ایمان کیا ہے

 وسُئلَ عَنِ الاِْيمَانِ، فَقَالَ: الاِْيمَانُ عَلَى أَرْبَعِ دَعَائِمَ: عَلَى الصَّبْرِ، والْيَقِينِ، وَالْعَدْلِ، وَالْجَهَادِ ، فَالصَّبْرُ مِنْهَا عَلَى أَربَعِ شُعَبٍ: عَلَى الشَّوْقِ، وَالشَّفَقِ، وَالزُّهْدِ، وَالتَّرَقُّبِ: فَمَنِ اشْتَاقَ إِلَى الْجَنَّةِ سَلاَ عَنِ الشَّهَوَاتِ، وَمَنْ أشْفَقَ مِنَ النَّارِ اجْتَنَبَ الْـمُحَرَّمَاتِ، وَمَنْ زَهِدَ فِي الدُّنْيَا اسْتَهَانَ بِالْمُصِيبَاتِ، وَمَنِ ارْتَقَبَ الْمَوْتَ سَارَعَ فِي الْخَيْرَاتِ. وَالْيَقِينُ مِنْهَا عَلَى أَرْبَعِ شُعَب: عَلَى تَبْصِرَةِ الْفِطْنَةِ، وَتَأَوُّلِ الْحِكْمَةِ، وَمَوْعِظَةِ الْعِبْرَةِ، وَسُنَّةِ الاَْوَّلِينَ: فَمَنْ تَبَصَّرَ فِي الْفِطْنَةِ تَبَيَّنَتْ لَهُ الْحِكْمَةُ، وَمَنْ تَبَيَّنَتْ لَهُ الْحِكْمَةُ عَرَفَ الْعِبْرَةَ، وَمَنْ عَرَفَ الْعِبْرَةَ فَكَأَنَّمَا كَانَ فِي الاَْوَّلِينَ. وَالْعَدْلُ مِنْهَا عَلَى أَرْبَعِ شُعَب: عَلَى غائِصِ الْفَهْمِ، وَغَوْرِ الْعِلْمِ، وَزُهْرَةِ الْحُكْمِ، وَرَسَاخَةِ الْحِلْمِ: فَمَنْ فَهِمَ عَلِمَ غَوْرَ الْعِلْمِ، وَمَنْ عَلِمَ غَوْرَ الْعِلْمِ صَدَرَ عَنْ شَرَائِعِ الْحُكْمِ، وَمَنْ حَلُمَ لَمْ يُفَرِّطْ فِي أَمْرِهِ وَعَاشَ فِي النَّاسِ حَمِيداً. وَالْجِهَادُ مِنْهَا عَلَى أَرْبَعِ شُعَب: عَلَى الاَْمْرِ بالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْي عَنِ الْمُنكَرِ، وَالصِّدْقِ فِي الْمَوَاطِنِ، وَشَنَآنِ الْفَاسِقيِنَ: فَمَنْ أَمَرَ بِالْمَعْرُوفِ شَدَّ ظُهُورَ الْمُؤمِنِينَ، وَمَنْ نَهَىٰ عَنِ الْمُنْكَرِ أَرْغَمَ أُنُوفَ الکافِرینَ و،مَنْ صَدَقَ فِي الْمَوَاطِنِ قَضَىٰ مَا عَلَيْهِ، وَمَنْ شَنِىءَ الْفَاسِقِينَ وَغَضِبَ لله غَضِبَ اللهُ لَهُ وَأَرْضَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

 حضرت علی (ع) سے ایمان کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا .ایمان چار ستونوں پر قائم ہے .صبر، یقین، عدل اور جہاد . پھر عدل کی چار شاخیں ہیں .اشتیاق، خوف، دنیا سے بے اعتنائی اور انتظار .اس لیے کہ جو جنت کا مشتاق ہو گا، وہ خواہشوں کو بھلا دے گا اور جو دوزخ سے خوف کھائے گا وہ محرمات سے کنارہ کشی کرے گا اور جو دنیا سے بے اعتنائی اختیار کر ے گا، وہ مصیبتوں کو سہل سمجھے گا اور جسے موت کا انتظار ہو گا، وہ نیک کاموں میں جلدی کرے گا .اور یقین کی بھی چار شاخیں ہیں .روشن نگاہی، حقیقت رسی، عبرت اندوزی اور اگلوں کا طور طریقہ .چنانچہ جو دانش و آگہی حاصل کرے گا اس کے سامنے علم و عمل کی راہیں واضح ہو جائیں گی اور جس کے لیے علم وعمل آشکارا ہو جائے گا، وہ عبرت سے آشنا ہوگا اور جو عبرت سے آشنا ھوگا وہ ایسا ہے جیسے وہ پہلے لوگوں میں موجود رہا ہو اور عدل کی بھی چار شاخیں ہیں، تہوں تک پہنچنے والی فکر اور علمی گہرائی، اور فیصلہ کی خوبی اور عقل کی پائیداری .چنانچہ جس نے غور و فکر کیا، وہ علم کی گہرائیوں سے آشنا ھوا۔ اور جو علم کی گہرائیوں میں اترا، وہ فیصلہ کے سر چشموں سے سیراب ہوکر پلٹا اور جس نے حلم و بردباری اختیار کی .اس نے اپنے معاملات میں کوئی کمی نہیں کی اور لوگوں میں نیک نام رہ کر زندگی بسر کی۔ اورجہاد کی بھی چار شاخیں ہیں .امر بالمعروف، نہی عن المنکر، تمام موقعوں پر راست گفتاری، اور بدکرداروں سے نفرت . چنانچہ جس نے امر بالمعروف کیا، اس نے مومنین کی پشت مضبوط کی، اور جس نے نہی عن المنکر کیا اس نے کافروں کو ذلیل کیا اور جس نے تمام موقعوں پر سچ بولا، اس نے اپنا فرض اداکردیا اور جس نے فاسقوں کو براسمجھا اور اللہ کے لیے غضبناک ہوا اللہ بھی اس کے لیے دوسروں پر غضبناک ہو گا اور قیامت کے دن اس کی خوشی کا سامان کرے گا

کلمات قصار