حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا قم میں ورود(ساجد محمود)

ولادت
حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی صاحبزادی، امام علی رضا علیہ السلام کی ہمشیرہ اور امام محمد تقی جواد علیہ السلام کی پھوپھی محترمہ ہیں۔آپ کی ولادت یکم ذیقعد 173 ہجری قمری اور دوسری روایت کے مطابق 183 ہجری قمری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام نجمہ اور دوسری روایت کے مطابق خیزران تھا۔آپ امام موسی کاظم علیہ السلام کی سب سے بڑی اور ممتاز صاحبزادی ہیں۔

القاب

  شیخ عباس قمی اس کے  بارے میں لکھتے ہیں :امام موسی کاظم علیہ السلام کی صاحبزادیوں میں سب سے بافضیلت سیدہ ،جلیلہ اور  معظمہ فاطمہ بنت امام موسی کاظم علیہ السلام تھیں جو معصومہ کے نام سے مشہور تھیں۔آپ کا نام فاطمہ اور سب سے مشہور لقب معصومہ تھا ۔یہ لقب انہیں  اپنے بھائی امام ہشتم علی رضا علیہ السلام نے عطا فرمایا تھا۔ اگرچہ زمانے نے امام موسی کاظم علیہ السلام کی مسلسل گرفتاریوں اور شہادت کے ذریعے آپ سے باپ کی محبت چھین لی تھی لیکن بڑے بھائی کے شفقت بھرے ہاتھوں نے آپ کے دل پر غم کے بادل نہیں آنے دیئے۔ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا بچپن سے ہی اپنے بڑے بھائی امام علی رضا علیہ السلام سے بہت زیادہ مانوس تھیں، انہی  کے پر مہر دامن میں پرورش پائی اور علم و حکمت اور پاکدامنی اور عصمت کے اس بے کران خزانے سے بہرہ مند ہوئیں۔آپ کے مزید القاب میں طاہرہ، عابدہ، رضیہ، تقیہ، عالمہ، محدثہ، حمیدہ اور رشیدہ شامل ہیں جو اس عظیم خاتون کے فضائل اور خوبیوں کا ایک گوشہ ظاہر کرتے ہیں۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شیعیان اہل بیت (س) کا ایک گروہ کافی دور سے امام موسی کاظم علیہ السلام کی زیارت کیلئے آیا لیکن آپ شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ اس گروہ میں شامل افراد امام علیہ السلام سے کچھ سوالات پوچھنا چاہتے تھے کہ جو انہوں نے لکھ کر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کو سونپ دیئے۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے ان تمام سوالات کے جوابات لکھ کر دوسرے دن انہیں واپس کر دیئے۔واپس جاتے ہوئے اس گروہ کی امام موسی کاظم علیہ السلام سے ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے اس واقعے کی خبر امام علیہ السلام کو دی۔ امام علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے وہ سوالات اور جوابات دکھاؤ۔ جب امام علیہ السلام نے ان سوالات اور جوابات کو دیکھا تو فرمایا: ابوها فداها؛یعنی ایسی بیٹی کا باپ اس کے صدقے ہو جائے۔

ولادت تا ہجرت

اس عظیم القدر سیدہ نے ابتدا ہی سے ایسے ماحول میں پرورش پائی جہان والدین اور بہن بھائی سب کے سب اخلاقی فضیلتوں سے آراستہ تھے۔عبادت  اور  زہد، پارسائی اور تقوی، صداقت اور حلم، مشکلات اور مصائب میں صبر و استقامت، جود و سخا، رحمت و کرم، پاکدامنی اور ذکر و یاد الہی، اس پاک سیرت اور نیک سرشت خاندان کی ابھری ہوئی خصوصیات تھیں۔ سب برگزیدہ اور بزرگ اور ہدایت و رشد کے پیشوا، امامت کے درخشان گوہر اور سفینہ بشریت کے ہادی  تھے۔

علم و دانش کا سرچشمہ

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا نے ایسے خاندان میں پرورش پائی جو علم و تقوا اور اخلاقی فضایل کا سرچشمہ تھا۔ آپ سلام اللہ علیہا کے والد ماجد حضرت موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ (ع) کے فرزند ارجمند حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام نے اپنے بھائیوں اور بہنوں کی سرپرستی اور تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھایا۔ امام رضا علیہ السلام کی خصوصی توجہات کی وجہ سے امام ہفتم کے سارے فرزند اعلی علمی اور معنوی مراتب پر فائز ہوئے اور اپنے علم و معرفت کی وجہ سے معروف و مشہور ہوگئے۔

ابن صباغ ملکی کہتے ہیں: امام موسی کاظم علیہ السلام  کے ہر فرزند کی اپنی ایک خاص اور مشہور فضیلت ہے۔اس میں شک نہیں ہے کہ امام موسی کاظم علیہ السلام کے فرزندوں میں حضرت رضا علیہ السلام کے بعد علمی اور اخلاقی حوالے سے حضرت سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا علمی اور اخلاقی مقام سب سے  بلند  ہے۔یہ والا مقام حضرت سیدہ معصومہ کے ناموں اور القاب اور ان کے بارے میں آئمہ کی زبان مبارک سے بیان ہونے والی تعاریف و توصیفات سے آشکار ہے۔ اس حقیقت سے واضح ہوتا ہے کہ سیدہ معصومہ بھی ثانی زہرا حضرت زینب کی  طرح عالمہ غیر مُعَلَّمہ  ہیں۔عالمہ ہیں مگر ان کا استاد نہیں ہے۔

دعوت نامہ

ان دونوں بہن بھائیوں کے درمیان محبت اور انس انتہائی گہرا تھا، لہذا امام علی رضا علیہ السلام کی جدائی حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کیلئے  بہت  مشکل تھی اور  یہ جدائی امام علی رضا علیہ السلام کیلئے بھی قابل برداشت نہیں تھی۔ لہذا مرو میں مستقر ہونے کے بعد امام علی رضا علیہ السلام نے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کو ایک خط لکھا اور ایک با اعتماد غلام کے ذریعے اس کو مدینہ بھجوایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امام علی رضا علیہ السلام نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ راستے میں کہیں نہ رکے تا کہ وہ خط جلد از جلد اپنی منزل تک پہنچ سکے۔ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا بھی خط ملتے ہی سفر کے لئے آمادہ  ہو گئیں اور مدینہ سے ایران کی طرف روانہ ہو گئیں۔

ایران کی طرف ہجرت اور قم میں داخل ہونا

تاریخ قم کے مؤلف نے یوں لکھا ہے: سنہ200 ہجری میں مامون عباسی نے امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کو مدینے سے “مرو” بلایا۔ مامون کا اصلی مقصد امام علیہ السلام کو اپنے نزدیک رکھ کر ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا تھا لیکن اس نے افکار عمومی میں یہ مشہور کرایا کہ مامون نے امام رضا علیہ السلام کو اپنی ولایت عہدی(جانشینی) کیلئے بلایا ہے۔ سنہ 201 ہجری میں آپ کی بہن حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا  نے اپنے بھائی کے دیدار کی خاطر “مرو” کا سفر کیا ۔ اس سفر میں حضرت معصومہ نے اپنے خاندان اور قریبی رشتہ داروں کے ایک قافلے کے ساتھ ایران کی جانب سفر کیا۔ جب ساوہ کے مقام پر پہنچیں تو اہل بیت کے دشمنوں نے اس کاروان  پر حملہ کیا ان کے ساتھ لڑائی میں آپ کے سب بھائی اور بھتیجے شہید ہو گئے۔ حضرت معصومہ  سلام اللہ علیہا  نے جب اپنے سب عزیزوں کے جنازوں کو خون میں غلطاں دیکھا تو سخت بیمار ہو گئیں۔ اس حادثے کے بعد آپ نے اپنے خادم سے فرمایا کہ انہیں قم کی طرف لے جائے۔

دوسرے قول کے مطابق جب آپ کی بیماری کی خبر آل سعد تک پہنچی تو انہوں نے ارادہ کیا کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے قم تشریف لانے کی درخواست کریں ، لیکن موسی بن خزرج جو کہ  امام رضا علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے، نے اس کام میں پہل کی اور حضرت  معصومہ  سلام اللہ علیہا کی خدمت میں جا کر آپ کے اونٹ کی مہار پکڑی، آپ کو قم کی طرف لے آئے اور اپنے گھر میں ٹھرایا۔  بعض منابع کے مطابق آپ 23 ربیع الاول کو اہل قم کے والہانہ استقبال میں قم میں وارد ہوئیں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا نے 17 دنوں تک قم میں زندگی گزاری اور اس مدت میں ہمیشہ مشغول عبادت رہیں اور اپنے پروردگار سے راز و نیاز کرتی رہیں اس طرح اپنی زندگی کے آخر ی ایام اللہ تعالٰی کے ساتھ راز و نیاز اور انتہائی خضوع و خشوع کے ساتھ بسر فرمائے ۔آپ کی عبادت گاہ موسی بن خزرج کا گھر تھا جو کہ اب ستیہ یا بیت النورکے نام سے مشہور ہے۔

زیارت کی فضیلت

وہ روایات جو آپ کی زیارت کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں آپ کے فضائل کی بہترین سند ہیں کیونکہ آئمہ معصومین علیہم السلام نے اپنے پیروکاروں کو اس مرقد مطہر و منور کی زیارت کی تشویق فرمائی ہے نیز اس کا بہت عظیم ثواب بیان فرمایا ہے یہ ثواب ایسا ہے کہ جو امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی اولاد میں امام رضا علیہ السلام کے بعد فقط آپ ہی کے سلسلے میں کتابوں میں ملتا ہے ۔حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کے سلسلے میں ائمہ معصومین سے متعدد احادیث و روایت نقل ہوئی ہیں, ہم یہاں فقط چند روایات ذکر کرتے  ہیں:

1۔قم کے نامور محدث  سعد ابن سعدکہتے ہیں :میں امام رضا علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہؤا تو امام ہشتم علیہ السلام نے مجھ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے  سعد! ہماری ایک قبر تمہارے ہاں ہے۔میں نے عرض کیا:میری جان آپ پر فدا ہو؛ کیا آپ فاطمہ بنت موسی بن جعفر کے مزار کی بات کررہے ہیں؟ فرمایا:  مَنْ زارَها فَلَهُ الجَنَّةُ ؛ جو شخص ان کے حق کی معرفت رکھتے ہوئے ان کی زیارت کرے، اس کے لئے بہشت ہے۔[1]

2۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں: مَن زارَها عَارِفاً بِحَقِّها فَلَهُ الجَنَّةُ ؛ جو کوئی ان کی زیارت کرے اور ان کے حق کی معرفت رکهتا ہو اس پر جنت واجب ہے۔[2]  ایک اور حدیث میں ہے کہ:  ان کی زیارت بہشت کے ہم پلہ ہے۔

3۔ نیز فرمایا:« اِنَّ زيارَتَها تُعادِلُ الْجَنَّةَ ؛ جو شخص ان کی زیارت کرے اس کی جزا بہشت ہے۔[3]

4۔ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: « مَنْ زارَ الْمَعْصُومَةَ عَارِفاً بِحَقِّها فَلَهُ الجَنَّةُ ؛جو شخص از روئے معرفت آپ کی زیارت کرے اس کا انعام جنت ہے۔[4]

5۔ نیز فرمایا :مَنْ زارَ الْمَعْصُومَةَ بِقُمْ كَمَنْ زارَني ؛ جو شخص قم میں حضرت معصومہ (س) کی زیارت کرے، گویا اس نے میری زیارت کی ہے۔[5]

6۔ اس سلسلے میں روایت ہے کہ ابن الرضا امام محمد تقی الجوادعلیہ السلام نے فرمایا: مَن زارَ قَبرَ عَمَّتي بِقُمَّ ، فَلَهُ الجَنَّةُ ؛جو شخص قم میں میری پھوپھی کی زیارت کرے بہشت اس پر واجب ہے۔[6]

7۔ایک مؤمن امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے لئے مشہد گیا اور وہاں سے کربلا روانہ ہوا اور ہمدان کے راستے کربلا چلا گیا۔ سفر کے دوران اس نے خواب میں امام رضا علیہ السلام کی زیارت کی اور امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: کیا ہوتا اگر تم سفر کے دوران قم سے عبور کرتے اور میری ہمشیره کی زیارت کرتے؟۔

8۔آقای   خوانساری لکهتے ہیں: روایت ہے کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص میری زیارت کے لئے نہ آسکے( رے) میں میرے بهائی (حمزه ) کی زیارت کرے یا قم میں میری ہمشیره معصومہ کی زیارت کرے اس کو میری زیارت کا ثواب ملے گا۔[7]

9۔ امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا : اِنَّ لِلّهِ حَرَمَا وَ هُوَ مَكَّةُ وَ لِرَسولِهِ حَرَمَا وَ هُوَ الْمَدينَةُ وَ لِاَميرِ الْمُؤمِنيينْ حَرَمَا وَ هُوَ الْكُوفَةُ وَ لَنا حَرَمَا و هُوَ قُمْ وَ سَتُدْفَنُ فيهِ اِمْرَأَةٌ مَنْ وُلْدي تُسَمّي فاطِمَةُ مَنْ زارَها وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ؛ خدا کے لئے ایک حرم ہے اور وہ مکہ ہے رسول کے لئے ایک حرم ہے اور وہ مدینہ ہے ، امیرالموٴمنین کے لئے ایک حرم ہے اور وہ کوفہ ہے ہمارے لئے ایک حرم ہے اور وہ قم ہے ، عنقریب وہاں میری اولاد میں سے ایک خاتون دفن کی جائے گی جس کا نام فاطمہ ہوگا   جو بھی اس کی زیارت کرے گا اس پر جنت واجب ہوگی۔ راوی کہتا ہے  امام علیہ السلام نے یہ حدیث اس وقت ارشاد فرمائی کہ جب امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی والدہ حاملہ بھی نہ ہوئی تھیں ۔[8]

اس روایت سے خصوصا اس نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی ولادت سے قبل یہ حدیث صادر ہوئی بخوبی اندازہ ہوتا ہے  کہ حضرت فاطمہ معصومہ کا قم میں دفن ہونا خداوند عالم کے اسرار میں سے ایک سر خفی ہے اور اس کا تحقق مکتب تشیع کی حقانیت کی ایک عظیم دلیل ہے۔

اگرچہ یہ ساری روایات حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کی فضیلت اور اہمیت پر دلالت کرتی ہیں لیکن ان روایات میں بعض نکات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جیسے: جنت کا واجب ہونا، جنت کے برابر ہونا، بہشت کا مالک ہوجانا، جو لفظ ( لہ) سے  سمجھے جاتے ہیں اور ان کی زیارت کا حضرت رضا علیہ السلام کی زیارت کے برابر ہونا اور حضرت رضا علیہ السلام کا اپنے شیعہ سے شکوہ کرنا جس نے حضرت معصومہ سلام الله علیہا کی زیارت نہیں کی تهی۔

حضرت معصومہ علیہا السلام کی زیارت کی سفارش صرف ایک امام نے نہیں فرمائی ہے بلکہ تین اماموں (علیہم السلام) نے ان کی زیارت کی سفارش فرمائی ہے: امام صادق، امام رضا و امام جواد علیہم السلام  اور دلچسپ  بات یہ  ہے کہ امام صادق  علیہ السلام نے حضرت معصومہ کی ولادت با سعادت سے بہت پہلے بلکہ آپ (س) کے والد امام کاظم علیہ السلام کی ولادت سے بهی پہلے ان کی زیارت کی سفارش فرمائی ہے۔

دوسرا دلچسپ نکتہ پانچویں روایت ہے جس میں حضرت معصومہ کی زیارت امام رضا علیہ السلام کے ہم پلہ قرار دیا گیا ہے۔ زید شحّام نے امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ : یا بن رسول الله جس شخص نے آپ میں سے کسی ایک کی زیارت کی اس کی جزا کیا ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا:  جس نے ہم میں سے کسی ایک کی زیارت کی ، كَمَنْ زَارَ رَسُولَ اللَّهِ ص ؛ اس شخص کی طرح ہے جس نے رسول خدا صلی الله و علیہ و آلہ و سلم کی زیارت کی ہو  چنانچہ جس نے سیده معصومہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا  کی زیارت کی در حقیقت اس نے رسول خدا کی زیارت کی ہے اور پهر حضرت رضا علیہ السلام  جو سیدہ معصومہ کی زیارت کو اپنی زیارت کے برابر قراردیتے ہیں فرماتے ہیں  :أَلَا فَمَنْ زَارَنِي وَ هُوَ عَلَى غُسْلٍ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ‏ ؛ آگاه رہو کہ جس نے غسل زیارت کرکے میری زیارت کی وه گناہوں سے اس طرح پاک ہوجاتا ہے جس طرح کہ وه ماں سے متولد ہوتے وقت گناہوں سے پاک تها۔[9] ان احادیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ سیده معصومہ سلام الله کی زیارت گناہوں کا کفاره بهی ہے اور جنت کی ضمانت بهی ہے بشرطیکہ انسان زیارت کے بعد گناہوں سے پرہیز کرے۔

دو حدیثوں میں امام صادق اور امام رضا علیہما السلام نے زیارت کی قبولیت اور وجوب جنت کے لئے آپ (س) کے حق کی معرفت کو شرط قرار دیا ہے اور ہم آپ (س) کی زیارت میں پڑهتے ہیں :يا فاطِمَة ا ِشْفَعی لی فِی الْجَنَّة ِ، فَا ِنَّ لَكَ عِنْدَاللّْہ ِشَأْناً مِنَ الشَّأْن ؛اے فاطمہ جنت میں میری شفاعت فرما کیونکہ آپ کے لئے خدا کے نزدیک ایک خاص شأن و منزلت ہے۔ امام صادق علیہ السلام کے ارشاد گرامی کے مطابق تمام شیعیان اہل بیت علیہم السلام  حضرت سیده معصومہ سلام الله کی شفاعت سے جنت میں داخل ہوں  گے اور زیارت نامے میں ہے کہ آپ ہماری شفاعت فرمائیں کیونکہ آپ کے لئے ایک خاص شأن و منزلت ہے۔ علماء کہتے ہیں کہ یہ شأن، شأنِ ولایت ہے جو حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کو حاصل ہے اور اسی منزلت کی بنا پر وه مؤمنین کی شفاعت فرمائیں گی اور اگر کوئی اس شأن کی معرفت رکهتا ہو اور آپ کی زیارت کرے تو اس پر جنت واجب ہے۔

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا سے منقول روایات

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے فضائل اور کمالات کے مختلف پہلو ہیں  اس مختصر مقالہ میں یہ وسعت نہیں ہے کہ تمام پہلوؤں کو   بیان کیا جائے، حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی فضائل و کمالات کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ سے بعض روایات نقل ہوئی ہیں ان میں سے فقط تین کی طرف اشارہ کرتے ہیں :

1۔ عَنْ فاطِمَهَ بِنْتِ مُوسَي بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ فاطِمَهَ بِنْتِ الصادِقِ جَعْفَرِِ بْنِ مُحَمَدٍ، عَنْ فاطِمَهَ بِنْتِ الْباقِرِ مُحَمَدِ بْنِ عَلِيٍ، عَنْ فاطِمَهَ بِنْتِ السَجادِ عَلِيِ بْنِ الْحُسَيْنِ زَينِ الْعابِدينَ، عَنْ فاطِمَهَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ(ص)، قالَتْ قالَ رَسُولُ اللهِ: اَلا مَنْ ماتَ عَلي حُبِ آلِ مُحَمَدٍ ماتَ شَهِيداً؛ حضرت فاطمہ معصومہ علیہا السلام فاطمہ بنت امام جعفر صادق علیہ السلام سے وہ فاطمہ بنت امام باقر علیہ السلام سے وہ فاطمہ بنت امام سجاد علیہ السلام سے وہ فاطمہ بنت امام حسین علیہ السلام سے وہ زینب بنت امیر الموٴمنین علیہ السلام وہ فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہاسے نقل فرماتی ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فر مایا : آگاہ ہو جاوٴ کہ جو آل محمد کی محبت پر مرے گا وہ شہید مرا ہے۔[10]

2۔ حضرت علی علیہ السلام اور ان کے شیعوں کی قدر و منزلت

حَدَّثَتْنَا فَاطِمَةُ بِنْتُ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى الرِّضَا ع قَالَتْ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ وَ زَيْنَبُ وَ أُمُّ كُلْثُومٍ بَنَاتُ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ ع قُلْنَ حَدَّثَتْنَا فَاطِمَةُ بِنْتُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ع قَالَتْ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ع قَالَتْ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ع قَالَتْ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ وَ سُكَيْنَةُ ابْنَتَا الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ع عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِيٍّ ع عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ص قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ص يَقُولُ لَمَّا أُسْرِيَ بِي إِلَى السَّمَاءِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ دُرَّةٍ بَيْضَاءَ مُجَوَّفَةٍ وَ عَلَيْهَا بَابٌ مُكَلَّلٌ بِالدُّرِّ وَ الْيَاقُوتِ وَ عَلَى الْبَابِ سِتْرٌ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا مَكْتُوبٌ عَلَى الْبَابِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه‏ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ عَلِيٌّ وَلِيُّ الْقَوْمِ وَ إِذَا مَكْتُوبٌ عَلَى السِّتْرِ بَخْ بَخْ مِنْ مِثْلِ شِيعَةِ عَلِيٍّ فَدَخَلْتُهُ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ عَقِيقٍ أَحْمَرَ مُجَوَّفٍ وَ عَلَيْهِ بَابٌ مِنْ فِضَّةٍ مُكَلَّلٍ بِالزَّبَرْجَدِ الْأَخْضَرِ وَ إِذَا عَلَى الْبَابِ سِتْرٌ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا مَكْتُوبٌ عَلَى الْبَابِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ عَلِيٌّ وَصِيُّ الْمُصْطَفَى وَ إِذَا عَلَى السِّتْرِ مَكْتُوبٌ بَشِّرْ شِيعَةَ عَلِيٍّ بِطِيبِ الْمَوْلِدِ فَدَخَلْتُهُ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ زُمُرُّدٍ أَخْضَرِ مُجَوَّفٍ لَمْ أَرَ أَحْسَنَ مِنْهُ وَ عَلَيْهِ بَابٌ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ مُكَلَّلَةٍ بِاللُّؤْلُؤِ وَ عَلَى الْبَابِ سِتْرٌ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا مَكْتُوبٌ عَلَى السِّتْرِ شِيعَةُ عَلِيٍّ هُمُ الْفَائِزُونَ فَقُلْتُ حَبِيبِي جَبْرَئِيلُ لِمَنْ هَذَا فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ لِابْنِ عَمِّكَ وَ وَصِيِّكَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ع يُحْشَرُ النَّاسُ كُلُّهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً إِلَّا شِيعَةَ عَلِيٍّ ؛فاطمہ معصومہ علیہا السلام (اسی مذکورہ سند سے ) فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے نقل فرماتی ہیں کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا : جب شب معراج، میں بہشت میں داخل ہوا تو ایک قصر دیکھا جس کا ایک دروازہ یاقوت اور موتیوں سے آراستہ تھا اس کے دروازے پر ایک پردہ آویزاں تھا میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو اس پر لکھا تھا: خدا کے علاوہ کوئی لائق پرستش نہیں محمد اللہ کے رسول اور علی لوگوں کے رہبر ہیں  اور اس کے پردے پر لکھا تھا :آفرین  آفرین   علی علیہ السلام کے شیعوں جیسا کون ہے؟ میں اس قصر میں داخل ہوا وہاں ایک عمارت دیکھی جو عقیق سرخ سے بنی ہوئی تھی اس کا دروازہ چاندی کا تھا جو زبرجد سے مرصع تھا اس در پر بھی ایک پردہ آویزاں تھا میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو اس پر لکھا تھا: محمد خدا کے رسول اور علی مصطفیٰ کے وصی ہیں۔اس کے پردے پر مرقوم تھا: علی شیعوں کو حلال زادہ ہونے کی مبارک باد دے دو۔میں داخل ہوا تو وہاں زبرجد سے بنا ہوا ایک محل دیکھا جس سے بہتر میں نے نہیں دیکھا تھا اس محل کا دروازہ سرخ یاقوت کا تھا جو موتیوں سے مزین تھا اس پر ایک پردہ لٹکا تھا میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ پردے پر لکھا ہے: علی کے شیعہ ہی کامیاب ہیں۔ میں نے جبرئیل سے سوال کیا کہ یہ محل کس کا ہے جبرئیل نے کہا آپ کے چچا زاد بھائی، وصی و جانشین حضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام کا ہے قیامت کے دن سب بجز علی کے شیعوں کے ننگے پاوٴں وارد ہونگے۔[11]

3۔مَنْ أصْعَدَ إلی اللّهِ خالِصَ عِبادَتِهِ، أهْبَطَ اللّهُ عَزَّوَجَلَّ لَهُ أفْضَلَ مَصْلَحَتِهِ؛حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا روایت کرتی ہیں کہ حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی خالص عبادت اللہ تعالی کی بارگاہ میں بھیجے گا خدا اپنی بہترین مصلحتیں اس کی جانب اتارے گا۔[12]

[1] ۔ عوالم العلوم:ج 21، ص 353۔

[2] ۔  بحار الانوار: ج 48 صفحہ 307۔

[3] ۔ تاريخ قم: ص 214۔

[4] ۔ عیون اخبارالرضا (ع)۔

[5] ۔ ناسخ التواريخ:ج 3، ص 68۔

[6] ۔ كامل الزيارات ، ص 536۔

[7] ۔ زبدة التصانيف، ج 6، ص 159۔

[8] ۔ تاريخ قم: ص 214۔

[9] ۔ عیون اخبار الرضا : ج 2، ص 260۔

[10] ۔اللولؤ الثمینہ: ص  217۔

[11] ۔بحار الأنوار : ج‏65، ص: 77

[12]۔میزان الحکمة: ج 2 ، ص 882۔