سلطنتِ مُغلیہ میں اثناعشری علماء (سید مبشر مہدی اشہر )

:::::برِّصغیر کی سلطنتِ مُغلیہ میں اثناعشری علما کتاب “رُودِ کوثر” کی روشنی میں::::

ہندوستان کی سلطنتِ مُغلیہ کی بنیادخاندانِ تیموریہ کے فرد ظہیرالدین بابر نے ۱۵۲۴ ء  میں پانی پت کے میدان میں لودھی خاندان کے آخری بادشاہ ابراہیم   کو شکست دے کر رکھی تھی۔اس کےساتھ لشکر میں اسماعیل صفوی(ایرانی بادشاہ) کی جانب سے بھیجے گئے قزلباش جنگجوؤں  ہی کے ساتھ ہندوستان میں شیعیت نے باقاعدہ قدم رکھے۔اس سے قبل شیعیت عرب تاجروں کے ذریعہ ہندوستان میں متعارف ہو چکی تھی۔

۱۵۳۰ء  میں بابر کی وفات کے بعد اس کا بیٹا ہمایوں  تخت نشین ہوا۔۱۵۴۰ء  میں افغان نسل کے باشندے شیر شاہ سُوری نے اسے شکست دے کر تخت دہلی پر قبضہ کر لیا۔ہمایوں نے  شکست کھا ئی اور اِدھر اُدھر سے کُمک نہ ملنے پر مایوس ہو کر اس نے اپنے وزیر بیرم خان کے مشورےپر بچے کھُچے سپاہیوں کے ساتھ ایران کا رُخ کیا۔ایران میں ۱۵۰۱ ء  سے خاندانِ صفویہ کی حکومت تھی جو شیعہ اثنا عشری مسلک  رکھنے کے ساتھ خاندانِ تیموریہ سے اچھے تعلقات بھی رکھتے تھے۔ایرانی بادشاہ  طہماسب صفوی  نے اسے پناہ دی اور۱۵۴۵ء  میں واپسی پر اسے بارہ ہزار  کا لشکر بھی فراہم کیا۔ہمایوں نے پہلے قندھار پھر کابل اور ۱۵۵۵ء  میں ہندوستان میں  اسلام شاہ سوری سے دوبارہ دہلی کی حکومت بھی  حاصل کرلی۔ ایرانی لشکر میں  سپاہیوں اور امراء کے ساتھ  ساتھ شیعہ علمائے دین کے ہونے کا بھی قوی امکان ہے ۔ لیکن اُن کے حالات پردہ اخفا میں ہیں ۔ ہمایوں کی فتح ِ دہلی کے بعد اکثر ایرانی امراء و جنگجو یہیں ہندوستان میں ہی سکونت پذیر ہو گئے۔

اگرچہ سلطنتِ غزنویہ کے دور سے ہی ہندوستانی مسلمانوں کی ادبی اور درباری زبان فارسی تھی ۔اسی دوران میں ایرانی ادیبوں کی وقتاً فوقتاً ہندوستان میں آمدورفت رہی ہو گی لیکن ہمایوں کی طہماسب صفوی کی مدد سے تخت ِدہلی کی فتح کے بعد ہندوستان اور ایران میں رابطے مزید بڑھ گئے اور یہ سلسلہ وسیع ہو گیا ۔ ایران سے بڑے بڑے شیعہ شعراء ، مصوّر اور مدبّر ہندوستان آتے رہے۔ہندوستان کی تہذیب پر ایرانی اثرات ،تورانی اور عرب اثرات سے زیادہ نمایاں ہو گئے جنھوں نے ہندوستان میں اسلامی تہذیب و تمدّن کی تشکیل میں خاصی معاونت کی۔

ہمایوں  کے بعد  اس کا بیٹا  جلال الدین اکبر ۱۵۵۶ء میں بادشاہ  ہوا۔اکبر اپنے ابتدائی دور میں  ۱۵۷۰ء تک اہلِ سُنت علما کے زیرِاثر اور مذہبی لحاظ سے سخت گیر رہا۔بااثر سُنی عالم عبدالنّبی کے اُکسانے پر اکبر نے ملتان میں مشہور صوفی  فارسی شاعر امیر خسرو کے پہلو میں دفن شیعہ عالم میر مرتضیٰ شیرازی دہلوی کی قبر کو اکھڑوا دیا کہ اہل سنت صوفی کے پہلو میں شیعہ کی قبر نہیں ہونی چاہیے۔اکبر کے ابتدائی زمانے میں سُنی علما کی پھیلائی ہوئی نفرت و تعصّب کا شکار بعض اہم شیعہ شخصیات بھی ہوئیں جن میں میر حبش اور مُلّا احمد ٹھٹھوی قابلِ ذکر ہیں جن کو شھید کردیا گیا تھا۔

علامہ میر یوسف

دور میں ایک شیعہ اخباری عالم میر یوسف اُشتر آبادی کا ذکر بھی ملتا ہے جو آگرہ میں سکونت رکھتے تھے اور قوتِ سماعت محروم ہو گئے تھے۔میر یوسف کے اُصولی علماء پر کئے گئے اعتراضات کا جواب شھید ثالث ؒ  سید نوراللہ شوستری نے   “رسالہ اسئلہ یوسفیہ”  لکھ کر دیا ۔

۱۵۷۰ء  کے بعد اکبر  بادشاہ وسعتِ نظری کی طرف مائل ہوا۔اکبر کی علمی سرپرستی کا سُن کر ایران و تُوران سے علما اور دانش ور  ہندوستان آئے۔

مُلا محمد یزدی

            ایک شیعہ عالم مُلّا محمد یزدی جون پور میں قاضی القضاۃ مقرر تھے۔شیخ سلیم چشتی کی خانقاہ کے قریب  تعمیر کردہ  عمارت  میں ہر نمازِ جمعہ کے بعد دربارِ خاص منعقد ہوتا تھا جس میں مشائخِ وقت، علما وفضلا اور چند مقرّب ِدرگاہ شریک ہوتے تھے۔اس محفل میں مذہبی و مسلکی بحث و مباحثہ ہوتا تھا۔مُلّا محمد یزدی مختلف مسالک کے علما کے درمیان مسلکی اختلافاتی مباحث میں اہلِ تشیّع کے نظریات کی طرف داری میں پیش پیش رہتے۔شیخ محمد اکرم کے بقول:

“شیعہ عالم مُلّا محمد یزدی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان جھگڑوں میں پیش پیش تھے۔”

مُلا محمد یزدی بعد میں اکبر کی مذہبی گمراہی اور سیکولرپالیسیوں کی وجہ سے ۱۵۸۰ ء  کے شروع میں اکبر کے خلاف  فتویٰ دے دیا۔رُودِ کوثر کے مصنف لکھتے ہیں:“جون پور کے قاضی القضاۃ  مُلّا محمد یزدی نے علی الاعلان فتویٰ دیا کہ بادشاہ بدمذہب ہو گیا ہے اس کے خلاف جہاد واجب ہے۔” اکبر کے خلاف اسی زمانے میں بِہار اور بنگال میں  بغاوت ہو گئی تھی۔اس فتوے نے اکبر کے ناراضی اور غُصّے میں مزید اضافہ کیا۔ چنانچہ اکبر کے حکم پر اس جرم میں انھیں بہانے سے بُلا کر پہلے گوالیار کے قلعے میں قید کیا گیا اور بعد میں شھید کر دیا گیا۔

علامہ فتح اللہ شیرازی

دورِاکبری میں ایک مشہور شیعہ عالم و فلسفی فتح اللہ شیرازی ہندوستان تشریف لائے۔مغلیہ عہد سے قبل خلجی و تُغلق دور میں فقہ و اصول فقہ کی تدریس کو بہت اہمیت دی جاتی تھی ۔عہدِ اکبری میں معقولات کی درس و تدریس میں اضافہ ہوا۔شیخ محمداکرام کے بقول اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی:“اس کی ایک وجہ ایران اور سمرقند سے بعض علما کی آمد تھی جنہوں نے منطق اور فلسفے کو رواج دیا۔ان میں فتح اللہ شیرازی بہت ممتاز تھے جنہیں اکبر نے  عضدالملک کا خطاب دیا۔” اکبر کی سیکولر پالیسی کی وجہ سےفتح اللہ شیرازی اپنے عقیدے کو چھپانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھےبلکہ اس کا واضح اظہار کرتے تھے۔شیخ اکرام نے رُودِ کوثر میں بدایونی کے حوالے سے لکھا ہے کہ: “اکبر کے عین دیوانِ خاص میں جہاں اور کسی کی ہمت نہ پڑتی تھی کہ علانیہ نماز پڑھے وہ(فتح اللہ شیرازی)  پورے اطمینان اور جمعیتِ خاطر کے ساتھ مذہبِ امامیہ کے مطابق نماز پڑھتا تھا۔”

علامہ سید نوراللہ شوستری

جلال الدین اکبر کے زمانہ حکومت میں اہلِ تشیّع میں ایک معروف شخصیت سیّد نوراللہ شوستری ہیں جو “شھید ثالث” کے لقب سے مشہور ہیں ۔وہ  ۱۵۴۹ء  میں شوستر (ایران) میں پیدا ہوئے ،مشہد مقدس میں تعلیم پائی ۔ ۱۵۸۷ ء  میں ترکِ وطن کر کے ہندوستان میں فتح پورسیکری کے مقام پر ایرانی نژاد طبیب اور شاعرابوالفتح مسیح الدین گیلانی کے پاس آئے۔سیدصاحب  کو اہل سنت کے مذاہبِ اربعہ پر بھی عبور حاصل تھا۔جب ان کی علمی لیاقت کی شہرت اکبر تک پہنچی تو انھیں بلایا۔ حکیم ابوالفتح کی وساطت سے اکبر کے ہاں حاضری ہوئی۔نوراللہ شوستری اکبر کے ساتھ لاہور گئے جہاں اکبر نے انہیں قاضی القضاۃ بننے کی پیش کش کی۔قاضی صاحب نے منصب کی قبولیت کے لئے ایک شرط رکھی۔رودِکوثر کے مصنف کے بقول:

“جناب سید نے فرمایا کہ میں اس شرط پر اس خدمت کو قبول کرتا ہوں کہ اہلسنت کے مذاہبِ اربعہ یعنی حنفی ،شافعی،مالکی اور حنبلی میں سے جس کے موافق میری رائے اور اجتہاد ہو گا اس کے مطابق  مقدمات میں فتویٰ دوں گا۔”

اکبر نے  سید صاحب کی یہ بات مان لی۔ان کے فتاویٰ فقہ جعفریہ کے مطابق ہوتے تھے لیکن معترضین کے سامنے وہ اپنی علمی قابلیت کی بناء پر ان چاروں مذاہب میں سے کسی ایک کے مطابق ثابت کر دیتے تھے۔نوراللہ شوستری گوشئہ تنہائی میں تالیف و تصنیف میں مصروف رہتے تھے۔ان کے مخالف متعصب سُنی علما ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہے۔اکبر بعد اس کے بیٹے جہانگیر کے دور میں ایک شخص ان کے پاس حصولِ علم کی  غرض سے ان کا اعتماد حاصل کر کے ان کی تصانیف تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ان کی تصنیف  (احقاق الحق یا مجالس المؤمنین) کی نقل حاصل کرکےجہانگیر کے دربار میں ان کے خلاف ثبوت کے طور پر پیش کی گئی۔جہانگیر نے معاملہ اہلسنت علماء کے سپرد کیا۔جنھوں نے سزا کے طور پر  خاردار دُرّے لگانے کا حکم دیا۔۱۶۱۰ء  میں  ۶۳  برس کی عمر میں دورانِ سزا ہی قاضی علیہ الرحمۃ درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔قاضیؒ  صاحب آگرہ میں مدفون ہیں۔مجالس المؤمنین،احقاق الحق ،الصوارم المہرقہ اور مصائب النواصب ان کی مشہور تصانیف ہیں۔

اٹھارہویں صدی تک پہنچتے پہنچتے  شمالی ہندوستان مسلکِ تشیع کی اشاعت کے لئے زرخیز زمین ثابت ہوا۔اورنگ زیب عالمگیر کی ۱۷۰۳ء  میں وفات کے بعد جانشیوں کی نااہلی سے امراء نےخودمختار ہو آزاد ریاستوں کی بنیاد ڈال دی۔قائم ہونے والی نئی ریاستوں کے حکمرانوں میں سے بیشتر شیعہ تھے۔ ان میں مرشد آباد ،عظیم آباد،جہانگیر نگر،لکھنؤ،رام پور اور خیرپور کی ریاستیں قابلِ ذکر ہیں۔

بلا شُبہ اِن سب کے پیچھے ایران سے آنے والے علماء کے اثرات ہیں  جنہوں نے اپنے علم و فضل کی بنیاد پرمعاشرے میں اہم مقام حاصل کر لیا تھا۔شیعہ علما و فضلا نے ہندوستان کی علمی و ادبی فضا پر گہرے اثرات مرتب کئے۔اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے شیخ محمد اکرام لکھتے ہیں: “اردو ادب کی ابتدا  اور ترقی میں بھی شیعہ اہل قلم کا بڑا ہاتھ تھا۔”

مُلا محمد سعید اشرف مازندانی

اپنی علمی وادبی قابلیت کی بنا پر شیعہ علما مخالفین کی موگودگی کے باوجود بھی عوامی شہرت کے ساتھ ساتھ دربار میں امراء  و بادشاہ تک رسائی حاصل کر چکے تھے۔شیخ اکرام کے بقول؛ “اورنگ زیب نےاپنی بیٹی زیب النساء کی تعلیم ایک ممتاز شیعہ فاضل مُلّا محمد سعید اشرف مازندانی کے سپرد کر رکھی تھی۔وہ مشہور شیعہ عالم مولانا محمد تقی مجلسی اصفہانی کے نواسے تھے۔”

مغربی مستشرقین (مثلا ہالسٹر)کے خیال میں شاہ جہان کے بیٹے اورنگ زیب کے امراء میں بہت سے امیر  مسلکِ تشیّع  سےتعلق رکھتے تھے۔اگرچہ بعض نے مصلحت کی بنا پر اپنے عقائد کو درپردہ رکھا ہوا تھا اور یہ راز تجہیزوتکفین اور نمازِ جنازہ کے وقت افشا ہوتا تھا۔

مجتہدالعصر سید دلدار علی

 شمالی ہندوستان میں شیعیت کے حوالے سے سب سے اہم مرکز لکھنؤ رہا ہے۔آپ  لکھنؤکے شیعہ علما میں سے اہم  عالم تھے۔ صاحب ِ رودِ کوثر کے بقول: “شیعہ علما میں سے سب سے اہم مولانا دلدار علی صاحب تھے۔ وہ ہندوستان کے پہلے مجتہد تسلیم کیے جاتے ہیں۔” سید دلدار علی نصیر آباد میں ۱۷۵۳ء میں پیدا ہوئے ۔مقامی علما سے تحصیلِ علوم کے بعد فقہ و حدیث و اصول کی اعلیٰ تعلیم کے لیے کربلا و نجف اشرف و مشہد تشریف لے گئے ۔انھوں نے واپسی کے بعد لکھنؤ میں قیام کیا ۔لکھنؤ کے نواب آصف الدولہ نے مُلّا محمد کشمیری کی توجہ دلانے پر مولانا دلدار علی کو نمازِ جمعہ و یومیہ کی امامت کے لیے متعین کیا ۔ ۱۳ رجب ۱۲۰۰ء کو ہندوستان میں پہلی بار نمازِ جماعت اور ۲۷ رجب کو پہلی نمازِ جمعہ ادا کی گئی ۔مولانا دلدار علی نے سب سے پہلے شمالی ہند میں اہلِ تشیّع کو مذہبی طور پر منظم کیا ۔وہ تمام عمر تصنیف و تالیف کے علاوہ اشاعت و تنظیم ِ شیعیت میں مشغول رہے ۔ان کے آبائی علاقے نصیر آباد میں ان کی علمی قابلیت و تبلیغ  کا اثر شیخ محمد اکرام کی کتاب موجِ کوثر کے ان جملوں سے واضح ہے :

“ شروع شروع میں وہاں (نصیر آباد) کی تمام آبادی سُنی تھی لیکن شاہان ِ اودھ کے زمانے میں ان کے خیالات بدلنے شروع ہوئے۔ ہندوستان کے پہلے جلیل القدر شیعہ مجتہد مولانا سید دلدار علی بھی اصلاً نصیر آباد کے رہنے والے تھے ۔ ان کے وعظ و تلقین اور دوسرے اثرات کا یہ نتیجہ ہوا کہ نصیر آباد کے چار محلوں میں سے ایک محلہ سُنیّوں کا رہ گیا ۔” ان کی مشہور کتب میں پانچ جلدوں پر مشتمل مراۃ العقول ( عماد الاسلام) ، اساس الاصول اور شہاب ِ ثاقب شامل ہیں ۔

سلطان العلما سید محمد

سید دلدار علی کی وفات کے بعد ان کےشاگرد سید محمد صاحب مجتہد العصر نے ان کی روش کو جاری رکھا جو  “سلطان العلما”  کے لقب سے مشہور ہیں ۔ہندوستان کے اہلِ تشیّع میں زکوۃ کا رواج انھی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے ۔رود ِ کوثر کے مصنف  رقم طراز ہیں : “ایک رسالہ فوائد ِ نصیریہ کے نام سے آپ نے احکام ِ خمس و زکوۃ کے متعلق لکھا اور غالبا ً آپ کے اثر سے ہی شاہان ِ اودھ میں پہلی مرتبہ امجد علی شاہ نے باقاعدہ زکوۃ دینی شروع کی جو تین لاکھ روپے سالانہ کے قریب تھی اور آپ کی نگرانی میں محتاجوں اور مستحقوں کو نصیب ہوئی۔”

سید ابوالحسن

سید محمد صاحب کے  بیٹے سید ابوالحسن تھے۔ جو ان کے جانشین ہوئے  ان کو مٹیا برج قیام کے دوران میں ملاذالعلما اور انگریز سرکار سے شمس العلما کا خطاب ملا۔

سید علی

سید محمد کے بیٹے سید علی بھی عالم و فاضل تھے ۔مباحث و مناظر ہونے کے علاوہ کئی رسائل کے مصنف بھی تھے۔ان کی علمی خدمات کے متعلق شیخ محمد اکرام تحریر کرتے ہیں: “ان کا اہم ترین کام اردو زبان میں مکتبِ امامیہ کے نکتہ نظر سے لکھی جانے والی تفسیر ہے جو دو جلدوں میں مکمل ہوئی۔”

مرزا محمد کامل بن عنایت بن احمد کشمیری دہلوی

آپ  عالم ِ دین  اور  ایک ماہر  طبیب  تھے شیعہ مخالف کتاب “تحفہ اثنا عشریہ ” کے مصنف شاہ عبد العزیز سے ان کا مذہبی موضوعات پر  بحث و مباحثہ رہتا تھا ۔آپ نے اس  کے جواب میں “نزہۃ اثنا عشریہ ” لکھی۔ اس کے علاوہ مرزا نے تاریخ العلما ، منتخب کنز العمال اور تنبیہہ اہل الکمال ایسی عمدہ کتب تصنیف کیں ۔نواحِ دہلی میں  ریاست جھاجھڑہ کے متعصب  امیرنے ان کو اپنے علاج کے بہانے بُلوا بھیجا اور دھوکے سے زہر دے کر شہید کر دیا ۔

علامہ تفضل حسین کشمیری

آپ  کشمیری الاصل  تھے۔لاہور میں پیدا ہوئے ۔رُودِ کوثر کے مصنف رقم طراز ہیں: “ وہ علم ِ ریاضی کے ماہر تھے ۔ عربی، فارسی، انگریزی ، لاطینی اور یونانی زبانیں جانتے تھے۔” لکھنو  کے نواب آصف الدولہ  نے جو علم و علما دوستی  میں مشہور تھے، انھیں لکھنؤ بلایا اور اپنا نائب مقرر کردیا ۔آپ نے اس نیابت کے زمانے میں بھی اپنی سادگی کی روش کو برقرار رکھا ۔اس کے بعدنواب  سعادت علی خان   نے بھی آپ کی نیابت کو برقرار رکھا ۔لیکن آپ استعفیٰ دے کر کلکتے چلے آئے اور گوشہ عُزلت میں علمی مشاغل میں مصروف ہوگئے۔ صحت کی خرابی کی وجہ سے یکم مارچ ۱۸۰۱ء کو وفات پائی۔

جنوبی ہند کی ریاستوں میں گول کنڈہ ایک شیعہ ریاست تھی جہاں قطب شاہی خاندان کی حکومت ۱۵۱۸ء سے ۱۶۸۷ءتک قائم رہی۔یہ ریاست ہیروں کی کان کنی اور کوہِ نور، دریائے نور، ہوپ ڈائمنڈ اور آئیڈل آئی ایسے ہیروں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھی۔ اورنگ زیب نے مذہبی تعصب اور امیر میر جُملہ کی ساز باز سے  حملہ کر کے اسے مغلیہ سلطنت کا حصہ بنا لیا۔قطب شاہیوں کی علم و علما دوستی دیکھتے ہوئے  کچھ شیعہ علما نے دکن کا رُخ کیا ۔

میر مومن استر آبادی

آپ  نے قلی قطب شاہ کی ملازمت اختیار کی ۔ اپنی قابلیت کی وجہ سے رفتہ رفتہ وکیل سلطنت مقرر ہوئے اور  پچیس برس اس عہدے پر فائز رہے۔

میر نظام الدین

 آپ  مکہ معظمہ میں محمد معصوم شیرازی کے گھر میں پیدا ہوئے۔عبداللہ قطب شاہ کے وزیر میر جملہ کی دعوت پر ہندوستان آئے۔ان کی شادی عبداللہ قطب شاہ کی بیٹی سے ہوئ۔میر نظام الدّین عالم ہونے کے ساتھ شاعر بھی تھے۔۱۶۶۸ء  میں حیدرآباد دکّن میں وفات پائی۔

سید محمد علی فاضل

شیخ محمد اکرم کے بقول : “شمالی ہندوستان میں پہلا اہم شیعہ ثقافتی مرکز مرشدآباد تھا۔” مرشدآباد میں سید محمد علی فاضل کی شہرت تھی جو دکّن میں پیدا ہوئےاور دینی تعلیم کے لیئے ایران گئے۔ایران سے واپسی پر مرشد آباد میں مقیم ہوئے۔سراج الدولہ نے توجہ نہ دی لیکن اس کا وزیر علی دیردی خان ان کا مداح تھا۔مرشدآباد میں انھوں نے درس و تدریس اور تصنیف کا سلسلہ شروع کیا ۔محمد علی فاضل نے پنجتن پاک کے حالات مقفّٰی عربی زبان میں تحریر کئے۔علی دیردی خان ک ہاں علمی اور دینی مجالس برپا ہوتی تھیں۔میر محمد فاضل دیگر علماء کے ساتھ دیوان خانے میں تشریف لاتے۔دیوان خانے میں ناظم کی مسند کے سامنے ان کے لیئے مستقل مسند تھی۔جب سید محمد علی دیوان خانے میں داخل ہوتے تو  سب استقبال کے لیئے کھڑے ہو جاتے۔دوران گفتگو حقے اور قہوے کا دور چلتا۔دو گھنٹے تک علمی ودینی مسائل پر گفتگو کی یہ محفل قائم رہتی تھی۔

نتیجہ

الغرض شیعہ علماء نے بر صغیر میں سلطنتِ مغلیہ کے زمانے میں  اپنا کردار ہر دور میں بخوبی ادا کیا۔ہر فورم پر متعصب مخالف علماء کی شدیدمخالفت کے باوجود وہ مستقل مزاج رہے۔علماے تشیّع  حتی الامکان محبت اہلبیت  اور مسلکِ آلِ محمد ؑ کا پرچار کرنے اور برصغیر کی علمی وادبی فضاء کو چارچاند لگانے میں مصروفِ عمل رہے۔ برصغیر میں ان کی علمی قابلیت و فقہی مہارت کے تمام مسالک معترف رہے ہیں۔انھوں نے اپنی دانش مندی اور حکمت سے امراء و سلاطین کو اپنا گرویدہ بنائے رکھا۔انھی کی محنتوں کا ثمر تھا کہ لکھنؤ ایک دور میں اہلِ تشیع کے علمی مرکز کے طور پر مشہور رہا۔