جمعہ… یا بس ایک اور دن؟

جمعہ… یا بس ایک اور دن؟

آج جمعہ ہے۔

جمعہ آتا ہے، ہم غسل کرتے ہیں، کپڑے بدلتے ہیں، خوشبو لگاتے ہیں، مسجد جاتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں… اور پھر ہفتے کے دوسرے دنوں کی طرح اپنی مصروفیات میں واپس چلے جاتے ہیں۔

لیکن کبھی کبھی سوچتا ہوں، کیا جمعہ واقعی ہمارے لیے بس ایک اور دن ہے؟

اہل بیتؑ کی روایات میں جمعہ کے فضائل پڑھنے بیٹھیں تو صرف ان کے نام گنوانا بھی مشکل ہے۔

امام باقرؑ فرماتے ہیں:

«مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ بِيَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ»

“کسی دن پر ایسی سورج طلوع نہیں ہوا جو جمعہ سے افضل ہو۔”

اور ایک روایت میں رسول اللہؐ سے منقول ہے:

«إِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ سَيِّدُ الْأَيَّامِ»

“بے شک جمعہ تمام دنوں کا سردار ہے۔”

اسی روایت میں آگے ہے کہ اللہ اس دن نیکیوں کو بڑھاتا ہے، گناہوں کو مٹاتا ہے، درجات بلند کرتا ہے، دعائیں قبول کرتا ہے، پریشانیاں دور کرتا ہے، بڑی حاجتیں پوری کرتا ہے، اور یہ «يَوْمُ الْمَزِيدِ» یعنی مزید عطا کا دن ہے۔

سوچتا ہوں… جس دن کے لیے یہ الفاظ آئے ہیں، اسے ہم اپنی زندگی میں کس طرح دیکھتے ہیں؟

ایک عید کے طور پر؟
ایک خاص دن کے طور پر؟
یا صرف ہفتے کے کیلنڈر پر ایک اور خانہ؟

روایات میں جمعہ کے لیے صرف نماز کا ذکر نہیں۔

غسلِ جمعہ ہے۔
پاکیزگی ہے۔
خوشبو اور زینت ہے۔
وقار کے ساتھ مسجد کی طرف جانا ہے۔
قرآن ہے۔
صلوات ہے۔
صدقہ ہے۔
دعا ہے۔
اور اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو تازہ کرنے کے بے شمار مواقع ہیں۔

امام صادقؑ فرماتے ہیں:

«غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ طَهُورٌ وَكَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا مِنَ الذُّنُوبِ مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ»

“جمعہ کا غسل پاکیزگی ہے اور ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے۔”

یہ روایت من لا يحضره الفقيه میں موجود ہے۔

اور امام صادقؑ نے غسلِ جمعہ کی ایک حکمت بھی بیان فرمائی کہ مدینہ کے انصار اپنے کام اور کھیتوں میں مشغول رہتے تھے، جمعہ کو مسجد آتے تو جسم سے پسینے کی بو آتی اور لوگوں کو تکلیف ہوتی؛ رسول اللہؐ نے غسل کا حکم دیا، اور یہ سنت جاری ہوگئی۔

کتنی خوبصورت بات ہے۔

یعنی جمعہ میں اللہ کے حق کے ساتھ بندوں کے حق کا بھی خیال ہے۔

اپنے جسم کی صفائی بھی،
دوسروں کا خیال بھی،
اپنے لباس کی پاکیزگی بھی،
اپنی روح کی پاکیزگی بھی۔

اور پھر جمعہ کا ایک اور پہلو ہے جس پر شاید ہم کم غور کرتے ہیں۔

دعا۔

امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ جمعہ میں دعا کی قبولیت کا ایک وقت خطبے کے اختتام سے نماز کی صفیں درست ہونے تک ہے، اور ایک دوسرا وقت دن کے آخری حصے سے غروبِ آفتاب تک۔

یعنی جمعہ ہمیں صرف مسجد تک نہیں بلاتا، اللہ کے سامنے مانگنے کے لیے بھی بلاتا ہے۔

اور پھر آتی ہے شبِ جمعہ۔

شاید یہاں انسان کو ذرا ٹھہر کر سوچنا چاہیے۔

ہماری کتنی راتیں بے خبری میں گزر جاتی ہیں۔
کتنی راتیں موبائل کی اسکرین پر گزر جاتی ہیں۔
کتنی راتیں باتوں میں گزر جاتی ہیں۔

اور شبِ جمعہ بھی آتی ہے… اور چلی جاتی ہے۔

جبکہ امام صادقؑ فرماتے ہیں:

«إِنَّ لِلْجُمُعَةِ حَقّاً وَحُرْمَةً»

“بے شک جمعہ کا ایک حق اور حرمت ہے۔”

پھر امامؑ عبادت، نیک عمل اور گناہوں سے بچنے کی تاکید فرماتے ہیں، اور اسی روایت میں شبِ جمعہ کے بارے میں فرماتے ہیں:

«وَذَكَرَ أَنَّ يَوْمَهُ مِثْلُ لَيْلَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُحْيِيَهَا بِالصَّلَاةِ وَالدُّعَاءِ فَافْعَلْ»

“اور فرمایا کہ اس کا دن اس کی رات کی مانند ہے؛ پس اگر تم استطاعت رکھتے ہو کہ اسے نماز اور دعا کے ذریعے زندہ رکھو تو ایسا کرو۔”

یہاں شاید ایک بات کی وضاحت ضروری ہے۔

ہم کبھی سنتے ہیں کہ “شبِ جمعہ شبِ قدر کی طرح ہے”۔ اس جملے کو بطورِ قطعی حدیث بیان کرنا علمی احتیاط کے خلاف ہوگا۔ لیکن اہل بیتؑ کی روایات میں شبِ جمعہ کی جو عظمت بیان ہوئی ہے، وہ خود اتنی غیر معمولی ہے کہ اس کے لیے کسی غیر ثابت جملے کی ضرورت نہیں۔

جمعہ کا دن «سید الایام» ہے۔
اس میں رحمت کے خصوصی مواقع ہیں۔
دعاؤں کے اوقات ہیں۔
نیکیوں کے بڑھنے کا ذکر ہے۔
اور شبِ جمعہ کو نماز و دعا سے زندہ رکھنے کی تاکید ہے۔

یہاں ایک روایت اور دل کو ٹھہرا دیتی ہے۔

امام باقرؑ سے پوچھا گیا کہ جمعہ کو جمعہ کیوں کہا گیا؟

فرمایا کہ اللہ نے میثاق کے دن اپنی مخلوق کو محمدؐ اور ان کے وصیؑ کی ولایت کے لیے جمع کیا، اسی اجتماع کی مناسبت سے اسے جمعہ کہا گیا۔

تو جمعہ صرف ہفتے کا ایک دن نہیں؛ ہماری روایتی فکر میں اس کا تعلق محمدؐ و آل محمدؑ، ولایت، عبادت اور اللہ کی طرف رجوع سے بھی جڑتا ہے۔

اور شاید اسی لیے جمعہ کے دن صلوات کی اتنی تاکید ہے۔

ہم محمدؐ و آل محمدؑ کا نام لیتے ہیں، صلوات بھیجتے ہیں، اور کچھ دیر کے لیے اپنے دل کو اس گھر کی طرف موڑ دیتے ہیں جس سے ہماری ہدایت وابستہ ہے۔

جمعہ کے بارے میں ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ جمعہ کے دن آسمان کے دروازے اعمال کے لیے کھول دیے جاتے ہیں اور جنت جمعہ والوں کے لیے آراستہ کی جاتی ہے۔

پھر امام باقرؑ قرآن کی آیت «فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ» کے بارے میں فرماتے ہیں:

«اعْمَلُوا وَعَجِّلُوا»

“عمل کرو اور جلدی کرو۔”

اسی روایت میں جمعہ کو ایسا دن بتایا گیا ہے جس میں نیکی اور بدی کے اثرات بڑھ جاتے ہیں، اور یہاں تک ذکر ہے کہ اصحابِ رسولؐ جمعہ کی تیاری جمعرات ہی سے شروع کر دیتے تھے۔

یہ جملہ پڑھ کر دل میں عجیب سا احساس پیدا ہوتا ہے۔

ہم جمعہ کی تیاری کب شروع کرتے ہیں؟

جمعہ کی صبح؟
مسجد جانے سے کچھ دیر پہلے؟
یا شاید بالکل نہیں؟

اور پھر سوچتا ہوں، شاید جمعہ کا اصل حسن یہی ہے کہ یہ ہمیں ہر ہفتے رکنے کا ایک موقع دیتا ہے۔

دنیا بھاگ رہی ہو، ہم کچھ دیر رک جائیں۔

اپنے رب کو یاد کریں۔
محمدؐ و آل محمدؑ کو یاد کریں۔
قرآن کو یاد کریں۔
اپنے مرحومین کو یاد کریں۔
اور شاید خود کو بھی یاد کر لیں۔

شبِ جمعہ میں کسی مرحوم کے لیے فاتحہ پڑھ لی جائے، کچھ قرآن پڑھ لیا جائے، دعا کر لی جائے، صلوات بھیج دی جائے، کسی ضرورت مند کو کھانا کھلا دیا جائے یا صدقہ کر دیا جائے—تو یہ رات صرف ہماری اپنی ذات تک محدود نہیں رہتی، محبت کا دائرہ زندہ لوگوں سے گزر کر ان لوگوں تک بھی پہنچ جاتا ہے جو ہم سے پہلے اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔

اور پھر ایک سوال آتا ہے، شاید بہت سادہ سا:

ہم جمعہ کے دن اپنے دین کے لیے کتنا وقت نکالتے ہیں؟

ہم دنیا کے کاموں کے لیے وقت نکالتے ہیں۔
کاروبار کے لیے وقت ہے۔
موبائل کے لیے وقت ہے۔
خبروں کے لیے وقت ہے۔
ملاقاتوں کے لیے وقت ہے۔

کیا جمعہ کے دن ایک گھنٹہ ایسا نہیں ہو سکتا جس میں ہم صرف یہ معلوم کریں کہ:

میں اپنے دین کے بارے میں کیا نہیں جانتا؟

کوئی مسئلہ پوچھ لیں۔
کوئی حدیث پڑھ لیں۔
قرآن کی چند آیات سمجھ لیں۔
اپنی کسی غلطی کو پہچان لیں۔
یا صرف خاموش بیٹھ کر یہ سوچ لیں کہ گزرنے والے ہفتے میں میں اللہ سے قریب ہوا یا دور؟

شاید جمعہ ہمیں ہر ہفتے یہی موقع دیتا ہے کہ ہم زندگی کی دوڑ سے چند قدم باہر نکلیں۔

غسل کے ذریعے ظاہر کو پاک کریں،
ذکر کے ذریعے دل کو جگائیں،
نماز کے ذریعے اللہ کی طرف متوجہ ہوں،
صلوات کے ذریعے محمدؐ و آل محمدؑ سے اپنا تعلق تازہ کریں،
دعا کے ذریعے اپنی حاجتیں پیش کریں،
اور محاسبے کے ذریعے اپنے آپ کو دیکھیں۔

اہل بیتؑ نے جمعہ کو ہمارے لیے چھوڑا نہیں، سجایا ہے۔

رحمت سے سجایا،
دعا سے سجایا،
عبادت سے سجایا،
ذکر سے سجایا،
اور ولایتِ محمدؐ و آل محمدؑ کی یاد سے سجایا۔

بس کبھی کبھی دل میں ایک سوال اٹھتا ہے:

اتنے فضائل والا جمعہ ہر ہفتے ہماری زندگی میں آتا ہے…
کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اسے پہچانے بغیر ہی گزار دیتے ہیں؟

اور پھر اگلا جمعہ آ جاتا ہے۔

جمعہ… یا بس ایک اور دن؟

ماخذ

  • شیخ کلینی، الکافی، ج 3، کتاب الصلاة، باب فضل الجمعة وليلتها؛ اس باب میں جمعہ اور شبِ جمعہ کی 14 روایات ہیں۔
  • شیخ صدوق، من لا يحضره الفقيه، ج 1، باب غسل يوم الجمعة ودخول الحمام وآدابه وما جاء في التنظيف والزينة، خصوصاً حدیث 229، غسلِ جمعہ کی روایت۔
  • شیخ صدوق، الخصال، ج 1، باب الخصال الخمس في يوم الجمعة، جمعہ کی عمومی فضیلت کے ضمن میں۔
  • شیخ طوسی، تهذيب الأحكام، ج 3، باب الأعمال التي تكون في ليلة الجمعة ويومها۔

مولانا تصورعباس خان سرگانی ، پرنسپل امام رضا کمپلیکس ضلع لیہ

16 اگست 2026