آج کی ڈائری :امام حسینؑ ہم سے مزید بھی چاہتے ہیں

آج کی ڈائری :امام حسینؑ ہم سے مزید بھی چاہتے ہیں

جب بھی محرم اور صفر آتے ہیں، تو دل کو اچھا لگتا ہےکہ پاکستان میں بھی۔

کوئی سبیل لگا رہا ہے۔

کوئی نیاز تقسیم کر رہا ہے۔

کوئی موکب سجا رہا ہے۔

کوئی عزاداروں کی خدمت کو اپنی زندگی کی سعادت سمجھ رہا ہے۔

یہ سب دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ اس قوم کے دل میں حسینؑ آج بھی زندہ ہیں۔

اللہ ان تمام ہاتھوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے جو محبتِ اہلِ بیتؑ میں اٹھتے ہیں۔

لیکن کبھی کبھی دل میں ایک اور دعا بھی جنم لیتی ہے۔

کاش…

جس محبت سے ہم ایک سبیل بناتے ہیں، اسی محبت سے ایک طالبِ علم بھی تیار کریں۔

جس اخلاص سے ہم ایک موکب چلاتے ہیں، اسی اخلاص سے ایک لائبریری بھی آباد کریں۔

جس فراخ دلی سے ہم چند دن کے لیے کھانا تقسیم کرتے ہیں، اسی فراخ دلی سے کسی بچے کی دینی تعلیم، کسی نوجوان کی فکری تربیت، کسی محقق کی تحقیق، کسی معلم کی خدمت اور کسی مستند کتاب کی اشاعت میں بھی حصہ ڈالیں۔

کیونکہ شعائرِ حسینی یقیناً ہماری شناخت ہیں…

لیکن علم، معرفت اور تربیت ان شعائر کی روح ہیں۔

اگر شناخت مضبوط ہو اور روح بھی مضبوط ہو، تو آنے والی نسلیں صرف عزادار نہیں رہیں گی؛ وہ امام حسینؑ کو سمجھنے والی نسلیں بنیں گی۔

سوچیے…

اگر ہر بڑے موکب کے ساتھ ایک چھوٹی لائبریری بھی ہو…

اگر ہر امام بارگاہ میں بچوں اور نوجوانوں کے لیے ہفتہ وار درسِ قرآن اور درسِ نہج البلاغہ بھی ہو…

اگر ہر سبیل کے ساتھ ایک مستند کتاب بھی مفت تقسیم ہو…

اگر ہر نذر کے ساتھ ایک طالبِ علم کی سال بھر کی تعلیم کا ذمہ بھی اٹھا لیا جائے…

تو کیا یہ بھی خدمتِ حسینؑ نہیں ہوگی؟

شاید یہی وہ سرمایہ ہے جو محرم اور صفر کے بعد بھی پورا سال زندہ رہتا ہے۔

ہمیں شعائر کم نہیں کرنے۔

ہمیں محبت کم نہیں کرنی۔

ہمیں خدمتِ عزادار کم نہیں کرنی۔

بلکہ ہمیں محبت کا دائرہ اور وسیع کرنا ہے۔

تاکہ جہاں سڑکوں پر حسینؑ کا نام گونجے، وہاں گھروں میں قرآن بھی پڑھا جائے۔

جہاں موکب آباد ہوں، وہاں درسگاہیں بھی آباد ہوں۔

جہاں سبیلیں جاری ہوں، وہاں علم کے چشمے بھی جاری ہوں۔

کیونکہ پانی جسم کی پیاس بجھاتا ہے…

اور علم روح کی۔

اور حسینؑ نے صرف پیاسوں کو پانی ہی نہیں دیا…

انہوں نے انسانیت کو شعور بھی دیا۔

شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی محبت میں ایک نئی دعا شامل کریں:

“پروردگار! جس طرح تو نے ہمیں حسینؑ کے غم سے جوڑا ہے، اسی طرح ہمیں حسینؑ کے علم، معرفت، اخلاق اور سیرت کا بھی امین بنا دے۔”

تب ہماری محبت صرف چند دنوں کی یاد نہیں رہے گی۔

وہ آنے والی نسلوں کا سرمایہ بن جائے گی۔

تحریر: مولانا تصورعباس خان سرگانی ، پرنسپل امام رضا کمپلیکس چوک اعظم ضلع لیہ