تحریر: ساجد محمود
المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی
حضرت امام حسن مجتبیٰ 15 رمضان کی رات 2 ہجری جنگ احد کے سال اور ایک نقل کے مطابق 3 ہجری کو پیدا ہوئے۔صاحب کتاب کشف الغمہ کمال الدین ابن طلحہ شافعی سےنقل کرتے ہیں کہ امام حسن کی ولادت کے متعلق صحیح ترین قول یہ ہے کہ آپ 15 رمضان تیسری ہجری کو پیدا ہوئے۔
حضرت زہرا(س)نے اس مبارک مولود کو ولادت کے ساتویں دن ریشمی کپڑا جو حضرت جبرائیل پیامبر اکرم (ص) کے لئےلائے تھے میں لپیٹا اور پیغمبر اکرم کی خدمت میں لے کر آئیں۔حضرت نے اس مبارک(پاک) مولود کا نام حسن رکھا۔ اور ایک بکرا آپ کے لئے عقیقہ کیا حضرت امام حسن (ص) نے سات سال اور کچھ ماہ پیامبر اکرم کے ساتھ زندگی گزاری اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کے ساتھ تیس سال اور اپنے باپ کے بعد 9 سے 10 سال اکیلے زندگی گزاری۔ آپ کا قد بڑا اور داڑھی گھنی تھی۔ لوگوں نے آپ کے والد کی شہادت کے بعد جمعہ کے دن 21 رمضان سال 40 ہجری کو آپ کی بیعت کی آپ کے لشکر کا سپہ سالار عبیداللہ بن عباس اور ان کے بعد قیس بن سعد بن عبادہ تھا۔
لوگوں نے جب امام (ع) کی بیعت کی تو اُس وقت آپ کی عمر مبارک 37 سال تھی ابھی آپ کی حکومت کے 4 ماہ اور 3 دن ہی گزرے تھے کہ سال 4 ہجری کو آپ کی معاویہ کے ساتھ صلح کا واقعہ پیش آیا اس کے بعد امام مدینہ چلے گئے اور 10 سال تک وہاں قیام پذیر رہے۔
آپ کی کنیت ابو محمد اور ابوالقاسم ہے۔ مقدس ترین القاب سید، سبط، امین، حجت، برّ، تقی، اثیر، زکی، مجتبیٰ، سبط اول اور زاہد ہے، (1)
جابر بن عبداللہ کہتے ہیں: حضرت امام حسنؑ کی ولادت کے بعد آپ کی والدہ ماجدہ حضرت زہرا (س) نے حضرت علی ؑ کو فرمایا: نئے مولود کا نام رکھیئے۔ حضرت امیرالمؤمنین ؑ نے فرمایا: ان کا نام حضرت رسول خدارکھیں گے اورپھر رسول خدا نے فرمایا کہ میں ہی منتظر ہوں کہ خداوند ان کے نام کا حکم دے۔
خداوند متعال نے جبرائیل کو وحی کی کہ محمد کے پاس ایک بچہ پیدا ہوا ہے ابھی ان کے پاس جاؤ اور انہیں فرزند کی مبارکباد دو اور محمد کو اطلاع دو کہ علی کی نسبت تیرے ساتھ ایسی ہے جیسے ہارون کی موسیٰ سے ہے۔
اپنے نومولود کا نام ہارون کے بچوں پر رکھو۔ اس حکم کے بعد جناب جبرائیل رسول خدا کے پاس پیغام لے کر آئےاور کہا علی کے فرزند کو ہارون کے فرزند جیسا نام رکھو ۔ پیامبر نے پوچھا جناب ہارون کے بچوں کا نام کیا تھا تو جبرائیل نے عرض کی اس کے بچہ کا نام شبرتھا پیامبر نے فرمایا میری زبان عربی ہے تو جبرائیل نے عرض کی اپنے فرزند کا نام حسن رکھو(2)
شیخ مفید علیہ رحمہ نے روایت کی ہے کہ کوئی بھی امام حسن سے زیادہ پیامبر کے ہمشکل نہ تھا(3)
2- امام حسن کا مقام و منزلت
2-1 : خداوند متعال کے نزدیک امام حسن اور امام حسین علیہ السلام کی منزلت۔
حضرت پیامبر اکرم ؐ نے ایک حدیث میں حضرت امام حسن اور حسین کے رتبہ اورمقام کے بارے میں اس طرح خبر دی۔
حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ سَعْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْبَزَّازِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ (ع) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ص): مَنْ أَرَادَ أَنْ يَتَمَسَّكَ بِعُرْوَةِ اللَّهِ الْوُثْقَى الَّتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ فَلْيُوَالِ [فَلْيَتَوَلَ] عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَ الْحَسَنَ وَ الْحُسَيْنَ (ع) فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّهُمَا مِنْ فَوْقِ عَرْشِهِ. (4)
ترجمہ: میرا باپ سعد بن عبداللہ سے وہ احمد بن محمد بن عیسیٰ سے وہ اپنے باپ سے وہ محمد بن عیسی ٰ سےوہ عبداللہ بن مغیرہ سے وہ محمد بن سلیمان البزازسے وہ عمرو بن شمرسے وہ جابرسے اور وہ امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: رسول خدا نے فرمایا کہ جو چاہتا ہے کہ خدا کی رسی کہ جس کے بارے میں خدا نے قرآن میں ذکر کیا ہے کو تھامے تو اسے چاہےکہ علی و ( اولاد علی ) حسن و حسین کو دوست رکھے چونکہ خداوند متعال کی ذات فوق عرش سے ان کو دوست رکھتی ہے۔
ایک روایت میں حضرت امام رضاؑ سے جو پیامبر کے ان دو لخت جگر کی عزت کے بارے میں ہے نقل کیا گیا ہے کہ:
حضرت علی بن موسیٰ الرضا نے فرمایا: ایک مرتبہ عید تھی تو امام حسن و حسین کے پاس نیا لباس نہیں تھا آپ دونوں اپنی والد ماجدہ کے پاس آئے اور کہا ہمارے علاوہ مدینہ کے تمام بچہ سنورے ہوئے ہیں آپ ہمیں کیوں نہیں سنوارتی؟ حضرت فاطمہ نے کہا آپ کے کپڑے درزی کے پاس ہیں جب کپڑے آئیں گے تو آپ کو بھی بناؤں، سنواروں گی۔ جب عید کی رات آئی تو دونوں اپنی والدہ کے پاس آئے تو لباس طلب کیا تو حضرت فاطمہ (س) رو پڑی اور پھر وہی جواب انہیں دیا جب رات تاریک ہو گئی تو کسی نے دروازہ پر دستک دی حضرت فاطمہ نے کہا کون جواب آیا رسول کی بیٹی میں درزی ہوں آپ کے بچوں کا لباس لے کر آیا ہوں حضرت زہرا(س ) نے دروازہ کھولا تو ایک مرد نہایت ہی شان وشوکت کے ساتھ ایک لفافہ آپ کو دے کر چلا گیا آپ جب دروازہ کے اندر آئی اور بند لفافہ کو کھولا تو اس میں 2 قمیضیں اور 2 شلواریں ، 2 عمامہ اور 2 سیاہ جورابیں کہ جن کی پشت سرخ چمڑہ کی تھی، کو دیکھا اور پھر امام حسن و حسین کو نیند سے جگایا اور انہیں وہ لباس پہنایا تو اسی حالت میں رسالت مأب ؐ داخل ہوئے اور دونوں شہزادوں کو سنورے ہوئے دیکھا تو دونوں کو بغل کیا اور چوما، حضرت زہرا(س) کو کہا: کیا درزی کو دیکھا تو آپ نے فرمایا جی ہاں یا رسول اللہ جو لباس آپ نے ہمارے لئے بھیجا تھا وہ لے کر آیا تھا تو حضرت رسول ؐ نے فرمایا: وہ درزی نہیں تھا، بلکہ”رضوان” بہشت کا خازن تھا ۔ حضرت فاطمہ (س) نے فرمایا کہ یا رسول اللہ اس نے آپ کو بھی خبر کیا تو حضرت نے فرمایا وہ آسمان کی طرف نہیں گیا بلکہ پہلے میرے پاس آکر خبر دی (5)
2-1-1: جوانان جنت کے سردار
بہت سی احادیث میں پیامبر اکرم ؐ نے حضرت امام حسن و حسین کو جنت کے جوانوں کا سردار معرفی کیا ہے ہم یہاں پر دو حدیثوں کا ذکر کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْقَطَّانُ قَال عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَبِيبٍ قَالَ حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ بُهْلُولٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبَانٍ عَنْ سَلَّامِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ خَرَّبُوذَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ (ع) قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ص) يَقُولُ أَنَا سَيِّدُ النَّبِيِّينَ وَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ سَيِّدُ الْوَصِيِّينَ وَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَ الْأَئِمَّةُ بَعْدَهُمَا سَادَاتُ الْمُتَّقِينَ وَلِيُّنَا وَلِيُّ اللَّهِ وَ عَدُوُّنَا عَدُوُّ اللَّهِ وَ طَاعَتُنَا طَاعَةُ اللَّهِ وَ مَعْصِيَتُنَا مَعْصِيَةُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ حَسْبُنَا اللَّهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيل. (6)
ترجمہ: علی بن محمد بن موسیٰ اپنی اسناد کے ساتھ ابی طفیل اور وہ حضرت امام حسن علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ؐ نے فرمایا: میں نے رسول خدا ؐ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں جنت میں رہنے والے پیامبروں کا سردار، علی اوصیا ءکا سردار اور حسن و حسین جوانوں کے سردار ہیں اور ان کے بعد والے آئمہ نیک و متقی لوگوں کے سردار ہیں ہماری مدد کرنے والا خدا کی مدد کرنے والا ہے اور ہمارا دشمن خدا کا دشمن ہے اور ہماری اطاعت خدا کی اطاعت ہے اور ہمارے حق میں معصیت ، خدا کی معصیت ہے اور ہمارے لئے بس خدا ہی کافی ہے اور وہ کتنا اچھا وکیل ہے ۔
اس بارے میں ایک اور حدیث میں حضرت ختمی مرتبت سے نقل کیا گیا ہے جسے ہم یہاں پر ذکر کرتے ہیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ خُشَيْشٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو ذَرٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا مُخَوَّلٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْأَسْوَدِ- عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ (عَلَيْهِ السَّلَامُ)، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ): الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّة. (7)
محمد بن علی بن خشیش اپنی اسناد کے ساتھ حارث ( ابوذر) سے اور وہ حضرت علی سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا حضرت رسول خدا ؐ نے فرمایا ہے کہ حسن وحسین اہل بہشت کے جوانوں کے دو سردار ہیں۔
2-2: قیامت کے دن امام حسن و حسین کا مقام و منزلت
حَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ مُوسَى بْنِ بَابَوَيْهِ الْقُمِّيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْعَطَّارُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى بْنِ عِمْرَانَ الْأَشْعَرِيُّ عَنْ يُوسُفَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ص): إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ زُيِّنَ عَرْشُ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِكُلِّ زِينَةٍ ثُمَّ يُؤْتَى بِمِنْبَرَيْنِ مِنْ نُورٍ طُولُهُمَا مِائَةُ مِيلٍ فَيُوضَعُ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ وَ الْآخَرُ عَنْ يَسَارِ الْعَرْشِ ثُمَّ يُؤْتَى بِالْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ (ع) فَيَقُومُ الْحَسَنُ عَلَى أَحَدِهِمَا وَ الْحُسَيْنُ عَلَى الْآخَرِ يُزَيِّنُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى بِهِمَا عَرْشَهُ كَمَا يُزَيِّنُ الْمَرْأَةَ قُرْطَاهَا. (8)
ابن بابویہ اپنے والد سے نقل کرتے ہوئے محمد بن یحییٰ عطار کی سند کے ساتھ ابن عمر سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا ؐ نے فرمایا : جب قیامت کا دن ہو گا تو خداوند متعال کا عرش مزین کیا جائے گا اور اس کے بعد نور کے دو منبر لائے جائیں گے جن کا طول 100 میل ہوگا ایک کو عرش الہٰی کے دائیں جانب اور دوسرا عرش الہٰی کے بائیں جانب رکھا جائے گا اس کے بعد امام حسن و حسین کو لایا جائے گا اور امام حسن ایک پر اور امام حسین دوسرے تخت پر کھڑے ہوں گے خداوند اپنے عرش کو ان کے ساتھ اس طرح زینت دے گا کہ جس طرح عورت دو گوشواروں سے اپنے آپ کو زینت دیتی ہے ۔
ابی بن کعب سے نقل کیا گیا ہے کہ میں ایک دن پیامبر کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک امام حسن و حسین تشریف لائے اور پیامبر پر سلام کیا، پیامبر نے سلام کا جواب دینے کے بعد فرمایا، مرحبابکما یا زین العرش مرحبا بکما یا زین السماوات والارض” اے عرش الہٰی اور زمین و آسمان کو زینت دینے والے خوش آمدید۔
ابن ابی کعب نے کہا یا رسول اللہ کیا آپ کے علاوہ بھی کوئی عرش الہٰی اور زمین و آسمان کو مزین کرنے والا ہے؟ تو پیامبر نے فرمایا کہ : ہاں یہ دونوں عرش وزمین و آسمان کو مزین کرنے والے ہیں اے ابی کعب قسم اس خدا کی کہ جس نے مجھے پیامبری پر مبعوث کیا ہے حسن و حسین ہدایت کے چراغ اور نجات کی کشتی اور جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔ (9)
3-2: پیامبر کے نزدیک امام حسن و حسین کی منزلت
اپنے اندر حسنین کی محبت کے بارے میں پیامبر ایک حدیث میں فرماتے ہیں :
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الزَّيْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبَّاسٍ وَ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ جَمِيعاً قَالَ حَدَّثَنَا مَنْ سَمِعَ بَكْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيَّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ص) لِي يَا عِمْرَانُ إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ مَوْقِعاً مِنَ الْقَلْبِ وَ مَا وَقَعَ مَوْقِعَ هَذَيْنِ الْغُلَامَيْنِ مِنْ قَلْبِي شَيْءٌ قَطُّ فَقُلْتُ كُلُّ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يَا عِمْرَانُ وَ مَا خَفِيَ عَلَيْكَ أَكْثَرُ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي بِحُبِّهِمَا. (10)
ترجمہ: محمد بن احمد بن ابراہیم نے حسین بن علی زید اور انہوں نے اپنے والد اور انہوں نے علی بن عباس و عبدالسلام بن حرب سے اور سب نے بکر بن عبداللہ المزنی سے اور انہوں نے عمران بن حصین سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا رسول خدا نے مجھے فرمایا اے عمران ہر چیز کی دل میں ایک جگہ ہوتی ہے لیکن ان دو بچوں کے لئے میرے دل میں ایک خاص جگہ نہیں ہے۔
عمران کہتا ہے کہ میں نے عرض کی اے رسول خدا آپ کا پورا دل ان دونوں کے لئے ہے؟ تو آپ نے فرمایا اے عمران جو تجھ پر مخفی ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے کہ جس کے بارے میں تونے جانا ہے خداوند متعال نے مجھے ان کی محبت کے بارے میں حکم دیا ہے (11)
ایک طولانی حدیث ہے کہ جس کو حضرت رسول اللہ ؐ نے اہل بیت کے بارے میں بیان فرمایا ہے:
ہم یہاں پر اپنی ضرورت کے مطابق اس میں سے کچھ حصہ امام حسن و حسین کے بارے میں ذکر کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْهَمَدَانِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ هَاشِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَلَمَةَ الْأَهْوَازِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى ابْنِ أُخْتِ الْوَاقِدِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ الْحَرَّانِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْعَلَاءِ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ص) كَانَ جَالِساً ذَاتَ يَوْمٍ وَ عِنْدَهُ عَلِيٌّ وَ فَاطِمَةُ وَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ (علیهم السلام) فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَ أَكْرَمُ النَّاسِ عَلَيَّ فَأَحِبَّ مَنْ أَحَبَّهُمْ وَ أَبْغِضْ مَنْ أَبْغَضَهُمْ وَ وَالِ مَنْ وَالاهُمْ وَ عَادِ مَنْ عَادَاهُمْ وَ أَعِنْ مَنْ أَعَانَهُمْ وَ اجْعَلْهُمْ مُطَهَّرِينَ مِنْ كُلِّ رِجْسٍ مَعْصُومِينَ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَ أَيِّدْهُمْ بِرُوحِ الْقُدُسِ مِنْكَ ثُمَّ قَالَ (ص) … وَ أَمَّا الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ فَهُمَا ابْنَايَ وَ رَيْحَانَتَايَ وَ هُمَا سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيُكْرَمَا عَلَيْكَ كَسَمْعِكَ وَ بَصَرِكَ ثُمَّ رَفَعَ (ص) يَدَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي مُحِبٌّ لِمَنْ أَحَبَّهُمْ وَ مُبْغِضٌ لِمَنْ أَبْغَضَهُمُ وَ سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَهُمْ وَ حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَهُمْ وَ عَدُوٌّ لِمَنْ عَادَاهُمْ وَ وَلِيٌّ لِمَنْ وَالاهُمْ. (12)
ترجمہ: احمد بن زیاد بن جعفر ھمدانی ایک اسناد کے ساتھ سعید بن مسیب سے اور وہ ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دن رسول خدا ایک مسجد میں بیٹھے تھے اور آپ کے پاس حضرت علی، حضرت فاطمہ اور حضرت حسن و حسین بھی تشریف فرما تھے تو حضرت رسول خدا ؐ نے فرمایا خدایا تو جانتا ہے کہ یہ میرے اہل بیت اور لوگوں میں سے میرے نزدیک سب سے عزیز ترین ہیں ۔
تو دوست رکھ، جو ان کو دوست رکھے اور بغض رکھ ،اس سے کہ جو ان سے بغض رکھتا ہے اور کامیاب فرما اسے کہ جو ان کی پیروی کرتا ہے اور دشمن رکھ ہر اس کو، جو ان سے دشمنی رکھتا ہے۔ اور مدد فرما ہر اس کی ،جو ان کی مدد کرتا ہے اور ان کو ہر پلیدگی و کثافت سے پاک و منزہ قرار دے اور انہیں تمام گناہوں سے محفوظ رکھ اور اپنی طرف سے روح القدس کے ذریعے سے ان کی تائید فرما۔۔۔ اور حسن و حسین میرے دو بیٹے اور دو باغ ہیں اور دونوں جنت کے جوانوں کے سردار ہیں تیرے نزدیک آنکھ و گوشت کی طرح عزیز ہونے چاہیے اس کے بعد آپؐ نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کئے اور فرمایا خدایا گواہ رہنا میں ان کے دوست کو دوست اوران کے دشمن کو دشمن رکھتا ہوں اور جو ان کے ساتھ صلح میں ہو، اس کے ساتھ صلح اور جو ان کے ساتھ جنگ کرے ، ان کے ساتھ جنگ میں ہوں اور جو ان کا بُرا چاہے اس کا دشمن اور جو ان کو دوست رکھے ،اس کا دوست ہوں ۔
ایک اور حدیث میں کہ جو مرثیہ حضرت نے امام حسن و حسین کی شان میں پڑھا ہے اس طرح یاد کیا جاتا ہے کہ:
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْعَلَوِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي جَدِّي قَالَ حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَلِيٍّ الرَّافِعِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدَّتِهِ بِنْتِ أَبِي رَافِعٍ قَالَتْ أَتَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ (ص) بِابْنَيْهَا الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ (ع) إِلَى رَسُولِ اللَّهِ (ص) فِي شَكْوَاهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَانِ ابْنَاكَ فَوَرِّثْهُمَا شَيْئاً قَالَ أَمَّا الْحَسَنُ فَإِنَّ لَهُ هَيْبَتِي وَ سُؤْدُدِي وَ أَمَّا الْحُسَيْنُ فَإِنَّ لَهُ جُرْأَتِي وَ جُودِي. (13)
ترجمہ: ابن بابویہ نے حسن بن محمد بن یحییٰ سے ایک اسناد کے ساتھ بنت ابی رافع سے روایت نقل کی ہے کہ : پیامبر کی بیماری کی حالت میں کہ جس کے بعد آپ نے دار فانی کو وداع کیا حضرت فاطمہ (س) دختر رسول خدا ؐ نے حسن و حسین علیہ السلام کو اپنے والد گرامی کی خدمت میں لے آئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ 2 آپ کے بیٹے ہیں کوئی چیز ان کے لئے میراث میں چھوڑ کر جائیں تو رسول اللہ نے فرمایا:میں نےاپنی ھیبت اور شرافت حسن کے لئے اور اپنی جر أت و بخشش حسین کے لئے چھوڑی ہے۔
ایک اور روایت کے مطابق اپنی سخاوت وشجاعت حسین کو دی ہے ۔
محمد بن اسحاق کہتا ہے حضرت رسول ؐ کے بعد کوئی بھی شرافت و مقام میں حسن بن علی تک نہیں پہنچا ۔
امام حسن جب بھی اپنے گھر سے باہر جاتے اور ایک جگہ تشریف فرما ہوتے تو لوگ آپ کے ارد گرد جمع ہو جاتے یہاں تک کہ راستے بند ہو جاتے۔ ا س کے بعد آپ واپس اپنے گھر تشریف لے جاتے اورلوگ بکھر جاتے تھے۔
میں نے مکہ کے راستے میں انہیں دیکھا جب کہ آپ اپنی سواری سے نیچے اترے اور پیدل جا رہے تھے تو لوگ بھی آپ کی اتباع میں پیدل چل پڑے جب کہ سعد بن وقاص بھی آپ کی معیت میں پیدل چل رہے تھے (14)
حضرت رسول اکرمؐ نے حسنین شریفین علیہم السلام کو اپنے دو پھول معرفی کیا ہے۔
عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّوْفَلِيِّ عَنِ السَّكُونِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ (ع) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ص): الْوَلَدُ الصَّالِحُ رَيْحَانَةٌ مِنَ اللَّهِ قَسَمَهَا بَيْنَ عِبَادِهِ وَ إِنَّ رَيْحَانَتَيَّ مِنَ الدُّنْيَا الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ سَمَّيْتُهُمَا بِاسْمِ سِبْطَيْنِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ شَبَّراً وَ شَبِيراً. (15)
ترجمہ: علی بن ابراہیم ایک اسناد کے ساتھ حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول ؐ نے فرمایا: نیک بیٹا خدا کی جانب سے ایک پھول ہے کہ جسے خدا نے اپنے بندوں میں تقسیم کیا ہے دنیا میں میرے دو پھول حسن و حسین ہیں میں نے ان دو کا نام بنی اسرائیل کے دو بچوں کے نام شبر و شبیر پر رکھا ہے۔
ابن شھر آشوب نے کہا ہے کہ اکثر (بہت ساری )تفسیروں میں وارد ہوا ہے کہ پیامبر اکرم ؐ حسنین علیہم السلام کو دو سورتوں ” قل اعوذ برالناس اور قل اعوذ برب افلق” سے تعویذ کرتے تھے اس وجہ سے ان دو سورتوں کو معوذتین کہا جاتا ہے (16)
ایک حدیث میں پیامبر اکرم ؐ امام حسن و حسین کے دوست کو بہشت اور آپ کے دشمن کو جہنم کا مستحق قرار دیتے ہیں
وَ قَالَ رسول الله (صلّى اللَّه عليه و آله و سلّم) مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَ الْحُسَيْنَ (علیهما السّلام) أَحْبَبْتُهُ وَ مَنْ أَحْبَبْتُهُ أَحَبَّهُ اللَّهُ وَ مَنْ أَحَبَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ وَ مَنْ أَبْغَضَهُمَا أَبْغَضْتُهُ وَ مَنْ أَبْغَضْتُهُ أَبْغَضَهُ اللَّهُ وَ مَنْ أَبْغَضَهُ اللَّهُ خَلَّدَهُ فِي النَّارِ. (17)
ترجمہ: شیخ مفید نے کتاب ارشاد میں نقل کیا ہے کہ حضرت رسالت مأب ؐ نے فرمایا: جو بھی حسن و حسین کو دوست رکھے میں اس کو دوست رکھتا ہوں اور جو کوئی مجھے دوست رکھے خدا اسے دوست رکھتا ہےاور جس کو خدا دوست رکھے ، جنت میں داخل کیا جائے گا اور جو کوئی بھی انہیں دشمن رکھے میں انہیں دشمن رکھتا ہوں اور جسے میں دشمن رکھوں خداوند اسے دشمن رکھتا ہے اور جسے خدا دشمن رکھے جہنم میں ڈالا جائے گا۔
3۔ حضرت امام حسن علیہ السلام کے مختصر فضائل اور مکارم اخلاق
حضرت امام حسن مجتبیٰ لوگوں میں سب سے زیادہ عابد اور پرہیز گار تھے مناقب ابن شھر آشوب اور روضۃ الواعظین میں روایت ہوئی ہے کہ حضرت امام حسن جب بھی وضو کرتے تو آپ کے بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا اور آپ کا رنگ مبارک زرد ہو جاتا امام علیہ السلام سے جب اس کی وجہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: سزاوار کہ جو کوئی اپنے خدا کی بارگاہ میں کھڑا ہو تو اس کا رنگ زرد ہو جائےاور اس کے بدن پر لرزہ و کپکپی طاری ہو۔
جب امام علیہ السلام مسجد تشریف لے جاتے جیسے ہی مسجد کے دروازہ پر پہنچتے تو اپنے سر مبارک کو آسمان کی جانب بلند کر کے فرماتے تھے «الهى ضيفك ببابك يا محسن قد اتاك المسىء فتجاوز عن قبيح ما عندي بجميل ما عندك يا كريم:۔
اے میرے خدا یہ تیرا مہمان ہےکہ جو تیر ی بارگاہ میں کھڑا ہے اے احسان کرنے والےتیرے پاس تیرا گناہ گار بندہ آیا ہے پس نا پسندیدہ اور قبیح کاموں سے در گزر کر، اپنے پسندیدہ چیزوں کے واسطہ جو تیرے پاس ہیں۔
ہم یہاں پر امام حسن علیہ السلام کی کچھ مختصر سی اخلاقی صفات و کمالات کا ذکر کرتے ہیں۔
1-3: امام کا تواضع
ابن شھر آشوب نے کتاب مناقب میں کتاب الفنون نزھۃ الابصار سے نقل کیا ہے کہ ایک دن امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کچھ فقیر لوگوں کے قریب سے گزرے جو مٹی پر بیٹھے تھے اور روٹی کے ٹکڑے اٹھاتے اور کھاتے ، امام سے بھی کہا کہ ان کے پاس سفرہ پر آکر بیٹھیں ۔
امام علیہ السلام نے ان کی دعوت کو قبول کیا اور سواری سے نیچے اترے اور فرمایا خداوند متکبر لوگوں کو دوست نہیں رکھتا اور غذا تناول کرنے میں مصروف ہو گئے پھر ان لوگوں کو اپنے گھر کھانے کی دعوت دی اور انہیں لباس و غذا عطا فرمایا( 19)
2-3: امام کا کرم و سخاوت
انس بن مالک نقل کرتے ہیں کہ ایک کنیز نے ایک پھولوں کا دستہ امام علیہ السلام کو ھدیہ پیش کیا تو امام حسن علیہ السلام نے اسے فرمایا: “تجھے خدا کی راہ میں آزاد کیا”
تو راوی کہتا ہے کہ میں نے آنحضرت کو عرض کیا ، کیا آپ نے فقط پھولوں کے ایک گلدستہ کے بدلے اسے آزا د کر دیا ہے؟ تو امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا خداوند متعال نے ہماری اس طرح تربیت کی ہے۔ خداوند قرآن میں سورہ نساء کی آیت نمبر 86 میں فرماتا ہے کہ «وَ إِذا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْها أَوْ رُدُّوها»کہ جب کوئی تمہارے ساتھ اچھائی کرے تو اس کا بڑھ کر جواب دو یا حداقل اسی طرح جواب دو اس کے بعد فرمایا بہتر اچھائی اس کو آزاد کرنا ہی ہے(20)
آپ کریم اہل بیت علیہ السلام کے نام سے معروف ہیں چونکہ آپ نے اپنی زندگی میں کئی دفعہ اپنی تمام دولت فقراء میں مساوی طور پر تقسیم کر دی ۔
ابن شھر آشوب نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کیا ہے کہ حضرت امام حسن (ع) پچیس مرتبہ پیدل حج پر گئے اور دو مرتبہ یا ایک روایت کے مطابق تین مرتبہ اپنے مال کو خدا کے ساتھ تقسیم کیا کہ آدھا مال اپنے لئے رکھا اور آدھا مال خدا کی راہ میں فقیروں کو دیا (21)
3-3: امام حسن علیہ السلام کا حلم و صبر
بہت معروف مفکر مبّرد نے کتاب کامل میں اور دوسرے بھی روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک شامی بوڑھے شخص نے جب آپ کو سواری پر سوار دیکھا تو آپ کو گالیاں دینا شروع کر دی لیکن امام حسن نے سکوت ( خاموشی ) اختیار کی جب اس شخص کی گالیاں ختم ہوئی تو حضرت امام حسن نے گشادہ روی کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوئے جب کہ آپ مسکرا رہے تھے اس شخص پر سلام کیا اور فرمایا ” اے شخص میرے خیال میں تم مسافر ہو اور لگتا ہے کہ کچھ چیز یں تم پر مشتبہ ہو گئی ہیں اگر ہم سے مدد طلب کرتے ہو تو ہم تم سے مشکلات کو برطرف کر سکتے ہیں اور تمہیں کچھ دے سکتے ہیں اور اگر ہم سے کوئی چیز چاہتے ہو تو تمہیں دے سکتے ہیں اور اگر ہم سے راہنمائی چاہتے ہو تو تمہاری راہنمائی کر سکتے ہیں اور اگر چاہتے ہو تو تمہارا سامان اٹھاؤں تو اٹھا لوں گا اور اگر بھوکے ہو تو تمہارا پیٹ بھر سکتے ہیں اور اگر برہنہ ہو تو تمہیں لباس دیتے ہیں اور اگر نیاز مند ہو تو تمہیں بے نیاز کر دیں گے اور اگر کسی جگہ سے بھگائے گئے ہو تو ہم تمہیں پناہ دینے کے لئے تیار ہیں اور اگر کوئی حاجت رکھتے ہو تو اسے پورا کر سکتے ہیں اور اگر ہماری طرف سفر کیا ہے تو واپس جانے تک ہمارے مہمان ہو اور یہ تمہارے لئے بہتر ہے چونکہ ہمارے پاس مہمان نوازی کے لئے گھر موجود ہے۔ بہت بڑا مال و منزلت تمہارے اختیار میں ہے۔
جب اس شامی مرد نے امام حسن علیہ السلام کی اس محبت آمیز گفتار کو سنا تو رونے شروع کیا اور اس طرح دگرگون ہوا اسی لمحہ یہ کلمات جاری کئے ” الشھد انک خلیفۃ اللہ فی ارضہ اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ “
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ زمین پر خدا کے خلیفہ ہو خداوند متعال آگاہ ہے اس سے کہ اپنی رسالت کو کس میں قرار دے۔
پھر اس کے بعد فرمایا میں سمجھ رہا تھا کہ آپ اور آپ کے والد میرے نزدیک دشمن ترین مخلوقات میں سے ہو لیکن اب پتہ چلا ہے کہ آپ میرے نزدیک خدا کی محبوب ترین مخلوقات میں سے ہیں اس کے بعد اس نے اپنا سامان امام علیہ السلام کے گھر منتقل کیا اور جب تک مدینہ میں رہا آپ کا مہمان رہا پھر اس کے بعد شام کی طرف واپس چلا گیا جب کہ خاندان رسالت کی سچی محبت اس کے دل میں تھی اور اس کا معتقد تھا ( 22)
4-3: امام حسن کا علم
ابن شھر آشوب نے روایت کی ہے کہ ایک اعرابی (بدو) عبد اللہ بن زبیر اور عمر و بن عثمان کے پاس آیا اور ان سے کچھ مسائل کے بارے میں سوال کیا چونکہ نہیں جانتے تھے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے اور واگذار کرنے لگے۔
اعرابی نے کہا لعنت ہو تم پر میں نے تم سے ضروریات دین میں سے ایک مسالہ پوچھا ہے اور تم ایک دوسرے کی طرف واگذار کر رہے ہو دین خدا میں یہ چیز روا نہیں ہے ۔
تو انہوں نے کہا اگر چاہتے ہو اس مسالہ کو جانو تو حسن و حسین علیہ السلام کے پاس جاؤ جو دینی مسائل کے بارے میں جانتے ہیں ۔ وہ شخص جب ان کے پاس گیا تو مسالہ کو عرض کیا اور کامل جواب حاصل کیا اور پھر عبداللہ و عمرو کو خطاب کر کے چند بیت اشعار پڑھے کہ جن میں سے ایک کا مضمون یہ ہے: خداوند متعال نے تمہارے دو رخساروں کو حسن و حسین کی دو نعلوں میں قرار دیا ہے (23)
پانوشتها
(1)حضرت امام حسن کا زندگی نامہ، صفحه 142
(2) چھاردہ معصومین کا زندگی نامہ صفحه303
(3) جلاء العیون، صفحه 407 ارشاد سے نقل ، جلد 2، صفحه 5
(4) كامل الزيارات، صفحه 51
(5) جلاء العيون، صفحه 393 مناقب ابن شھر آشوب سے منقول، جلد3، صفحه 441
(6) الأمالي( للصدوق)، صفحه 558
(7) الأمالي (للطوسي)، صفحه 312
(8) الأمالي( للصدوق)، صفحه112 – بحار الأنوار، جلد 43، صفحه 262 و 293
(9) أنيس المؤمنين، صفحه 86
(10) كامل الزيارات، صفحه 50
(11) كامل الزيارات، صفحه 149
(12) الأمالي( للصدوق) ، صفحه 487 – 486
(13) الخصال، جلد1، صفحه77
(14) ترجمه إعلام الورى، صفحه 304 – منتهى الآمال، شيخ عباس قمى ، جلد 1، صفحه 531
(15) الكافي، جلد 6 ، صفحه 2
(16) منتهى الآمال، شيخ عباس قمى ، جلد 1، صفحه 527 مناقب شھر آشوب سے منقول، جلد 3، صفحه 436- جلاء العيون، صفحه 391 – بحار الأنوار، جلد 43، صفحه 285، حدیث 50 مناقب شھر آشوب سے منقول۔
(17) الإرشاد، جلد 2 ، صفحه 28
(18) منتهى الآمال، جلد 1، صفحه 530
(19) سيره معصومان، جلد 5، صفحه 23 – 22
(20) الأنوار البهية، صفحه 122 – 121
(21) منتهى الآمال، جلد 1، صفحه 530 مناقب شھر آشوب سے منقول ، جلد 4، صفحه 18 – جلاء العيون، صفحه 407 – العوالم، صفحه 131- 130 و 134
(22) الأنوار البهية، صفحه 123- 122