تحریر: اسد عباس
1 امام ھادی علیہ السلام کی فارس بن حاتم غالی کی مذمت
امام ھادی ایک ایرانی شیعہ علی بن عبداللہ دنیوی سے فرماتے ہیں:
فارس بن حاتم دروغ گو و خیانت کار شخص ہے آپ جو وجوھات شرعی فارس کے ھاتھوں بھیجتے ہیں وہ ھم تک نہیں پہنچتے ، آپ اس کو وجوھات نہ دیا کریں بلکہ ایوب نوح کو دیا کریں[1] ۔
امام نے ایوب نوح کو نامہ لکھا کہ شیعیان جبال [ ایران ] کو بتاو کہ فارس جھوٹا ، منحرف اور خیانت کار ہے[2] ۔
ایک اور روایت میں امام ھادی نے فرمایا فارس فتنہ گر ہے اور لوگوں کو بدعات کی طرف دعوت دینے والا ہے[3] ۔
ابراھیم بن یعقوبی امام کو خط لکھتا ہے اور فارس بن حاتم کے انحرافات کے بارے میں پوچھتا ہے تو امام فرماتے ہیں فارس کے ساتھہ آمد و رفت چھوڑ دو اور اگر وہ تمہارے پاس آئے تو اس کی تحقیر کرو[4] ۔
ایک اور روایت میں امام فرماتے ہیں جو شخص بھی فارس بن حاتم کو قتل کرے گا وہ سیدھا جنت میں جائے گا[5] ۔
امام ھادی فرماتے ہیں فارس بن حاتم فتنہ گر اور بدعتی ہےجو اس کو قتل کرے گا میں اس کی جنت کا ضامن ہوں[6] ۔
2 امام ھادی کی محمد بن نصیر نمیری کی مذمت
نصر بن صباح کہتے ہیں کہ امام ھادی نے محمد بن نصیر نمیری اور کچھہ دیگر غالیوں پہ لعنت فرمائی ہے[7] ۔
امام ھادی نے محمد بن نصیر سے برائت فرمائی ہے اور اپنے تمام شیعوں کو محمد بن نصیر اور ابن بابای قمی سے دور رہنے کا حکم فرمایا ہے اور ان دونوں پر لعنت فرمائی ہے امام نے ان دونوں کو فتنہ گر ، فریب کار ، اور ان کو بد دعا کی ہے[8] ۔
3 امام ھادی علیہ السلام کی علی بن حسکہ اور قاسم یقطینی کی مذمت
محمد بن عیسی روایت کرتے ہیں کہ امام ھادی نے فرمایا خداوند قاسم یقطینی اور ابن حسکہ پر لعنت کرے شیطان ان میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ خرافاتی باتیں کرتے ہیں[9] ۔
احمد بن محمد عیسی قمی امام ھادی کو خط لکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ علی بن حسکہ و قاسم یقطینی خود کو آپ کا شیعہ کہتے ہیں اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ آیہ ان الصلاۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر[10] ۔ ایسے شخص کی طرف اشارہ ہے جو اھل رکوع و سجود نہیں تھا اور زکواۃ سے مراد ایک شخص ہے نا کہ درھم و دینار ، اور اسی طرح گناہوں کی تاویل کرتے ہیں ۔ تو امام نے فرمایا : ایسا عمل یا عقیدہ ، ہمارا دین نہیں ہے اس سے دوری کریں[11] ۔
امام کو بتایا گیا کہ ابن حسکہ اپ کو خدا اور خود کو نبی سمجھتا ہے اور نماز ،زکات ، حج ، روزہ اور دوسرے احکام کی غالیانہ اور انحرافانہ تاویل کرتا ہے تو امام نے فرمایا: ابن حسکہ جھوٹا ہے خدا کی لعنت ہو اس پر ، میں اسے اپنا شیعہ نہیں مانتا ۔ باخدا قسم خداوند متعال نے محمد اور اس سے پہلے تمام نبیوں کو دین حنیف نماز ، زکات ، روزہ اور ولایت کے لیے مبعوث کیا ہے اور حضرت محمد نے خدائے وحدہ لا شریک کے علاوہ کسی کی تبلیغ نہیں کی ھم محمد مصطفی کے بیٹے اور خدا کے بندے ہیں شرک نہیں کرتے اگر ھم خدا کی اطاعت کریں تو خدا ھم پر رحم کرے گا اور اگر خدا کی نافرمانی کریں تو وہ ھم پر عذاب نازل کرے گا ۔ میں ھر اس شخص سے دوری کرتا ہوں جو غالیانہ عقاید رکھے اور خدا کے دین میں تاویلات کرے پھر امام فرماتے ہیں ایسے لوگوں پر خدا کی لعنت ہواور یہ جہاں بھی ملیں ان کا سر پتھروں سے پھاڑ دو[12] ۔
4 امام ھادی کی ابن بابایی قمی کی مذمت
امام نے ابن بابایی قمی پر لعنت فرمائی ہے اور اس سے دوری فرمائی ہے
نصر بن صباح کہتے ہیں کہ امام ھادی نے ابن بابایی قمی ، محمد بن نصیر نمیری اور فارس بن حاتم پرلعنت فرمائی ہے[13] ۔
ایک اور روایت میں امام فرماتے ہیں :
ابن بابایی قمی گمان کرتا ہے کہ میں نے اسے پیغمبر بنا کے بھیجا ہے اور بابیت کا دعوی کرتا ہے خدا کی لعنت ہو اس پر ، شیطان کے دھوکے میں آ گیا ہے جو بھی اس قسم کے افکار قبول کرتا ہے خدا کی لعنت ہو اس پر ، پھر امام اپنے چاہنے والے کو حکم دیتے ہوئے فرماتے ہیں : جھاں بھی ابن بابایی کو دیکھو قتل کر دو اور کوشش کرنا پتھر سے اس کا سر کچلنا ، ایسا ضرور کرنا ابن بابایی نے ھمیں بہت تکلیفیں دیں ہیں[14] ۔
5 امام ھادی کی فتح بن یزید جرجانی کی مذمت
فتح بن یزید دوسرے غالیوں کی طرح فتنہ گر اور فریب کار نہیں تھا اس لیے امام نے اس پر لعنت نہیں کی بلکہ یہ اپنی کم علمی کی وجہ سے بعض اوقات غلو کر جاتا تھا اور امام اسے سمجھاتے تھے تو یہ سمجھہ جاتا تھا ۔ یہ خود نقل کرتا ہے کہ میں سمجھتا تھا کہ آئمہ چونکہ علم غیب رکھتے ہیں تو خدا ہیں لیکن پھر میں امام ھادی علیہ السلام کی خدمت کرنے کی وجہ سے اپنے غالیانہ عقید کو چھوڑ دیا[15] ۔
6 امام ھادی کی احمد بن محمد سیاری کی مذمت
احمد بن محمد سیاری اور دوسرے ایسے افراد جو تحریف قرآن کا عقیدہ رکھتے تھے امام نے فرمایا: قرآن میں کسی قسم کی کوئی تحریف نہیں ہوئی اور تمام اسلامی فرقے اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن میں کوئی تحریف نہیں ہوئی[16] ۔
7 امام ھادی کی عروہ بن یحیی النحاس الدھقان کی مذمت
یہ امام کے یاران میں سے تھا بغداد میں امام کا وکیل تھا لیکن بعد میں غالی ہو گیا امام پر جھوٹ باندھتا تھا امام نے اس پر لعنت فرنائی ہے سر انجام امام کی نفرین کے ساتھہ مر گیا[17] ۔
8 امام ھادی کی عقیدہ تجسیم کی مذمت
ابراھیم بن محمد ھمدانی امام ھادی کو خط لکھتا ہے اور عرض کرتا ہے مولا آپ کے شیعوں توحید کے بارے میں اختلاف ہو گیا ہے بعض تجسیم کے قائل ہو گئے ہیں اور بعض دوسرے تشبیہ کے ، وضاحت فرمائیں ، تو مولا ابراھیم بن محمد ھمدانی کو جواب لکھتے ہیں ، خدا کی ذات کو مبرہ و منزہ جانیں ، لیس کمثلہ شیء وھوالسمیع البصیر[18] ، خدا کی مثل کوئی نہیں وہ سمیع و بصیر ہے[19] ۔
محمد بن فرج رخجی امام کو خط لکھتا ہے ھشام بن حکم ، جسم ، اور ھشام بن سالم ، صورت ، خدا کے قائل ہیں وضاحت فرمائیں تو امام فرماتے ہیں ایسے خرافاتیوں سے دوری رکھیں اور خدا کی پناہ مانگیں شیطان سے ، جو کچھہ یہ کہتے ہیں ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں[20] ۔
[1] ۔ ایوب بن نوح ۔ یہ فارس میں امام ھادی کا وکیل تھا
[2] ۔ فاشھر فعل فارس فی اصحابنا الجبلین و غیرھم من موالینا ۔ ھمان ، ص 525 ۔
[3] ۔ ھذا فارس یعمل من قبلی فتانا داعیا الی البدعۃ ۔ ھمان ، ص 525 ۔
[4] ۔ لا تحفلن بہ و ان اتاک فاستخف بہ ۔ ھمان ، ص 522 ۔
[5] ۔ ان ابا الحسن العسکری امر بقتل فارس بن حاتم القزوینی و ضمن لمن قتلہ الجنتۃ ۔ ھمان ، ص 523 ۔
[6] و دمہ ھدر لکل من قتلہ ، فمن ھذا الذی یریحنی منہ و یقتلہ و انا ضامن لہ علی اللہ الجنۃ ۔ ھمان ، 524 ۔
[7] ۔ فانی محذرک و جمیع موالی و انی العنھما علیھما لعنۃ اللہ ۔۔۔۔۔ ، طوسی ، اختیار معرفۃ الرجال [ رجال کشی ] ، ص 520 ۔
[8] ۔۔۔۔ لعن ھولاء الثلاثۃ علی بن محمد عسکری ۔ طوسی ، اختیار معرفۃ الرجال [ رجال الکشی ] ، 520 ۔
[9] ۔ ان شیطانا تراءی للقاسم فیوحی الیہ زخرف القول غرورا ۔ طوسی ، اختیار معرفۃ الرجال [ رجال الکشی ] ، ص 518 ۔
[10] سورہ عنکبوت ، آیہ 45 ۔
[11] فکتب علیہ السلام لیس ھذا دیننا فاعتزلہ ۔ اختیار معرفۃ الرجال [ رجال الکشی ] ، ص 517 ۔
[12] کذب ابن حسکہ علیہ لعنۃ اللہ ۔۔۔ فان وجدت من احد منھم خلوۃ فاژدخ راسہ بالصخر ۔ طوسی ، اختیار معرفۃ الرجال ، ص 518 – 519 ۔
[13] ۔لعن ھولاء الثلاثۃ علی بن محمد العسکری ۔ طوسی ، اختیار معرفۃ الرجال ، ص 520 ۔
[14] ۔ کتب الی العسکری ابتداء منہ ابرا الی اللہ من الفھری و الحسن بن محمد بن بابا القمی فابرا منھما ۔۔۔ ، طوسی ، اختیار معرفۃ الرجال [ رجال کشی ] ، ص 520 ، اس روایت میں عسکری سے مراد امام ھادی ہیں ۔
[15] ۔ جعلنی اللہ فداک فرجت عنی و کشفت ما لبس الملعون علی فقد کان اوقع فی خلدی انکم ارباب ۔ مسعودی ، اثبات الوصیہ ، ص 236 ؛ اربلی ، کشف الغمہ ، ج 2 ، ص 896 ۔
[16] ۔ اجتمعت الامۃ قاطبۃ لا اختلاف بینھم فی ذلک ان القرآن حق لا ریب فیہ عند جمیع فرقھا ۔۔۔ فاذا شھد الکتاب بتصدیق خبر و تحقیقہ ۔۔۔ طبرسی ، احتجاج ، ج 2 ، ص 450 ۔
[17] کشی ، 1418 : ح 1008 ۔
[18] سورہ شوری ، آیہ 11 ۔
[19] ۔۔ فکتب ع بخطہ سبحان من لا یحد و لا یوصف ، لیس کمثلہ شیء و ھو السمیع العلیم ۔ او قال البصیر ۔ کلینی ، کافی ، ج 1 ، ص 102 ؛ صدوق ، التوحید ، ص 100 ۔
[20] ۔ دع عنک حیرۃ الحیران و استعذ باللہ من الشیطان ، لیس القول ما قال الھشامان ۔ کلینی ، کافی ، ج 1 ، ص 106 ؛ صدوق ، الامالی ، ص 351 ؛ صدوق ، التوحید ، ص 97 ۔