اعلان ولایت و امامت و وصایت و خلافت امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام: قسط4

اعلان ولایت و امامت و وصایت و خلافت امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام: قسط4

تحریر: قمر عباس قمر

” واقعہ غدیر خم اعلان ولایت علی علیہ السلام اور منکر ولایت حارث بن نعمان فہری پر عذاب خدا قرآنی آیت “سال سائل” و مفسرین اہلسنت کی تفاسیر کے تناظر میں ملاحظہ فرمائیں ” 🥀

📖 “سورہ المعارج”؛

“سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ۙ﴿۱﴾

“ترجمہ”:

۱۔”ایک سوال کرنے والے نے عذاب کا سوال کیا جو واقع ہونے ہی والا ہے”۔

✍ “تفسیر/تشریح/وضاحت”:

1۔ امامیہ و غیر امامیہ مصادرمیں آیا ہے کہ

جب رسول اللہؐ نے غدیر خم کے موقع پر حضرت علیؑ کی ولایت کا اعلان فرمایا تو منکر ولایت علی ع حارث بن نعمان الفہری نے کہا: محمدؐ جو کچھ کہ رہا ہے، اگر وہ صحیح ہو تو اے اللہ مجھ پر آسمان سے پتھر برسا دے یا مجھے دردناک عذاب دے۔ یہ کہ کر وہ اپنی سواری کی طرف چلا ہی تھا کہ ایک پتھر آسمان سے اس کے سر پر گرا اور اس کے نیچے سے نکل گیا اور وہ مر گیا۔

یہ ایک چیلنج تھا جو رسالت مآبؐ کی دعوت کی حقانیت کے خلاف کیا گیا۔ یہ چیلنج کرنے والا کون تھا۔ علامہ امینی نجفی رح نے الغدیر جلد اول میں شیعہ و سنی متعدد مصادر سے ذکر کیا ہے کہ یہ چیلنج غدیر کے موقع پر کیا گیا اور چیلنج کرنے والا حارث بن نعمان فہری تھا، جب رسول خدا (ص)نے غدیر کے موقع پر فرمایا : من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ تو حارث فہری نے جو منافق تھا، کہا: آپ نے توحید کا حکم دیا ہم نے مان لیا، بتوں سے بیزاری کا حکم دیا ہم نے مان لیا، اپنی رسالت کی تصدیق کرنے کے لیے کہا ہم نے تصدیق کی، پھر جہاد، حج، روزہ، نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہم نے مان لیا۔ آپ(ص) نے ان پر اکتفا نہ کیا اور اس لڑکے کو اپنا خلیفہ بنا دیا اور کہدیا: من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ ۔ کیا آپ (ص) کی اپنی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے؟ رسول خدا (ص) نے فرمایا: اللہ کی طرف سے ہے۔ نعمان لوٹا اور کہا: اے اللہ اگر یہ بات حق ہے اور آپ کی طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے ۔ اتنے میں ایک پتھر آسمان سے اس پر گرا اور وہ مر گیا۔

 آیۂ سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ (معارج 1)

 اسی سلسلے میں نازل ہوئی۔

 اس واقعہ کو شیخ عبدالحسین الامینی النجفی رح نے اپنی کتاب الغدیر جلد1 میں اہلسنت کی تقریبآ 30 تفاسیر سے ذکر کیا ھے۔ جو انشاءاللہ مختصرآ اجمالآ ایک ایک کر کے تمام اقوال و احادیث بمعہ حوالہ جات ذکر کرتے ہیں۔

👆 “مندرجہ بالا تشریح و تفسیر پر اہل تشیع امامیہ کا اتفاق ھے لیکن ہم یہاں غیر امامیہ اہلسنت تفاسیر و احادیث کے ذریعے احتجاج کیں گے”؛ 👇

✍1 ◇- الحافظ أبو عبيد الهروي المتوفى بمكة 223 / 4 ” المترجم ص 866 ” روى في تفسيره غريب القرآن قال: لما بلغ رسول الله (صلى الله عليه وسلم) غدير خم ما بلغ، وشاع ذلك في البلاد أتى جابر  بن النضر بن الحارث بن كلدة العبدري .فقال: يا محمد ؟ أمرتنا من الله أن نشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله وبالصلاة والصوم والحج والزكاة فقبلنا منك ثم لم ترض بذلك حتى رفعت بضبع ابن عمك ففضلته علينا وقلت: من كنت مولاه فعلي مولاه .

فهذا شيء منك أم من الله ؟ فقال رسول الله: والذي لا إله إلا هو أن هذا من الله .فولى جابر يريد راحلته وهو يقول: أللهم ؟ إن كان ما يقول محمد حقا فأمطر علينا حجارة من السماء أو ائتنا بعذاب أليم .فما وصل إليها حتى رماه الله بحجر فسقط على هامته وخرج من دبره وقتله وأنزل الله تعالى: سأل سائل بعذاب واقع . الآية.

👇

♧《یہاں اختلاف کیساتھ منکر ولایت کا نام جابر بن نضر بن حارث بن کلدہ عبدری مذکور ہوا ہے جبکہ تفسیر ثعلبی میں  ھے کہ علماء کا متفقہ فیصلہ ہے حارث بن نعمان فہری تھا لیکن یہاں جابر بن نضر بھی درست ہوگا کیونکہ علی ع نے بحکم خدا اسکے باپ کو بدر کبری میں قتل کیا تھا اسی بغض کو لے کر آیا ہوگا اور منکر ولایت بن کر فی النار ہوا۔》

✍2 ◇-أبو بكر النقاش الموصلي البغدادي المتوفى 351 المترجم ص 104 روى في تفسيره شفاء الصدور حديث أبي عبيد المذكور إلا أن فيه مكان جابر بن النضر: الحارث بن النعمان الفهري كما يأتي في رواية الثعلبي وأحسبه تصحيحا منه.

👇

♧《ابوبکر نقاش موصلی بغدادی نےتفسیرہ شفاء الصدور میں حدیث ذکر کی ھے فرق صرف یہی ھے کہ جابر بن نضر کی جگہ حارث بن نعمان فہری لکھا ھے چنانچہ آگے ثعلبی کی روایت میں بیان ہوگا اور یہ تصحیح انکی اپنی ھے۔》

✍3 ◇- أبو إسحاق الثعلبي النيسابوري المتوفى 427  37، قال في تفسيره (الكشف والبيان): إن سفيان بن عيينة سئل عن قوله عز وجل: سأل سائل بعذاب واقع فيمن نزلت ؟ فقال للسائل سألتني عن مسألة ما سألني أحد قبلك .حدثني أبي عن جعفر ابن محمد عن آبائه (صلوات الله عليهم) قال: لما كان رسول الله بغدير خم نادى الناس فاجتمعوا فأخذ بيد علي فقال: من كنت مولاه فعلي مولاه .

👇

♧《ابو اسحاق ثعلبی نیشاپوری تفسیر کشف البیان میں کہتے ہیں سفیان بن عیینہ سے کسی نے پوچھا کہ آیت سال سائل کس کے متعلق نازل ہوئی؟ کہا ایسی بات پوچھی ھے جو اج تک کسی نے نہیں پوچھی تو باسناد روایت ھے کہ رسول ص نے جب خم غدیر کے مجمع میں سب کے سامنے اعلان ولایت علی ع تو یہ خبر دور دراز علاقوں میں پھیل گئی اور حارث بن نعمان فہری سن کر ناقہ پر سوار ہو کر رسول ص کی خدمت میں آ پہنچا اور فرمایا اے محمد ص اپکی ہر بات مانی مگر اپنے بھائی کو ہم پر برتری دے دی یہ اعلان آپ نے کیا یا اللہ کی طرف سے تھا؟ فرمایا اللہ کیطرف سے تھا اور حارث بن نعمان فہری یہ کہتا ہوا چلا کہ اے اللہ اگر ایسا ھے تو مجھ پر عذاب بھیج دے بس ابھی سواری تک نہ گیا تھا کہ آسمان سے پتھر آیا جو سر سے پائوں تک چیرتا ہوا نکل گیا اور اس وقت یہ آیت سال سائل نازل ہوئی۔》

✍4 ◇- الحاكم أبو القاسم الحسكاني ” المترجم ص 112 ” روى في كتاب – دعاة الهداة إلى أداء حق الموالاة – فقال: قرأت على أبي بكر محمد بن محمد الصيدلاني فأقر به، حدثكم أبو محمد عبد الله بن أحمد بن جعفر الشيباني، حدثنا عبد الرحمن بن الحسين الأسدي، حدثنا إبراهيم بن الحسين الكسائي (ابن ديزيل )، حدثنا الفضل بن دكين، حدثنا سفيان بن سعيد (الثوري)، حدثنا منصور  عن ربعي عن حذيفة بن اليمان قال: قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم) لعلي (عليه السلام): من كنت مولاه فهذا علي مولاه . قال النعمان

ابن الفهري: هذا شيء قلته من عندك ؟ أو شيء أمرك به ربك ؟ قال: لا . بل أمرني به ربي . فقال: أللهم ؟ أنزل (كذا في النسخ) علينا حجارة من السماء . فما بلغ رحله حتى جاءه حجر فأدماه فخر ميتا فأنزل الله تعالى: سأل سائل بعذاب واقع۔۔۔

👇

♧《حاکم حسکانی ابوالقاسم کتاب دعاہ الھداہ الی ادا حق الموالاہ میں باسناد روایت لکھتے ہیں جس میں رسول ص نے فرمایا تھا جس کا میں مولا اسکا علی مولا تو اس وقت حارث بن نعمان فہری آیا اور ساری گفتگو گزشتہ حوالہ والی ہوئی اور پھر جانے لگا تو عذاب کا مطالبہ کیا تو اسی وقت عذاب نے منکرولایت کو مسمار کردیا اور یہ آیت نازل ہوئی۔》

✍5 ◇- أبو بكر يحيى القرطبي المتوفى 567 (المترجم 1155) قال في تفسيره في سورة المعارج لما قال النبي (صلى الله عليه وسلم): من كنت مولاه فعلي مولاه .

قال النضر بن الحارث  لرسول الله (صلى الله عليه وسلم) أمرتنا بالشهادتين عن الله فقبلنا منك، وأمرتنا بالصلاة والزكاة، ثم لم ترض حتى فضلت علينا ابن عمك آلله أمرك ؟ أم من عندك ؟ فقال: والذي لا إله إلا هو إنه من عند الله .

فولى وهو يقول: أللهم ؟ إن كان هذا هو الحق من عندك فأمطر علينا حجارة من السماء . فوقع عليه حجر من السماء فقتله ۔۔

👇

♧《ابوبکر یحیی قرطبی سورہ معارج کی تفسیر میں کہتے ہیں جب رسول اللہ ص نے اعلان ولایت فرمایا تو نضر بن حارث نے کہا۔۔۔۔وغیرہ باقی سارا واقعہ وہی عذاب نازل ہوا والا ھے جیسے اوپر بیان کیا ھے》

✍6 ◇- شمس الدين أبو المظفر سبط ابن الجوزي الحنفي المتوفى 654، رواه في تذكرته ص 19 قال: ذكر أبو إسحاق الثعلبي في تفسيره بإسناده أن النبي (صلى الله عليه وسلم) لما قال ذلك (يعني حديث الولاية) طار في الأقطار وشاع في البلاد والأمصار فبلغ ذلك الحرث بن النعمان الفهري فأتاه على ناقة له فأناخها على باب المسجد ثم عقلها وجاء فدخل في المسجد فجثا بين يدي رسول الله (صلى الله عليه وسلم) فقال: يا محمد ؟ إنك أمرتنا أن نشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله فقبلنا منك ذلك، وأنك أمرتنا أن نصلي خمس صلوات في اليوم والليلة ونصوم رمضان ونحج البيت ونزكي أموالنا فقبلنا منك ذلك، ثم لم ترض بهذا حتى رفعت بضبعي ابن عمك وفضلته على الناس وقلت: من كنت مولاه فعلي مولاه . فهذا شيء منك أو من الله ؟ فقال رسول الله (صلى الله عليه وسلم) وقد احمرت عيناه: والله إن كان ما يقول محمد حقا فأرسل من السماء علينا حجارة أو ائتنا بعذاب أليم . قال: فوالله ما بلغ ناقته حتى رماه الله من السماء بحجر فوقع على هامته فخرج من دبره و مات وأنزل الله تعالى: (سأل سائل بعذاب واقع) الآيات .

👇

♧《شمس الدين أبو المظفر سبط ابن الجوزي الحنفي نے تذکرہ میں ثعلبی کے حوالہ سے واقعہ لکھا ھے کہ

رسول ص نے جب خم غدیر کے مجمع میں سب کے سامنے اعلان ولایت علی ع تو یہ خبر دور دراز علاقوں میں پھیل گئی اور حارث بن نعمان فہری سن کر ناقہ پر سوار ہو کر رسول ص کی خدمت میں آ پہنچا اور فرمایا اے محمد ص اپکی ہر بات مانی مگر اپنے بھائی کو ہم پر برتری دے دی یہ اعلان آپ نے کیا یا اللہ کی طرف سے تھا؟ فرمایا اللہ کیطرف سے تھا اور حارث بن نعمان فہری یہ کہتا ہوا چلا کہ اے اللہ اگر ایسا ھے تو مجھ پر عذاب بھیج دے بس ابھی سواری تک نہ گیا تھا کہ آسمان سے پتھر آیا جو سر سے پائوں تک چیرتا ہوا نکل گیا اور اس وقت یہ آیت سال سائل نازل ہوئی۔》

✍7 ◇- الشيخ إبراهيم بن عبد الله اليمني الوصابي الشافعي، روى في كتابه – الاكتفاء في فضل الأربعة الخلفاء۔ حديث الثعلبي المذكور ص 240 .

👇

♧《الشيخ إبراهيم بن عبد الله اليمني الوصابي الشافعي، نے بھی ثعلبی کے حوالہ سے وہی روایت نقل کر کے پورا واقعہ حارث بن نعمان فہری پر عذاب خدا والا نقل کیا ھے۔》

✍8 ◇- شيخ الاسلام الحمويني المتوفى 722. روى في ” فرايد السمطين ” في  الباب الثالث عشر قال: أخبرني الشيخ عماد الدين الحافظ بن بدران بمدينة نابلس فيما أجاز لي أن أرويه عنه، إجازة عن القاضي جمال الدين عبد القاسم بن عبد الصمد الأنصاري، إجازة عن عبد الجبار بن محمد الحواري البيهقي، إجازة عن الإمام أبي الحسن علي بن أحمد الواحدي قال: قرأت على شيخنا الأستاذ أبي إسحاق الثعلبي في تفسيره: أن سفيان بن عيينة سئل عن قوله عز وجل: سأل سائل بعذاب واقع . فيمن نزلت ؟ فقال .

الحديث إلى آخر لفظ الثعلبي المذكور ص 240

👇

♧《 شیخ الاسلام الحموینی نے بھی اپنی سند کیساتھ مکمل واقعہ ثعلبی کی روایت والا لکھا ھے۔》

✍9 ◇- الشيخ محمد الزرندي الحنفي المترجم ص 125، ذكره في كتابيه ” معارج ” الوصول و ودرر السمطين۔

👇

♧《الشيخ محمد الزرندي الحنفي نے بھی اس واقعہ کو معارج الوصول و السمطین میں لکھا ھے》

✍10 ◇- شهاب الدين أحمد دولت آبادي المتوفى 8499، روى في كتابه – هداية السعداء – في الجلوة الثانية من الهداية الثامنة:أن رسول الله (صلى الله عليه وسلم) قال يوما: من كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم ؟ وال من والاه، وعاد من عاداه، وانصر من نصره، واخذل من خذله .

فسمع ذلك واحد من الكفرة من جملة الخوارج فجاء إلى النبي (صلى الله عليه وسلم) فقال: يا محمد ؟ هذا من عندك أو من عند الله ؟ فقال (صلى الله عليه وسلم): هذا من عند الله .فخرج الكافر من المسجد وقام على عتبة الباب وقال: إن كان ما يقوله (محمد) حقا فأنزل علي حجرا من السماء .

قال فنزل حجر ورضخ رأسه فنزلت: سأل سائل۔۔۔

👇

♧《 شهاب الدين أحمد دولت آبادي نے سارا واقعہ وہی لکھا ھے مگر حارث کی جگہ نام لیئے بغیر خارجی کہہ کر بیان کیا ھے اور یاد رہے خارجی سے مراد بھی وہی بندہ ھے جو وقت کے حجة اللہ سے محاذ آرائی کرے پس پھر پورے واقعہ کے بعد اس خارجی پر عذاب خدا پتھر برسا جو اس کو چکنا چور کر گیا اسی وقت آیت سال سائل نازل ہوئی۔》

✍11 ◇- نور الدين ابن الصباغ المالكي المكي المتوفى 8555. رواه في كتابة الفصول المهمة ص 26 پر نقل کیا ھے》

✍12 ◇- السيد نور الدين الحسني السمهودي الشافعي المتوفى 911 (المترجم ص 133) رواه في جواهر العقدين نقل کیا ھے》

✍13 ◇- أبو السعود العمادي  المتوفى 982، قال في تفسيره 8 ص 292: قيل: هو (أي سائل العذاب) الحرث بن النعمان الفهري، وذلك أنه لما بلغه قول رسول الله (عليه السلام) في علي رضي الله عنه: من كنت مولاه فعلي مولاه .

قال: أللهم ؟ إن كان ما يقول محمد حقا فأمطر علينا حجارة من السماء .فما لبث حتى رماه الله تعالى بحجر فوقع على دماغه فخرج من أسفله فهلك من ساعته .

👇

♧《ابو سعود عمادی نے بھی تفسیر میں منکر ولایت حارث بن نعمان فہری پر عذاب والے واقعہ کو نقل کیا ھے》

✍14 ◇- شمس الدين الشربيني القاهري الشافعي المتوفى 977 (المترجم ص 135) قال: في تفسيره السراج المنير 4 ص 364: اختلف في هذا الداعي فقال ابن عباس: هو النضر بن الحرث .وقيل: هو الحرث بن النعمان . وذلك أنه لما بلغه قول النبي (صلى الله عليه وسلم): من كنت مولاه فعلي مولاه .

ركب ناقته فجاء حتى أناخ راحلته الأبطح ثم قال: يا محمد ؟ أمرتنا عن الله أن نشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله فقبلناه منك، وأن نصلي خمسا ونزكي أموالنا فقبلنا منك، وأن نصوم شهر رمضان في كل عام فقبلناه منك، وأن نحج فقبلناه منك، ثم لم ترض حتى فضلت ابن عمك علينا، أفهذا شيء منك أم من الله تعالى ؟ فقال النبي (صلى الله عليه وسلم): والذي لا إله إلا هو ما هو إلا من الله . فولى الحرث وهو يقول: أللهم إن كان ما يقول محمد حقا فأمطر علينا حجارة من السماء أو ائتنا بعذاب أليم . فوالله ما وصل إلى ناقته حتى رماه الله تعالى بحجر فوقع على دماغه فخرج من دبره فقتله فنزلت: سأل سائل . الآيات .

👇

♧《 شمس الدين الشربيني القاهري الشافعي نے تفسیر سراج المنیر میں بھی مکمل واقعہ نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ یہ آیت سال سائل اسی عذاب نازل ہونے کے بعد نازل ہوئی》

✍16 ◇- السيد جمال الدين الشيرازي المتوفى 1000، قال في كتابه الأربعين في مناقب أمير المؤمنين الحديث الثالث عشر

 عن جعفر بن محمد عن آبائه الكرام: أن رسول الله (صلى الله عليه وسلم) لما كان بغدير خم نادى الناس فاجتمعوا فأخذ بيد علي وقال: من كنت مولاه فعلي مولاه، أللهم ؟ وال من والاه، وعاد من عاداه، وانصر من نصره، واخذل من خذله، وأدر الحق معه حيث كان .وفي رواية: أللهم ؟ أعنه وأعن به، و ارحمه وارحم به، وانصره وانصر به .فشاع ذلك وطار في البلاد فبلغ ذلك الحرث بن النعمان الفهري فأتى رسول الله (صلى الله عليه وسلم) على ناقة له . وذكر إلى آخر حديث الثعلبي .

👇

♧《السيد جمال الدين الشيرازي کتاب الاربعین فی مناقب امیرالمومنین میں باسناد من کنت مولا فھذہ علی مولا والی روایت لکھنے کے بعد ابن نعمان فہری کے واقعہ کو نقل کرتے ہیں جیسا حدیث ثعلبی میں مکمل اوپر ذکر کیا تھا》

✍17 ◇- الشيخ زيد الدين المناوي الشافعي المتوفى 1031 (المترجم ص 1388) رواه في كتابه ” فيض القدر في شرح الجامع الصغير ” 6 ص 2188 في شرح حديث الولاية ۔۔۔

👇

♧《شیخ زین الدین مناوی شافعی اپنی کتاب میں اس واقعہ کو ذکر کرتے ہیں۔》

✍18 ◇- السيد ابن العيدروس الحسيني اليمني المتوفى 1041 (المترجم ص 1388) ذكره في كتابه – العقد النبوي والسر المصطفوي -.

👇

♧《 سید ابن عیدروس یمنی نے اپنی کتاب میں اس واقعہ کو نقل کیا ھے》

✍19 ◇- الشيخ أحمد بن باكثير المكي الشافعي المتوفى 1047 (المترجم 1399) نقله في تأليفه – وسيلة المآل في عد مناقب الآل -.

👇

♧《 شیخ احمد بن باکثیر مکی شافعی نے اپنی تالیف وسیلہ المال فی عد مناقب الأل میں واقعہ کو نقل کیا ھے》

✍20 ◇- الشيخ عبد الرحمن الصفوري، روى في نزهته 2 ص 242 حديث القرطبي.

👇

♧《 شیخ عبدالرحمن صفوری نے بھی حدیث قرطبی کے حوالہ سے روایت کو نقل کیا ھے》

✍21 ◇- الشيخ برهان الدين علي الحلبي الشافعي المتوفى 10444، روى في السيرة الحلبية 3 ص 302 وقال: لما شاع قوله (صلى الله عليه وسلم): من كنت مولاه فعلي مولاه . في ساير الأمصار وطار في جميع الأقطار بلغ الحرث بن النعمان الفهري فقدم المدينة فأناخ راحلته عند باب المسجد فدخل والنبي جالس وحوله أصحابه فجاء حتى جثا بين يديه، ثم قال: يا محمد ؟ إلى آخر لفظ سبط ابن الجوزي المذكور۔

👇

♧《 الشيخ برهان الدين علي الحلبي الشافعي نے بھی سیرت حلبیہ کتاب میں مکمل واقعہ سبط ابن جوزی کے ذکر کیئے ہوئے واقعہ کے حوالہ سے درج کیا ھے》

✍22 ◇- السيد محمود بن محمد القادري المدني، قال في تأليفه – الصراط السوي  في مناقب النبي -: قد مر مرارا قوله (صلى الله عليه وسلم): من كنت مولاه فعلي مولاه .

الحديث قالوا: وكان الحارث بن النعمان مسلما فلما سمع حديث: من كنت مولاه فعلي مولاه .شك في نبوة النبي ثم قال: أللهم ؟ إن كان ما يقوله محمد حقا فأمطر علينا حجارة من السماء أو ائتنا بعذاب أليم .ثم ذهب ليركب راحلته فما مشى نحو ثلث خطوات حتى رماه الله عز وجل بحجر فسقط على هامته وخرج من دبره فقتله فأنزل الله تعالى: (سأل سائل بعذاب واقع) الآيات .

👇

♧《 السيد محمود بن محمد القادري المدني نے اپنی تالیف صراط السوی فی مناقب النبی میں حدیث من کنت مولا فھذہ علی مولا کے بعد مکمل واقعہ لکھا ھے جس کے آخر پر اس آیت کا نزول بھی بیان کیا ھے》

✍23 ◇- شمس الدين الحفني الشافعي المتوفى 1181 (المترجم ص 144)  قال: في شرح الجامع الصغير للسيوطي 2 ص 387 في شرح قوله (صلى اللّٰه عليه و آله): من كنت مولاه فعلي مولاه .لما سمع ذلك بعض الصحابة قال: أما يكفي رسول الله أن نأتي بالشهادة وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة … إلخ .حتى يرفع علينا ابن أبي طالب ؟ فهل هذا من عندك أم من عند الله ؟ فقال (صلى الله عليه وسلم): والله الذي لا إله إلا هو أنه من عند الله . فهو دليل على عظم فضل علي (عليه السلام) .

👇

♧《شمس الدين الحفني الشافعي نے حدیث من کنت مولا فعلی مولا کو نقل کرنے کے بعد واقعہ کو نقل کیا ھے》

✍24 ◇- الشيخ محمد صدر العالم سبط الشيخ أبي الرضا، قال في كتابه – معارج العلى في مناقب المرتضى – أن رسول الله (صلى الله عليه وسلم) قال يوما: أللهم ؟ من كنت مولاه فعلي مولاه، أللهم ؟ وال من والاه، وعاد من عاداه .

فسمع ذلك واحد من الكفرة من جملة الخوارج فجاء إلى النبي (صلى الله عليه وسلم) فقال: يا محمد ؟ هذا من عندك أو من عند الله ؟ فقال النبي (صلى الله عليه وسلم): هذا من عند الله فخرج الكافر من المسجد وقام على عتبة الباب وقال: إن كان ما يقوله حقا فأنزل علي حجرا من السماء، قال: فنزل حجر فرضخ رأسه .

👇

♧《الشيخ محمد صدر العالم سبط الشيخ أبي الرضا نے بھی اپنی کتاب معارج العلى في مناقب المرتضى میں واقعہ کو نقل کیا ھے》

✍25 ◇- الشيخ محمد محبوب العالم. رواه في تفسيره الشهير بتفسير شاهي میں واقعہ نقل کیا ھے》

✍26 ◇- أبو عبد الله الزرقاني المالكي المتوفى 11222، حكاه في [شرح المواهب اللدنية] 7 ص 13 پر واقعہ لکھا ھے》

✍27 ◇- الشيخ أحمد بن عبد القادر الحفظي الشافعي. ذكره في كتابه – ذخيرة المآل في شرح عقد جواهر اللآل میں واقعہ نقل کرتے ہیں》

✍28 ◇- السيد محمد بن إسماعيل اليماني المتوفى 1182، ذكره في كتابه – الروضة الندية في شرح التحفة العلوية میں واقعہ نقل کرتے ہیں》

✍29 ◇- السيد مؤمن الشبلنجي الشافعي المدني، ذكره في كتابه – نور الأبصار في مناقب آل بيت النبي المختار – ص 78 میں واقعہ ذکر کرتے ہیں》

✍30 ♧- الأستاذ الشيخ محمد عبدة المصري المتوفى 1323، ذكره في تفسير المنار ج 6 ص 464 عن الثعلبي، ۔۔

👇

《 استاذ الشیخ مد عبدہ مصری تفسیر منار میں ثعلبی کے حوالے والی روایت نقل کرتے ہیں اور مکمل واقعہ بیان فرماتے ہیں》

📗 *”تحقیق از کتاب الغدیر علامہ الشیخ عبدالحسین الامینی النجفی رح

✍ “احقر: قمر عباس قمر”