امیرالمومنین علی علیہ السلام کی سیرت طیبہ

امیرالمومنین علی علیہ السلام کی سیرت طیبہ

* _عن مختار التمار قال : كنت أبيت في مسجد الكوفة وأنزل في الرحبة وآكل الخبز من البقال وكان من أهل البصرة۔۔۔۔۔۔۔۔_*امیرالمومنین علی علیہ السلام نے کوفہ کو دارلحکومت بنا کر وہاں منتقل ہوتے ہی بازاروں کا گشت شروع کر دیا جہاں اکثر لوگوں نے ابھی آپ کو دیکھا بھی نہیں تھا اور پہچانتے بھی نہیں تھے۔*
*مختار تمار سے روایت ہے،انہوں نے کہا:میں مسجد کوفہ میں رات گزارتا اورکھلی فضا اور میدان میں سوتا تھا، اور ایک کرانہ فروش کے پاس سے روٹی کھاتا تھا جو اہل بصرہ میں سے تھا۔ ایک دن میں باہر نکلا تو اچانک ایک شخص نے مجھے آواز دی: “اپنی تہبند(لنگی) اوپر کرو، یہ تمہارے کپڑے کے لیے زیادہ صاف اور رب سے تمہارے تقوا کا باعث ہے”۔ میں نے پوچھا: “یہ کون ہیں؟” تو بتایا گیا: “علی بن ابی طالب ہیں”۔*

*میں ان کے پیچھے چل پڑا، وہ اونٹوں کے بازار کی طرف جا رہے تھے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو کھڑے ہوئے اور فرمایا: “اے تاجروں کی جماعت! جھوٹی قسموں سے بچو، کیونکہ یہ سامان کو فروخت تو کر دیتی ہیں لیکن برکت کو ختم دیتی ہیں”۔ پھر وہ آگے بڑھے یہاں تک کہ کھجور فروشوں کے پاس آئے۔ وہاں ایک بچی ایک کھجور فروش کے پاس رو رہی تھی۔ آپ نے پوچھا: “تمہیں کیا ہوا؟” اس نے کہا: “میں ایک کنیز ہوں، میرے گھر والوں نے مجھے ایک درہم کی کھجوریں خریدنے کے لیے بھیجا تھا۔ جب میں وہ لے کر گئی تو انہوں نے انہیں پسند نہیں کیا، میں اسے واپس کرنے کا کہہ رہی ہوں ، لیکن اس (دکاندار) نے انہیں واپس کرنے سے انکار کر دیا ہے۔*
*آپ نے فرمایا: “اے شخص! اس سے کھجوریں لے لو اور اس کا درہم واپس کرو”۔ اس نے انکار کر دیا۔ دکاندار سے کہا گیا: “یہ علی بن ابی طالب ہیں”۔ یہ سنتے ہی اس نے کھجوریں قبول کر لیں اور بچی کو درہم واپس کر دئیے اور کہا: “یا امیر المؤمنین! میں نے آپ کو نہیں پہچانا، مجھے معاف کر دیں”۔ آپ نے فرمایا: “اے تاجروں کی جماعت! اللہ سے ڈرو اور اپنی خرید و فروخت میں اچھائی (نرمی) اختیار کرو، اللہ ہمیں اور تمہیں معاف کرے گا”۔

*ثم مضى وأقبلت السماء بالمطر فدنا إلى حانوت فاستأذن صاحبه فلم يأذن له ۔۔۔۔۔۔۔ *پھر وہ آگے بڑھے اور آسمان سے بارش شروع ہو گئی۔ آپ ایک دکان کے قریب آئے اور اس کے مالک سے اندر آنے کی اجازت چاہی، لیکن دکان والے نے نا صرف دکان کے اندر آنے کی اجازت نا دی بلکہ گستاخی بھی کی۔ آپ نے فرمایا: “اے قنبر! اسے میرے پاس باہر لاؤ”۔ پھر آپ نے اسے کوڑا مارا اورفرمایا: “میں نے تمہیں اس لیے نہیں مارا کہ تو نے مجھ سے گستاخی کی ہے، بلکہ اس لیے مارا کہ آئندہ ( ان حالات میں)کسی کمزور مسلمان سے گستاخی نا کرو اور اسے کہیں معذور نا بنا دو، جس کی وجہ سے کسی بڑی مشکل میں پھنس جاو”۔*
*پھر وہ آگے بڑھے یہاں تک کہ کپڑے کے بازار پہنچے۔ وہاں ایک خوبصورت شخص نظر آیا، آپ نے فرمایا: “اے شخص! کیا تمہارے پاس پانچ درہم کے دو سوٹ ہیں؟” اس آدمی نے فوراً کھڑے ہو کر کہا: “یا امیر المؤمنین! میرے پاس آپ کی ضرورت کے مطابق کپڑا موجود ہے”۔ جب آپ نے دیکھا کہ اس نے آپ کو پہچان لیا ہے (اور اس وجہ سے معمول سے زیادہ کم قیمت لے گا) تو وہاں سے آگے بڑھ گئے۔*
*پھر آپ ایک لڑکے کے پاس رکے اور فرمایا: “اے لڑکے! کیا تمہارے پاس پانچ درہم کے دو سوٹ ہیں؟” اس نے کہا: “ہاں، میرے پاس ہیں”۔ چنانچہ آپ نے دو کپڑے لیے، ایک تین درہم کا اور دوسرا دو درہم کا۔ پھر فرمایا: “اے قنبر! وہ کپڑا لو جو تین درہم کا ہے”۔ قنبر نے عرض کیا: “آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں، آپ منبر پر بیٹھ کر لوگوں سے خطاب کرتے ہیں”۔ آپ نے فرمایا: “تم جوان ہو اور جوانی کی امنگیں رکھتے ہو (یعنی زینت کے طلبگار ہو)، اور مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے کہ میں تم پر فضیلت (بہتر چیز) اختیار کروں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ‘انہیں وہی پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو اور انہیں وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو'”۔*
*جب آپ نے وہ قمیص پہنی تو اس میں ہاتھ ڈالا، وہ آپ کی انگلیوں سے آگے بڑھ رہی تھی (یعنی آستین لمبی تھی)۔ آپ نے فرمایا: “اس اضافی حصے کو کاٹ دو”۔ چنانچہ اسے کاٹ دیا گیا۔ لڑکے نے کہا: “لائیے، میں اسے سلائی کر دوں”۔ آپ نے فرمایا: “اسے ایسے ہی رہنے دو، کیونکہ معاملہ (موت کا وقت) اس سے زیادہ جلدی آنے والا ہے”*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
📚: مکارم الاخلاق طبرسی/101

پیشکش : مولانا تصورعباس سرگانی پرنسپل امام رضا کمپلیکس چوک اعظم ضلع لیہ ، چیئرمین البینات ریسرچ انسٹیٹیوٹ پاکستان

ن