آج کی یہ محفل صرف ایک تعلیمی پروگرام نہیں ایک عام تقریب یا اجتماع نہیں۔۔یہ دراصل اس نور کی تکریم ہے جسے اللہ نے اپنے کلام میں رکھا، اور جسے کچھ پاکیزہ دلوں نے اپنے سینوں میں جگہ دی۔یہ قرآن کے ساتھ جڑی ہوئی اُن زندہ روحوں کی تکریم ہے جنہوں نے اپنا بچپنا، اپنا وقت، اپنی نیندیں، اپنی توانائیاں کلامِ خدا کے لیے وقف کر دیں۔اور وہ قوم کبھی مردہ نہیں ہوتی جس کے نوجوان قرآن کے ساتھ راتیں گزارتے ہوں۔ قرآن صرف کتاب نہیں، ایک زندہ حقیقت ہے
ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو:صرف ثواب کی کتاب،صرف رسم کی کتاب،صرف میت کے ایصالِ ثواب کی کتاب سمجھ لیا ہے۔حالانکہ قرآن:فکر بناتا ہے،تہذیب بناتا ہے،انسان بناتا ہے،امت بناتا ہے۔اسی لیے اہل بیتؑ نے صرف “قرآن رکھ لینے” کی نہیں، بلکہ:سیکھنے،پڑھنے،یاد کرنے،دہرانے،اور زندگی میں اتارنےکی دعوت دی ہے۔امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:ينبغي للمؤمن أن لا يموت حتى يتعلم القرآن أو يكون في تعلمه
البتہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں:حافظِ قرآن صرف وہ ہے جسے الفاظ یاد ہوں۔نہیں!
حافظِ قرآن وہ ہے:جس کی زبان قرآن سے تر ہو،جس کے کان آیات سے مانوس ہوں،جس کی راتیں تلاوت میں گزری ہوں،جس کے دل میں وحی اتر گئی ہو۔امام حسن عسکریؑ فرماتے ہیں ،۔
أَنَّ الْقُرْآنَ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالرَّجُلِ الشَّابِّ،کہ قیامت کا دن ہو گا ، محشر کا میدان ہو گا ، خلق عالم جمع ہو گی یا اس دن قرآن ایک حسین نوجوان کی صورت میں حاضر ہوگا اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کرے گا: يَا رَبِّ، هَذَا أَظْمَأْتُ نَهَارَهُ، وَأَسْهَرْتُ لَيْلَهُ، “اے میرے پروردگار! یہی وہ بندہ ہے جس کے دنوں کو میں نے پیاس اور مشقت میں گزارا، اور جس کی راتوں کو اپنی تلاوت کے سبب بیدار رکھا۔ میں نے تیری رحمت کی امید کو اس کے دل میں مضبوط کیا، اور تیری مہربانی کی آرزو کو اس کے سینے میں وسیع کر دیا۔ پس تو اس کے میرے بارے میں اور اپنے رب کے بارے میں حسنِ ظن کو سچا کر دے۔”پھر وہ عظیم انعام و اکرام کا ذکر ہے جو حافظ قرآن کےلیے ہو گا اور اس کے والدین کے لیے اور ان والدین کو تاج کرامت پہنایا جائے گا ۔
روایت کے شروع میں کتنا پیارا جملہ ہے کہ :“پروردگار! یہی وہ بندہ ہے جس کے دن میں نے پیاس میں گزارے، جس کی راتوں کو میں نے بیدار رکھا…”کتنا عظیم جملہ ہے!قرآن یہ نہیں کہتا:“یہ میرا صرف رٹا لگاتا تھا”
بلکہ کہتا ہے:“یہ میرے ساتھ جیتا تھا…”🕯 تین چار سال قرآن کے ساتھ گزارنا معمولی بات نہیں
آج بعض لوگ پوچھتے ہیں:“حفظ کر کے کیا فائدہ؟”میں پوچھتا ہوں:اگر ایک نوجوان:تین سال فجر سے پہلے اٹھا،راتوں کو سبق دہراتا رہا،کھیل کود قربان کیے،اپنا بچپنا آیاتِ خدا کے ساتھ گزار دیا،اپنی زبان کو قرآن سے تر رکھا،اپنے کانوں کو وحی سے مانوس کیا،تو کیا یہ سب بے فائدہ ہے؟
نہیں۔یہ صرف memorization نہیں… یہ:“تربیتِ روح” ہے۔علامہ طباطبائی قرآن کو “حضورِ دائمی” کہتے تھے۔یعنی: قرآن صرف shelf پر نہ ہو، بلکہ انسان کے شعور میں زندہ رہے۔عظیم فلسفی ملا صدرا فرماتے ہیں:
“وہ علم جو تکرار اور حضور کے ساتھ نفس میں راسخ ہو جائے، انسان کی حقیقت کا حصہ بن جاتا ہے” یہ بہت بڑا جملہ ہے اور یہ ترجمانی ہے صادق آل محمد علیہ السلام کے اس فرمان کی کہ فرمایا : جو جوانی میں قرآن سیکھتا اور تلاوت کرتا ہے قرآن اس کے گوشت و پوست میں رچ بس جاتا ہے ۔
یعنی: جب ایک بچہ ہزاروں مرتبہ:“قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ” پڑھتا ہے…تو صرف الفاظ یاد نہیں ہوتے، بلکہ توحید اس کی روح میں اترتی ہے۔
بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں:“بعد میں بھول گیا تو؟”میں عرض کرتا ہوں:اگر:ایک نوجوان نے تین سال قرآن کے ساتھ گزارے،اس کا دل کلامِ خدا سے جڑا رہا،تو یہ سب ضائع کیسے ہو سکتا ہے؟ کیا ہر نماز ہمیشہ کامل رہتی ہے؟کیا ہر عبادت ہمیشہ محفوظ رہتی ہے؟پھر بھی ہم نماز چھوڑتے نہیں۔
اسی طرح:قرآن بھولنے کی وعید، قرآن سیکھنے سے روکنے کے لیے نہیں، بلکہ قرآن سے بے وفائی سے بچانے کے لیے ہے۔
“بھولنے کے خوف” سے قرآن نہ سیکھنا عجیب منطق ہے اگر:“گناہ کے خوف” سے عبادت چھوڑ دی جائے،تو پھر:
نماز بھی نہ پڑھیں،روزہ بھی نہ رکھیں،حج بھی نہ کریں۔اہل بیتؑ نے:قرآن سیکھنے سے نہیں،قرآن چھوڑ دینے سے ڈرایا ہے۔
فرق ہے:کوشش کے باوجود کچھ بھول جانا اورقرآن سے بے اعتنائی کرنا۔ حقیقیت یہ ہے کہ یہ کہہ کر ہم خود قرآن سے اپنی بے اعتنائی کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہے ہوتے ہیں جس بے اعتنائی سے اہل بیت نے منع فرمایا ہے ۔
بعض لوگ کہتے ہیں:“اب قرآن محفوظ ہے، ہر موبائل، ویب سائٹ اور ایپ پر موجود ہے، پھر حفظ کی کیا ضرورت؟”
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ہوگا: موبائل میں موجود قرآن اور سینے میں محفوظ قرآن
دونوں ایک چیز نہیں۔فون:data محفوظ کرتا ہےلیکن حافظِ قرآن:ہدایت زندہ رکھتا ہےموبایل۔App:تہجد میں نہیں روتی،نسلوں کی تربیت نہیں کرتی،مسجد کا نور نہیں بنتی،نماز میں خشوع پیدا نہیں کرتی۔یہ کام صرف وہ دل کرتے ہیں جن میں قرآن اتر چکا ہو۔
قرآن نے خود کہا:بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ یہان صدور الذین یعنی لوگوں کے سینے ذکر کیے ہیں اللہ نے ، کسی کمپیوٹر یا لیپٹ ٹاپ یا ایپس کے سرورز کا ذکر نہیں ،
حفظ صرف حفاظت نہیں، عبادت بھی ہے
وہ بچہ:جو فجر سے پہلے اٹھتا ہے،جو بار بار آیات دہراتا ہے،جو اپنی زبان کو قرآن سے تر رکھتا ہے،وہ صرف “backup system” نہیں بنا رہا…وہ:عبادت کر رہا ہے،روح بنا رہا ہے،نور جمع کر رہا ہے۔اور یہ وہ چیز ہے کہ قدروقیمت میں ،کائنات کی تمام چیزیں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں ۔ ہمیں اس فکر کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ حافظِ قرآن وہ شخص ہے جو:
قرآن کو گھر میں،مسجد میں،نماز میں،نسلوں میں،معاشرے میں زندہ رکھتا ہے۔ اور یہ کام ایسے سینے رکھنے والے کر سکتے ہیں جن میں قرآن محفوظ ہو ،
والدینِ حافظانِ قرآن!
آج کی یہ محفل صرف بچوں کی نہیں…ان والدین کی بھی تکریم ہے۔جنہوں نے اپنے بچوں کی جدائی برداشت کی اور مدرسے میں بھیجا یہ بھی خادم قرآن اور ناصر قرآن ہیں ۔
لیکن ہمارے معاشرے کی ایک اور حقیقت بھی ہے جو قدرے تلخ ہے کہ قرآن جو کتاب ہدایت ہے ، قرآن جو دین اور فقہ کے تمام علوم کا سرچشمہ ہے ، اس کی طرف ہماری توجہ نہیں اور نا ہی اس کی راہ میں انفاق کو ہم اہم عبادت سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ قرآن ، ہمارے مذھب کی فقہ کا اصل مصدر اور منبع ہے ، فقہ ، اصول ، کلام ، فلسفہ سب علوم قرآن کی خدمت کےلیے ہیں اور ہم ان علوم پر تو خرچ کرنا عبادت سمجھتے ہیں لیکن جس کی خدمت میں یہ سب علوم ہیں اس پر خرچ کرنے سے کتراتے ہیں ۔
ہمیں ایمان رکھنا ہو گا کہ جو شخص:ایک حافظِ قرآن کی فیس دیتا ہے،اس کے کھانے کا انتظام کرتا ہے،اس کے لیے عمارت بناتا ہے،بجلی کا بل دیتا ہے،
مدرسہ چلاتا ہے،وہ صرف charity نہیں کر رہا…وہ:“قرآن کی نسل تیار کر رہا ہے”
ایک حافظِ قرآن صرف اپنے لیے نہیں پڑھتا ایک حافظ:گھر بدل دیتا ہے،مسجد بدل دیتا ہے،ماحول بدل دیتا ہے،نسل بدل دیتا ہے۔وہ:بچوں کو سکھاتا ہے،نمازوں کو زندہ کرتا ہے،محفلوں کو نور دیتا ہے،دلوں کو نرم کرتا ہے۔
یاد رکھیں!
قرآن صرف کتابوں میں محفوظ نہیں رہتا…قرآن ہمیشہ:دلوں میں،زبانوں میں،آنکھوں کے آنسوؤں میں،تہجد کی راتوں میں،اور حافظوں کے سینوں میں زندہ رہتا ہے۔اور حافظِ قرآن…صرف حافظ نہیں، ایک متحرک قرآن ہوتا ہے۔اور انہیں میں سے جب حافظ اور قاری قرآن بن کو فقہ اہل بیت کو پڑھیں گے ، ادبیات عرب کو پڑھیں گے ،فلسفہ اور کلام پڑھیں گے تو ہدایت کے نئے افق روشن کریں گے ۔ ان شاءاللہ تعالی
اس وقت اس اقامتی ادارے میں چھ اضلاع سے تعلق رکھنے والے اٹھائیس طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جو حفظِ قرآنِ کریم کے عظیم شرف کے ساتھ ساتھ مڈل کا نصاب اور فقہِ اہل بیتؑ کی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں۔موجودہ حفاظ کے علاوہ ۱۰ اور بچے ہیں جو نصف قرآن سے زیادہ حفظ کر چکے ہیں اور ان شاءاللہ ماہ شعبان میں ایسی ہی ایک اور روحانی محفل منعقد ہو گی ۔ اس کے ساتھ ساتھ نیشنل سطح پہ منعقد ہونے والے مقابلوں میں بھی حصہ لیتے ہیں ، اس سال جامعۃ المصطفی اسلام آباد کی طرف سےملکی سطح پر منعقدہ حفظ ، ترتیل اور اذان کے مقابلوں میں ہمارے دو طلبہ مہدی حسن اور معراج علی سیمی فائنل میں پہنچے ہیں اور ان شاءاللہ ذی الحجہ میں یہ مقابلہ ہو گا ۔
آخر میں دعا ہے کہ خداوندمتعال بحق محمد و آل محمد ان بچوں کے سینوں کو نورِ قرآن سے بھر دے اور ان کے والدین کو عزت عطا فرمائے اور ان کے اساتذہ کی محنت قبول فرمائے اور جو لوگ اس راستے میں مال و وقت خرچ کرتے ہیں، انہیں دنیا و آخرت کی کامیابی عطا فرمائے۔ آمین، والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حافظان قرآن کریم کی تکریم کی تقریب سے امام رضا کمپلیکس چوک اعظم ضلع لیہ کے پرنسپل حجۃ الاسلاموالمسلمین تصورعباس سرگانی کا ایمان افروز خطاب