عنوان مقالہ :مدینہ سے کربلا تک امام حسین علیہ السلام کی مختلف شخصیات سے ملاقاتیں ::::::مقصد قیام امام حسین علیہ السلام کو سمجھنا ہے تو اس کا ایک بہترین ذریعہ امام علیہ السلام کے خطبات اور مدینہ سے کربلا تک امام علیہ السلام کی مختلف افراد سے گفتگو ہے امام علیہ السلام نے اس سفر میں مختلف افراد سے گفتگو فرمائی اور اپنے قیام کے مقصد کو بیان فرمایا ہے امام علیہ السلام کی ملاقاتوں کو تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں
1 مدینہ میں ملاقاتیں
2 مکہ میں ملاقاتیں
3 مکہ سے کربلا کے راستے میں ملاقاتیں
الف. مدینہ میں ملاقاتیں
1 ولید بن عتبہ کے ساتھ ملاقات
معاویہ بن سفیان کی وفات کے بعد یزید نے ولید بن عتبہ کو خط لکھا اور دستور دیا کہ حسین ابن علی اور عبداللہ بن زبیر سے بیعت لے اور اگر وہ بیعت نہ کریں تو قتل کر دو اور ان کا سر دمشق روانہ کر دو اور اسی طرح باقی اہل مدینہ سے بیعت لو جو انکار کرے اس کا سر تن سے جدا کر دو ، ولید کو جب یہ خط ملا تواس نے رات کی تاریکی میں مروان بن حکم (مدینہ کا سابقہ گورنر) کوبلایا اور اس سے مشورہ کیا ۔ مروان کہتا ہے : ابھی ان کو بلاؤ اور بیعت لو اگر بیعت نہ کریں تو قتل کر دو۔ قبل اس کے کہ انہیں معاویہ کی موت کی خبر ملے اور وہ یزید کے خلاف قیام کریں ۔
ولید نے فورا عبداللہ بن عمرو بن عثمان کو بھیجا کہ حسین علیہ السلام اور عبداللہ بن زبیر کو ابھی میرے پاس لے آؤ
جب قاصد ولید کا پیغام لے کر آیا تو امام حسین اور ابن زبیر دونوں مسجد میں تشریف فرما تھے ۔
امام حسین فرماتے ہیں :
لگتا ہے معاویہ فوت ہو گیا ہے (کیونکہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ معاویہ کا تخت گر گیا ہے اور اس کے گھر کو آگ لگ گئی ہے ) اور یزید ہم سے بیعت چاہتا ہے[1].
مولا حسین بنی ہاشم کے چند جوانوں کو ساتھ لے کر دار الامارہ مدینہ پہنچے اور جوانوں کو فرمایا : میں اندر جا رہا ہوں اگر آپ کو بلاؤں تو فورا آ جانا[2]
امام حسین اندر داخل ہوئے ، مروان بھی وہیں بیٹھا تھا ولید نے خط پڑھ کے سنایا تو امام حسین نے فرمایا : ما کنْتُ اُبایعُ لِیزِیدَ؛ میں ہرگز یزید کی بیعت نہیں کروں گا.»
مروان نے کہا : امیر المؤمنین یزید کی بیعت کرو! امام حسین علیه السلام نے فرمایا : وای ہو تم پر کہ فضول باتیں کر رہے ہو! کس نے یزید کو امیر المؤمنین بنایا ہے[3] ؟
- مروان کے ساتھ ملاقات
دوسرے دن امام حسین نے مروان کو راستے میں دیکھا ۔
مروان کہتا ہے : میں آپ کو ایک نصیحت کرنا چاہتا ہوں بشرطہ کہ آپ مانیں! حضرت نے فرمایا : تیری نصیحت کیا ہے ؟ کہتا ہے : کہ میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ امیر المؤمنین یزید کی بیعت کر لو یہ آپ کی دین اور دنیا کے لیئے فائدہ ہو گا.
حضرت نے فرمایا : «اِنَّ لِلَّهِ وَاِنَّا اِلَیهِ راجِعُون[4]» اور پھر فرمایا : عَلَی الْاِسْلامِ السَّلامُ اِذْ بُلِیتِ الْاُمَّةُ بِراعٍ مِثْلَ یزِیدَ وَیحَک یا مَرْوانَ اَتَاْمُرُنِی بِبَیعَةِ یزِیدَ وَهُوَ رَجُلٌ فاسِقٌ؛ اسلام پر فاتحہ پڑھ دیں جب امت پر یزید خلیفہ بن بیٹھے ۔ افسوس ہے تجھ پر اے مروان مجھے ایسے شخص کی بیعت کا کہتے ہو جو فاسق ہے
پھر امام نے فرمایا: ایسی ناروا اور بیہوده بات کیوں کہتے ہو ؟ میں تیری اس بات پر تیری ملامت نہیں کروں گا کیوں کہ تو وہی ہے کہ جو ابھی باپ کے صلب میں تھا تو پیغمبر اکرم نے تجھ پر لعنت کی تھی .
پھر فرمایا دور ہٹ اے دشمن خدا! ہم اہل بیت رسول خدا ہیں حق ہمارے ساتھ ہے اور ہم حق کے سوا کچھ نہیں کہتے . میں نے خود پیغمبر خدا سے یہ فرماتے سنا ہے کہ «خلافت ابو سفیان کے بیٹوں اور ان کے بیٹوں پر حرام ہے .» پھر فرمایا : «اگر معاویه کو میرے ممبر پر دیکھو تو فورا اس کا پیٹ چاک کر دو.» خدا کی قسم مدینہ والوں نے معاویہ کو میرے جد کے ممبر پر دیکھا لیکن جو ان کو حکم تھا اس پر عمل نہیں کیا.»
مروان یہ سب سن کر غصے میں آ گیا اور کہتا: «ہرگز تجھے نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ یذید کی بیعت کر لے! تم اولاد علی کے دل میں آل ابو سفیان کے بارے میں کینہ ہے اس لیئے تم ان سے دشمنی رکھتے ہو اور وہ تم سے.
امام حسین نے اس کے جواب میں فرمایا: « دور ہو جاؤ اے پلید ہم اھل بیت طہارت میں سے ہیں خدا نے ہمارے لئے پیغمبر اکرم پر وحی فرمائی ہے که إِنَّمَا یرِیدُ اللَّهُ لِیذْهِبَ عَنکمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَیتِ وَ یطَهِّرَکمْ تَطْهِیرًا[5] ؛ «خداوند چاہتا ہے کہ پلیدی اور گناہ کو تم اہل بیت سے دور کر دے ، اور کاملاً تمہیں پاک کر دے .»
یہ سننے کے بعد پھر مذید کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہوئی مروان کی ۔ امام نے فرمایا : «اے پسر زرقاء ! آپ رسول خدا کے بارے میں جس چیز کو ناپسند کرتے ہیں اس کی وجہ سے ، میں آپ کو اس دن خدا کے دردناک عذاب کا اعلان کرتا ہوں جب آپ خدا کے پاس جائیں گے ، اور میرے نانا، آپ سے میرے اور یزید کے بارے میں پوچھیں گے۔[6]
اس ملاقات میں امام نے مروان کو اس کی اور آل ابو سفیان کی پست حقیقت کو یاد دلایا اور اپنی مقام و منزلت کو بھی یاد دلایا امام نے مروان بن حکم کو خوب سبق سکھایا
ان ملاقاتوں کے بعد یزید نے فورا. ولید کو مدینہ کی گورنری سے ہٹا دیا اور مروان ابن حکام کو ان کی جگہ مقرر کر دیا[7] .
- محمّد بن حنفیہ کے ساتھ ملاقات[8]
محمد بن حنفیہ نے روانگی سے قبل امام حسین علیہ السلام کے پاس آکر عرض کیا: “اے بھائی! آپ میرے لئے سب سے زیادہ محبوب ترین ہیں اور میں تو کسی کو بھی مشورہ دیتا ہوں پھر آپ کو کیسے نہ دوں .. .. یزید کی بیعت سے پرہیز کرو اور شہروں میں زیادہ رہنے سے گریز کرو۔ پھر اپنے نمائندوں کو شہروں میں بھیجو اور انہیں اپنے پاس مدعو کرو۔ اور اگرآپ کی بیعت کی جائے تو ، اس نعمت پر خدا کا شکر ادا کرو ، اور اگر وہ کسی اور کی بیعت کریں تو ، یہ برا انتخاب کسی بھی طرح آپ کے فائدے اور مقام کو نہیں بھولے گا…. »
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: بھائی میں کہاں جاؤں؟
محمد بن حنفیہ کہتے ہیں: مکہ منتقل ہو جاؤ، اگر آپ کو مکہ میں رہنا مناسب لگے تو وہیں رک جانا اور اگر مکہ غیر محفوظ لگے تو ، صحراؤں اور پہاڑوں میں چلے جانا جب تک کہ کوئی مناسب حل نہیں نکلتا.»
امام حسین نے جواب میں فرمایا: « اے بھائی! آپ نے مجھ سے حسن سلوک کیا ہے۔ “مجھے امید ہے کہ آپ کا مشورہ قابل قبول ہوگا[9].
امام نے مزید فرمایا : یا اَخِی وَاللَّهِ لَوْلَمْ یکنْ مَلْجَاٌ وَلا ماْوی لا بایعْتُ یزِیدَ بْنَ مُعاوِیةَ؛
اے بھائی! “میں خدا کی قسم کھاتا ہوں ، اگر میرے لئے کوئی پناہ گاہ نہ رہی تو پھر بھی یزید کی بیعت نہیں کروں گا۔” محمد بن حنفیہ رو پڑے، امام نے بھائی کا شکریہ ادا کیا اور فرمایا :اے بھائی خدا آپکو جزائے خیر دے آپ نے میرے ساتھ خیر خواھی کی اور اچھا مشورہ دیا ۔ میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ مکہ کا ارادہ رکھتا ہوں اور بھائی آپ مدینہ میں رک سکتے ہیں اور مہم خبریں مجھے بھیجتے رہنا اور کچھ چھپانا نہیں[10].
محمد بن حنفیہ نے مکہ میں بھی امام حسین علیہ السلام سے ملاقات کی ، اس دوران انہوں نے کہا: “اے بھائی! آپ کوفہ کے لوگوں کو بخوبی جانتے ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ انہوں نے آپ کے والد اور بھائی کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے ، اور مجھے ڈر ہے کہ آپ کا انجام بھی انہی کی طرح ہی ہوگا۔ “اگر آپ مناسب سمجھیں تو ، مکہ میں ہی قیام کریں ، یہاں آپ کی جان اور عزت دونوں محفوظ رہیں گے .»
امام نے فرمایا: “مجھے ڈر ہے کہ یزید مجھے اچانک مروا دے گا اور میری وجہ سے بیت اللہ کی حرمت پامالی ہوجائے گی[11].
جناب حنفیہ نے کہا ، ” اطراف یمن میں چلے جاؤ وہ محفوظ علاقہ ہے۔” امام نے فرمایا: “میں آپ کی بات پر غور کروں گا۔” لیکن دوسرے ہی دن امام کوفہ کی طرف چل دیئے ۔ جناب حنفیہ نے کہا ، آپ کیوں جانے کی جلدی میں ہیں؟»
امام نے فرمایا : تیرے جانے کے بعد میں نے رسول اللہ کو خواب میں دیکھا انہوں نے فرمایا : یا حُسَینُ اُخْرُجْ فَاِنَّ اللَّهَ قَدْ شاءَ اَنْ یراک قَتِیلاً؛ اے حسین! باہر نکلو خدا آپ کو شھید دیکھنا چاہتا ہے .» محمد بن حنفیہ کہتے ہیں پس اگر آپ نے جانا ہی ہے تو خواتین کو اپنے ساتھ کیوں لے جاتے ہو؟»
فرمایا : اِنَّ اللَّهَ قَدْ شاءَ اَنْ یراهُنَّ سَبایا؛ خدا چاہتا ہے کہ ان کو قیدی دیکھے[12].
جب عبداللہ کو امام حسین علیہ السلام کے کوفہ جانے کی اطلاع ملی تو وہ آپ کے پاس آیا اور کہا کہ آپ گمراہوں سے سمجھوتہ کر لیں اور اسی طرح امام علیہ السلام کو جنگ اور مارے جانے سے ڈرایا۔
- 4. عبد اللّه بن مطیع کے ساتھ ملاقات
عبداللہ ابن مطیع نے مدینہ سے مکہ جاتے ہوئے امام (ع) سے ملاقات کی اور کہا: میری جان آپ پرقربان ہو ، کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: میرا ارادہ ہے کہ مکہ جاؤں اوراللہ رب العزت سے طلب خیر کروں.»
عبد اللہ نے کہا: “قربان جاؤں ! میں خدا سے آپ کی خیریت چایتا ہوں ، ایسا نہ ہو کہ آپ مکہ سے کوفہ منتقل ہو جائیں۔ کیونکہ کوفہ وہی شہر ہے جہاں آپ کے بابا شہید ہو گئے اور آپ کے بھائی امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کو دشمن کے ہاتھوں میں چھوڑ دیا گیا ، انہیں دھوکہ دیا اور زخمی کردیا گیا۔ خدا کے گھر میں رہو۔ آپ ایک عظیم عرب ہیں اور حجاز کے لوگوں میں کوئی آپ کی برابری کا نہیں۔ مکہ میں رہو تاکہ لوگ آپ کے آس پاس جمع ہوں۔ خدا کی قسم وہ آپ کے بعد ہمیں غلام بنالیں گے[13].
ب. مکه میں ملاقاتیں
امام کا قافلہ ماہ شعبان کے تیسرے جمعہ کو مکہ پہنچا۔ امام 8 ذی الحجہ تک مکہ میں رہے اس دوران آپکی متعدد ملاقاتیں ہوئیں ، جن میں سب سے اہم یہ ہیں ۔
1عبد اللّه بن زبیر اور کچھ اور لوگوں کی امام سے ملاقات
امام جیسے ہی مکہ پہنچے تو اہل مکہ اور وہ لوگ جو حج کے لئے آئے ہوئے تھے ، امام کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اورعبداللہ ابن زبیر بھی ، جو کعبہ کے قریب ہی رہتا تھا اور نماز ، طواف میں مشغول تھا ، ہر روز یا ہر دوسرے دن امام کے پاس آتا تھا۔ وہ بہت پریشان تھا۔ کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ جب تک امام مکہ میں ہیں کوئی میری بیعت نہیں کرے گا۔ کیونکہ امام حسین علیہ السلام کی ایک خاص معاشرتی حیثیت تھی اور لوگ ان کی زیادہ اطاعت کرتے تھے[14].
عبد اللّه بن زبیرکی دکھاوے کی عبادات کا مقصد لوگوں کو پھنسانا تھا. علی علیه السلام نے اس کے بارے میں فرمایا تھا : ینْصِبُ حِبالَةَ الدِّینِ لِاصْطِفاءِ الدُّنْیا[15] ؛ وہ دنیا کوحاصل کرنے کیلئے دین کا جال پھیلاتا ہے
تاہم ، ابن زبیر نے امام حسین علیہ السلام کو مکہ میں رہنے کی تجویز دی تاکہ وہ امام کی بیعت کریں اور لوگ بھی امام کی بیعت کریں۔ ابن زبیر کی امام کو مکہ میں رہنے کی پیشکش صرف اس لیئے تھی تاکہ لوگ سمجھیں کہ میں امام کا بڑا خیرخواہ ہوں[16] .
امام نے فرمایا : یابْنَ زُبَیر لَئِنْ اُدْفَنُ بِشاطِی ء الْفُراتِ اَحَبُّ اِلَی مِنْ اَنْ اَدْفَنَ بِفِناءِ الْکعْبَةِ؛ اے زبیر کے بیٹے ! میرے لئے فرات کی سر زمیں پر دفن ہونا بہتر ہے اس سے کہ میں کعبہ کے قریب دفن ہو جاؤں.»
اور پھر فرمایا : اِنَّ اَبِی حَدَّثَنِی اَنَّ بِها کبْشاً یسْتَحِلُّ حُرْمَتَها فَما اُحِبُّ اَنْ اَکونَ ذلِک الْکبْشُ[17]؛ “میرے والد نے مجھے اطلاع دی کہ مکہ میں ایک مینڈھا مارا جائے گا ، جس کے ذریعہ خدا کے گھر کے تقدس کو پامال کیا جائے گا ، اور میں (خدا کی بے حرمتی میرے قتل کے ساتھ ہی کرنا چاہوں گا اور) وہ مینڈھا میرے ساتھ نہیں ہونا چاہوں گا.»
ایک اور روایت کے مطابق ، جب عبداللہ بن زبیر کو معلوم ہوا کہ امام حسین علیہ السلام کوفہ جارہے ہیں ، تو وہ امام کے پاس آیا اور کہا: آپ کا کیا فیصلہ ہے؟
خدا کی قسم خدا کے نیک بندوں پر بنی امیہ کے ظلم و ستم کے خلاف لڑائی اور جہاد نہ کرنے سے بہت ڈرتا ہوں ، اور میں خدا کے عذاب سے ڈرتا ہوں،
امام علیہ السلام نے فرمایا: میں نے کوفہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ عبداللہ نے کہا ، خدا آپ کو سلامت رکھے۔ اگر میرے پاس اپ کے جیسے انصار ہوتے تو میں کوفہ جانے سے انکار نہ کرتا
ابن زبیر ، اگرچہ دل میں خوش تھا کہ امام حسین کوفہ جا رہے ہیں ۔ لیکن ظاہرا امام کا ہمدرد بننے کے لیے اور لوگوں کے اعتراضات سے بچنے کیلئے کہتا ہے : اگر آپ یہاں رہ کر بیعت کیلئے بلائیں تو میں اور اہل حجاز آپ کی بیعت کریں گے ۔ “کیونکہ ہم آپ کو یزید اور اسکے والد کی نسبت خلافت کے زیادہ مستحق سمجھتے ہیں[18] ۔
شاید اس ظاہر سازی کا مقصد ، عبد اللہ ابن عباس کے الفاظ ہیں جنہوں نے ابن زبیر سے کہا: ”اے زبیر! “آپ کیلئے میدان کھلا ہے حسین عراق چلے گئے۔” اورپھرکہا:
آپ نے خود کو خلافت کیلئے کیوں نامزد کیا؟
ابن زبیر کہتا ہے : اپنی شرافت اور منزلت وجہ سے ۔
توابن عباس نے کہا: تم نے کیسے یہ شرافت و منزلت پیدا کر لی؟ اگر آپ کیلئے یہ اعزاز کی بات ہے توہم تو آپ سے زیادہ شرافت و منزلت رکھتے ہیں[19]….. »
ان ملاقاتوں نے ابن زبیر کی اصلیت کو بے نقاب کر دیا اور یہ ظاہر کر دیا کہ خلافت کی امید ، امام حسین علیہ السلام سے بیعت اور مکہ میں امام کے قیام سے مطابقت نہیں رکھتی .
- عبد اللّه بن عمرکی امام سے ملاقات
جب عبداللہ بن عمر کو امام حسین (ع) کے کوفہ جانے کی اطلاع ملی تو وہ امام کے پاس آیا اور کہا :ان گمراہوں کے ساتھ کوئی سمجھوتا کرلیں اور جنگ اور مارے جانے سے بچیں .
امام علیہ السلام نے جواب دیا: کیا آپ نہیں جانتے کہ خدا کے نزدیک دنیا کی بے حرمتی کی ایک مثال یہ ہے کہ سر یحیی ابن زکریا کو بنی اسرائیل کی ایک شریر عورت کے تحفے کے طور پر بھیجا گیا تھا؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ بنی اسرائیل نے فجر سے شام تک خدا کے ستر انبیا کو قتل کیا اور پھر بازاروں میں بیٹھ کر ایسا کاروبار کیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی غلط کام ہوا ہے؟ خدا نے ان کی سزا میں جلدی نہیں کی اور وقت کے ساتھ ان سے بدلہ لیا۔ اے ابا عبد الرحمٰن! “خدا سے ڈرو اور میری مدد سے منہ مت موڑو[20]۔
جالب یہ ہے کہ اسی عبداللہ نے عبد الملک مروان کے نمائندے حَجّاج کی بیعت کر لی تھی۔ لیکن اس نے امام کی بیعت کرنے سے انکار کردیا۔
لہذا اپنی موت کے وقت کہتا تھا : مجھے دنیا میں کسی بھی چیز کا افسوس نہیں ہے ، سوائے اسکے کہ میں نے باغی گروہ (معاویہ اور اہل شام) سے جنگ نہیں کی اور اس معاملے میں علی کی مدد نہیں کی[21] ۔
جب عبداللہ کو امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا علم ہوا تو انہوں نے یزید کو اسی موضوع کے ساتھ ایک خط لکھا: “یہ ایک بہت بڑا اور عظیم حادثہ ہے اور اسلام میں اس سے بڑا کوئی واقعہ نہیں ۔ “یوم حسین کی طرح کوئی دن نہیں ہے۔”
یزید نے جواب میں لکھا: “اے احمق! اگر ہم حق پر ہیں ، تو ہم نے اپنے حق کا دفاع کیا ہے ، اور اگر ہم حق پر نہیں ہیں تو ، سب سے پہلے اسکی بنیاد آپ کے والد نے رکھی تھی[22] ۔
- عبد اللّه بن عباس کی امام سے ملاقات
جب امام کا مکہ سے عراق جانا حتمی ہوا تو عبد اللہ بن عباس ، امام حسین علیہ السلام کی ملاقات کیلئے آئے اورامام کو مکہ میں رہنے کی قسم دی ۔ اور اہل کوفہ کی ملامت کی اور امام سے کہا: آپ ان لوگوں کے پاس جارہے ہیں جنہوں نے آپ کے والد کو شھید کیا اور آپ کے بھائی کو زخمی کیا ، اور وہ آپ کے ساتھ بھی یقینا اسی طرح کا سلوک کریں گے.
امام نے ابن عباس کو جواب دیا: یا ابْنَ عَمّ ا ِنِّی وَاللَّهِ لَاَعْلَمُ اَنَّک ناصِحٌ مُشْفِقٌ وَلکنِّی اَزْمَعْتُ وَاَجْمَعْتُ عَلَی الْمَسِیرِ[23]؛ اے چچا کے بیٹے خدا کی قسم میں جانتا ہوں کہ آپ کی نصیحت میں خلوص ہے لیکن میں عراق جانے کا مصمم ارادہ کر چکا ہوں ۔
مختلف ذرائع سے امام حسین علیہ السلام کے مختلف جوابات نقل ہوئے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں :
- یہ وہ خطوط ہیں جو اہل کوفہ نے مجھے بھیجے ہیں ، اور یہ مسلم ابن عقیل کا خط ہے کہ اہل کوفہ نے میری بیعت کی ہے[24] ۔
- خدا کے رسول نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں خروج کروں اور میں (خروج) کروں گا[25] ۔
- مکہ سے باہر قتل کیا جاؤں یہ بہتر ہے اس سے کہ مکہ میں مارا جاؤں[26] ۔
ابن عباس نے مشورہ دیا کہ یمن چلے جائیں ، یمن میں مضبوط قلعے ہیں اور آپ کے بابا کے شیعہ بھی ہیں[27] ۔
لیکن امام حسین علیہ السلام اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے۔
ابن عباس نے کہا: اگر آپ کا فیصلہ حتمی ہے تو ، اپنے اہل بیت اور بچوں کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں ۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ آپ کو قتل کردیں گے اور بچے اور خواتین دیکھتے رہ جائیں گے ۔ لیکن امام علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا کی رضا اسی میں ہے کہ میں اھل بیت کو ساتھ لے جاؤں.
جب اس نے دیکھا کہ امام نے اس کی تجویز قبول نہیں کی تو مایوس ہو کے کہتا ہے : آپ نے ابن زبیر کی آنکھیں روشن کر دی ہیں کہ آپ خود ہی مکہ چھوڑ کر حجاز کو ابن زبیر کے حوالے کر رہے ہیں حالانکہ ابن زبیر وہ شخص ہے کہ آپ کی موجودگی میں اسکی کوئی پرواہ نہیں کرتا پناہ[28] .
- 4. یحیی بن سعید کی ایک گروہ کے ساتھ امام سے ملاقات
عمرو بن سعید بن العاص نے اپنے بھائی یحیی بن سعید کو ایک گروہ کے ساتھ بھیجا تاکہ امام حسین علیہ السلام کو عراق جانے سے روکے۔ لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکے ، اور یہاں تک کہ بات جھگڑے تک جا پہنچی لیکن درمیان میں حضرت کے اصحاب آ گئے .
اس گروہ نے کہا: اے حسین! کیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرتے اور جماعت کو چھوڑ کر امت کو الگ کرنا چاہتے ہو ؟
امام نے ان کے جواب میں اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: لِی عَمَلِی وَ لَکمْ عَمَلُکمْ أَنتُم بَرِیونَ مِمَّآ أَعْمَلُ وَ أَنَا بَرِی ءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ[29]
“میرا عمل میرے لئے ہے اور آپ کا عمل آپکے لئے ہے آپ میرے اعمال سے بری ہو اور میں آپ کے اعمال سے بری ہوں ۔
- یزید کے طرفداروں کے ایک گروہ کی امام سے ملاقات
ایک اور گروہ امام علیہ السلام کو عراق جانے سے روکنے آیا اور در حقیقت یہ بنی امیہ کے خفیہ ایجنٹ تھے اور انہوں نے بڑے سخت الفاظ میں امام کو عراق جانے سے روکا کہ جس کا ذکر کچھ یوں ملتا ہے
- ابو سعید خدری نے امام حسین علیه السلام سے کہا : اِتَّقِ اللَّهَ فِی نَفْسِک وَاَلْزِمْ بَیتَک فَلا تَخْرُجُ عَلی اِمامِک[30] ۔ خدا سے ڈرو اور صرف گھرداری تک محدود رہو اوراپنے قائد سے بغاوت نہ کرو
- عمرہ بنت عبد الرحمٰن بن سعد بن زرارہ انصاری نے بھی امام حسین علیہ السلام سے ملاقات کی اور کہا : جماعت کی اطاعت کریں اور اپنی مقتل گاہ کی طرف مت جائیں[31] ۔
ج: مکہ سے کربلا تک کے سفر میں امام حسین علیہ السّلام کی ملاقاتیں
1۔ شاعر فرزدق کے ساتھ ملاقات
مکہ سے کربلا کے راستے میں «صفاح» کے مقام پر عرب کے معروف شاعر فرزدق ابن غالب بن صعصعہ نے امام حسین علیہ السّلام سے ملاقات کی اور عرض کیا: جو کچھ آپ اللہ سے چاہتے ہیں، وہ تمہیں عطا کرے.
امام حسین علیہ السّلام نے فرمایا: مجھے اہل عراق کی صورتحال کے بارے میں بتا! عرض کیا: آپ نے ایک باخبر شخص سے سوال کیا ہے. «قلوب الناس معك، وسيوفهم مع بني أمية» لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور ان کی تلواریں بنی امیہ کے ساتھ ہیں.
امام حسین علیہ السّلام نے فرمایا:
اِنَّ النّاسَ عَبيدُ الدُّنْيا وَ الدِّينُ لَعْقٌ عَلى اَلْسِنَتِهِمْ يَحوطونَهُ ما دَرَّتْمَعائِشُهُمْ فَاِذا مُحِّصوا بِالْبَلاءِ قَلَّ الدَّيّانونَ[32]
تمہارے سچے ہونے پر مجھے کوئی شک نہیں ہے، لوگ دنیا کے غلام ہیں دین فقط لوگوں کی زبان پر جاری ہے، لوگ اس وقت تک دین کی بات کرتے ہیں جب تک (دین کے ذریعے) ان کی معیشت کا پہیہ چلتا ہے، اور سخت حالات میں دین پر ثابت قدم رہنے والے لوگ (حقیقی دیندار) بہت کم ہیں.
2 ۔ عبد اللہ بن جعفر کے ساتھ ملاقات
عبداللہ بن جعفر حاکم مکہ عمر بن سعید کے پاس گئے اور امام حسین علیہ السّلام کے لئے امان نامہ لکھوایا، اس خط کو ایک اور خط کے ساتھ عمر بن سعید کے بھائی (یحییٰ بن سعید) کے ہاتھوں امام ع کی خدمت میں بھیجا.
عبداللہ بن جعفر نے خود بھی «ذات عرق» کے مقام پر امام حسین علیہ السّلام سے ملاقات کی اور وہ امان نامہ امام ع کی خدمت میں پیش کیا.
امان نامہ میں تحریر تھا کہ آپ امت کے درمیان انتشار پیدا کرنا چھرڑ دیں تو میں یزید سے آپ کے لئے بیعت طلب کرتا ہوں.
امام ع نے اس کے جواب میں لکھا: جو شخص خدا اور اعمال صالح کی طرف دعوت دے رہا ہو، اس کی یہ دعوت انتشار پھیلانے کے لیے نہیں ہے! اور بہترین تحفظ خدا کا تحفظ ہے[33] .
امام حسین علیہ السّلام نے مکہ واپس آنے سے انکار کردیا اور فرمایا: میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو دیکھا اور انہوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اپنے مشن کو جاری رکھوں . اور جس کام رسولِ خدا ص نے مجھے حکم دیا ہے میں اسی کو انجام دوں گا.
پھر امام علیہ السّلام نے عمر بن سعید کے خط کا جواب لکھا اور عبداللہ بن جعفر اور یحییٰ بن سعید امام ع سے جدا ہو گئے؛ لیکن عبداللہ کے دو بیٹے عون و محمد، امام ع کے پاس رہے، عبداللہ نے انہیں ہمیشہ امام ع کا ساتھ دینے کی نصیحت کی لیکن خود معذرت کر کے واپس مکہ چلے گئے[34]
3۔ بشر بن غالب کے ساتھ ملاقات
امام حسین علیہ السّلام 14 ذی الحج، بروز سوموار «ذات عرق» کے مقام پر پہنچے. اور قبیلہ بنی اسد کے ایک بشر بن غالب نامی شخص سے ملاقات کی، اور اس سے کوفہ کے لوگوں کی صورتحال دریافت کی. اس نے بھی وہی جواب دیا جو شاعر فرزدق نے دیا تھا: یعنی ان کے دل آپ ساتھ اور تلواریں بنو امیہ کے ساتھ ہیں. امام ع نے فرمایا: اے اسدی برادر تم نے درست کہا ہے.
بشر بن غالب نے امام ع سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا:
یَومَ نَدعُوا كُلَّ أُنَاسِ بإِمَامِهِم[35]؛ اس دن یر شخص کو اپنے امام کے ساتھ بلایا جائے گا.
امام ع نے فرمایا: هُمْ اِمامانِ: اِمامُ هُدیً دعا اِلی هُدیً وَاِمامُ ضَلالَةٍ دَعا اِلی ضَلالَةٍ، فهدی مَنْ اَجابَهُ الی الجنَّةِ، وَمَنْ اَجابَهُ اِلَی النّارِ؛
امام دو قسم کے ہیں: ایک امام ہدایت کہ جو لوگوں کو ہدایت کی طرف بلاتا ہے، دوسرا گمراہی کا امام کہ جو لوگوں کو گمراہی کی طرف دعوت دیتا ہے، جو شخص امام ہدایت کی پیروی کرے گا جنت میں جائے گا اور جو شخص گمراہی کی طرف لے جانے والے امام کی پیروی کرے گا اسے جہنم میں داخل کیا جائے گا.
بشر بن غالب نے امام ع کی ہمراہی نہ کی. بعد میں اسے امام حسین علیہ السّلام کی قبر پر گریہ و زاری کرتے ہوئے دیکھا گیا اور وہ اس بات پر کہ اس نے امام ع کی مدد نہیں کی، بہت پشیمان تھا. [36]
4۔ ابو ہرہ کے ساتھ ملاقات
ثعلبیہ کے علاقے میں ابو ہرہ ازدی نامی ایک شخص نے امام حسین علیہ السّلام سے ملاقات کی اور امام ع سے اس سفر کی وجہ پوچھی. امام نے اس کے جواب میں فرمایا:
امویوں نے ہمارے مال پر قبضہ کیا، لیکن میں نے صبر کیا، (میرے بابا علی ع کو) انہوں نے گالیاں دیں، میں نے برداشت کیا، اب میرے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں تو میں وہاں سے چلا آیا. اے ہرہ! جان لے کہ میں ایک سرکش گروہ کے ہاتھوں شہید ہو جاؤں گا اور خدا ان کے جسموں پر ذلت کا لباس پہنائے گا، اور خدا ایک شمشیر بردار شخص کو ان پر حاکم مقرر کرے گا تاکہ ان کو ذلیل وخوار کرے[37]
5۔ زہیر بن قین کے ساتھ ملاقات
21 ذی الحجہ کو امام حسین علیہ السّلام «زرود» کے علاقے میں پہنچے. امام حسین علیہ السّلام کی قیام گاہ کے قریب زہیر بن قین بجلی نے اپنا خیمہ نصب کیا ہوا تھا جو کہ اپنے خانوادہ اور کچھ دوست و احباب کے ساتھ حج کر کے کوفہ کی طرف پلٹ رہے تھے. وہ ایک عثمانی شخص تھا (یعنی خلیفہ سوم کا معتقد تھا) اور امام ع کے خاندان کو اچھا نہیں سمجھتا تھا. امام ع نے ایک شخص کو اس کے ہاں بھیجا لیکن وہ امام ع سے ملاقات کرنے پر راضی نہیں تھا.
اس کی بیوی دیلم یا دلہم جو کہ عمر کی بیٹی تھی، نے کہا: سبحان اللہ، فرزند پیغمبر ﷺ تجھے بلا رہے ہیں اور تجھے بلانے کے لیے کسی کو تیرے پاس بھیج رہے ہیں اور تو جانے سے انکار کر رہا ہے!
زہیر اپنی جگہ سے اٹھا اور امام ع کی طرف گیا لیکن تھوڑی ہی دیر بعد واپس آ گیا، (وہ اس حال میں تھا کہ) اس کا چہرہ چمک دمک رہا تھا اور وہ خوش تھا اور وہ اچانک تبدیل ہو چکا تھا. اس نے اپنی بیوی کا حق مہر ادا کر کے اس کے بھائی کے ساتھ بھیج دیا اور کہا:
اِنِّی قَدْ وَطَّنْتُ نَفْسِی عَلَی الْمَوْتِ مَعَ الْحُسَین میں نے اپنے آپ کو امام حسین علیہ السّلام کے ساتھ شہید ہونے کے لئے آمادہ کر لیا ہے.
اور اپنے ساتھیوں سے کہا: تم میں سے جو چاہے میرے ساتھ آ جائے ورنہ آج یہ ہماری آخری ملاقات ہوگی اور پھر ایک حدیث نقل کی کہ جب ہم «بلنجر» کے مقام پر جنگ کر رہے تھے (بلنجر دریا خزر کے قریب واقع ایک شہر کا نام ہے) اللّٰہ تعالٰی نے ہمیں فتح عطا فرمائی اور بہت سارا مال غنیمت ہمارے ہاتھ میں آیا، سلمان فارسی نے ہم سے کہا: اِذا اَدْرَکتُمْ سَید شَبابِ آلِ مُحَمَّدٍ فَکونُوا اَشَدُّ فَرَحاً بِقِتالِکمْ مِمَّا اَصَبْتُمُ الْیوْمَ مِنَ الْغَنائِمِ
جب آل محمد ص کے جوانوں کے سردار (امام حسین) کی خدمت میں حاضر ہو تو ان کے ہمراہ جنگ کرنے (اور ان کی مدد و نصرت کرنے) میں آج کے دن ان اموال غنیمت کے حصول کی خوشی سے زیادہ خوشی محسوس کرنا [38]
6 ۔ مرد نصرانی کے ساتھ ملاقات
مقتل کی کچھ کتابوں میں نقل ہوا ہے کہ جب امام حسین علیہ السّلام «ثعلبیہ» کے مقام پر پہنچے تو ایک نصرانی شخص اپنی والدہ کے ساتھ امام ع کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کیا اور امام ع کے ساتھ کربلا کی طرف روانہ ہوا[39]
یہ شخص شاید وہی وہب ہے کہ مقتل کی بعض کتابوں میں جس کا ذکر ہوا ہے.
7۔ حر بن یزید ریاحی کے ساتھ ملاقات
امام حسین علیہ السّلام 27 ذی الحج بروز اتوار مقام «ذوحسم» پر پہنچے. اسی دن حر بن یزید ریاحی بھی ایک ہزار افراد لشکر لے کر امام ع کے راستے پر پہنچ گیا، حر کے سپاہی پیاسے تھے؛ امام علیہ السلام نے اس کے مدنظر حر کر لشکر اور ان کی گھوڑوں کو پانی پلانے کا حکم دیا، اور امام ع نے خود بھی اس کام میں حصہ لیا اور بعض افراد جیسے علی ابن طعان وغیرہ کو بھی اور ان کے گھوڑوں کو بھی پانی پلایا.
ظہر کے وقت امام ع نے ایک مختصر خطبہ دیا اور فرمایا: میں اگر تمہاری طرف ایا ہوں تو تمہارے بھیجے گئے خطوط جو مجھے ملے ہیں، اور تمہارے بھیجے گئے پیامبران جو میرے پاس آئے ہیں، جس میں تم نے میرے آنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، کی وجہ سے آیا ہوں. اگر تم اپنے وعدے پر قائم ہو تو میں تہمارے شہر میں آوں گا، اور اگر میرے آنے پر خوش نہیں ہو تو میں واپس لوٹ جاؤں گا. حر نے امام ع کے سامنے خاموشی اختیار کر لی، امام ع نے حجاج بن مسروق کو حکم دیا کہ اذان و اقامت پڑھے؛ پھر حر سے فرمایا: تم اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز پڑھو گے؟ عرض کیا: نہیں، ہم آپ کی اقتدا میں نماز ادا کریں گے. نماز ظہر ختم ہوئی اور ہر کوئی اپنی جگہ پر پلٹ گیا. اس کے بعد امام ع نے دوبارہ کوفیوں کی طرف سے دعوت اور ان کے خطوط کا تذکرہ کیا. حر نے جواب دیا: ہم ان خط لکھنے والوں میں سے نہ تھے اور ہمیں فقط آپ کا راستہ روکنے اور آپ کو عبید اللّہ بن زیاد کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے. خوارزمی کہتا ہے کہ امام ع نے تبسّم کیا اور فرمایا:
اَلْمَوْتُ اَدْنی اِلَیک مِنْ ذلِک ؛ اس تجویز کی نسبت موت تمہارے زیادہ قریب ہے[40]۔
پھر امام ع نے اپنے قافلے کے ساتھ واپسی کا ارادہ کیا؛ لیکن حر اور اس کے لشکر نے رکاوٹ ڈالی، تو امام ع نے فرمایا: تیری ماں تیرے غم میں روئے! تو کیا چاہتا ہے؟ حر نے کہا: اگر آپ کے علاوہ کوئی اور ایسا کہتا، تو میں اسے کبھی معاف نہیں کرتا؛ لیکن خدا کی قسم آپ کی ماں کا نام سوائے اس کی اچھائی بیان کرنے کے، نہیں لے سکتا.
پھر کہا: مجھے جنگ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا؛ لیکن اس بات پر مأمور ہوں کہ جب تک آپ کو کوفے نہ لے جاؤں آپ سے جدا نہ ہوں؛ اگر آپ کوفہ آنے سے انکار کرتے ہو تو تو پھر ایسا راستہ اختیار کرو کہ جو نہ کوفہ کو جائے اور نہ ہی مدینہ کو تاکہ اتنے میں ابن زیاد کا حکم نامہ پہنچ جائے. اور آپ بھی یزید کے نام خط لکھیں ہو سکتا معاملہ صلح و عافیت پر ختم ہو جائے، اور میرے خیال کے مطابق بھی صلح کا راستہ آپ سے جنگ کرنے سے بہتر ہے.
ذوحسم کے مقام پر دیے گئے خطبے میں امام ع نے ایک فرمایا:
اَنَّهُ قَدْ نَزَلَ مِنَ الْاَمْرِ ما قَدْ تَرَوْنَ… اَلا تَرَوْنَ اَنَّ الْحَقَّ لا یعْمَلُ بِهِ وَاَنَّ الْباطِلَ لا یتَناهی عَنْهُ لِیرْغَبَ الْمُؤْمِنُ فِی لِقاءِ اللَّهِ مُحِقّاً فَاِنِّی لا اَرَی الْمَوْتَ اِلَّا شَهادَةً وَلَا الْحَیاةَ مَعَ الظَّالِمِینَ اِلَّا بَرَماً
تم جو کچھ واقع ہونے والا ہے اسی کو دیکھ رہے ہو لیکن تم یہ نہیں دیکھ رہے کہ حق پر عمل نہیں ہو رہا اور باطل کو ترک نہیں کیا جا رہا؟
مومن کو چاہیے کہ وہ لقاء الہی کی طرف رغبت پیدا کرے، میری نگاہ میں موت، شہادت کے سوا کچھ نہیں، اور میں ستم گران کے ساتھ رہنے کو ذلت کے سوا کچھ نہیں سمجھتا.
حر نے امام ع کو قتل ہو جانے سے ڈرایا، امام ع نے فرمایا: اَفَبِالْمَوْتِ تُخَوِّفُنِی؟ هَیهات طاشَ سَهْمُک وَخابَ ظَنُّک؛ تو مجھے موت سے ڈراتا ہے! ایسا بالکل نہیں ہے، تیرا تیرخطا ہو گیا ہے اور تیرا اندازہ غلط نکلا ہے.
اس وقت امام ع نے شہادت کی فضیلت میں اشعار پڑھے ان میں سے ایک یہ ہے:
سَاَمْضِی وَما بِالْمَوْتِ عارٌ عَلَی الْفَتی اِذا ما نَوی حَقّاً وَجاهَدَ مُسْلِماً
میں دنیا سے چلا جاؤں گا اور جوان کے لئے موت کوئی ننگ و عار نہیں، لیکن شرط یہ ہے خدا کی راہ میں اس کی خوشنودی کے لئے موت واقع ہو اور خلوص سے جہاد کرے.
البیضہ کے مقام پر بھی امام ع نے حر اور اس کے لشکر سے خطاب کیا اور فرمایا:
اَیهَا النَّاسُ اِنَّ رَسُولَ اللَّه قالَ مَنْ رَای سُلْطاناً جائِراً مُسْتَحِلّاً لِحَرامِ اللَّهِ ناکثاً عَهْدَهُ مُخالِفاً لِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ یعْمَلُ فِی عِبادِ اللَّهِ بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوانِ فَلَمْ یغَیرْ عَلَیهِ بِفِعْلٍ وَلا قَوْلٍ کانَ حَقّاً عَلَی اللَّهِ اَنْ یدْخِلَهُ مُدْخَلَهُ؛
اے لوگو! رسولِ خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: جو شخص ایسے حاکم کو دیکھے کہ جو خدا کی حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دے، وعدہ الہی کو توڑے، سنت رسول ص کی مخالفت کرے اور خدا کے بندوں پر ظلم روا رکھے؛ اور وہ شخص زبانی یا عملی طور اس کی مخالف کھڑا نہ ہو تو خدا کو حق حاصل ہے کہ اسے جہنم میں داخل کرے.
8۔ چار سواروں سے ملاقات
28 ذی الحج کو چار سوار، نافع بن ہلال، مجمع بن عبداللہ، عمر بن خالد اور طرماح کے خطوط لے کر امام ع کے پاس پہنچے. حر نے کہا: یہ کوفہ کے چند لوگ ہیں میں نے انہیں گرفتار کرون گا یا واپس کوفہ بھیج دوں گا.
امام حسین علیہ السّلام نے فرمایا: میں تجھے ہرگز ایسا کرنے کی اجازت نہیں دوں گا اور ان کی حفاظت کروں گا؛ کیونکہ یہ میرے حامی ہیں، اور (میرے لئے) انہی صحابہ کی مانند ہیں جو مدینہ سے میرے ساتھ آئے ہیں؛ اگر تو میرے ساتھ کئے گئے عہد و پیمان پر باقی ہے تو انہیں رہا کر دے؛ ورنہ میں تم سے جنگ کروں گا. حر نے ان کو گرفتار کرنے سے صرف نظر کیا.
امام حسین علیہ السّلام نے ان سے پوچھا کہ کوفہ سے کیا خبر لائے ہو؟ مجمع بن عبداللہ نے کہا: انہوں (بنی امیہ) نے کوفہ کے رئیسوں کو بے حد رشوت دی ہے اور ان کی دولت کی پیاسی آنکھوں کو مال دنیا سے پر کر دیا ہے تا کہ ان کے دل بنی امیہ کے لئے نرم ہو جائیں اور یہ کہ زبان و دل کے ساتھ آپ سے دشمنی کریں؛ بہر حال تمام لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں لیکن کل ان کی تلواریں آپ کے خلاف بلند ہوں گی.
امام ع اسی مقام پر قیس بن مسہر صیداوی کی شہادت سے باخبر ہوئے اور ان کی آنکھوں سے اشک جاری ہوئے اور اس آیت کی تلاوت کی؛
فَمِنهُم مَّن قَضَىٰ نَحبَهُ [41] (اور مومنین میں سے) بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا»
اور پھر فرمایا: اَللَّهُمَّ اجْعَلْ لَنا وَلِشِیعَتِنا مَنْزِلاً کرِیماً عِنْدَک وَاَجْمَعْ بَینَنا وَاِیاهُمْ فِی مُسْتَقَرِّ رَحْمَتِک؛ اے اللہ ہمارے لئے اور ہمارے پیروکاروں کے لئے اپنے قرب میں مقام کریم قرار دے اور ہمیں اور ان کو اپنی رحمت کے مقام پر جمع فرما.
9۔ عبید اللہ ابن حر
قصر بنی مقاتل کے مقام پر امام حسین علیہ السّلام نے حجاج بن مسروق کو عبیداللہ بن حر جعفی کے پاس بھیجا.
عبیداللہ نے پوچھا: اے حجاج بن مسروق کیا پیغام لائے ہو؟ کہا: ایک تحفے اور شرف و عزت کو قبول کر! حسین بن علی علیہما السّلام نے تجھے اپنی مدد و نصرت کے لئے بلایا ہے. اگر تو ان کی مدد کرے گا تو اجر پائے گا اور اگر (ان کی نصرت میں جنگ کرتے ہوئے) قتل ہو گیا تو شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگا.
عبیداللہ نے کہا: خدا کی قسم! میں اس وقت تک کوفہ سے باہر نہیں آیا مگر جب میں نے کثیر تعداد میں افراد کو کوفہ سے آتے ہوئے دیکھا ہے جو امام حسین علیہ السّلام کے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کے شیعوں کو ان کی نصرت سے باز رکھے ہوئے ہیں، تو میں سمجھ گیا کہ حسین ع قتل ہو جائیں گے. چونکہ میں ان کی حمایت کی قدرت نہیں رکھتا اسی وجہ سے میں چاہتا ہوں کہ نہ وہ مجھے دیکھیں اور نہ میں ان کو دیکھوں.
حجاج واپس امام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عبیداللہ بن حر کا جواب امام ع کے گوش گزار کیا.
امام ع کچھ اصحاب کو ساتھ لئے عبیداللہ بن حر کے خیمے میں گئے امام ع صدر محفل کی جگہ پر تشریف فرما ہوئے جو جگہ عبیداللہ کے لئے بنائی گئی تھی.
عبیداللہ بن حر کہتا ہے: میں نے پوری زندگی میں امام حسین علیہ السّلام جیسا شخص نہیں دیکھا. جب وہ میرے خیمے کی طرف آ رہے تھے اور میں نے انہیں دیکھا، وہ ایسا پرکشش و پر کیف منظر تھا کہ وہ کشش و جذابیت کسی اور چیز میں نہیں تھی اور اس وقت مجھ پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ آج تک کسی اور کے بارے میں میرے دل ایسی رقت پیدا نہیں ہوئی، وہ لمحہ کہ جب میں نے دیکھا امام ع پیدل چل رہے تھے اور اور بچے اور جوان ان کے گرد ایسے چکر لگا رہے تھے جیسے پروانے شمع کے گرد چکر لگاتے ہیں، ان کی ریش مبارک کو دیکھا تو کوے کے پروں کی طرح سیاہ تھی. میں نے عرض کیا: آیا آپ کی ڈاڑھی کے بالوں کی سیاہی اصلی ہے یا خضاب لگایا ہوا ہے؟ تو امام ع نے فرمایا: «اے فرزند حر! اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں» تو میں سمجھ گیا کہ خضاب لگایا ہوا ہے.
اس وقت امام ع نے فرمایا: «اے فرزند حر! تمہارے شہر کے لوگوں نے مجھے خط لکھے تھے کہ میری مدد کے لئے باہم مربوط ہیں اور خواہش کی کہ میں ان کے پاس آؤں؛ لیکن انہوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا. اور تیرے ذمے بھی کافی گناہ ہیں[42].
کیا تو اپنے ان برے اعمال کو توبہ کے ذریعے مٹانا نہیں چاہتا؟»
عبیداللہ نے کہا: «اے فرزند رسول ص ان تمام گناہوں کا کفارہ کس طرح ممکن ہے!» امام ع نے فرمایا: «اپنے پیغمبر ص کی بیٹی کے فرزند کی نصرت کرو!»
عبیدالله نے کہا: خدا کی قسم! میں جانتا ہوں جو آپ کی اتباع کرے گا وہ قیامت کے دن خوش نصیب ہو گا؛ لیکن دشمن کے خلاف جنگ میں میری مدد آپ کے لئے کافی نہیں ہے اور کوفہ میں آپ کا کوئی مددگار نہیں ہے اور میں بھی آپ کی مدد نہیں کرتا؛ کیونکہ میرا دل، مرنے کے لئے راضی نہیں ہے[43]؛
لیکن اپنا گھوڑا جس کا نام «ملحقہ» ہے اور اپنی تلوار آپ کو دوں گا.
امام ع نے فرمایا: ما جِئْناک لِفَرَسِک وَسَیفِک اِنَّما اَتَیناک لِنَسْأَلَک النُّصَرَةَ؛ ہم تیرے گھوڑے اور تیری تلوار لینے کے لئے تیرے پاس نہیں آئے، ہم تو مدد طلب کرنے کے لئے «تجھے کامیابی اور خوشبختی کی راہ دکھانے» تیرے پاس آئے ہیں.
پھر فرمایا: اگر ایسے ہی ہے کہ تو ہماری مدد نہیں کرے گا تو ہمیں تیرے گھوڑے اور تلوار کی بھی ضرورت نہیں ہے اور ہم گمراہوں سے «اس طرح کی» مدد نہیں مانگتے؛ لیکن تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اگر ممکن ہو تو کسی ایسی جگہ پر چلے جاؤ جہاں پر میرے استغاثے کی آواز نہ سن سکو اور ہماری جنگ نہ دیکھ سکو. میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے سنا ہے: مَنْ سَمِعَ واعِیةَ اَهْلَ بَیتِی وَلَمْ ینْصُرْهُمْ عَلی حَقِّهِمْ اَکبَّهُ اللَّهُ عَلی وَجْهِهِ فِی النَّارِ؛ جو شخص میرے اہلبیت ع کی فریاد سنے اور اپنا حق حاصل کرنے میں ان کی مدد نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ اسے منہ کے بل آتش جہنم میں پھینکے گا.
اس کے بعد عبیداللہ بن حر نے امام حسین علیہ السّلام کی مدد نہ کرنے پر پشیمانی کا اظہار کرتے ہوئے اشعار پڑھے
10 عمر بن قیس کے ساتھ ملاقات
عمر بن قیس مشرقی اپنے ایک چچا زاد بھائی کے ساتھ «قصر بنی مقاتل» کے مقام پر امام حسین علیہ السّلام سے آ ملا. سلام کے بعد امام ع سے پوچھا: آپ کی ریش مبارک کی یہ جو سیاہی میں دیکھ رہا ہوں، یہ خضاب کا رنگ ہے یا آپ کے بالوں کا رنگ ہے؟.
امام ع نے فرمایا: یہ خضاب کا رنگ ہے، بنی ہاشم کے بال جلدی سفید ہو جاتے ہیں. اس وقت امام ع نے اس سے پوچھا: کیا تو میری مدد و نصرت کے لئے آیا ہے؟.
عمر نے کہا: میں عیال دار آدمی ہوں اور بہت سے لوگوں کا مال میرے پاس «امانت» ہے اور میں نہیں معلوم کہ یہ کام کہاں پہ ختم ہو گا، اور میں نہیں چاہتا کہ لوگوں کی امانتیں ضایع ہو جائیں. اس کے چچا زاد بھائی نے بھی یہی جواب دیا. امام ع نے فرمایا: تو تم یہاں سے چلے جاؤ کیونکہ جو بھی ہمارا «اہلبیت رسول ﷺ» استغاثہ سنے یا ہمیں «مظلومیت» کے عالم میں دیکھے اور ہماری فریاد پر لبیک نہ کہے اور «ہمارے حق میں» قیام نہ کرے. خدا نے اپنے لئے لازم قرار دیا ہے کہ اسے منہ کے بل آتش جہنم میں پھینکے.
11 عمر بن سعد کے ساتھ ملاقات
امام حسین علیہ السّلام نے عمر بن قرظہ نامی ایک شخص کو عمر بن سعد کے ہاں بھیجا اور اس سے رات کے وقت دونوں فوجوں کے درمیان ملاقات کی درخواست کی، عمر بن سعد نے یہ بات مان لی. رات کے وقت امام ع اپنے بیس اصحاب کے ساتھ اور عمر بن سعد اپنے اپنے بیس سپاہیوں کے ساتھ، مقرر مقام پر پہنچے. امام حسین علیہ السّلام نے اپنے اصحاب کو واپس پلٹنے کا حکم دیا اور فقط اپنے بھائی عباس ع اور بیٹے علی اکبر ع کو اپنے ساتھ رکھا. عمر بن سعد نے بھی اپنے بیٹے حفص اور اپنے غلام کے علاوہ باقی ساتھیوں کو واپس جانے کا حکم دیا.
گفتگو کے شروع میں امام حسین علیہ السّلام نے فرمایا: اے فرزند سعد: کیا تو مجھ سے جنگ کرے گا اور اس خدا سے نہیں ڈرتا جس کے ہاں تجھے پلٹ کر جانا ہے؟ میں کس کا بیٹا ہوں یہ تو بہتر جانتا ہے. آیا تو اس گروہ کو ترک نہیں کرنا چاہتا؟ تاکہ ہمارے ساتھ مل جائے، اور اس کے سبب قرب الہٰی حاصل کر لے. عمر بن سعد نے کہا: اگر میں اس گروہ کو چھوڑتا ہوں تو مجھے ڈر ہے کہ وہ میرے گھر کو ویران کر دیں گے!
امام علیہ السلام نے فرمایا: میں تیرا گھر دوبارہ بناؤں گا.
عمر نے کہا: مجھے خوف ہے کہ میری جائیداد مجھ سے چھین لیں گے!
امام نے فرمایا: سر زمین حجاز پرمیرے میں جو اموال ہیں ان سے بہتر مال تجھے دوں گا. اور ایک اور روایت کے مطابق،
امام نے فرمایا: میں «بغینجہ» تجھے دوں گا. یہ امام ع کا ایک بہت بڑا کھیت تھا جس میں بہت سے کھجوروں کے درخت اور بہت سی فصلیں تھیں. معاویہ اسے دس لاکھ دینار کے عوض خریدنے کے لئے تیار تھا لیکن امام ع نے نہیں بیجا.
عمر بن سعد نے کہا: میں کوفہ میں موجود اپنے خاندان کے افراد کی جانوں کے بارے ابن زیاد کے غصے سے خوفزدہ ہوں. اور ڈرتا ہوں کہ کہیں انہیں تہہ تیغ نہ کر دے.
جب امام حسین علیہ السّلام نے دیکھا کہ عمر بن سعد اپنے ارادے سے باز نہیں آئے گا، اپنی جگہ سے اٹھے اور فرمایا:
(تجھے معلوم ہے) تیرے ساتھ کیا ہوگا! جلد ہی خدا تجھے موت دے گا، اور قیامت کے دن تیری مغفرت نہیں کرے گا، خدا کی قسم! میں جانتا ہوں کہ عراق سے بھی تھوڑی سی مقدار میں گندم کے علاو تو کچھ نہیں کھا سکے گا (یہ جملہ کنایہ کے طور پر استعمال ہوا ہے امام اسے بتانا یہ چاہتے ہیں کہ عراق کی سر زمین سے تجھ زیادہ مال و متاع نہیں ملے گا)۔
عمر بن سعد نے مسخرہ کرتے ہوئے کہا: (گندم بھی نہ ملے) میرے لئے جو ہی کافی ہے)
بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ امام حسین علیہ السّلام نے عمر بن سعد کو فرمایا:
تو مجھے شہید کرے گا اور سوچ رہا ہے کہ عبیداللہ بن زیاد تجھے شہر «ری» اور «گرگان» کی حکومت دے گا! خدا کی قسم وہ کبھی تجھے نصیب نہیں ہو گی اور یہ وہ وعدہ ہے جو میرے ساتھ کیا گیا ہے اور تو ہرگز اپنی اس دیرینہ خواہش تک نہیں پہنچ سکے گا! جو کام انجام دے سکتا ہے انجام دے لے تو مجھے شہید کرنے کے بعد دنیا و آخرت میں تو کوئی خوشی نہیں دیکھ پائے. اور میں دیکھ رہا ہوں کہ تیرے سر کو نیزے پر اٹھا کے کوفہ میں پھرایا جا رہا ہے اور بچے تیرے سر کا نشانہ لے کر اس کی طرف پتھر پھینک رہے ہیں[44].
[1] ر.ک: تاریخ یعقوبی، احمد بن ابی یعقوب، بیروت، دار صادر، ج 2، ص 241؛ نفس المهموم، شیخ عباس قمی، قم، بصیرتی، ص 66؛ انساب الاشراف، بلاذری، بیروت، دار التعارف، ج 3، ص 155.
2) ر.ک: مثیر الاحزان، ابن نما حلّی، قم، مؤسسه امام مهدی، ص 24.
[2] کامل ابن اثیر، بیروت، دار صادر، ج 4، ص 14؛ مقتل الحسین، مقرّم، بیروت، دار الکتاب، ص 129.
[3] ر.ک: مناقب ابن شهر آشوب، قم، انتشارات علّامه، ج 4، ص 88؛ ارشاد شیخ مفید، قم، آل البیت،ج 2، ص 33.
[4] سورہ بقرہ 156
[5] احزاب/33.
[6] ر.ک: الفتوح، ابن اعثم، بیروت، دار الندوة، ج 5، ص 24؛ حیاة الامام الحسین، ج 2، ص 256؛ مناقب ابن شهر آشوب، ج 4، ص 88.
[7] مناقب ابن شهرآشوب، ج 4، ص 88.
[8] حنفیة، لقب مادر او است. نام مادرش خوله بود، و پدر بزرگوارش امیر مؤمنان علی علیه السلام است.
[9] ر.ک: ارشاد شیخ مفید، ج 2، ص 34.
[10] ر.ک: بحار الانوار، محمّدباقر مجلسی، بیروت، مؤسسة الوفاء، ج 44، ص 329.
[11] کلام امام علیه السلام اشاره به عبد اللّه بن زبیر دارد که با کشته شدنش، حرمت خامه خدا هتک شد.
[12] ر.ک: لهوف، سید بن طاووس، قم، انتشارات داوری، ص 27.
[13] حوالہ جات
ر.ک: کامل ابن اثیر، ج 4، ص 19. قابل یادآوری است که مورخان دیگر همچون شیخ مفید، زمان به وقوع پیوستن این ملاقات را هنگام آمدن از مکه به سوی عراق می دانند و برخی نیز احتمال داده اند که دو ملاقات با دو نفر متفاوت بوده است؛ هنگام رفتن به مکه با عبد اللّه بن مطیع و هنگام رفتن به عراق با عبد اللّه بن ابی مطیع. (ر.ک: الامام الحسین و اصحابه، فضلعلی قزوینی، قم، باقری، ص 163.)
[14] ر.ک: ارشاد مفید، ج 2، ص 35.
[15] ر.ک: حیاة الحسین علیه السلام، دمیری، قم، منشورات رضی، ج 2، ص 310؛ قصّه کربلا، ص 81 – 82.
[16] قصّه کربلا، ص 157.
[17] کامل الزیارات، ابن قولویه، نجف، مرتضویه، باب 23، ص 72.
[18] ر.ک: نفس المهموم، ص 167؛ قصه کربلا، ص 158.
[19] ر.ک: شرح نهج البلاغه، ابن ابی الحدید، ج 20، ص 134؛ قصه کربلا، ص 158؛ تأمّلی در نهضت عاشورا، رسول جعفریان، نشر مورّخ، قم، 1386، ص 75.
[20] ر.ک: بحار الانوار، ج 44، ص 365؛ قصه کربلا، ص 156؛ امالی شیخ صدوق، مجلس 30، ح 1.
[21] ر.ک: الاستیعاب، ابن عبد البر، قاهره، الفجاله، ج 3، ص 950.
[22] ر.ک: بحار الانوار، ج 45، ص 328.
[23] تاریخ طبری، جریر طبری، بیروت، دار سویدان، ج 5، ص 384.
[24] ر.ک: قصه کربلا، ص 15؛ تجارب الامم، مسکویه رازی، تهران، سروش، ج 2، ص 56.
[25] ر.ک: مقتل الحسین، خوارزمی، قم، دار انوار الهدی، ج 1، ص 192 – 193.
[26] ر.ک: معجم الکبیر، طبرانی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ج 3، ص 128.
[27] ر.ک: البدایة والنهایة، ابن کثیر دمشقی، دار الکتب، 1407 ق، ج 8، ص 160؛ تأمّلی در نهضت عاشورا، ص 75.
[28] تجارب الامم، ص 56؛ قصه کربلا، ص 155.
[29] یونس/41.
[30] ترجمة الامام الحسین من تاریخ دمشق، ابن عساکر، تحقیق علّامه محمودی، بیروت، ص 57.
[31] ر.ک: همان، ص 58.
[32] تحف العقول، ص 245
[33] تأملی در نہضت عاشورا، ص76.
[34] ابصار العین، ص39؛ الامام الحسین و اصحابه، ص64، قصہ کربلا، ص169.
[35] سوره إسراء، آیت71.
[36] ترجمۃ الحسین، ص88؛ مثیر الاحزان، ص42؛ قصہ کربلا، ص170.
[37] الفتوح، ج5، ص123؛ بحار الانوار، ج44، ص368؛ البدایہ والنہایہ، ج8، ص183.
[38] حیاۃ الامام الحسین ع، ج3، ص66؛ الارشاد، ج2، ص73؛ الاستیعاب، ج2، ص632، قصہ کربلا، ص179؛ تأملی در نہضت عاشورا، ص84-85.
[39] الامام الحسین و اصحابه، ص170.
[40] مقتل الحسین، ج1، ص233.
[41] سوره أحزاب، آيت23.
[42] عبید اللّه بن حر در گذشته از هواداران عثمان بود و در جنگ صفین نیز جزء سپاه معاویه بود و بعد از شهادت امیر مؤمنان علیه السلام، ساکن کوفه شد. (وسیلة الدارین، موسوی، بیروت، مؤسسة الاعلمی، ص 67.)
[43] مقایسه بین برخورد زهیر با دعوت امام حسین علیه السلام و برخورد عبید اللّه بن حر که هر دو عثمانی بودند، می رساند که انتخاب سعادت به دست خود انسان است، منتهی همّت مردانه می خواهد
[44] ر.ک: سفینة البحار، ج 2، ص 270؛ قصه کربلا، ص 235 – 236.