حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا تصور عباس خان سرگانی

حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا تصور عباس خان سرگانی

حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا تصور عباس سرگانی عصر حاضر کے ممتاز دینی محقق، مدرس، مصنف اور تعلیمی منتظم ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی کو دینی تعلیم، علمی تحقیق، فکری تربیت اور خدمتِ دین کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے تدریس، تحقیق، تصنیف، ادارہ سازی اور دینی تربیت کے میدان میں مسلسل خدمات انجام دے رہے ہیں اور اس وقت امام رضا کمپلیکس، چوک اعظم، ضلع لیہ کے پرنسپل کی حیثیت سے نسلِ نو کی علمی و اخلاقی تربیت میں مصروف ہیں۔

ابتدائی تعلیم

مولانا تصور عباس سرگانی 11 فروری 1981ء کو ضلع لیہ کے نواحی گاؤں بستی سرگانی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی اور میٹرک تک کی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے حاصل کی۔ بچپن ہی سے دینی علوم سے غیر معمولی شغف رکھنے کے باعث میٹرک کے بعد دینی تعلیم کا رخ کیا اور ضلع میانوالی میں واقع جامعہ امام خمینیؒ میں داخلہ لیا۔

جامعہ امام خمینیؒ میں آپ نے مسلسل پانچ سال تک دینی علوم کی تحصیل کی، جہاں فقہ، اصول، منطق، فلسفہ، تفسیر، حدیث، عربی ادب اور دیگر بنیادی اسلامی علوم کا باقاعدہ درس حاصل کیا اور لمعتین تک کی تعلیم مکمل کی۔ اسی عرصے میں آپ کی علمی استعداد، مطالعے کا ذوق اور تحقیقی صلاحیت نمایاں ہوئیں، جس نے اعلیٰ دینی تعلیم کے سفر کی بنیاد فراہم کی۔

بعد ازاں آپ نے قم المقدسہ کے بین الاقوامی داخلہ امتحان میں کامیابی حاصل کی اور اعلیٰ دینی و تحقیقی تعلیم کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران روانہ ہوئے، جہاں آپ نے قم المقدسہ کے ممتاز علمی ماحول میں اپنی علمی زندگی کا ایک نیا باب شروع کیا۔

اعلیٰ تعلیم

قم المقدسہ میں آپ نے امام خمینی ہائر ایجوکیشن کمپلیکس سے اسلامی علوم میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ 2010ء میں اسلامیات میں ایم اے مکمل کیا، اس کے بعد 2014ء میں ایم فل کی ڈگری حاصل کی، جبکہ ان کے پی ایچ ڈی تھیسز کا موضوع تھا: اسلامی معاشروں کے عروج و زوال کے ثقافتی اسباب کا حضرت امیرالمؤمنین امام علیؑ کی تعلیمات کی روشنی میں تجزیاتی مطالعہ اور فاطمی ریاست کا تقابلی جائزہ ۔

قم المقدسہ میں قیام کے دوران آپ نے صرف رسمی تعلیم ہی حاصل نہیں کی بلکہ مختلف اساتذۂ کرام سے فقہ، اصول، حدیث، تفسیر، تاریخ اور اسلامی فکر کے اعلیٰ دروس سے بھی استفادہ کیا، جس نے آپ کی علمی شخصیت کو مزید پختگی عطا کی اور تحقیق و تدریس کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے کی راہ ہموار کی۔

تدریسی خدمات

مولانا تصور عباس سرگانی کی علمی زندگی کا نمایاں پہلو تدریس ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے دوران اور اس کے بعد آپ نے مختلف علمی مراکز میں دینی علوم کی تدریس کی سعادت حاصل کی۔ قم المقدسہ میں 2014ء سے 2016ء تک آپ نے اصولِ فقہ اور شرح لمعہ جیسے اہم دروس پڑھائے، جہاں طلبہ کی علمی تربیت، تحقیقی ذوق کی آبیاری اور استدلالی اندازِ فکر کی نشوونما پر خصوصی توجہ دی۔

پاکستان واپسی کے بعد آپ نے اپنی تدریسی خدمات کا دائرہ مزید وسیع کیا۔ اس وقت آپ امام رضا کمپلیکس، چوک اعظم، ضلع لیہ میں قرآن کریم، عقائد، اخلاق، عربی ادب اور دیگر اسلامی علوم کی تدریس کے ساتھ ساتھ طلبہ کی فکری، اخلاقی اور عملی تربیت میں مصروف ہیں۔ آپ کا اندازِ تدریس محض نصابی تعلیم تک محدود نہیں بلکہ طلبہ میں تحقیق، مطالعہ، استدلال اور عملی کردار پیدا کرنے پر مبنی ہے۔

تحقیقی و انتظامی خدمات

مولانا تصور عباس سرگانی نے مختلف علمی و تحقیقی اداروں میں اہم انتظامی ذمہ داریاں بھی انجام دی ہیں۔ قم المقدسہ میں متعدد علمی منصوبوں کی نگرانی کرتے ہوئے آپ نے تحقیق، تصنیف اور ادارہ جاتی نظم و نسق میں نمایاں کردار ادا کیا۔

آپ مختلف ادوار میں الظہور انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر، مبلغین کی تربیتی ورکشاپس کے منتظم و مدرس، موسوعۂ قوانینِ اسلام کی تحقیقی ٹیم کے ڈائریکٹر، مرکز البینات برائے تحقیقات کے سربراہ اور منتہیٰ نور ریسرچ سنٹر، اسلام آباد کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ 2022ء سے آپ امام رضا کمپلیکس، چوک اعظم، ضلع لیہ کے پرنسپل کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں، جہاں جدید تقاضوں کے مطابق دینی و عصری تعلیم کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

علمی و تحقیقی خدمات

مولانا تصور عباس سرگانی کی علمی دلچسپی کے بنیادی میدان اسلامی تاریخ، علمِ حدیث، فقہ جعفری، عقائد، اخلاق اور اسلامی تہذیب و تمدن ہیں۔ ان کی تحقیق کا امتیاز یہ ہے کہ وہ کلاسیکی اسلامی مصادر کو عصر حاضر کے فکری و سماجی مسائل کے ساتھ مربوط انداز میں پیش کرتے ہیں۔

آپ قومی و بین الاقوامی علمی سیمینارز اور کانفرنسوں میں شرکت کرتے رہے ہیں، متعدد تحقیقی مقالات پیش کیے ہیں اور مختلف علمی و تربیتی ورکشاپس کے ذریعے علماء، مبلغین اور طلبہ کی علمی استعداد میں اضافے کے لیے مسلسل خدمات انجام دے رہے ہیں۔

تصانیف و علمی سرمایہ

مولانا تصور عباس سرگانی نے تدریس اور تحقیق کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ آپ کی تحریروں کا بنیادی مقصد معارفِ اہل بیت علیہم السلام کو آسان، مستند اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق پیش کرنا ہے۔

آپ کی نمایاں تصانیف میں:

  • اسلامی نگاہ میں زندگی کے سنہری اصول؛ امام رضاؑ کی تعلیمات کی روشنی میں (2012ء)
  • صادقِ آلِ محمدؑ (2022ء)

شامل ہیں۔ ان کتابوں میں سیرتِ اہل بیتؑ، اسلامی اخلاق، دینی فکر اور انسانی تربیت کے مختلف پہلوؤں کو تحقیقی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

تحقیقی مقالات

مولانا تصور عباس سرگانی کے متعدد تحقیقی مقالات مختلف جرائد، علمی مجلات اور ویب سائٹس پر شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی تحریروں کا دائرہ فقہ، تاریخ، حدیث، عقائد، اسلامی معیشت، اخلاق اور سیرتِ اہل بیت علیہم السلام جیسے اہم موضوعات پر محیط ہے۔

آپ کے نمایاں تحقیقی مقالات میں نہج البلاغہ کی روشنی میں قیادت و رہبری، ریاستِ مدینہ کے معاشی چیلنجز، حضرت خدیجۂ کبریٰ سلام اللہ علیہا کی عظمت، فضیلتِ علم، فقہ جعفری کی ترویج میں قم المقدسہ کا کردار، امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ اور امام مہدی علیہ السلام کے وجود پر عقلی و نقلی دلائل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ درجنوں تحقیقی مضامین مختلف علمی پلیٹ فارمز پر شائع ہو چکے ہیں۔

علمی و ابلاغی خدمات

مولانا تصور عباس سرگانی جدید ذرائع ابلاغ کو دینی تعلیم کے فروغ کا مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت آپ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے قرآن، حدیث، سیرتِ اہل بیت علیہم السلام، اخلاق اور اسلامی فکر پر مبنی علمی مواد عوام تک پہنچا رہے ہیں۔

آپ Imam Reza Complex Layyah کے نام سے یوٹیوب پلیٹ فارم کی سرپرستی کرتے ہیں، جبکہ تقریباً ایک ہزار سے زائد اراکین پر مشتمل علمی واٹس ایپ گروپ کے ذریعے روزانہ احادیث، دینی تعلیمات اور تحقیقی مضامین کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی طرح ادارے کی سرکاری ویب سائٹ www.bri.com.pk کے ذریعے بھی مسلسل علمی و تحقیقی مواد شائع کیا جاتا ہے۔

ادارتی خدمات

تحقیقی و علمی سرگرمیوں میں سے ایک  سہ ماہی “البلاغ المبین“ ہے جس کے چیئرمین کی حیثیت سے تحقیقی و فکری مضامین تحریر بھی کرتے ہیں اوراس سہ ماہی میگزین کے ذریعے محققین کے تحقیقی اور فکری مضامین کی اشاعت اور معیاری علمی لٹریچر کی ترویج میں بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

سماجی و فلاحی خدمات

مولانا تصور عباس سرگانی کی خدمات صرف تدریس اور تحقیق تک محدود نہیں بلکہ سماجی خدمت بھی آپ کی شخصیت کا نمایاں پہلو ہے۔ آپ نے مختلف فلاحی اداروں کے تعاون سے مستحق خاندانوں میں راشن کی تقسیم، پسماندہ علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں، اور محروم طبقات کی دینی، اخلاقی اور سماجی رہنمائی جیسے متعدد رفاہی منصوبوں میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ آپ کے نزدیک علم کی حقیقی قدر اسی وقت نمایاں ہوتی ہے جب وہ معاشرے کی اصلاح اور انسانیت کی خدمت کا ذریعہ بنے۔

اعزاز

آپ کی علمی استعداد اور نمایاں تعلیمی کارکردگی کے اعتراف میں امام خمینی ہائر ایجوکیشن کمپلیکس، قم المقدسہ نے 2016ء میں آپ کو امتیازی طالبِ علم (Outstanding Student Award) سے نوازا، جو آپ کی مسلسل علمی محنت اور تحقیقی جدوجہد کا اعتراف ہے۔

فکر و مقصد

مولانا تصور عباس سرگانی کی علمی جدوجہد کا محور صرف درس و تدریس یا تصنیف و تحقیق نہیں، بلکہ انسان سازی، فکری بیداری اور قرآن و اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کو معاشرے میں زندہ کرنا ہے۔ آپ کا یقین ہے کہ اگر علم انسان کے کردار، اخلاق، فکر اور معاشرت میں مثبت تبدیلی پیدا نہ کرے تو وہ اپنے حقیقی مقصد کو حاصل نہیں کر پاتا۔

اسی فکر کے تحت آپ نے اپنی علمی خدمات کو صرف درسگاہوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ جدید ذرائع ابلاغ کو بھی دعوت و تبلیغ کا مؤثر وسیلہ بنایا۔ www.bri.com.pk پر آپ کے تحقیقی مقالات، فکری مضامین، اصلاحی تحریریں اور دینی موضوعات پر مسلسل شائع ہونے والا علمی مواد اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس ویب سائٹ پر عقائد، قرآن، حدیث، فقہ، سیرتِ اہل بیت علیہم السلام، اسلامی تاریخ، مقصدِ خلقت، علم و معرفت، شرم و حیا، تربیتِ اولاد، اخلاق، معاشرت، خودسازی اور عصر حاضر کے فکری چیلنجز جیسے موضوعات پر باقاعدگی سے تحریریں شائع کی جاتی ہیں، جن سے ہزاروں قارئین مستفید ہو رہے ہیں۔

آپ کی تحریروں کی ایک نمایاں خصوصیت “آج کی ڈائری“ کے عنوان سے شائع ہونے والی روزمرہ فکری و اصلاحی تحریریں ہیں۔ ان مختصر مگر اثر انگیز مضامین میں روزمرہ زندگی کے واقعات کو قرآن، احادیثِ اہل بیت علیہم السلام اور اسلامی اخلاق کی روشنی میں بیان کیا جاتا ہے، تاکہ قاری صرف معلومات حاصل نہ کرے بلکہ اپنی عملی زندگی میں مثبت تبدیلی بھی پیدا کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تحریریں نوجوانوں، طلبہ، اساتذہ اور مختلف طبقاتِ زندگی میں خصوصی دلچسپی کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں۔

اسی طرح آپ ایک ہزار سے زائد اراکین پر مشتمل علمی واٹس ایپ گروپ کی نگرانی بھی کرتے ہیں، جہاں روزانہ احادیثِ اہل بیت علیہم السلام، قرآنی نکات، اخلاقی رہنمائی، مختصر تحقیقی مضامین اور فکری پیغامات باقاعدگی سے ارسال کیے جاتے ہیں۔ اس علمی سلسلے کا مقصد مستند دینی معارف کو آسان، مختصر اور مؤثر انداز میں عام کرنا اور روزمرہ زندگی کو قرآن و اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے جوڑنا ہے۔

مولانا تصور عباس سرگانی کی خواہش ہے کہ معاشرے میں ایسی علمی و تربیتی فضا قائم ہو جس میں علم کے ساتھ اخلاق، عبادت کے ساتھ کردار، اور عقیدے کے ساتھ عمل بھی پروان چڑھے۔ اسی مقصد کے تحت آپ نوجوان نسل میں مطالعے کا ذوق، تحقیق کی عادت، اخلاقی پاکیزگی، سماجی ذمہ داری اور دینی شعور پیدا کرنے کے لیے مسلسل سرگرمِ عمل ہیں۔

آپ کے نزدیک حقیقی دعوت صرف منبر و محراب تک محدود نہیں، بلکہ قلم، کتاب، ویب سائٹ، سوشل میڈیا، درسگاہ، تحقیقی نشست، روزانہ کی ایک مختصر تحریر اور ایک مستند حدیث بھی انسانوں کی فکری و اخلاقی تعمیر کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ اسی فکر کو سامنے رکھتے ہوئے آپ کی تمام علمی، تحقیقی، تعلیمی اور ابلاغی سرگرمیاں ایک ہی مقصد کے گرد گھومتی ہیں: قرآن و اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں ایک باعلم، بااخلاق، باکردار اور بیدار معاشرے کی تشکیل۔