آج کی حدیث: امام ہادی علیہ السلام کا شکرانہ

امام جواد اور امام ہادی (علیہما السلام)  کے زمانے میں آلِ محمدؐ کے دشمنوں میں سے ایک شخص، جو ان کے لیے اذیت اور زحمت کا باعث بنتا تھا، عمر بن فرج نامی ناصبی شخص تھا۔ اس نے لوٹ مار، رشوت اور چوری کے ذریعے اپنے لیے بہت زیادہ دولت جمع کر رکھی تھی اور اپنے زمانے میں ایک باغی، دولت مند اور بڑے غنڈے کے طور پر مشہور تھا۔

حکومتِ ظالمِ بنی عباس میں اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے وہ کچھ عرصے کے لیے مدینہ کا گورنر بھی مقرر ہوا۔ خاندانِ نبوتؐ کے ساتھ اس کا رویہ نہایت سخت اور ظالمانہ تھا۔ اس نے گستاخی کی انتہا یہاں تک پہنچا دی کہ ایک دن نہایت بے باکی سے امام جوادؑ سے کہا:

«میرا خیال ہے کہ آپ نشے میں ہیں۔»

 امام جوادؑ نے فرمایا:

 «اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے آج کا دن تیری رضا کے لیے روزہ رکھا ہے۔ پس عمر بن فرج کو لوٹے جانے اور قید کی ذلت کا مزہ چکھا دے۔»

زیادہ عرصہ نہ گزرا کہ 233 ہجری میں متوکل اس پر غضب ناک ہوا اور حکم دیا کہ اس سے بطورِ ٹیکس ایک لاکھ بیس ہزار دینار اور اس کے بھائی سے ایک لاکھ پچاس ہزار دینار وصول کیے جائیں۔

پھر ایک مرتبہ اور متوکل اس پر غضب ناک ہوا اور حکم دیا کہ اس کی گردن کے پیچھے جتنے تھپڑ  لگائے جا سکتے ہیں، لگائے جائیں۔ چنانچہ اسے گردن میں چھ ہزار  تھپڑ پڑے۔

تیسری مرتبہ متوکل اس پر غضب ناک ہوا تو اسے گھسیٹتے ہوئے بغداد لے جایا گیا، جہاں وہ قید کی حالت میں رہا، یہاں تک کہ وہیں مر گیا۔

(دشمن بھی خیر کا سبب بن جاتا ہے، اگر خدا چاہے۔)

اب درج ذیل واقعے پر توجہ کیجیے:

الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُعَلَّى بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ:

دَخَلْتُ عَلَى أَبِي الْحَسَنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، حَدَثَ بِآلِ فَرَجٍ حَدَثٌ؟

فَقُلْتُ: مَاتَ عُمَرُ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، حَتَّى أَحْصَيْتُ لَهُ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً.

فَقُلْتُ: يَا سَيِّدِي، لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ هَذَا يَسُرُّكَ، لَجِئْتُ حَافِيًا أَعْدُو إِلَيْكَ.

قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَوَ لَا تَدْرِي مَا قَالَ ـ لَعَنَهُ اللَّهُ ـ لِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَبِي؟

قَالَ: قُلْتُ: لَا.

قَالَ: خَاطَبَهُ فِي شَيْءٍ، فَقَالَ: أَبِي: أَظُنُّكَ سَكْرَانَ.

فَقَالَ أَبِي: اللَّهُمَّ، إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي أَمْسَيْتُ لَكَ صَائِمًا، فَأَذِقْهُ طَعْمَ الْحَرَبِ، وَذُلَّ الْأَسْرِ.

فَوَاللَّهِ، إِنْ ذَهَبَتِ الْأَيَّامُ حَتَّى حُرِبَ مَالُهُ وَمَا كَانَ لَهُ، ثُمَّ أُخِذَ أَسِيرًا، وَهُوَ ذَا قَدْ مَاتَ، لَا رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَدْ أَدَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ، وَمَا زَالَ يُدِيلُ أَوْلِيَاءَهُ مِنْ أَعْدَائِهِ.

محمد بن سنان کہتے ہیں:

 میں حضرت امام ہادیؑ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپؑ نے فرمایا:

« کیا آلِ فرج کے بارے میں کوئی نیا واقعہ پیش آیا ہے؟»

 میں نے عرض کیا:

 «جی ہاں، عمر بن فرج فوت ہوگیا ہے۔»

 یہ سن کر حضرتؑ نے فرمایا:

 «الحمدللہ!»

 راوی کہتا ہے:

 میں نے شمار کیا تو حضرتؑ نے چوبیس مرتبہ عمر بن فرج کی موت پر شکر ادا کرتے ہوئے الحمدللہ فرمایا۔

 میں نے عرض کیا:

 «اے میرے آقا! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپؑ کو میری اس خبر سے اس قدر خوشی ہوگی تو میں ننگے پاؤں دوڑتا ہوا آپؑ کی خدمت میں آتا اور یہ خبر آپؑ کو دیتا۔»

 امام ہادیؑ نے فرمایا:

 «ہاں! اس نے میرے والد (امام جوادؑ) پر نشے کی تہمت لگائی تھی۔ میرے والد نے اس کے لیے دعا کی کہ وہ لوٹے جانے، ذلت اور اسیری میں مبتلا ہو جائے۔ زیادہ عرصہ نہ گزرا کہ اس کا تمام مال لوٹ لیا گیا، اسے گرفتار کر کے ذلت میں مبتلا کیا گیا، اور اب وہ مر بھی گیا ہے۔

 اللہ اس پر رحمت نہ کرے۔ اللہ نے اس سے انتقام لیا ہے، اور وہ ہمیشہ اپنے دوستوں کے دشمنوں سے ان کا انتقام لیتا رہتا ہے۔»

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 اصول کافی496/1

ترجمہ: مولانا ڈاکٹر تصورعباس خان ، پرنسپل امام رضا کمپلیکس چوک اعظم ضلع لیہ