تربیت اولاد میں ماں کا کردار(ریاض حیدر علوی)

دین  مبین    اسلام میں خواتین کا  کردار   ایک ایسا اہم مسئلہ  ہے جو خاندان  کے لئے بنیادی اور اساسی حیثیت رکھتا ہے۔ اس  لئے کہ ایک گھر اورخاندان کی سعادت و شقاوت  اور اولاد کی  شخصیت، عورت کے اعمال و کردار سے متأثر ہوتی ہے۔ ایک مسلمان عورت کو اگر ایک طرف   بیوی ہونے کا حق ادا  کرنا ہوتا ہے تو دوسری طرف مامتا کی باگ ڈور سنبھالنا بھی اسی کی ذمہ داری  ہوتی ہے ۔ لہذا  اس کے لئے ضروری ہے کہ  وہ اپنا مقام پہچانے ،گھر   اور خاندان میں اپنا اثر قائم کرنے کے لئے  وہاں کی  ذمہ داریوں  سے بھی بخوبی آگاہ ہو ۔

ماں کے  کردار اورتربیتی  تأثیر ات کو مختلف زمانے میں مورد  لحاظ قرار دیا جاتا ہے جیسے:حمل سے پہلے ،حمل کے بعد،رضاعت کے ایام میں، رضاعت کے بعد۔

ایام حمل سے قبل  ماں کو اصلاح نفس  اور خودسازی پر  خاص توجہ دینا چاہئے، ایام حمل میں اعقادات اور ایمان پر ، ایام رضاعت   میں اور اس کے بعد  بچوں کی معنوی  اور دینی تربیت اور  ان کے اندر فضائل و کمالات کی  پرورش کو  ملحوظ خاطر قرار دینا چاہئیے۔ اس مقالہ میں مذکورہ  تمام  موارد کو تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔

اس عالم ہستی میں  ماں اور بیوی کا  نقش   کچھ اس طرح بے مثال   ہےکہ  بشریت کے روح و رواں کی سلامتی اسی سے وابستہ ہے   اور عورت کے علاوہ کوئی دوسرا  اس کردار کو نبھا نہیں سکتا ہے ۔

ائمہ طاہرینؑ نے متعدد مقامات پر  عورت کی  اس ذمہ داری کو  بعنوان جہاد  معرفی  فرمایا ہے جو مردوں  کی تمام  اجتماعی و  سیاسی  کارکردگی  اور راہ خدا میں جہاد کے برابرہے۔ جبکہ عورت کی یہ ذمہ داری  اس کی کارکردگیوں  کا  فقط ایک  حصہ ہے جو وہ  اپنے گھرکے لئے انجام دیتی ہے۔

ایک  عورت  کے تربیتی  نقش  اور کردار پر توجہ دینا  بہت ضروری ہے  اس لئے کہ   ماں کا  وہ مقام اورمرتبہ  جو اولاد کی تربیت میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے،  ہمیشہ سےہی دشمنوں کی سازشوں کا نشانہ  رہاہے۔    دشمن، پرورش اولاد  جیسی ذمہ داری  کو عورتوں کے حق میں خیانت  سمجھتا ہے اور  اسی  طرح مردوں اور عورتوں کے  درمیان مساوی حقوق پر  اختلافی بحث کو چھیڑ   کر انھیں ان کی فطرت سے ہٹانے کی کوشش کی  گئ ہے ، اور ان کے تربیتی نقش اور کردار پر سب سے زیادہ ضرب بھی لگائی ہے۔

لہذا اس موضوع پر توجہ دینا اس لئےبہت ضروری ہےکہ ایک طرف  تو  خودعورتوں کو اس  موضوع کی اہمیت کا اندازہ   ہو جائےاور وہ اپنےتربیتی کردار سے بطور مکمل آگاہ ہو سکیں اور دوسری طرف  دشمنوں کی سازشوں سےمقابلہ بھی کیاجاسکے۔

اس مضمون کو چار حصوں میں تقسیم کیاگیا ہے ۔ پہلے  حصہ میں ایام حمل سے پہلے  ماں کےتربیتی نقش اور کردار کی اہمیت  کو بیان کیا گیا ہے۔ دوسرے حصے میں  ایام حمل  میں فرزندپرماں کے کردار کی  تأثیر  کو بیان کیا گیا ہے ، تیسرے اور چوتھے حصے میں  ایام رضاعت اور اس کےبعد  کے ایام کی کیا اہمیت ہے ان  کوبیان کیاگیاہے۔

لغات شناسی

اصل موضوع کے سلسلہ میں بحث  کرنے سے پہلے کچھ اہم لغات کے معنی بیان کئے  جائیں گے۔

۱) تربیت

لغت میں تربیت کا مطلب ہے کسی چیز کی  پرورش  کرنا اور اسے  ایک   حالت سے دوسری  حالت کی طرف لے جانا یہاں تک کہ وہ  مکمل  ہو جائے۔  ( راغب اصفھانی، بی تا، ص۳۳۶) اصطلاح میں   مخلوقات کی اندرونی صلاحیتوں اور ممکنہ امکانات کو پروان چڑھانے کے لیے زمینہ  فراہم کرنے کو   تربیت کہا جاتا ہے۔ اگر تربیت کا استعمال  گھراورخاندان کے ساتھ  کیا جائے تو  یہاں پر گھر سے مراد وہ جگہ ہے جہاں تربیت کرنے والے اور تربیت پانے والے  دونوں ہی موجود ہوتے ہیں۔ )جمعی از یویسندگان، ۱۳۹۱،ص۵۰۷)

۲) گھرانہ

لغت میں گھراس جگہ کو کہا جاتا ہے  جہاںشوہر   ، بیوی ، بچے   اور ان کی فیملی کے دوسرے  افراد موجود ہوں۔  (دہخدا، ۱۳۷۷، ص۹۴۳۸)

اصطلاح میں    گھر اس جگہ کو کہا جاتا ہے  جہاں،یا تو  لوگوں  کا تعلق، رشتہ ازدواج  میں منسلک ہونے  سے  قائم ہوتا ہے  ، یا خونی رشتوں کی بنیاد  پر  ایجاد ہوتا ہے یا    لاولد ہونے کی صورت میں کسی کی اولاد کو گود لینے کی بنیاد پر وجود میں آتا ہے اور جہاں تمام افراد ایک دوسرے کی نسبت  شوہر ،بیوی، ماں، باپ، بھائی، بہن اور اولاد ہوتی ہیں کہ جس میں مختلف کلچر و ثقافت پروان چڑھتی ہے۔(قنادان، ۱۳۵۷، ص۱۴۸)

ماں کا مرتبہ اور مقام

گھر کے   تمام افراد کے درمیان ماں کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے بالخصوص ان گھرانوں میں جہاں روش زندگی کو  طبیعی اور سنت اسلامی کے مطابق آئیڈیل بنایا جاتا ہے کہ جس کی بنیاد پراولاد کی تربیت کے لئے شیر مادر بہترین غذا اور اس کی آغوش ایک بہترین مقام ہوتی ہے۔ اس نظریہ کی بنا پر، سب سے نمایاں اور اہم کردار آیات قرآنی میں ماں کا ذکر ہوا ہے کہ جس کی ستائش بھی کی گئی  اوروہ  ایک ماں کے لئے عظیم ذمہ داری ہے۔(جمعی از نویسندگان، ۱۳۹۱، ص۵۸۴)

پروردگار عالم، ماں کے صبر و تحمل کے لئے انہیں بے انتہا اجر و ثواب عنایت کرے گا۔ قرآن کریم ماں کی سختیوں اور مشقتوں کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:’’ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَ وَضَعَتْهُ كُرْهًا وَ حَمْلُهُ وَ فِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شهَرًا‘‘ اس کی ماں نے بڑے رنج کے ساتھ اسے شکم میں رکھا ہے اور پھر بڑی تکلیف کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اس کے حمل اور دودھ بڑھائی کا کل زمانہ تیس مہینے کا ہے۔(سورہ احقاف، آیہ ۱۵)

ابتدا میں یہ آیت والدین کے ساتھ نیکی کی سفارش کر رہی ہے، اس کے بعد قرآن ماں کے ان ناخوشگوارحالات کا ذکر کر رہا ہے جو دورانِ حمل، وضع حمل اور رضاعت میں  تحمل کرتی ہے۔(طباطبائی، ۱۳۷۴، ج۱۸، ص۳۰۱)

پیغمبر اکرم ؐ ماں کے مرتبہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’الجنۃ تَحتَ اَقدامِ الامّھات‘‘ جنت ماں کے پیروں کے نیچے ہے۔(بروجردی، ۱۳۸۶، ص۹۰)

یہ حدیث اس بات کو بیان کر رہی ہے کہ ماں کی خوشنودی کے بغیر نہ تو جنت اور نہ ہی نعمات جنت کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پس اسلام میں ماں کا مقام بہت ہی بلند و بالا ہے اس طرح کہ اس خوبصورت دنیا کو ماں کے لئے ہی خلق کیا گیا ہے تاکہ لوگ ماں کے مقام و منزلت کو درک کر سکیں۔ اس لئے کہ اولاد کی سعادتمندی اور اس کا داخل بہشت ہونا ماں ہی کے ذریعہ ممکن ہے لہذا اسی بنیاد پر اسلام نے ماں کے احترام کے سلسلہ میں تاکید فرمائی ہے۔

وضع حمل سے پہلے ماں کا تربیتی کردار

ماں کے تربیتی کردار کو مختلف مراحل میں مورد لحاظ قرار دیا گیا ہے، جیسے وضع حمل سے پہلے کہ جس کے بارے میں بیان کیا جا رہا ہے:

الف)تزکیہ و تہذیب نفس

تزکیہ اور اصلاح نفس اس لحاظ سے زیاد اہمیت  کا حامل ہے کیونکہ انسان غالبا ایک ناپاک اور فاسد ماحول میں آنکھ کھولتا ہے لہذا یہ تزکیہ اور تہذیب نفس ماں کے لئے زیادہ اہم ہے کہ جس کے اوپر فرزند پروری کی ذمہ داری کو عائد کیا گیا ہےاور وہ آئندہ نسلوں کی تربیت کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ اس بنا پر اگر وہ فاسد ہوگی تو پورا معاشرہ فاسد ہو جائے گااور اگر وہ تہذیب یافتہ و باکمال ہوگی تو پورا معاشرہ اس کے کمالات سے متأر ہوگا۔ لہذا یہ ماں اگرچاہتی ہے کہ وہ اولاد کے رشد و کمال کا سبب بنے تو  وہ ایام حمل سے پہلے ہی تزکیہ اور تہذیب نفس کے لئے اقدام کرے، خود کو علم و معرفت اوراخلاقی و معنوی کمالات کی منزل پر پہنچائے تاکہ اس عظیم ذمہ داری کے لئے آمادہ ہو جائے۔(قائمی، ۱۳۷۵، ص۴۲)

ب) یقین و ایمان قلبی

اولاد کی تربیت دینی میں  ایمان و یقین کا کافی گہرا عمل دخل ہے، ماں کا شرک اور بے ایمان ہونا اولاد کے انحراف کا سبب بن سکتا ہے بلکہ یہ ایک ایسی آگ ہے جو ماں اور اس کی اولاد کی دنیاو آخرت کی سعادت کو جھلسا کے رکھ دیتی ہے۔ (قائمی، ۱۳۹۵، ص۷۹۔۸۰) اسی لئے قرآن مجید مشرک عورت سے شادی کے لئے منع فرماتا ہے اور اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ایسی عورتوں کی ظاہری خوبصورتی اور ان کی دولت و ثروت کہیں تمہیں فریب نہ دیدے، تمہیں چاہئے کہ صرف بایمان اور با فضیلت خاتون سے نکاح کرو۔ اسی طرح قرآن نے مسلمان خواتین سے بھی کہا ہے کہ کسی مشرک سے شادی نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئے۔’’ وَ لَا تَنكِحُواْ الْمُشْرِكَاتِ حَتىَ‏ يُؤْمِنَّ  وَ لَأَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيرٌْ مِّن مُّشْرِكَةٍ وَ لَوْ أَعْجَبَتْكُمْ  وَ لَا تُنكِحُواْ الْمُشْرِكِينَ حَتىَ‏ يُؤْمِنُواْ  وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيرٌْ مِّن مُّشْرِك‏‘‘ خبردار مشرک عورتوں سے اس وقت تک نکاح نہ کرنا جب تک ایمان نہ لے آئیں کہ ایک مومن کنیز مشرک آزاد عورت سے بہتر ہے چاہے وہ تمہیں کتنی ہی بھلی معلوم ہو اورمشرکین کو بھی لڑکیاں نہ دینا جب تک مسلمان نہ ہوجائیں کہ مسلمان غلام آزاد مشرک سے بہتر ہے۔(سورہ بقرہ، آیہ۲۲۱)

اس بنیاد پر اگر ماں چاہتی ہے کہ اس کی اولاد با ایمان ہو تو پہلے خود کو با ایمان بنانا پڑے گا تاکہ اس کی اولاد کا  خداواند عالم پر ایمان  و یقین اور پختہ ہو جائے۔ ایسی  ہی خواتین،  اعلی انسانی اقدار کو فروغ دینے والی قرار پاتی ہیں کہ جن کی آغوش میں مردان الہی پروان چڑھتے ہیں۔

ج) فضیلت و تقوائے الہی

لفظ تقویٰ، ’وقی‘ سے اخذ کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں ہر اس شی سے اجتناب جو اذیت کا باعث ہو۔(قرشی، ۱۳۷۱، ج۷، ص۲۳۶) خود سازی اور خود کو پہچاننے کا نتیجہ ایک فکری تبدیلی ہے جسے خود اپنے اندر تلاش کرنا ہے نیز انسانی ہدف اور کمال کو حاصل کرنا ہے اور جو شخص خود کو تعمیر کر لیتا ہے پھر وہ ہمیشہ تقوی اور پرہیز گاری کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔(قائمی، ۱۳۷۰، ص۴۴) ایک متقی انسان کا مقصد صر ف خدا جوئی ہوتا ہے اور وہ خدا کے علاوہ کسی کو نہیں چاہتا، اس کا دل بغیر محبت الہی کے مردہ ہو جاتا ہے اور اس کی ہر سانس لقائے الہی کے لئے بے چین رہتی ہے۔

اسلامی معاشرہ کی اساس و بنیاد بھی تقوی و پرہیز گاری پر ہی منحصر ہےاور یہ تبھی ممکن ہے جب تربیت اولاد تقوی کی بنیاد پر ہو، یہ اسی وقت میسر ہوگا جب  متقی ماں اس ذمہ داری کو اپنے کاندھوں پر لے لے، اس لئے کہ ماں ہی وہ ہوتی ہے جو تقوی کی بیج کو اپنی اولاد کی روح و جان میں بوتی ہےاور آغوش مادر ہی بچہ کا پہلا مکتب ہوتا ہے۔ ماں کا باایمان و متقی ہوتا، پاک نفس و پاک دامن ہونا اولاد میں اثر انداز ہوتا ہے۔  وہ ماں جو بد سیرت ہوتی ہے چاہے باپ ایک اچھا انسان ہی کیوں نہ ہو تب بھی فرزند کے نجیب ہونے کا امکان کم ہی ہے۔

لہذا اسی بنیاد پر ماں کو باپ سے زیادہ متقی ہونا چاہئے، اسے ہر حال میں اپنے آپ کو پیش خدا حاضر رکھنا چاہئے اور جب انسان اس منزل پر ہوتا ہے تو وہ پروردگار کی ایک عظیم خلقت کہے جانے کے قابل ہوتا ہے۔(نفس مصدر، ص۴۶۔۴۷)  جب یہ معلوم ہو چکا کہ تقوی کے معنی پرہیز کرنا اور اپنے نفس کو گناہوں سے بچائے رکھنا ہے، تو ماں کو ایک ایسے مقام پر پہنچنا چاہئے جہاں وہ خود پر قابو پانے اور خود کو محفوظ رکھنے میں گناہ سے محفوظ ہو اور اسے اپنے ہر اعمال و رفتار میں خدا کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔ دینی تربیت میں پرہیز گاری بہترین عمل ہے جسے خداوند عالم بھی محبوب رکھتا ہے۔ لہذا عورت کو چاہئے کہ ایام حمل سے پہلے راہ تقوی کو اختیار کرے اور اپنی شخصیت کو اسی کے مطابق سنوارے اس لئے کہ یہ ثابت شدہ ہے کہ گناہوں سے پرہیز اور تقوائے الہی تربیت اولاد میں تأثیر گزار ہوتا ہے۔

د) جذبۂ بندگی

ماں کا نظام روحی و  ذہنی اولاد کی روحیات کو متأثر کرتاہے۔ اسی لئے اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ ہمبستری کے وقت ماں کو چاہئے کہ با وضو  اور یاد خدا میں مشغول رہے اس لئے کہ یاد خدا سے دلوں کو سکون ملتا ہے نیز اس کے اثر سے خیر و برکت وجود میں آتے ہیں۔

جب کہ تربیت اولاد، وضل حمل سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے تو والدین خاص طور  سے  ماں کو چاہئے کہ وضع حمل سے پہلے اطاعت و عبادت خداوند متعال میں اپنا وقت صرف کرے۔ جو لوگ عبادت خداوندی میں زیادہ وقت گزارتے ہیں غالبا ان کی اولادیں بھی متقی اور عبادت گزار ہوتی ہیں۔

تربیت اولاد وعظ و نصیحت اور کہنے سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے عملی رفتار ضروری ہے۔  لہذا بہت سی ایسی خرابیاں جو اولاد میں پائی جاتی ہیں وہ والدین سے اخذ کی ہوئی ہوتی ہیں۔  اگر ماں یہ چاہتی ہے کہ اس کا بچہ اول وقت نماز بجا لائے تو ضروری ہے کہ بغیر کہے وہ خود اس کام کو انجام دے تاکہ اپنی عبادت کا ثمر وہ اپنی اولاد میں دیکھ سکے۔

سورہ آل عمران کی ۴۲ و ۴۳ویں آیت میں حضرت مریم کی عبادت کے سلسلہ میں بیان ہوا ہے کہ:’’ وَ إِذْ قَالَتِ الْمَلَئكَةُ يَامَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَئكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفَئكِ عَلىَ‏ نِسَاءِ الْعَالَمِين‏ يَامَرْيَمُ اقْنُتىِ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِى وَ ارْكَعِى مَعَ الرَّاكِعِين‏‘‘ اور اس وقت کو یاد کرو جب ملائکہ نے مریم کو آواز دی کہ خدا نے تمہیں چن لیا ہے اور پاکیزہ بنادیا ہے اور عالمین کی عورتوں میں منتخب قرار دے دیا ہے اے مریم تم اپنے پروردگار کی اطاعت کرو, سجدہ کرو, اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔

یہ دونوں آیتیں اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ خداوندعالم نے حضرت مریم کے لئے دو پیغام دیے ہیں: ایک یہ کہ خداوندعالم کے نزدیک آپ کی جو  منزلت ہے اس کے ذریعہ آپ کو عظیم مقام عطا کیا ہے ، دوسرے یہ کہ عبودیت و بندگی آپ کا وظیفہ ہے کہ جس کے ذریعہ سے آ پ کو اپنے مقام و منزلت کی پاسبانی کرنی ہے۔(طباطبائی، ۱۳۷۴، ج۳، ص۱۸۸) حضرت مریم نے اپنی عبادت و بندگی کی بنا پر پروردگار کے نزدیک ایسا اعلیٰ مقام حاصل کر لیا تھا کہ اللہ نے بھی  ان کو ان کے زمانے کی خواتین پر برتری دے دی تھی اور عیسیؑ جیسا اولوالعزم پیغمبر بھی انہیں عطا کیا تھا۔(مکارم شیرازی، ۱۳۷۳، ج۲، ص۴۰۹)

لہذا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ماں کا وضع حمل سے پہلے عبادت گزار ہونا اولاد کی تربیت دینی کے سلسلہ میں بہت مؤثر ہے۔ وہ عورت جو ہمیشہ عبادت و بندگی پروردگار میں اپنے آپ کو مصروف رکھتی ہے تو یقینی طور پر اس کا یہ عمل اس کی اولاد میں ظاہر ہوگا اور بہترین تربیت کر سکے گی۔

ایام حمل میں ماں کا تربیتی کردار

ماں کی تربیتی ذمہ داری زمان حمل سے ہی شروع ہو جاتی ہے،حمل کے دوران ماں کی ذمہ داری، ایک سنگین بوجھ اور سرگرمی کو اس کے کاندھے پر ڈالتی ہے۔ ایک با ایمان ماں کی سب سے اہم ذمہ داری یہ ہے کہ چاہے دنیا میں آنے والا لڑکا ہو یا لڑکی ان میں کوئی فرق نہ کرے نیز ماں کی نجابت، پاکدامنی، حجاب، عفاف، طہارت، خباثت و شقاوت اس کے بچوں میں اہم اور بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ (موسوی راد لاریجانی، ۱۳۷۹، ص۴۱)

الف) ماں کی خاندانی  شرافت و نجابت

خاندان کی نجابت ایک اہم خصوصیت ہے جو کہ ایک سعادتمند گھرانے کے لئے مہم کردار ادا کرتا ہے۔ وہ خاندان جو اصیل ہوتے ہیں ان کے یہاں پلیدگی نہیں پائی جاتی۔

شادی کے لئے ایک ایسا معیار  کہ جس کے بارے میں کافی توجہ کرنی چاہئے اور دین نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے، خاندانی نجابت اور اصالت کا مسئلہ ہے۔ جب بھی یہ کہا جاتا ہے کہ شریف لوگوں کا انتخاب کیا جائے یعنی انسان خاندانی اعتبار سے محکم و مضبوط ہو اور اس اہتمام  کی اصلی وجہ  بھی یہی ہے کہ آبا و اجداد کی خصوصیات ’’ژن‘‘ کے ذریعہ اولاد میں منتقل ہوتی ہیں اور انسانی نسل میں اثر پیدا کرتی ہیں۔

جیسا کہ امام صادقؑ نے فرمایا:’’ تَزَوَّجُوا في الحِجرِ الصّالِحِ ؛ فَإِنَّ العِرقَ دَسّاسٌ‘‘ بہترین اور شائستہ خاندان میں شادی کرو کیونکہ جڑیں نسلوں میں سرایت کرتی ہیں۔(طبرسی،۱۳۷۰، ص۱۹۷)

قرآن میں بھی سورہ مریم کی آیت ۲۷ و ۲۸ میں کھلے طور پر اعلان ہوا ہے کہ انبیاء کی مائیں پاک اور نجیب خاندان سے تعلق رکھتی تھیں’’فَأَتَتْ بِهِ قَوْمَهَا تحْمِلُهُ  قَالُواْ يَامَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيًا فَرِيًّا يَأُخْتَ هَرُونَ مَا كاَنَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَ مَا كاَنَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا‘‘اس کے بعد مریم بچہ کو اٹھائے ہوئے قوم کے پاس آئیں تو لوگوں نے کہا کہ مریم یہ تم نے بہت بُرا کام کیا ہے ہارون کی بہن نہ تمہارا باپ بُرا آدمی تھا اور نہ تمہاری ماں بدکردار تھی۔

یہ آیت تربیت اولاد کے سلسلہ میں  خاندانی شرافت و نجابت کی طرف اشارہ کر رہی ہے خاص طور پر جہاں ماں کا کردار بیان کیا ’’تمہاری ماں بدکردار نہیں تھی‘‘ عفت و پاکدامنی میں  مریم کی ماں کی مثال پیش کی اور بتانا یہ چاہا کہ ایک شریف و نجیب ماں ہی شریف اور نجیب بچے کی تربیت کر سکتی ہے۔ بعض لوگوں نے مریمؑ سے کہا: اے ہارون کی بہن! تمہارا باپ تو برا آدمی نہیں تھا، تمہاری ماں بھی پاکدامن تھی، ایسے ماں باپ کے باوجود ہم آخر تمہارے یہاں یہ سب کیا دیکھ رہے ہیں؟ تم نے اپنی ماں کے طور طریقہ میں کون سی برائی دیکھ لی تھی کہ تم نے اس سے منھ پھیر لیا؟ (مکارم شیرازی، ۱۳۷۳، ج۱۳، ص۵۰و۵۱)

ب) ماں کا ایمان اور قلبی اعتقادات

ماں کا ایمان و عقیدہ اولاد کی دینی تربیت میں بہت کارساز ہے۔ لیکن وہ ایمان جس کی بنیاد اصولوں پر ہو کہ ایسی ماں جس کا عقیدہ توحید، نبوت، عدل، امامت و قیامت پر ہو وہ اس ماں سے بہتر ہے کہ جس کا ایمان و عقیدہ ان  چیزوں میں سے کسی پر نہ ہو۔

بچہ سب سے زیادہ ماں سے مانوس ہوتا ہے اور دینی تعلیمات اسی سے سیکھتا ہے، اپنے کردار میں اپنی ماں کو نمونہ و آیئڈیل بناتا ہے، اسی وجہ سے اولاد کی دینی و اعتقادی تربیت،  ماں کی سب سے پہلی ذمہ داری ہے۔اور ضروری ہے کہ اس تربیت کا سلسلہ پیدائش سے پہلے یعنی ایام حمل سے قبل ہی شروع ہو جائے اور ماں اپنے بچے کے کان کو مذہبی باتوں سے آشنا کرائے کہ اس طرح یہ باتیں ہمیشہ باقی رہ جائیں گی۔  ماں کو چاہئے کہ اعتقادی مطالب کو اولاد کے ذہن نشین کراتے ہوئے اس کی رفتار و کردار کو سنت الہی کے مطابق بنائے۔(قائمی، ۱۳۷۰، ص۱۵۴)

حمل کے دوران اولاد کی دینی تربیت  کے لئے  ماں کے ایمانی و اعتقاد ی کردار کو اور زیادہ روشن اور واضح طور پر جاننے کے لئے سورہ آل عمران کی ۳۵ویں آیت کہ جس میں مادر مریم کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں، استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

قرآن میں ارشاد رب العزت ہوتاہے:’’ إِذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَانَ رَبِّ إِنىّ‏ نَذَرْتُ لَكَ مَا فىِ بَطْنىِ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنىّ‏  إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيم‏‘‘ (وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے) جب  زوجہ عمران نے کہا کہ اے پروردگار جو (بچہ) میرے پیٹ میں ہے میں اس کو تیری نذر کرتی ہوں اسے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھوں گی تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما توتو سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

اس آیت میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ عمران کی ہمسر حنّہ کئی سالوں کے بعد صاحب فرزند ہوئیں، بجائے اس کے کہ اپنے بچے کو اپنے پاس رکھتیں  نعمت کی قدر دانی کرتے ہوئےمریم کو اپنے پروردگار کی نذر کر دیا  اور انہیں بیت المقدس میں خدمت گزار کے طور پر وقف کر دیا۔ حنّہ کا یہ کام ان کے محکم ایمان و اعتقاد کی دلیل تھی ،انہیں اس بات کا بھی یقین تھا کہ اگر اپنی اولاد کو راہ خدا میں آزاد کر دیا تو خداوند عالم بہترین طریقہ سے پرورش کرے گا۔

جس طرح سے مادر مریم کا ایمان و عقیدہ اپنی اولاد کی تربیت دینی کے لئے مؤثر تھا ویسے ہی ایک ماں کا ایمان و عقیدہ اپنی اولاد کے لئے بہترین کردار ادا کر سکتا ہے۔

ج) ماں کا اخلاق و تقویٰ

تربیت اسلامی میں تقوی، پرہیزگاری سب سے بہترین اعمال میں سے ایک ہے اور جسے خداوندعالم بھی محبوب رکھتا ہے کہ ایک خاتون کو چاہئے کہ اسی تقوی کے راستہ پر گامزن رہے اور اسی کی اساس پر اپنی شخصیت سازی کرے۔(قائمی، ص۱۴۱و ۱۴۲) ایک ماں کا بہترین اخلاق اپنی اولاد کے لئے اسی وقت سے مؤثر ہونے لگتا ہے جب وہ شکم مادر میں ہوتا ہے، حاملہ ماں کا اخلاق اس کی اولاد کے اخلاق کو سنوارتا ہے، در اصل جنین کے یہ نومہینہ اس کے زندگی کے تمام مراحل میں جسمی، ذہنی اور روحی اعتبار سے بطور  مستقیم اثرانداز ہوتے ہیں۔

شکم مادر میں پلنے والا بچہ اپنی ماں سے زندگی کی بہت سی چیزوں کو سیکھ لیتا ہے۔ ماں جس بھی مقام و مرتبہ کے اعتبار سے سانس لیتی ہے یہ بچہ بھی اسی اعتبار سے اس سانس کو جذب کرتا ہے اور اس کا رجحان دوسری سانس کے لئے اس سے بھی بلند ہو جاتا ہے۔ اگر ماں کا ہر کام رضائے الہی کی خاطر ہو تو بچہ کے اوپر مثبت اثرات نمایاں ہوتے ہیں نیز انسانیت کے تقاضے بھی اس کے اندر محکم و مضبوط ہوتے جاتے ہیں۔ لیکن اسی طرح اگر  ماں نے حمل کے دوران پستی والے کام انجام دئے تو یہ بھی بچہ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ زمانہ حمل، بچے کے لئے آئندہ زندگی کو معین کرتا ہے لذا ماں کو اس بات کا پورا خیال رکھنا چاہئے کہ اس کے تمام اخلاق و رفتار و کردار اس کے شکم میں پلنے والے بچے کے لئے مؤثر ہیں۔(مظاہری، ۱۳۸۱، ص۶۷و۴۶)

سرکاردوعالمؐ،  اولاد کی سعادت و شقاوت کو زمانہ حمل ہی سے معین کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: «الشَّقِیُّ مَنْ شَقِیَ فِی بَطْنِ أُمِّهِ وَ السَّعِیدُ مَنْ سَعِدَ فِی بَطْنِ أُمِّهِ » بدبخت وہ ہے جو شکم مادر میں بدبختی کا شکار ہو اور خوشبخت وہ ہے جسے شکم مادر ہی میں سعادتمندی مل جائے۔

یعنی شکم مادر ہی میں  بچے کی  سعادت و شقاوت کی بنیاد پڑ جاتی ہے، ماں حمل کے زمانہ ہی سے سعادت و خوشبختی کی ذمہ داری کو سنبھال لیتی ہےاس طرح سے کہ خود حمل، اس ذمہ داری کو ماں کے کاندھوں پر ڈال دیتی ہے۔(موسوی راد لاریجانی، ۱۳۷۹، ص۴۲)

قرآن کریم بھی جناب عیسی بن مریم اور ان کی روز ولادت کی سلامتی و طہارت کو یاد کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ: ’’والسّلام عَلی یَومَ وُلِدتُ‘‘ اس دن پر سلام کہ جس دن میں پیدا ہوا(سورہ مریم، آیہ ۱۰)

یہاں پر  ’’سلام‘‘ سلامتی و عافیت کے معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی زمانہ حمل میں اولاد کے جسم و جان کی مکمل پاکیزگی ماں کے زیر اثر ہوتی ہے اور ماں کا اچھا یا برا ہونا اولاد کے اوپر مکمل طور پر اثر انداز ہوتا ہے کہ جس کے مطابق بچہ آگے بڑھتا ہے۔(فلسفی، ۱۳۴۱،ص۱۰۰)جو بھی مطالب پیش گئے ان کے مطابق زمانہ حمل میں ماں کا اخلاق  وکردار اس کی اولاد کے اخلاق و تقوی پر اثر گزار ہوتا ہے۔

د) ماں کی غذا

خور د و خوراک،  انسانی وجود کو شکل دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ہر طرح کا کھانا پینا انسانی زندگی میں ایک اثر وضعی رکھتا ہے۔ اسلام میں کھانے کے جسمانی فوائد کے علاوہ کئی تعلیمی اثرات اور نتائج بیان کئے گئے ہیں۔ اسی وجہ سے خداوند عالم،قرآن کریم میں انسان کو  کھانے پینے کی چیزوں میں دقت کے لئے دعوت دیتا ہے۔’’فَلیَنظُرِ الانسانُ اِلی طَعامِہ‘‘ پس انسان کو چاہئے کہ اپنی غذا کو دیکھے، (سورہ عبس، آیہ ۲۴)

اس آیت کا تقاضا ہی یہی کہ انسان اپنے کھانے پینے کے سلسلہ میں اور وہ چیز جس سے اس کی سانسیں وابستہ ہیں ان کو دیکھے ان پر غور وفکر کرے، حکم دیا گیا ہے کہ اگر اسی ایک نعمت پر متوجہ ہو جائے تو وہ اپنے پروردگار کی تدابیر کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔(طباطبائی، ۱۳۷۴، ص۲۰۹)

لذا اس بنیاد پر اسلام کے اہم مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ  زمانہ حمل میں توجہ کی جائے، حاملہ ماں کی خورد و خوراک جنین کی رشد و تکامل کے لئے ثابت شدہ ہے۔ حلال و پاک خوراک کی بہت زیادہ اہمیت ہے، لذا ضروری ہے کہ ماں جس وقت کچھ بھی کھائے تو اس کے حلال ہونے کا یقین ہو  اس لئے کہ حرام غذا اولاد کے لئے  مضر ثابت ہوتی ہے، رزق حرام کی آمدنی بھی اولاد پہ اپنا اثر دکھاتی ہے یعنی ماں باپ کو چاہئے کہ اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ حرام لقمہ استعمال نہ ہونے پائے ورنہ وہ نطفہ جو حرام غذا سے وجود میں آیا ہو یا وہ جنین جس کی غذا حرام رہی ہو  اس پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

تا ہم ماں کو چاہئے کہ اپنی خوراک پر توجہ دے اور لقمہ حرام سے پرہیز کرے، کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو جنین کا گوشت و خون اسی حرام سے وجود میں آئے گا اور اس سے بندگی و تعبد کو چھین لے گا جو کہ تربیت فرزند کے لئے ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔

ایام رضاعت میں ماں کا تربیتی کردار

حمل کے سنگین فرائض انجام دینے کے بعد ، اب ایک پاک طینت بچہ ،عالم وجود میں قدم رکھتے ہوئے اپنی  ماں کی تربیتی و اخلاقی ذمہ داریوں کو دوبالا کر دیتا ہے اور دوسری جانب بہت سی تربیتی وظائف کو اس کے کاندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔

الف) اولاد کی دینی تربیت میں  ماں کے دودھ کی تأثیر

اولاد کی تربیت میں کھانا پینا اور شیر ِمادربنیادی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اگر بنیاد مضبوط  نہ ہو تو اس کی بقا اور مضبوطی مخدوش ہو جاتی ہے۔(موسوی راد لاریجانی، ۱۳۷۹، ص۸۷)ابتدائی دو سال میں بچہ کی خوراک ماں کا دودھ ہوتا ہے کہ جس میں وہ اپنی ماں سے جدا نہیں ہو سکتا اور یہ وابستگی ایسی ہوتی ہے گویا دو جسم ایک جان۔ لذا اس بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ ماں اپنے بچے کو صرف دودھ نہیں پلا رہی بلکہ اس کے ذریعہ ماں اور بچے کے درمیان محبت و عطوفت کا مبادلہ ہو رہا ہے۔دودھ پیتے وقت بچہ ماں کے دل کی آواز کو سنتا ہے اور اس سے اسے بہت سکون محسوس ہوتا ہے، جو بچے ماں کے دودھ سے محروم ہوتے ہیں وہ اس سکون کی لذت سے بھی محروم رہتے ہیں۔(قائمی، ۱۳۷۰،ص۷۱)

آج کل بیشتر خواتین دودھ پلانے سے بچنے کے لئےمختلف بہانوں جیسےاپنی خوبصورتی کو منظم کرنا اور تبدیل کرنا یا آفس کے کام ، معاشی اور ثقافتی کام کے ذریعہ اپنے بے گناہ بچے کو پاؤڈر والا دودھ یا مصنوعی غذائیں دیتی ہیں کہ اس طرح سب سے بڑی خیانت کے ذریعہ وہ اپنے بچوں کو ناقابل تلافی نقصان کی طرف لے جاتی ہیں۔

ماں کا دودھ بچے کی روح و روان کی سلامتی کا ضامن ہوتا ہے اور وہ بچے جن کی خوراک ماں کا دودھ ہوتا ہے وہ بہت کم ذہنی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں نیز وہ جسمانی طور پر صحت مند  بھی  نہیں ہوتے اور ان کے پیٹ خراب ہونے کا  بھی امکان کم ہوتا ہے۔ ماں کا دودھ اسلامی نقطہ نظر سے اتنا اہم ہے کہ ماؤں کی حوصلہ افزائی کے لئے بہت زیادہ ثواب معین کیا گیا ہے۔

پیغمبر اکرمؐ فرماتے ہیں:’’ فَإذا أرضَعَت كانَ لَها بِكُلِّ مَصَّةٍ كَعِدلِ عِتقِ مُحَرَّرٍ مِن وُلدِ إسماعيلَ ، فَإِذا فَرَغَت مِن رَضاعِهِ ضَرَبَ مَلَكٌ عَلى جَنبِها ، و قالَ : اِستَأنِفِي العَمَلَ ؛ فَقَد غُفِرَ لَكِ‘‘جب کوئی عورت اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے اور  جب بھی بچہ  اپنی ماں کی چھاتی سے دودھ پیتا ہے تو اللہ رب العزت اس کے بدلے میں ماں کو  اسماعیل کی اولاد سے ایک غلام آزاد کرنے کا اجر دیتا ہے۔ اور جب زمانہ رضاعت ختم ہوتا ہے تو اللہ کا ایک عظیم فرشتہ ماں کے پہلو پر ہاتھ رکھ کر  کہتا ہے: اپنی زندگی کو نئے سرے سے شروع کرو کہ قادر مطلق خدا  نےتمہارے پچھلے گناہ  کومعاف کر دیا۔(حر عاملی، ۱۴۰۹، ج۲۱، ص۴۵۱)

اس روایت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ماں کا دودھ پلانا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دودھ نہ صرف جسمانی تعلیم میں بلکہ بچے کی مذہبی پرورش میں بھی مؤثر ہے  وہیں دوسری طرف ، ماں اور بچے کے درمیان قربت کی وجہ سے ، ماں کی ذہنی ، اخلاقی اور عقیدہ کی حالتیں بچے میں منتقل ہوتی ہیں۔

ب) اوصاف فرزند کی نشوونما میں  شیر مادر کی تأثیر

ماں کا تقویٰ اور پرہیزگاری بچے میں انسانی اور اخلاقی خوبیاں پیدا کرتا ہے، اگر ماں پاک اور متقی ہے تو اس کا بچہ، حال اور مستقبل میں  اس کی عزت کو برقرار رکھے گا اور اسے ضائع نہیں کرے گا۔

ایک متقی ماں اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھتی ہے نیز اپنی آنکھوں اور کانوں سے بھی بے خبر نہیں رہتی، نہ وہ گناہ انجام دیتی ہے اور نہ کھانے پینے کے معاملہ میں تجاوز کرتی ہے، ہر مشکوک غذا سے باز رہتی ہے، اس کی آنکھیں کنٹرول میں رہتی ہیں اور یہ سب عادات و اطوار مرحلۂ رضاعت میں موثر ہیں کہ جو بچے میں منتقل ہوتے ہیں اور بچے کی مذہبی تعلیم میں لازمی کردار ادا کرتے ہیں۔(مظاہری، ۱۳۷۰، ص۴۲و۴۳)

ماں کو احتیاط کرنی چاہئے کہ اس کا دودھ ناپاکی کی وجہ سے آلودہ نہ ہو ۔جس طرح ظاہری آلودگی پر مشتمل کھانا زہریلا ہو جاتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی بچہ دودھ پیتا ہے کہ جس میں روحانی آلودگی ہوتی ہے تو وہ زہریلا ہو جاتا ہے۔ اگر ماں پرہیز گار نہ ہو تو  بچہ برائیوں سے آلودہ ہو جاتا ہے لہٰذا تقویٰ کی پہلی شرط خدا کے ساتھ رابطے کو مضبوط کرنا ہے۔(مظاہری، ۱۳۷۰، ص۱۹)

اسی بنا پر حضرت علی ؑ فرماتے ہیں کہ: ’’تَخَيـَّروا لِلرَّضاعِ كَما تَتَخَيَّرونَ لِلنِّـكاحِ، فَاِنَّ الرَّضاعَ يُغَيِّرُ الطِّباعَ‘‘”بچے کو رضاعت کے لئے  ایک قابل اور صالحہ خاتون کا انتخاب کرو ، جس طرح سے شادی کےلئے محتاط شریک حیات کا انتخاب کرتے ہو ، کیونکہ رضاعت بچے کی فطرت بدل دیتا ہے۔(حر عاملی، ۱۴۰۹، ج۲۱، ص۴۶۸)

نتیجتا ماں کے صفات، رضاعت کے ذریعہ اولاد میں منتقل ہوتے ہیں، وہ عورت کہ جس کا ذہن گناہوں سے آلودہ ہوتا ہے وہ اسی الودگی کو بچے میں منتقل کرتی ہے کہ جو اس بچے کی تباہی و بربادی کا سبب بنتا ہے۔

ایام رضاعت  کے بعد ماں کا تربیتی کردار

مندرجہ بالا ادوار کے علاوہ ، ماں دوران رضاعت کے بعد کی مدت میں بھی ایک اہم تربیتی اثر رکھ سکتی ہے۔ اب ہم ان تربیتی آثار کی طرف اشارہ کریں گے:

الف) اولاد کی اعتقادی تربیت

اصول و فروع دین پر عقیدہ رکھنا ہر مسلمان کے لئے واجب ہےنیز ان پر عمل کرنا لازم ہے۔ چونکہ بچوں کی عقل، رشد و کمال کے ان مراحل میں  نہیں ہوتی جہاں وہ تجزیہ و تحلیل کی قدرت رکھ سکیں لہذا انہیں تعلیم و تقلید کے ذریعہ ذات پروردگار سے آشنا کراتے ہوئے دینی تعلیمات سے بہرہ مند کرنا چاہئے۔ توحید،نبوت اور قیامت  پر ایمان ایک بہترین راستہ ہے جس کے ذریعہ سے ماں اپنی اولاد کو اچھائیوں کی دعوت دیتی ہے، برائیوں اور مفاسد اخلاقی  سے روکتی ہے۔ اکثر اوقات انبیائےالہی بھی اسی روش سے استفادہ کرتے تھے، آغاز  تبلیغ میں لوگوں کو توحید، نبوت اور قیامت پر ایمان لانے کی دعوت دیتے تھے ، اپنے روشن دلائل کے ذریعہ ان کے ایمان کو استحکام بخشتے تھے۔ اور اسی طرح ایمان کے ذریعہ ان کو نیکی اور مکارم اخلاق کی دعوت دیا کرتے تھے، رذائل اخلاقی اور دوسری برائیوں سے روکتے تھے۔ اور اس طریقۂ کار کا سرچشمہ، انسانی سرشت ہے کیونکہ خدا شناسی اور خداجوئی جیسے موضوعات فطری اور عقلی امور میں شامل ہیں۔(امینی، ۱۳۸۴،ص ۳۲۰)

جیسا کہ قرآن نے فرمایا:’’ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتىِ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيهَْا ‘‘دین وہ فطرت الہیۤ ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔

اس پاک فطرت کی تربیت کی ذمہ داری والدین پر ہوتی ہے، بچے خاص طور سے ابتدائی سالوں میں اپنی ماں کے ساتھ محبت و عطوفت کے گہرے تعلقات میں زندگی گزارتے ہیں، اس اعتبار سےوہ اپنی ماں کی بہت زیادہ فرمانبرداری کرتے ہیں اور اپنی ماں کی باتوں سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ بچے سے محبت کے علاوہ، ماں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو ضروری مذہبی اور اخلاقی تعلیمات سکھائے تاکہ مذہبی تعلیمات کے ذریعہ اس کی سعادت و کامیابی کی بنیاد فراہم ہو سکے۔

ب) صفات اخلاقی کی تربیت

چونکہ آغوش مادر  بچے کی پہلی تربیت گاہ ہوتی ہے اور وہیں سے تعلیمی بنیاد پڑتی ہے، اس مدرسہ میں بچہ علم، اخلاق اور مذہب کی باتیں سیکھتا ہے اور سب سے اہم یہ ہے کہ بچہ جو بھی چیز اس مدرسہ میں سیکھتا ہے وہ  ہمیشہ اس کے پاس باقی رہتا ہے۔ بچہ جب اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اس کے پاس نہ تو علم ہوتا ہے نہ ہی قدرت، وہ مکمل طور پر اپنی ماں پر منحصر ہوتا ہے، غذا کا مرحلہ ہو یا دوسرے امکانات، وہ ہر چیز میں اپنی ماں کے کہنے پر عمل کرتا ہے لہذا جب تک ماں اپنے آپ کو فساد اخلاقی سے دور نہ کرے گی تو اپنی اولاد کو بہتر زندگی کیسے دے سکے گی جس کے نتیجہ میں ایک ضدّی، گستاخ، بے ادب اور بد مزاج ماں اپنی چھوٹے بچے کو ان بد اخلاقیوں سے رو برو کراتی ہے۔(امینی، ۱۳۸۱، ص۳۱)

اگر ماں کا اخلاقی اثر و رسوخ ایسا ہو تو یہ دعویٰ بھی کیا جا سکتا ہے کہ بچے کی اگلی زندگی  کا طریقہ موجودہ زندگی میں ماں کے اسی رفتار و کردار  کا تسلسل ہے۔ اگرچہ  ماں اور باپ دونوں ہی اپنے اعتبار سے اپنی اولاد کی صحیح طریقے سے تربیت کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ماں کا کردار زیادہ اہم ہوتا ہے، کیونکہ ماں کا بچے کے ساتھ گہرا روحانی اور جذباتی تعلق ہوتا ہے جو بچے کو اقدارِاخلاقی سکھاسکتی ہے۔ اگر ماں ہمیشہ سچائی و حقیقت سے کام لے اور اپنی باتوں میں چھوٹ کا سہارا نہ لے تو بچے میں بھی صداقت کا عنصر پیدا ہو جائے گا۔ ماں کو چاہئے کہ وہ مشق و حوصلہ افزائی کے ذریعہ بچے میں اخلاقی اقدار کو مضبوط کرے اور اس راہ کی رہنمائی کرے۔پند و نصیحت کے ساتھ اخلاقی خوبیوں کو دوسروں پر تھوپا نہیں جا سکتا،  جو شخص دوسرے کی تربیت کرناچاہتا ہے اسے اس پر پہلے عمل پیرا ہونا پڑے گا۔وہ ماں کہ جو چاہتی ہے  کہ اس کا بچہ بہترین تربیت حاصل کرے، اسے پہلے خود کو فضائل اخلاقی سے مزین کرنا ہوگا تاکہ بچہ، عمل کے مرحلہ میں اپنی ماں کو آئیڈیل بنائے۔

حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے جو کچھ بھی فرمایا اس پر عمل کرتے ہوئے اپنی اولاد کو اسلامی طرز عمل اور اخلاقیات سے متعارف کرایا۔ جیسا کہ امام حسن مجتبی ؑ نے فرمایا کہ: ایک شب جمعہ میں نے دیکھا  کہ مادر گرامی محراب عبادت میں کھڑی ہو کر طلوع صبح تک عبادت و دعا میں مشغول رہیں اور سب کے لئے دعا فرمائی۔ میں نے کہا: اماں جان! کیوں ہمارے لئے دعا نہیں کی؟ فرمایا: (یا بنیّ الجار ثم الدار) اے میرے بیٹے، پہلے ہمسائے بعد میں اہل خانہ۔(مجلسی، بی تا، ج۴۳، ص۸۱)

حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے نہ صرف اپنی گفتار بلکہ اپنے رویے سے اپنے بچوں اور خاندان کے افراد کے لئے مخلصانہ عبادتانجام دے کرایک سرپرست اور رول ماڈل کا کردار ادا کیا۔ شہزادی دو عالم نے نہ صرف اپنے بیٹوں حسنین علیہما السلام کو بلکہ اپنی بیٹیوں زینب و کلثوم کو بھی اپنے دامن تربیت میں پروان چڑھایاہے اور انہیں دشمن کے مقابلہ میں استقامت و ثابت قدمی کا بھی درس دیا تا کہ اپنے کمال جرأت و شجاعت کے ساتھ بنی امیہ کے سامنے حرف حق کہہ سکیں نیز امت پیغمبر کے خلاف گھنونی سازشوں کو بے نقاب کر سکیں۔(حکیم، ۱۳۹۳، ص۹۳)

تاہم ان سب باتوں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک ماں اپنے بچے کی ولادت کے بعد  اس کے اندر  بہترین اخلاق و تربیت کو پیدا کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے ۔

ج) اولاد کے نیک اعمال کو فروغ دینا

بچے کی ولادت کے بعد ماں کا سب سے اہم کردار  بچے کے لئے فضائے دینی کو فراہم کرنا ہوتا ہے۔ ماں وہ ہوتی جو گھر کے ماحول میں اپنی اولاد سے سب سے زیادہ رابطہ میں رہتی ہے لذا اسے گھر کے ماحول کو روحانی ماحول میں تبدیل کر دینا چاہئے۔ اگر گھر کا ماحول دینی و معنوی ہوگا اور گھر کے افراد دعا، نماز، تلاوت قرآن اور مناجات میں مشغول ہونگے تو ایسے ماحول کے تربیت یافتہ بچےبھی معنویات سے آشنا ہوں گے۔ پس اگر کوئی بچہ تعلیمات اسلامی کے علاوہ نقل و حرکت کرتا ہے تو اس بات کی وجہ تلاش کرنی چاہئے کہ غلطی کہاں پر ہوئی ہے۔اگر ماں کو ہی اس بات کا خیال نہیں ہے کہ نماز تمام کامیابی  و خوشبختی کی چابی ہے  تو اس کے نتیجہ میں وہ اولاد کو نماز کی صحیح تعلیم نہیں دے سکتی۔

بچے کو چاہئے کہ مذہب کو عملی طور پر دیکھے جو کہ نفسیات کا ایک اہم تعلیمی اصول ہے۔(جمعی از نویسندگان، ۱۳۹۰، ص۴۳۔۴۵)

لہذا ماں کو چاہئے کہ وہ بچے کی رفتار وگفتار سے غافل نہ رہے اور اس کے رفتار و گفتار کو صحیح طریقہ سے تربیت کرے۔ دینی تعلیمات اس بات پر زور دیتی ہے کہ بچوں کو عبادت کی مشق کرائی جائے اور اس کام کی ذمہ داری اس کے والدین پر ہوتی ہے۔ جیسے کہ نماز انسان کی تربیت میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے اور جہاں تک ایک ماں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچے کی دینی تربیت کرنا ہوتا ہے تو اسے چاہئے کہ اس اہم امر(نماز)  میں کافی اہتمام برتےاور صحیح طریقہ سے سیرہ انبیا و ائمہ کی پیروی کرتے ہوئے اپنے بچے کو  نماز کی تعلیم دے۔ تعلیم نماز میں ماں کے لئے ضروری ہے کہ ابتدائی مرحلہ میں آسان طریقہ اور اس کے بعد سخت طریقۂ کار کو اپنائے اور جہاں تک ممکن ہو سکے کمسنی میں حتی الامکان آسان طریقہ اختیار کرے۔(قاسمی، ۱۳۹۵، ص۱۵۶۔۱۵۷) بعنوان مثال بچہ جس وقت نماز کے سلسلہ میں ماں باپ کی تقلید کرتا ہے تو اس وقت اسے صحیح وضو اور قرأت کے لئے مجبور نہیں کرنا چاہئےبلکہ اسے اتنی آزادی دی جائے کہ جب خود اس کے اندر  صلاحیت پیدا ہو جائے، پھر اس  وقت اس کو صحیح وضو اور قرأت کی آہستہ آہستہ تعلیم دی جائے۔(امینی، ۱۳۹۱، ص۹۷)

کمسنی میں بچوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے والدین کے  اعمال وکردار  کی تقلید کریں لہذا ماں کی ذمہ داری یہ ہے کہ نماز کی تعلیم میں بچے کے اسی عمل سے استفادہ کرے۔ بعنوان مثال اگر ماں نماز کی نسبت خاص اہتمام کرے اور اول وقت نماز ادا کرے تو بچہ اس عمل میں اپنی ماں کی تقلید کرتا ہے۔

وہ امور جو بچوں کے نمازی بننے میں  مددگارثابت ہوتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ماں اپنے بچے کو نماز جمعہ ، نماز جماعت اور مذہبی محافل و مجالس میں ساتھ لیکر جائے، اس طرح سے آہستہ آہستہ نماز ی بنایا جا سکتا ہے اور غالبا  ایسے  افراد عمر کے آخری لمحہ تک نماز کے پابند ہوتے ہیں۔

روزہ رکھنا بھی ان عبادات میں سے ہے جو انسان کی تربیت میں بنیادی اور اساسی نقش ادا کرتا ہےاسی لئے  بچپن سے ہی بچوں کو روزہ کی تعلیم دینا چاہئے۔ جیسا کہ بچپن کے ایام میں بچوں کا اکثر وقت ماں کے ساتھ گزرتا ہے لہذا ماں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچے کو اس بات کا احساس دلائے کہ روزہ ایک طاقت فرسا اور پُر مشقت عبادت نہیں ہے بلکہ روزے کی لذت اور شیرینی کے احساس کو اپنے بچے میں منتقل کرے۔

حلبی نے امام صادق ؑ سے روایت کیا  کہ  حضرت نے  ارشاد فرمایا: ہم سات سال کی عمر سے اپنے  بچوں کو روزہ رکھنے کےلئے ترغیب  دلاتے ہیں  اگر چہ وہ   آدھے دن  کا ہی   روزہ کیوں نہ ہو اور جب بھی ان پر  پیاس  اور  بھوک غلبہ کرے تو وہ روزہ توڑ دیں۔ اس طرح   وہ  روزے سے مانوس ہو جائیں گے اور ان میں  آہستہ  آہستہ روزہ    رکھنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی، تمہارے لئے بھی ضروری ہے کہ  نو سال کی عمر میں اپنے بچوں کو روزہ رکھنے کا حکم دو   جس حد تک  ان میں طاقت ہوگی وہ  روزہ رکھیں اور  جب بھوک و پیاس کا  غلبہ ہوجائے تو وہ  افطار کرلیں۔

اس روایت   میں بیان ہوا ہے کہ ماں کے لئے  لازم ہے  وہ بچے کی عمر کے مطابق  بہترین انداز میں انہیں روزہ رکھنے کی تعلیم دے۔ سیرت معصومینؑ سے یہ سبق ملتا ہے کہ   روزہ کی تعلیم دینے کے لئے تکرار  جیسی روش اور طریقۂ کار کو اپنانا چاہئیے تا کہ بچے، روزے کے نسبت  مانوس ہوجائیں  ۔ لہذا ماں کی ذمہ داری یہ ہے کہ   وہ  روزے  کی تعلیم میں چند امور کی رعایت کرے:

۱) اس بات کی توقع  نہ رکھے کہ ایک دو بار روزہ رکھنے سے بچے  روزہ دار بن جائیں   بلکہ روزہ دار بننےکے لئے  طویل زمانہ درکار ہوتا ہے۔

۲)  روزے کی تعلیم میں زور و زبردستی نہ کرے اور نہ ہی اس بات کی امید رکھے  کہ پہلی  بار میں ہی اس کا بچہ بغیر کسی کمی    کے بطور مکمل روزہ رکھے۔

سیرت معصومینؑ کے مطابق ماں  کو چاہئے اپنے بچوں  کو روزے جیسی اہم عبادت سے آشنا کرے اور انہیں  دینی  و معنوی تربیت   سے آراستہ کرے۔

نتیجہ

ایک عورت بحیثیت ماں  اپنے گھر کے لئے فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔

ایام  حمل میں تربیت  اولاد کا زمینہ فراہم کرنے کے لئے ماں ایک اہم عنصر ہے جس کی آغوش عطوفت ومحبت میں  پاک و پاکیزہ  بچے پرورش پاتے ہیں ۔

ماں کےاوصاف     اور ایام حمل  کی خصوصیتیں بچوں کی  دینی  تعلیم و تربیت میں بہت   اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

ایام حمل میں  ماں کا خاندانی رتبہ  ، ایمان ، اخلاق اور  خوراک    بچوں کی  نشؤ ونمامیں  خاص تاثیر رکھتا ہے۔

ماں کادودھ   بچے کی مذہبی پرورش ،   فضیلتوں  کی نشو و نما ، اعتقادی و اخلاقی پرورش ،نیک اور صالح  بننے میں  بے حد  کارسازہے۔

دینی تعلیمات میں بچوں کی عبادت پر بہت تأکید ہوئی ہے اور یہ عظیم ذمہ داری والدین کے کاندھوں پہ ڈالی گئی ہے۔