةٌ اور ان کے نفس نفسانی خواہشوں سے بری ہیں
21- وَمَعْرِفَتُهُمْ فِي الإسْلامِ عَظِيمَةٌ مسلمانیت کی عظمت سے واقف ہیں (اسلام اور مسلمان کی معرفت رکھتے ہیں)
22- صَبَرُوا أَيَّاماً قَلِيلَةً فَأَعْقَبَتْهُمْ رَاحَةً طَوِيلَةً وَتِجَارَةٌ مُرْبِحَةٌ يَسَّرَهَا لَهُمْ رَبٌّ كَرِيمٌ انہوں نے چند گنے چنے دنوں( کی تکلیفوں پر )صبر کرکے دائمی آسائش کا سامان فراہم کیا اور یہ ایک فائدہ مند تجارت ہے جسے خداوند نے ان کے لیےمہیا فرمایا
23- أُنَاسٌ أَكْيَاسٌ (أي: عقلاء وذوي فطنة) وہ عقل مند اور با بصیرت ہیں
24- أَرَادَتْهُمُ الدُّنْيَا فَلَمْ يُرِيدُوهَا وَطَلَبَتْهُمْ فَأَعْجَزُوهَا دنیا نے انہیں چاہا لیکن انہوں نے دنیا کو نہیں چاہا اگر دنیا نے انہیں چاہا تو نفسوں کا فدیہ دے کر اپنے آپ کو چھڑا لیا
25- أَمَّا اللَّيْلُ: فَصَافُّونَ أَقْدَامَهُمْ، تَالُونَ لأَجْزَاءِ الْقُرْآنِ، يُرَتِّلُونَهُ تَرْتِيلا، يَعِظُونَ أَنْفُسَهُمْ بِأَمْثَالِهِ، وَيَسْتَشْفُونَ لِدَائِهِمْ بِدَوَائِهِ تَارَةً، وَتَارَةً يَفْتَرِشُونَ جِبَاهَهُمْ وَأَكَفَّهُمْ وَرُكَبَهُمْ وَأَطْرَافَ أَقْدَامِهِمْ، تَجْرِي دُمُوعُهُمْ عَلَى خُدُودِهِمْ، وَيُمَجِّدُونَ جَبَّاراً عَظِيماً، وَيَجْأَرُونَ إِلَيْهِ جَلَّ جَلالُهُ فِي فَكَاكِ رِقَابِهِمْ. هَذَا لَيْلُهُمْ
لیکن رات ، (رات کو) اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر ٹھہر ٹھہر کر قرآن کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور اپنے دلوں میں غم و اندوہ تازہ کرتے ہیں اور کبھی اپنی (روحانی) مرض کا چارہ کار ڈھونڈھتے ہیں اور کبھی (سجدہ میں) اپنی پیشانیاں ، ہتھیلیاں گھٹنے اور پیروں کے کنارے(انگوٹھے) زمین پر بچھائے ،اشک ان کے رخساروں پر جاری ہیں اور وہ جبار عظیم کی حمد و ثنا میں مشغول ہوتے ہیں اور اللہ سے گلوخلاصی کےلیے التجائیں کرتے ہیں ۔ یہ ان کی رات کا حال ہے
26- فَأَمَّا نَهَارُهُمْ: فَحُلَمَاءُ، عُلَمَاءُ، بَرَرَةٌ، أَتْقِيَاءُ. بَرَاهُمْ خَوْفُ بَارِئِهِمْ، فَهُمْ أَمْثَالُ الْقِدَاحِ، يَحْسَبُهُمُ النَّاظِرُ إِلَيْهِمْ مَرْضَى ـ وَمَا بِالْقَوْمِ مِنْ مَرَضٍ ـ أَوْ خُولِطُوا، وَقَدْ خَالَطَ الْقَوْمَ مِنْ عَظَمَةِ رَبِّهِمْ وَ شِدَّةِ سُلْطَانِهِ أَمْرٌ عَظِيمٌ، طَاشَتْ لَهُ قُلُوبُهُمْ، وَذَهَلَتْ مِنْهُ عُقُولُهُمْ، فَإِذَا اسْتَفَاقُوا مِنْ ذَلِكَ بَادَرُوا إِلَى اللَّهِ تَعَالَى بِالأَعْمَالِ الزَّاكِيَةِ، لا يَرْضَوْنَ بِالْقَلِيلِ، وَلا يَسْتَكْثِرُونَ لَهُ الْجَزِيلَ. فَهُمْ لأَنْفُسِهِمْ مُتَّهِمُونَ، وَمِنْ أَعْمَالِهِمْ مُشْفِقُونَ.
لیکن دن کے وقت وہ بردبار ، عالم، نیکو کار اور پرہیز گار (ہوتے ہیں) اپنے خالق کے خوف نے انہیں تیر کی طرح لاغر کر دیا ہے دیکھنے والا اسے مریض سمجھتا ہے حالانکہ انہیں کوئی مرض نہیں ہوتا اور جب ان کی باتوں کو سنتا ہے تو کہتا ہے ان کی عقلوں میں فتور ہے(یعنی ایسا نہیں ہو سکتا ) ان کی روح میں عظمت پروردگار اور اس کی حاکمیت کی شدت ایسے جلوہ گر ہے جس نے ان کی عقلوں کو متحیر کر دیا ہے اور جب اس حالت سے (تھوڑا )باہر آتے ہیں تو نیک اعمال کے ذریعے قرب خدا کی طرف جلدی کرتے ہیں اور تھوڑے عمل کو زیادہ نہیں سمجھتے اور زیادہ عمل بھی ان کی نظروں میں کم ہوتا ہے (عبادت کے معاملے میں )وہ ہمیشہ خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں اور اپنے اعمال سے پریشان ہیں
27- إِنْ ذُكِرَ أَحَدُهُمْ خَافَ مِمَّا يَقُولُونَ، وَقَالَ:أَنَا أَعْلَمُ بِنَفْسِي مِنْ غَيْرِي، وَرَبِّي أَعْلَمُ بِي. اللَّهُمَّ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا يَقُولُونَ، وَاجْعَلْنِي خَيْراً مِمَّا يَظُنُّونَ، وَاغْفِرْ لِي مَا لا يَعْلَمُونَ، فَإِنَّكَ عَلاّمُ الْغُيُوبِ وَسَاتِرُ الْعُيُوبِ. 28- هَذَا، وَمِنْ عَلامَةِ أَحَدِهِمْ أَنْ تَرَى لَهُ: اگر ان کے سامنے ان کی تعریف کی جائے تو وہ لرز اٹھتے ہیں اور کہتا ہے : دوسروں کی نسبت میں اپنے اعمال سے زیادہ واقف ہوں اور میرا خدا تو مجھے جانتا ہے ۔ (پھر دعا کرتا ہے ) کہ خدایا جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں میرا مواخذہ مت کرنا اور جو مجھے یہ سمجھتے ہیں اس سے بھی بہتر بنا اور میرے ان گناہوں کو معاف فرما جسے یہ جانتے ہی نہیں ہیں بے شک تو غیبوں کے جاننے والا اور عیوب کی پردہ پوشی کرنے والا ہے ۔ یہ (حفظ کر لو ) اور ان میں سے ہر ایک کی نشانی یہ ہوگی کہ تم اسے دیکھو گے اس حالت میں کہ
- قُوَّةً فِي دِينٍ، دین میں استحکام
- وَحَزْماً فِي لِينٍ، نرمی (اور خوش خلقی )میں استواری
- وَإِيمَاناً فِي يَقِينٍ، یقین کامل کے ساتھ ایمان
- وَحِرْصاً عَلَى عِلْمٍ، علم ( کے حصول ) کےلیے حریص
- وَفَهْماً فِي فِقْهٍ، فقہ اور مسائل دینی میں فھم
- وَعِلْماً فِي حِلْمٍ، بردباری کے ساتھ دانائی
- وَكَيْساً فِي رِفْقٍ، مدارا میں ہوشیاری
- وَقَصْداً فِي غِنًى، خوشحالی میں میانہ روی
- وَتَجمُّلا فِي فَاقَةٍ، فقر و فاقہ میں آن بان
- وَصَبْراً فِي شِدَّةٍ، مصیبتوں میں صبر
- وَخُشُوعاً فِي عِبَادَةٍ، عبادت میں عجز و نیازمندی
- وَرَحْمَةً لِلْمَجْهُودِ، اپنی محنت کی جمع پونجی سے ترحم
- وَإِعْطَاءً فِي حَقٍّ، مستحق افراد کو عطا و بخشش
- وَرِفْقاً فِي كَسْبٍ، يصف أمير المؤمنين عليّ عليه السلام شيعته (حقاً) بخطبة له شهيرة بعدما قيل له جاءك بعض شيعتك فقال انما شيعتي هم:امیرالمومنین علیہ السلام اپنے مشہور خطبہ میں اپنے حقیقی شیعہ کی صفات بیان کرتے ہیں ۔ نوف بکالی سے نقل ہے میں اپنے کام کےلیے امیرالمومنین علیہ السلام کی خدمت میں جانے لگا تو جندب بن زھیر اور ربیع بن خیثم اور اس کا بھانجا ھمام بن عبادہ (جو اپنے زمانے کا مشہور و معروف زاہد اور عبادت گزار تھا )کے ساتھ ہو لیا ۔ ہم پہنچے تو امیرالمومنین علیہ السلام مسجد جانے کےلیے گھر سے نکل رہے تھے راستے میں ایک گروہ سے ملاقات ہوئی جو آپس میں خوش گپیوں میں مصروف تھے جب امیرالمومنین علیہ السلام کو دیکھا تو کھڑے ہو گئے اور امام کے پاس آ کر سلام کیا ۔ امام علیہ السلام نے پوچھا : یہ لوگ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا : اے امیرالمومنین علیہ السلام آپ کے شیعہ ہیں ۔ تو امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا : لیکن میرے شیعوں کی نشانیوں میں سے ایک بھی نشانی تم میں نظر نہیں آ رہی ۔ جندب اور ربیع آگے بڑھے اور عرض کی : مولا آپ کے شیعوں کی نشانیاں کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تم دونوں خدا سے ڈرو اور نیک کام انجام دو کیونکہ خدا ان کے ساتھ ہے جو نیک کام انجام دیتے ہیں ۔ ھمام بن عباد آگے بڑھا اور امیرالمومنین علیہ السلام سے انوکھے انداز میں التجا کی جو امام علیہ السلام ٹال نا سکے اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد یہ خطبہ ارشاد فرمایا ۔ یہ مختلف کتابوں میں کمیت کے اعتبار سے مختلف ہے نہج البلاغہ میں مختصر ہے اور مفتی جعفر حسین کے ترجمہ میں 191 نمبر خطبہ ہے جس میں متقین کا لفظ استعمال ہوا ہے لیکن حقیقت میں یہ حقیقی شیعوں کی صفات ہیں جو امام علیہ السلام نے بیان فرمائیں ۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنے حقیقی شیعوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا :
- الْعَارِفُونَ بِاللَّهِ
(میرے حقیقی شیعہ )خداوندمتعال کی معرفت رکھنے والے
- الْعَامِلُونَ بِأَمْرِ اللَّهِ
اس کی بندگی اور اطاعت کرنے والے
- أَهْلُ الْفَضَائِلِ وَالْفَوَاضِلِ
اھل فضل و کمالات
- مَنْطِقُهُمُ الصَّوَابُ
ان کی گفتگو درست اور نپی تلی ہوئی
- وَطَلَباً فِي حَلالٍ، رزق حلال کی طلب
- وَتَعَفُّفاً فِي طَمَعٍ،طمع سے لاتعلقی اور نفرت (دیکھو گے اس میں )
- وَطَمَعاً فِي غَيْرِ طَبَعٍ (أَيْ:دَنَسٍ)، طمع و لالچ سے خودداری
- وَنَشَاطاً فِي هُدًى،ہدایت میں کیف و سرور(محسوس کرتے ہے)
- وَاعْتِصَاماً فِي شَهْوَةٍ، (حرام )شھوت سے کنارہ کشی
- وَبِرّاً فِي اسْتِقَامَةٍ. اور نیک کاموں میں استقامت اور پایداری
- لا يُغَيِّرُهُ مَا جَهِلَهُ، جس سے آگاہ نہیں ہے وہ اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہے
- وَلا يَدَعُ إِحْصَاءَ مَا عَمِلَهُ جو نیک اعمال انجام دیئے ہیں (انہیں دیکھ کر ) زیادہ نیک اعمال انجام دینے سے رکتا نہیں ہے
- يَسْتَبْطِئُ نَفْسَهُ فِي الْعَمَلِ، وَهُوَ مِنْ صَالِحِ عَمَلِهِ عَلَى وَجَلٍ. اور اپنے نیک کاموں کے بارے بھی پریشان ہے(کہ ریا وغیرہ شامل نا ہو)
29- يُصْبِحُ وَشُغْلُهُ الذِّكْرُ صبح ذکر خدا اس کا مشغلہ ہے
30- وَيُمْسِي وَ هَمُّهُ الشُّكْرُ.اور شام ہوتی ہے تو شکر خدا اس کا ھم و غم
31- يَبِيتُ حَذِراً مِنْ سِنَةِ الْغَفْلَةِ، رات کو (خوف میں ) گزارتا ہے کہ غفلت میں رات نا گزر جائے
32- وَيُصْبِحُ فَرِحاً لِمَا أَصَابَ مِنَ الْفَضْلِ وَالرَّحْمَةِ. اور صبح خوش ہوتا ہے اس فضل و رحمت کی وجہ سے جو اسے عطا ہوئی ہے
33- إِنِ اسْتَصْعَبَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِيمَا تَكْرَهُ، لَمْ يُعْطِهَا سُؤْلَهَا فِيمَا إِلَيْهِ تَشْرَهُ، رَغْبَةً فِيمَا يَبْقَى، وَزَهَادَةً فِيمَا يَفْنَى. اگر اس کا نفس کسی ناگوار صورت حال کے برداشت کرنے سے انکار کرتا ہے تو وہ اس کی من مانی خواہش کو پورا نہیں کرتا ، جاودانی نعمتوں میں اس کے لیے آنکھوں کا سرور ہے اور فانی چیزوں سے بےتعلقی و بیزاری
34- قَدْ قَرَنَ الْعَمَلَ بِالْعِلْمِ، وَالْعِلْمَ بِالْحِلْمِ. اس نے عمل کو علم اور علم کو حلم کے ساتھ سمو دیا ہے
35- يَظَلُّ دَائِماً نَشَاطُهُ اس کا دن شادابی کے ساتھ گزرتا ہے
36- بَعِيداً كَسَلُهُ سستی اور کاھلی اس سے دور ہوتی ہے
37- قَرِيباً أَمَلُهُ قَلِيلا زَلَلُهُ اس کی امیدوں کا دامن کوتاہ
38- مُتَوَقِّعاً أَجَلهُ لغزشیں کم اور اپنی موت کے انتظار میں ہوتا ہے
39- خَاشِعاً قَلْبُهُ. اس کا دل خاشع
40-ذَاكِراً رَبَّهُ اپنے رب کا ذکر کرنے والا
41- قَانِعَةً نَفْسُهُ نفس قانع
42-عَازِباً جَهْلُهُ اپنی نادانی سے واقف ہے
43- مُحْرِزاً دِينَهُ اپنے دین کا محافظ
44- مَيِّتاً دَاؤُهُ اپنی مدد کو اہمیت نہیں دیتا (جب دوسروں کی مدد کرے )
45- كَاظِماً غَيْظَهُ اپنے غصہ کو پی جانے والا
46- صَافِياً خُلُقُهُ خوش اخلاق ہے
47- آمِناً مِنْ جَارِهِ اس کا ہمسایہ اس کے شر سے امان میں ہے
48- سَهْلا أَمْرُهُ اس کے کام آسان ہیں
49- مَعْدُوماً كِبْرُهُ تکبر نام کی کوئی چیز اس میں نہیں
50- متينا صَبْرُهُ اس کا صبر پایدار ہے
51- كَثِيراً ذِكْرُهُ اور ذکر خدا بہت زیادہ
52- لا يَعْمَلُ شَيْئاً مِنَ الْخَيْرِ رِيَاءً وَلا يَتْرُكُهُ حَيَاءً اس کے نیک کام میں ریا نہیں پایا جاتا اور شرم کی وجہ سے نیک کام کو چھوڑتا نہیں ہے
53- الْخَيْرُ مِنْهُ مَأْمُولٌ اس سے (ہمیشہ ) بھلائی کی امید ہوتی ہے
54- وَالشَّرُّ مِنْهُ مَأْمُونٌ ( ہمیشہ ) اس کے شر سے امان محسوس ہوتا ہے
55- إِنْ كَانَ بَيْنَ الْغَافِلِينَ كُتِبَ فِي الذَّاكِرِينَ اگر غافل لوگوں میں بیٹھے تو ذاکرین میں شمار ہوتا ہے (کیونکہ اس کا دل ہمشیہ خدا سے راز و نیاز میں ہوتا ہے)
56- وَإِنْ كَانَ مَعَ الذَّاكِرِينَ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ اور اگر ذاکرین کی محفل میں بیٹھے تو غافلین میں شمار نہیں ہوتا
57- يَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَهُ جو اس پر ظلم کرے درگزر کرتا ہے
58- وَيُعْطِي مَنْ حَرَمَهُ اور جو اسے محروم رکھے (ضرورت کے وقت اس کی مدد نا کرے ) تو یہ اسے عطا کرتا ہے
59- وَيَصِلُ مَنْ قَطَعَهُ جو قطع تعلقی کرے یا بگاڑے یہ بناتا ہے
60- قَرِيبٌ مَعْرُوفُهُ نیک کام کے نزدیک ہوتا ہے
61- صَادِقٌ قَوْلُهُ اس کی بات سچی
62- حَسَنٌ فِعْلُهُ اس کا عمل نیک
63- مُقْبِلٌ خَيْرُهُ اس سے بھلائی پہنچتی ہے
64- مُدْبِرٌ شَرُّهُ اس سے شر کی امید نہیں
65- غَائِبٌ مَكْرُهُ مکر و فریب اس میں نہیں
66- فِي الزَّلازِلِ وَقُورٌ تزلزل آور جگہوں پر بھی ثابت قدم
67- وَفِي الْمَكَارِهِ صَبُورٌ مصیبتوں اور مشکلات میں بھی صبر کرنے والا
68- وَفِي الرَّخَاءِ شَكُورٌ اور خوشحالی میں شکر کرنے والا
69- لا يَحِيفُ عَلَى مَنْ يُبْغِضُ جو اسے پسند نا کرے اس پر زیادتی اور ظلم نہیں کرتا
70- وَلا يَأْثَمُ فِيمَنْ يُحِبُّ اپنے دوست کی وجہ سے گناہ نہیں کرتا
71- وَلا يَدَّعِي مَا لَيْسَ لَهُ جو اس کا حق نہیں اس کا ادعا نہیں کرتا
72- وَلا يَجْحَدُ مَا عَلَيْهِ جو اس کی ذمہ داری ہے اس سے انکار نہیں کرتا
73- يَعْتَرِفُ بِالْحَقِّ قَبْلَ أَنْ يُشْهَدَ بِهِ عَلَيْهِ اس سے پہلے کہ گواہ اس کے خلاف گواہی دے ( اپنی غلطی کا) خود اعتراف کر لیتا ہے
74- لا يُضَيِّعُ مَا اسْتَحْفَظَهُ جس چیز کی حفاظت کا ذمہ دیا جاتا ہے اسے ضایع نہیں کرتا
75- وَلا يُنَابِزُ بِالأَلْقَابِ برے القاب سے کسی کو نہیں پکارتا
76- وَلا يَبْغِي عَلَى أَحَدٍ اور کسی پر ظلم و زیادتی نہیں کرتا
77- وَلا يَغْلِبُهُ الْحَسَدُ حسد اس پر غالب نہیں آ سکتا
78- وَلا يُضَارُّ بِالْجَارِ اور وہ اپنے ہمسائے کو نقصان نہیں پہنچاتا
79- وَلا يَشْمَتُ بِالْمُصَابِ دوسروں کی مصیبتوں پر خوش نہیں ہوتا
80- مُؤَدٍّ لِلأَمَانَاتِ امانتوں کو ادا کرنے والا
81- عَامِلٌ بِالطَّاعَاتِ اطاعت بجا لانے والا
82- سَرِيعٌ إِلَى الْخَيْرَاتِ نیک کاموں میں جلدی کرنے والا
83- بَطِيءٌ عَنِ الْمُنْكَرَاتِ برے کاموں سے دامن بچانے والا
84- يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَيَفْعَلُهُ نیک کاموں کو انجام بھی دیتا ہے اور تبلیغ بھی کرتا ہے
85- ويَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَيَجْتَنِبُهُ برے کاموں سے روکتا بھی ہے اور رکتا بھی
86- لا يَدْخُلُ فِي الأُمُورِ بِجَهْلٍ نادانی میں کسی کام میں ہاتھ نہیں ڈالتا
87- وَلا يَخْرُجُ مِنَ الْحَقِّ بِعَجْزٍ اور کمزور ہونے کے باوجود حق کو نہیں چھوڑتا
88- إِنْ صَمَتَ لَمْ يُعْيِهِ الصَّمْتُ اگر خاموش رہے تو خاموشی اسے نہیں اکتاتا
89- وَإِنْ نَطَقَ لَمْ يَعِبْهُ اللَّفْظُ اور اگر بولے تو تعبیرات میں روانی ہوتی ہے
90- وَإِنْ ضَحِكَ لَمْ يَعْلُ بِهِ صَوْتُهُ اور اگر ہنسے گا تو اس کی آواز بلند نہیں ہوگی
91- قَانِعٌ بِالَّذِي قُدِّرَ لَهُ اس کے مقدر میں جو کچھ لکھ دیا گیا ہے وہ اس پر قانع ہے
92- لا يَجْمَحُ بِهِ الْغَيْظُ اپنے غصے کو پی جاتا ہے
93- وَلا يَغْلِبُهُ الْهَوَى خواہشات اس پر غلبہ نہیں پا سکتیں
94- وَلا يَقْهَرُهُ الشُّحُّ اور بخل اسے کنڑول میں نہیں لا سکتا
95- يُخَالِطُ النَّاسَ بِعِلْمٍ وہ لوگوں سے آگاہانہ روابط رکھتا ہے (ان کی محفل میں جاتاہے)
96- وَيُفَارِقُهُمْ بِسِلْمٍ اور خوشی کے ساتھ ان سے خداحافظی کرتا ہے
97- يَتَكَلَّمُ لِيَغْنَمَ وہ بات کرتا ہے تاکہ کچھ سیکھ سکے
98- وَيَسْأَلُ لِيَفْهَمَ اور سوال کرتا ہے تا کہ سمجھ سکے
99- نَفْسُهُ مِنْهُ فِي عَنَاءٍ وَالنَّاسُ مِنْهُ فِي رَاحَةٍ، أَرَاحَ النَّاسَ مِنْ نَفْسِهِ وَأَتْعَبَهَا لإِخْوَتِهِ اس کا نفس اس کے ہاتھوں مشقت میں ہے اور دوسرے لوگ امن و راحت میں ہیں اس نے آخرت کی خاطر اپنے نفس کو زحمت میں اور خلق خدا کو اپنے نفس ( کے شر) سے راحت میں رکھا ہے
100- إِنْ بُغِيَ عَلَيْهِ صَبَرَ لِيَكُونَ اللَّهُ تَعَالَى هُوَ الْمُنْتَصِرُ اگر اس پر ظلم ہو تو تو خدا کے سپرد معاملہ چھوڑ کر صبر کر جاتا ہے
101- يَقْتَدِي بِمَنْ سَلَفَ مِنْ أَهْلِ الْخَيْرِ قَبْلَهُ فَهُوَ قُدْوَةٌ لِمَنْ خَلَفَ مِنْ طَالِبِ الْبِرِّ بَعْدَهُ. اپنے نیک سلف لوگوں کی پیروی کرتا ہے اور رہبر بن جاتا ہے بعد میں آنے والی نسل کے لیے
أُولَئِكَ عُمَّالٌ لِلَّهِ، وَمَطَايَا أَمْرِهِ وَطَاعَتِهِ، وَسُرُجُ أَرْضِهِ وَبَرِيَّتِهِ، أُولَئِكَ شِيعَتُنَا وَأَحِبَّتُنَا وَمِنَّا وَمَعَنَا…آهاً شَوْقاً إِلَيْهِمْ یہ ہیں خداوندمتعال کے عمال اور منتخب بندے اور ان کے اوامر کے مطیع و فرمانبردار ۔یہ زمین اور اس کی دیگر خلقت کےلیے ستون کی مانند ہیں ۔ یہ ہیں ہمارے شیعہ جو ہم سے ہیں اور ہمارے ساتھ ہیں ۔۔۔۔آہ ان سے ملاقات کا کتنا مشتاق ہوں
فَصَاحَ هَمَّامُ بْنُ عُبَادَةَ صَيْحَةً وَقَعَ مَغْشِيّاً عَلَيْهِ، فَحَرَّكُوهُ، فَإِذَنْ هُوَ قَدْ فَارَقَ الدُّنْيَا، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ. ھمام بن عبادہ نے ایک چیخ ماری اور بے ہوش ہو گئے اسے ہلایا جلایا لیکن اس کی روح اس وقت تک پرواز کر چکی تھی ، خدا کی رحمت ہو اس پر
– – – – – – – – – – – – – –
خطبہ کے مصادر :
شیخ ابوالفتح ،محمد بن علی بن عثمان کراجکی (م449) کنز الفوائد ، جلد 1صفحہ 88۔ ؛ حسن بن محمد دیلمی ، اعلام الدین فی صفات المومنین جلد 1صفحہ 138 ؛ ابن شعبة الحرّانيّ في تحف العقول الصفحة 107، وسليم بن قيس الهلالي في كتابه الصفحة 160، وأبو جعفر الكليني في أصول الكافي الجزء الثاني الصفحة 226- 230، وسبط ابن الجوزي في التذكرة الصفحة 138-139، وفي نهج البلاغة، والكراجكي في كنز الفوائد الجزء الاول الصفحة 88، وغيرهم (باختلاف في بعض العبارات.